Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سقوط ڈھاکہ اور ازلی دشمن

December 14, 2016 0 1 min read
Sakoot e Dhaka
Sakoot e Dhaka
Sakoot e Dhaka

تحریر : تنویر احمد
ٹوٹے پتوں کا دکھ ان کے زردرنگ میں عیاں تو ہوتا ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ پتے اپنی شاخوں سے گرنے کا شوق کب رکھتے تھے۔۔۔۔؟ جو شاخ ساری زندگی ان کو خوراک دیتی ہے کونپل نکلنے سے ایک خوبصورت پتا بننے تک اس کی نشونما جاری رکھتی ہے پھر اچانک کس کی نظر کام کرتی ہے کہ یہ رشتہ سوکھ جاتا ہے۔ میں کوئی زرعی ماہر تو نہیں کہ پتوں اور شاخوں کے رشتوں کے احساسات ماپتا پھروں لیکن تیز ترین معلومات کے دور میں حقیقت کے قریب تر سوچ پال سکتا ہوں۔ ہوتا کچھ یوں ہیکہ شاخ اندرونی انتشار اور بیرونی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے مطلوبہ مقدار میں خوراک مہیا نہیں کرپاتی۔ شاخ اور پتے کا تعلق کمزور ہونا شروع ہوجاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ وہ وقت آتا ہے کہ پتا نیچے گر جاتا ہے۔ شاخ افسوس کے آنسو بہاتی رہتی ہے لیکن دنیا میں یہ کم ہی پایا جاتا ہے کہ اگر ہوا پتا پھر سے سر سبز اور خوشحال ہو جائے۔

آج سے 47 سال بیشتر 16 دسمبر کو تاریخ کی گھڑیاں گھماکر دیکھیں تو ڈھاکہ شہر کی خزاں رسیدہ صبح دشمن کی ریشہ دوانیوں کے باعث اپنی شاخ سے کٹنے کا منظر پیش کررہی تھی۔ ہر سال 16 دسمبر آتا ہے اور سقوط ڈھاکہ کی یادیں تازہ ہوتی ہیں۔ قائد کے پاکستان کے ٹوٹنے کی وجوہات زیر غور آتی ہیں اور بالآخر ”رات گئی بات گئی” کی طرف ختم ہوجاتی ہیں لیکن ہم نے کبھی بھی ان وجوہات سے سبق حاصل کرنے اور موجودہ صورتحال میں انہی غلطیوں کو دہرانے سے باز رہنے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کیں اور بہت سی باتیں ایسی بھی ہیں جنہیں بہت کم زیر بحث لایا جاتا ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان کی حقیقی سچائی کو دیکھا جائے تو اس کے پیچھے صرف اور صرف ہندو بنیا اس کا اصل مجرم نظر آتا ہے۔ بزدل ہندو بنیے نے قیام پاکستان سے ہی پاکستان کو ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا۔ ہندو نیتا تو کہتے تھے کہ نوزائیدہ پاکستان حالات کا مقابلہ نہیں کرپائے گا اور بہت جلد دم توڑ جائے گا۔

جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ پاکستان کی تخلیق ایک عارضی اقدام ہے اور یہ آخر کار متحدہ ہندوستان پر منتج ہوگی۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ایک قراردادمیں مولانا ابوالکلام نے کہا تھا کہ تقسیم کے عمل سے صرف ہندوستان کا نقشہ متاثر ہوگا۔ لوگوں کے دل تقسیم نہیں ہوئے اور مجھے یقین ہے کہ یہ تقسیم عارضی ثابت ہوگی۔ ہندو رہنمائوں نے پاکستان کی نوزائدہ ریاست کا گلا گھونٹنے کے لیے ہر وہ قدم اٹھایاجو ان کے اختیار میں تھا اور بھارتی سرکار شروع دن سے ہی سازشوں میں مصروف رہی ہے۔ انڈیا نے اپنی دشمنی کا پورا پورا حق ادا کرتے ہوئے 1965 ء میں پاکستان پر حملہ کیا مگر ان کو منہ کی کھانا پڑی۔ 1966ء میں اندراگاندھی کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان مخالف سرگرمیوں یں تیزی آگئی اور گاندھی نے1965ء کی جنگ ہزیمت کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان کودولخت کرنے کا خوفناک جال بنا۔ سب سے پہلے اس نے مشرقی پاکستان کے سربراہ شیخ جیب الرحمن سے تعلقات استوار کیے اور اس کے علاوہ ہندو نوجوانوں پر مشتمل پرتشدد جماعت (مکتی، باہنی) تیار کی۔ ان کو عسکری تربیت دینے کے ساتھ ساتھ انہیں اسلحہ اور مالی معاونت بھی کی گئی۔ مکتی باہنی دراصل بھارتی سپاہیوں کے روپ میں ایک جماعت تھی۔ بعد میں بھارتی عسکری تربیت یافتہ مکتی باہنی کے ان گوریلوں نے مشرقی پاکستان کے ذرائع مواصلات، اہم سرکاری و نجی عمارتوں اور پاک فوج کے خلاف کارروائیوں میں ایک کردار ادا کیا۔

