Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سقوط ڈھاکہ کا سبق‎

December 16, 2016 0 1 min read
Sakoot e Dhaka
Sakoot e Dhaka
Sakoot e Dhaka

تحریر : عماد ظفر
کچھ زخم قوموں کی تاریخ میں ایک بدنما داغ کی مانند ہوتے ہیں جو ہمیشہ یہ احساس دلاتے رہتے ہیں کہ تاریخ کبھی بھی ناانصافی اور جبر کو معاف نہیں کرتی. سقوط ڈھاکہ بھی ایک ایسا ہی زخم ہے جب ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے اس وطن کو دو لخت کر دیا.بنگلہ دیش کیوں بنا اکہتر کی جنگ میں کیا ہوا سقوط ڈھاکہ کی وجوہات کیا ہیں ان تمام بنیادی سوالات کو ہم نے جھوٹ کی سیاہی سے چھپانے کی کوشش کی.حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کو دہایوں عوام سے چھپا کر رکھا گیا اور سقوط ڈھاکہ کی عجیب و غریب توجیہات نصاب میں ناولوں اور کتابوں میں اور میڈیا کے زریعے پیش کر کے سیاستدانوں اور بھارتی سازشوں پر ملبہ گراتے ہوئے ہم نے آنکھیں بند کر لیں. مشرقی پاکستان کو ہم نے اسی دن جدا کر دیا تھا جب ہم نے انہیں کالے کلوٹے جاہل گنوار قرار دیتے ہوئے تمام شعبوں میں ان کی حق تلفی شروع کر دی. بنگالی ہم سے زیادہ زہین تھے اور احساس محرومی کے ساتھ غلاموں کی طرح جینے کو ترجیح نہیں دیتے تھے. شیخ مجیب جسے ہمارے ہاں غدار قرار دیا جاتا ہے ان لوگوں میں سے تھا جو تحریک پاکستان میں پیش پیش تھے وہ خود قائد اعظم کا خطاب سننے کئی کئی سو کوس پیدل یا سائیکل پر سفر کر کے آتا تھا.ایسا اچانک کیا ہوا کہ قیام پاکستان کی تحریک میں پیش پیش شخص اچانک پاکستان سے اتنا متنفر ہو گیا. جناح کے جہان فانی سے کوچ کرنے کے بعد ان کے سوچے گئے پاکستان کو بھی ہائی جیک کر لیا گیا۔

محلاتی سازشوں کے وہ جال بنے گئے کہ پاکستان نے اپنے ابتدائی سالوں میں ہی متعدد وزیر اعظم آتے جاتے دیکھے.پھر پہلے سکندر مرزا نے ایمرجینسی ایوب خان اور جنرل یحی نے مارشل لا کی آڑ میں ملک کی جڑوں کو اتنا کھوکھلا کر دیا کہ بالآخر اسے اپنا ایک حصہ گنوانا پڑا. 1970 کے عام انتخابات کے نتائج بہت واضح تھے مشرقی پاکستان نے شیخ مجیب کی عوامی لیگ کو تقریبا تمام نشستیں پلیٹ میں رکھ کر دیں اور یہ وہاں کے ووٹرز کا فیصلہ تھا مغربی پاکستان کی آمرانہ پالیسیوں کے خلاف.بھٹو مغربی پاکستان سے انتخابات میں کامیاب ضرور ہوئے تھے لیکن ان کی جماعت کے پاس حکومت بنانے کی اکثریت نہیں تھی.شیخ مجیب ہماری ایسٹیبلیشمنٹ کو کانٹے کی طرح کھٹکھٹا تھا چنانچہ اس کے مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرتے ہوئے ایسٹیبلیشمنٹ نے بھٹو کو وزیر اعظم بنانے کی ناکام کوشش کی اور اس کے نتیجے میں شیخ مجیب نے علحدگی کا اعلان کر دیا.اس بغاوت کو کچلنے کیلئے مشرقی پاکستان میں فوجیں اتاریں گئیں لیکن مشرقی پاکستان میں بسنے والوں نے شیخ مجیب کا ساتھ دیا ہندوستان نے مکتی باہنی کی تحریک کے زریعے اور پھر جنگ کے میدان میں مشرقی پاکستان کا ساتھ دیا یوں ہم مشرقی پاکستان میں جنگ ہارنے کے بعد ہندوستان کی افواج کے آگے سرینڈر کرنے پر مجبور ہو گئے. 90 ہزار پاکستانی فوجی ہندوستان کی قید میں چلے گئے اور پاکستانی فوج کی اس جنگ میں سرینڈر کرنے کی تکلیف دہ تقریب کو ہندوستان نے پوری دنیا میں نشر کیا۔

