Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

نجات دہندہ ٔ کا انتخاب قومی تدبر کا امتحان

April 24, 2013 0 1 min read
Political Party
Mauritania Military
Mauritania Military

جولائی 1942 میں دوسری جنگ عظیم کے دوران جب برطانوی افواج نے الامین کے مقام پر نازی فوج کی پیش قدمی کو روک دیا، تواِس کامیابی کے باوجود برطانوی وزیر اعظم چرچل نے مشرق وسطیٰ میں اپنے عسکری کمانڈروں کو تبدیل کر دیا اور جنرل سر ہیرالڈ ایلیگزانڈر کو مشرق وسطیٰ میں برطانوی افواج کا کمانڈر انچیف جبکہ لیفٹننٹ جنرل سر برنارڈ ایل منٹگمری کو آٹھویں فوج کا کمانڈر مقرر کر دیا۔

جنرل منٹگمری نے اِس جنگ میں اتحادی افواج کے سپریم کمانڈر کی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے 23 اکتوبر 1942 کو جرمن افواج کے کمانڈر جنرل ایرون رومل کی فوج کو شکست فاش دی اور نازیوں کے بڑھتے ہوئے قدم اکھیڑ دیئے ،اُس نے جرمنی اور جاپان جیسی طاقتوںکو برطانوی سپاہیوں کے آگے سرنگوں ہونے پر مجبور کردیا،جنرل منٹگمری کی جنگی حکمت عملی آج بھی دنیا بھر میں عسکری نصاب کا حصہ ہے،اُس نے یہ جنگیں اپنے درست فیصلوں، بہترین جنگی چالوں اور اعلیٰ قائدانہ صلاحیت کی بنیاد پر جیتیں ، قوم نے اُسے اِن اعلیٰ خدمات پر فیلڈ مارشل کے خطاب سے نوازا۔

فیلڈ مارشل منٹگمری نے ساری زندگی سادگی سے گزاری، وہ شراب اور سگریٹ کو ہاتھ تک نہ لگاتا تھا، بڑی بڑی آرام دہ کاروں کی بجائے ہمیشہ فوجی جیپ میں سفر کرتا،اُس کے پاس اپنا ذاتی گھر تک نہیں تھا،ریٹائرمنٹ کے بعد اُس نے اپنی بقیہ زندگی کرائے کے مکان بدلتے گزاری،کبھی اِ س جگہ اور کبھی اُس جگہ،جب بار بار کی نقل مکانی سے تنگ آگیا تو ایک دن برطانوی وزیر اعظم کی خدمت میں حاضر ہوا، وزیر اعظم نے ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کے صدر دروازے پر قوم کے اِس عظیم ہیرو کا استقبال کیا۔

عزت واحترام سے اپنے دفتر میں بیٹھایا اورآنے کی وجہ دریافت کی،فیلڈ مارشل منٹگمری نے اپنا بریف کیس کھولا،ایک درخواست نکالی اور وزیر اعظم کو پیش کردی،وزیر اعظم نے درخواست پڑھنا شروع کی،جس میں منٹگمری نے اپنے کارنامے گنوانے کے بعد حکومت سے درخواست کی تھی کہ ”میں بہت بوڑھا ہوچکا ہوں،میرے پاس رہنے کیلئے گھر نہیں ہے، کرائے کے مکان میں رہتا ہوں،بار بار گھر بدلنا مشکل ہوگیا ہے، مہنگائی بھی بہت زیادہ ہے ،کرایہ نہیں دے سکتا،لہٰذا مہربانی فرماکر کر مجھے ایک فلیٹ یا کوئی زرعی زمین کا ٹکڑا الاٹ کردیا جائے ،تاکہ میری بقیہ زندگی با آسانی گزرسکے۔

وزیر اعظم نے درخواست پڑھنے کے بعد فیلڈ مارشل منٹگمری سے عرض کی،جناب بے شک آپ ہمارے قومی ہیرو ہیں، دوسری جنگ عظیم میں آپ کی عسکری خدمات برطانیہ سمیت پوری دنیا کیلئے قابل احترام ہیں،اِس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں آپ کے پائے کا کوئی جنرل نہیں،لیکن سر زندگی بھر آپ اپنی خدمات کا معاوضہ لیتے رہے ہیں،حکومت برطانیہ نے آپ کی خدمات کا معقول معاوضہ پیش کیاہے، کبھی آپ کی تنخواہ لیٹ نہیں کی،اِن سب باتوں کو بھی اگر نظر انداز کردیا جائے،تب بھی جناب ایک برطانوی پرائم منسٹر کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں۔

جس کے ذریعے وہ آپ کو فلیٹ یا زمین الاٹ کرسکے،مجھے بہت حد افسوس ہے، میں آپ سے معذرت چاہتا ہوں ،یہ کہہ وز یراعظم نے بوڑھے فیلڈ مارشل کو اُس کی درخواست واپس کردی۔”یہ مسلمہ اصول ہے کہ آئین وقانون کی حکمرانی ،اصول قاعدے اور ضابطوں کا پابند بناتی ہے،طریقہ کار متعین کرتی ہے اور معاشرے کے ہرد فرد کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کا احساس دلاتی ہے، دنیا میں گریٹ برٹن کے نام سے پہچانے والے ملک کے وزیر اعظم کے پاس ایسے کوئی صوابدیدی اختیار حاصل نہیں تھے،جسے استعمال کرکے وہ اپنے قومی ہیرو اور سابق فیلڈ مارشل کو فلیٹ یا زمین کا ٹکڑا الاٹ کرسکتا۔