Sakoot e Dhaka
Sakoot e Dhaka

مشرقی پاکستان کے حالات کو خراب کرنے اور باغیوں کو بڑھاوا دینے کے لیے انہی ایام میں آل انڈیا ریڈیو سے مسلسل یہ پروپیگنڈہ بھی کیا جاتا رہا کہ مجیب الرحمن نے اعلان آزادی کردیا اور بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آچکا ہے۔ دوسری طرفبھارتی حکومت نے انڈین بارڈر پر معمور فوج کو باغیوں کی مدد کیلئے سپاہی اور اسلحہ بھیجنے کی اجازت کے ساتھ انہیں ہر طرف کی صورت حال سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کی ہدایات جاری کردیں۔ بعد ازاں فوجی کارروائیوں کے دوران بھارتی اسلحہ اور گولہ و بارود کی برآمدگی بھارتی مداخلت کے ناقابل تردید شواہد کے طور پر سامنے آئے اور اسی طرح اس امر کے بھی واضح ثبوت ملے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس بھارتی فوجی بڑی تعداد میں مشرقی پاکستان میں داخل ہوئے۔ مشرقی پاکستان کی تعلیم کے شعبے میں ہندو اساتذہ غالب تھے لہٰذا انہوں نے نوجوان بنگالیوں کے اذہان میں بنگالی قوم پرستی کا زہر بھرنے اور نظریہ پاکستان کے خلاف نفرت ابھارنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ بہت سے تعلیمی اداروں میں قائداعظم کی بجائے موہن داس چند گاندھی اور پنڈت جواہر لعل نہرو کی تصاویر آوایزاں کردی گئیں۔ پاکستان مخالف مواد بھارت کی طرف سے تعلیمی اداروں میں تقسیم کیا گیا۔ ہندو دانشور کی لابی بھارت سے بھیجے جانے والے پاکستان مخالف لٹریچر کو بخوشی قبول کرتے اور پھیلاتے تھے۔

دوسری طرف بھارت نے بنگالی مہاجرین کے مسئلے کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تقریباً دو لاکھ ہندو مغربی بنگال اور آسام پہنچے تھے۔ بھارتی فوج نے انہیں نہ صرف سرحد عبور کرنے کی اجازت دی بلکہ مہاجر کیمپ قائم کرکے انہیں ملازمتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں پاکستانی فوج کے خلاف لڑنے کیلئے عسکری تربیت بھی دی۔ بھارت نے مہاجروں کے مسئلے کو حملے کے بہانے کے طور پر بھی استعمال کیا۔ اس بات کی تصدیق انڈین انسٹیٹیوٹ فار ڈیفنس سٹڈیز کے ڈائریکٹر نے بھی کی جس میں وہ کہاتا ہے کہ ”بھارتی حکومت نے ب ڑے غورو فکر کے عبد اپنی سرحد بن کرنے کی بجائے مہاجروں کو اپنے ملکمیں آنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا۔ ایک لحاظ سے یہ فیصلہ بنگلہ دیش کی آزادی کے بارے میں بھارتی ہمدردیوں کا عکاس تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بنگلہ دیش میں مزاحمت کی تحریک کو برقرار رکھنا دشوار تھا۔

بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ”را” کو دیا جانے والا پہلا ٹاسک ہی مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے الگ کرنا تھا جس کو آپریشن بنگلہ دیش کا نام دیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران ‘را ‘نے مشرقی پاکستان میں صحافیوں ، اساتذہ، دانشوروں سمیت ہر طبقہ فکر کو فکری دہشت گردی کے کام پر لگادیا اس مقصد کے لیے بھاری رقوم مختص کی گئیں جبکہ اندرون اور بیرون بھارت بھی پاکستان کے خلاف زبردست میڈیا وار لڑی گئی۔ بھارتی پروپیگنڈہ ، مشنری پاک فوج کے خلاف بار بار ان تین بڑے الزامات کو دہراتی رہی کہ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران پاکستانی فوج نے تیس لاکھ بنگالیوں کو بے دردی سے قتل کیا تین لاکھ عورتوں کی آبروریزی کی گئی اور گائوں کے گائوں جلا دئیے گئے۔ بھارتی میڈیا کا یہ جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ بین الاقوامی میڈیا نے بغیر تحقیق و تفتیش کے خوب اچھالا اور پاکستان کے تشخص کو اس بری طرح مجروح کیا گیا کہ پاکستان دنیا میں نفرت کا نشان بن کر تنہا رہ گیا۔ اس طرح بھارت نے نہ صرف بنگلہ دیش کاز کے لیے دنیا بھر کی ہمدردیاں حاصل کیں بلکہ عالمی رائے عامہ کو بے بنیاد خبروں اور خود ساختہ داستانوں کا بھی کامیابی سے یقین دلایا۔