ذوالفقار بھٹو نے بعد میں تمام پاکستانی فوجیوں کو ہندوستان کی قید سے چھڑایا لیکن اس کے لیئے انہیں جینیوا معاہدہ ہندوستان کے ساتھ کرنا پڑا.آپ کو نصاب میں یا کتابوں میں اس معاہدے کا زکر شازر و نادر ہی ملے گا اور تفضیلات تو کبھی بھی نہیں ملیں گی.کیونکہ اس معاہدے میں پاکستان نے بہت سی ایسی شقوں کو تسلیم کیا تھا جنکا تعلق بھارت میں کشمیر کی موجودگی کے حوالے سے تھا. تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے جنرل یحی اور بھٹو کو اس سانحے کا مرتکب ٹھہراتے ہیں.لیکن یہ سانحہ چند کرداروں کے باعاث پیش نہیں آیا بلکہ ایک غاصب سوچ اور جھوٹے نظریات کی وجہ سے پیش آیا. وہ سوچ جس نے جناح کی فلاحی ریاست کو ایک سیکیورٹی ریاست میں تبدیل کر دیا وہ سوچ جس نے جناح کے پاکستان کو مزہبی شدت پسندی کی آگ میں جھونکتے ہوئے ری پبلک آف پاکستان سے اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا ڈالا. قوی امید تھی کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد یہ سوچ اور اس کا خالق ادارہ دقطاریں کبھی بھی قومی نظریات اور معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا لیکن صورتحال اس کے بالکل برعکس نکلی.سقوط ڈھاکہ کے کسی مجرم کو سزا نہ سنائی گئی بھٹو کو تختہ دار پر پہنچا کر پھر سے فوج نے مارشل لا لگایا اور ضیاالحق کی صورت میں ایسا بدترین آمر بچے کھچے پاکستان پر قابض ہوا جس نے اس ملک کے کونے کونے میں شدت پسندی تعصب اور نفرت کی آگ پہنچا دی. پھر جب اس کے آقاوں نے اسے موت کے گھاٹ اتارا اور لولی لنگڑی جمہوریت وجود میں آئی تو اسے بھی نہ پنپنے دیا گیا اور کارگل جیسی بیوقفانہ جنگی حماقت کے بعد مشرف جیسا آمر اس وطن پر قابض ہو گیا۔

Politics
Politics

سیاستدان ان تمام واقعات میں یقینا قصوروار ہیں لیکن ان تمام واقعات کے مرکزی مجرم دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کے جرنیلز اور آمر ہیں جنہیں توپوں کی سلامیوں میں رخصت کیا جاتا ہے اور ملک کے جھنڈے میں تمام اعزازات کے ساتھ دفن بھی کیا جاتا ہے. سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کا کارنامہ کیا ہے. کون سی جنگی فتوحات ہمیں حاصل ہوئیں ہیں ہمیں سوال کرنے کا موقع دیا جائے. بدقسمتی سے آج بھی سقوط ڈھاکہ سے کوئی سبق نہ سیکھتے ہوئے ہم بلوچستان کو بھی ڈھاکہ بنائے بیٹھے ہیں.مشرقی پاکستان کے سب سے بڑے سبق دو تھے. ایک طاقت کے زور پر کبھی بھی وطن میں بسنے والے لوگوں کو دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی بزور طاقت انہیں زبردستی متحد رکھا جا سکتا ہے.دوسرا اہم سبق یہ تھا کہ حکومت کرنا سیاستدانوں کا کام ہے فوج کے ادارے کا نہیں .افسوس ہم نے ان میں سے کسی بھی سبق کو سیکھنے سے انکار کر دیا. اور قومی مفاد کی ایک ایسی اصطلاح روشناس کروائی جس کی آڑ میں سچ بولنے والوں تحقیق کرنے والوں اور سوال اٹھانے والوں کو غدار قرار دیکر قصہ ہی ختم کر دیا جاتا ہے.یہ قومی وقار اقتدار پر براہ راست یا بلاواسطہ قبضے کے لیئے خوب استعمال کیا جاتا ہے. اس قومی وقار کے گرد ہم نے ایک قومی سوچ اور نظریہ تیار کر رکھا ہے جو اپنے عیبوں سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے محض ایک دفاعی نیریٹو تیار کرتا ہی چلا جاتا ہے. جس کے تحت سوال اٹھانے والے اور تحقیق کی راہوں پر گامزن دماغ تیار ہو ہی نہیں پاتے. اور اس کے نام پر اس ملک کے بسنے والے کڑوڑوں افراد کے ساتھ مزاق کیا جاتا ہے۔بجائے تعلیم کے فروغ اور غربت کے خاتمے کے ملکی بجٹ کا حصہ اسلحہ خریدنے بنانے اور جنگی جنون میں عوام کو مبتلا کرنے پر خرچ کیا جاتا ہے۔

یہ قومی وقار سوال پوچھنے پر اور اپنا حق مانگنے پر تو مجروح ہوتا ہے لیکن ڈرون حملوں میں ملکی سرحدوں کی خلاف ورزی پر اس پر کوئی آنچ نہیں آتی. سانحہ ایبٹ آباد میں امریکہ فوج کے آپریشن سے بھی یہ وقار مجروح نہیں ہوتا اور نہ ہی کارگل جیسے واقعے سے اس قومی وقار پر کوئی اثر پڑتا ہے. اپنے ہی ملک کی سویلین اور جمہوری حکومتوں کا تخت الٹنے پر بھی یہ قومی وقار محفوظ رہتا ہے اور سقوط ڈھاکہ پر بھی اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی. یہ غداری اور محب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ بنا کر تقسیم کرتا ہے اور تاریخ کو مسخ کر کے جھوٹی جنگی فتوحات بچوں کے زہنوں کو ازبر کرواتا ہے. جب تک ہم اس قومی مفاد اور وقار کے گرد قائم دفاعی ریاست کے تصور کو تبدیل کر کے جناح کی فلاحی ریاست والے تصور کی طرف واپس نہیں آئیں گے ہم یونہی بھٹکتے رہیں گے. جب تک اپنی ہی سرزمین کو فتح کرنے کی عادت ختم نہیں ہو گی سقوط ڈھاکہ جیسے سانحات رونما ہوتے رہیں گے.جب تک دفاع کے نام پر ڈی ایچ اے اوکاڑہ ملٹری فارمز دلیہ اور کھاد بنانے کی فیکٹریاں مالیاتی ادارے کاروباری ادارے ختم کر کے صرف سرحدوں کی حفاظت کی زمہ داری نہیں سر انجام دی جائے گی تب تک بنگالیوں جیسا احساس محرومی بلوچ اور پختون قوم پرستوں میں پروان چڑھتا ہی رہے گا۔

جب تک جنرل یحی جنرل نیازی جیسے جنگی مجرم اور ضیاالحق جیسے آمر قومی جھنڈوں میں لپیٹ کر اعزازات کے ساتھ دفنائے جائیں گے تب تک ہم سقوط ڈھاکہ جیسے کئی سانحات کی زد میں رہیں گے.جب تک بچوں کو مسخ شدہ تاریخ پڑھا کر بنگالیوں کو مجرم قرار دے کر تمام جنگیں جیتنے کا پراپیگینڈہ ختم نہیں ہو گا تب تک اس ملک میں بسنے والی قومیتیں یکجا نہیں ہوں گی. قومیں محبت اور حقوق کی فراہمی سے یکجا رہتی ہیں نہ کے بندوق کے زور پر. اپنا نیشنل نیریٹو علم و تحقیق ایجادات اور امن پسندی پر قائم کیجئے ہمیں سقوط ڈھاکہ جیسا زخم دوبارہ نہیں سہنا پڑے گا. آج بھی سقوط ڈھاکہ کے مجرموں کو کم سے کم عوام سے روشناس کروانا بے حد ضروری ہے. کیونکہ سچ بہرحال وقتی طور پر دبایا تو جا سکتا ہے لیکن چھپایا نہیں جا سکتا اور تاریخ بہت بے رحم ہوتی ہے یہ تمام واقعات کو اپنے سینے میں محفوظ رکھتی ہے. جناح کا پاکستان آج بھی سقوط ڈھاکہ کے زخم سے چور چور آپ سب سے اپنے مجرموں کی نشاندہی کا مطالبہ کر رہا ہے اور چلا چلا کر کہ رہا ہے کہ غاصبانہ اور متعصبانہ پالیسیاں بنانا بند کیجئے یہ وطن کسی اور سقوچ ڈھاکہ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

Imad Zafar
Imad Zafar

تحریر : عماد ظفر

Share this:
Tags:
Bangladesh commission Sakoot e Dhaka sorry wounds احساس بنگلہ دیش تاریخ زخم سبق سقوط ڈھاکہ کمیشن معاف
Sarai Alamgir School Event
Previous Post سرائے عالمگیر کی خبریں 16/12/2016
Next Post بچوں کا غیر محفوظ مستقبل اور ہم
Children

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close