India
India

بھارت نے ایک منظم منصوبے کے تحت یہ مبالغہ آمیز خبریں بھی پھیلائیں کہ مشرقی پاکستان سے ہندوئوں کو نکالا جارہا ہے جبکہ پاکستان کے خلاف نفرت اور تعصب کو ہوا دینے کے لیے یہاں تک جھوٹ گڑا گیا کہ بنگالیوں کے منتخب لیڈر مجیب الرحمن کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ دنیا بھر کے دانشوروں، سماجی تنظیموں اور سیاسی لیڈروں کو پاکستان کی مخالفت کا راستہ دکھایا گیا۔ یہ صورتحال بھارت کے تخریبی عزائم اور اس کے مطلوبہ اہداف کیلئے کارآمد ثابت ہوئی۔ اس نے پاکستان کو دولخت کرنے کے لیے تارکین وطن کو جنگ کا بہانہ بناکر 3 دسمبر 1971ء کو پاکستان پر حملہ کردیا جو 16 دسمبر کے سیاہ دن ”بنگلہ دیش” کے قیام کی شکل میں بدل کر سمانے آیا۔

کہتے ہیں کہ دنیا کی طاقتور اور منظم سے منظم فوج بھی عوامی تائید و حمایت کے بغیر بیرونی جارحیت سے مقابلہ نہیں کرسکتی۔ بدقسمتی سے پاک فوج کو بیک وقت اندرونی اوربیرونی دونوں محاذوں پر دشمن کا سامنا تھا لیکن انتہائی نامساعد حالات کے باوجود پاک فوج نے پاکستان کے دشمنوں کا بھرپور مقابلہ کیا۔ ایک بھارتی جنرل کے بقول مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے بہادری کے ناقابل یقین کارنامے دکھائے اور پانچ ماہ تک محاصرے کی حالت میں رہ کر اس نے بے پناہ بہادری سے جنگ لڑی جس کی زندہ مثال میجر جنرل تجمل حسین کی قیادت میں لڑا جانے والا ”ہلی” کا وہ معرکہ ہے جو آج دنیابھر کی عسکری تاریخ کا درخشندہ باب بن گیا ہے۔

قارئین محترم! مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں گو کہ ہمارے اپنوں کی کوتاہیاں اور نا اہلیاں بھی تھیں مگر سالوں اسپر محنت کرنے والا ہندو تھا جس نے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کیا تھا اور وہ آغاز سے ہی اس تاک م یں تھا کہ کسی طرح اس نوزائیدہ ملک کو ناکام ریاست بنادیا جائے۔ اس بات کا شدت سے احساس سقط مشرقی پاکستان کے بعد اندراگاندھی کے اس بیان سے بھی ہوتا ہے جو اس نے 1971ء میں بھارتی اسمبلی میں دیا تھا۔ ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ ہندو اب بھی مسلسل پاکستان کی سلامتی کے در پے ہے۔ بلوچستان میں اشتعال انگیزی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بد امنی پھیلانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہندوستان کبھی بھی پاکستان کاخیر خواہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اس سے دوستی نبھانے ، تجارت اور راہداریوں کے چکروں کی بجائے اس سے اس کا بدلہ لیا جائے اور اس کے لیے پوری قوم کی تیاری ضروری ہے۔

Tanveer Ahmed
Tanveer Ahmed

تحریر : تنویر احمد

Share this:
Tags:
agricultural Enemies life people prosperity Sakoot e Dhaka weak خوشحال دشمن زرعی زندگی سقوط ڈھاکہ کمزور لوگ
Arabs Hunting in Pakistan
Previous Post پاکستان، دنیا کی بہترین شکارگاہ
Next Post بدین کی خستہ حالی پر بل آخر نئے تعینات ہونے والے ڈپٹی کمشنر بدین کو رحم آ ہی گیا
Badin DC Visit

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close