Margaret Thatcher
Margaret Thatcher

گزشتہ دنوں انتقال کرجانے والی سابق وزیر اعظم اور برطانوی آئرن لیڈی مارگریٹ تھیچر اپنی خود نوشت ”دی ڈاؤننگ ایئرز” میں لکھتی ہیں کہ وزارت عظمیٰ کے دوران اُن کا اسٹاف 70افراد پر مشتمل تھا،ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ آفس کم اور گھر زیادہ تھا،جہاں ہم 70افراد ایک خاندان کی طرح رہتے تھے،اِن 70افراد پر برطانیہ کا نظام چلانے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں برطانوی امیج کی حفاظت اورتھرڈ ورلڈ کی ترقی کا خیال رکھنے کی ذمہ داری بھی عائد تھی،مارگریٹ تھیچرکے الفاظ ہیں کہ”عملہ بہت کم اور کام بہت تھکا دینے والا تھا،لہٰذاہم لوگ دن رات مصروف رہتے تھے۔

مجھے کبھی کبھی وائٹ ہاوس اور جرمن چانسلری پر بڑا رشک آتا تھا، جہاں بالترتیب 400اور 500افراد یہی کام کرتے تھے،لیکن ہم نے تو اپنی چادر دیکھ کر ہی پاؤں پھیلانے تھے،سو اِس مختصر عملے سے ہی کام چلانا پڑا،جو ہم نے چلایا۔اپنی خود نوشت میں مارگریٹ تھیچر نے مزید لکھاکہ”میری مصروفیات اتنی زیادہ تھیں کہ مجھے نہیں یاد کہ میں کبھی 4گھنٹے سے زیادہ سوئی ہوں، میرے آفس کے اوپر وزیر اعظم کیلئے ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا ،اُس تک پہنچنے کیلئے کوئی لفٹ نہیں تھی،لہٰذا مجھے سیڑھیوں کے ذریعے ٔ ہی آنا جانا پڑتا تھا،تھیچر کہتی ہیں میں اور میرا خاوند اُس فلیٹ میں اکیلے رہتے تھے۔

نوکر ہمارے پاس نہیں تھا،لہٰذا سارا کام خود کرنا پڑتا تھا،دوپہر کو جب بھوک سے بری نڈھال ہوجاتی تو بھاگتی ہوئی اوپر فلیٹ میں جاتی، لینچ تیار کرتی اور فٹافٹ کھاکر نیچے آجاتی ،رات کو گیارہ بجے جب تمام ساتھی اپنے گھروں کو لوٹ جاتے تو میں تھکاوٹ سے چور سیڑھیوں کی ریلنگ پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آہستہ اوپر فلیٹ تک آتی،جہاں میرا شوہر منتظر ہوتا ،پھر ہم لوگ کچن میں مصروف ہوجاتے،کھانا تیار کرتے،کھاتے اور میں پھرسے تازہ دم ہوکر دوبارہ فائلوں میں کھوجاتی۔

تھیچر کہتی ہیں ”مجھے ہر ہفتے 4سے 7ہزار خطوط موصول ہوتے،اِن میں سے ایک بھی خط ایسا نہیں ہوتا تھا ،جسے میں ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کی جرأت کرسکتی،چنانچہ خطوط کو پڑھنا،اُن میں دیئے گئے نکات پر غور کرنا اور اُن پر حکم جاری کرنے سے قبل برطانوی آئین وقانون کے تقاضوں کو مدنظر رکھنابڑا کڑا مرحلہ ہوتا تھا۔

تھیچر کی لائف ہسٹری بتاتی ہے کہ وزارت عظمیٰ کے دوران اُن کی فلڈ اسٹریٹ میں مقیم اپنے خاندان سے سال میں ایک آدھ بار ہی ملاقات ہوتی،جب پچھلی رات کے سناٹے میں انہیں چند میل کے فاصلے پر مقیم اپنے پیاروں کی یاد آتی تو اُن کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ،لیکن وہ انہیں فوراً پونچھ دیتیں، کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ برطانوی شہری کمزور لیڈروں سے محبت نہیں کرتے۔

Pakistan
Pakistan

قارئین محترم ! ہم جب اِن واقعات کو پڑھتے ہیں اور اِس آئینے میں وطن عزیر کے حکمرانوں کے قول وفعل اور طرز عمل کی تصویر دیکھتے ہیں تو حیران وششدر رہ جاتے ہیں، عقل ماؤف ہوجاتی ،ذہن ودل یہ سمجھنے اور قبول کرنے سے قاصر رہتاہے کہ ایک ایسا ملک جو مقروض ہو، جس کا بال بال اندورنی اور بیرونی قرضوں میں جکڑا ہو،جس کی معیشت غیروں کے ہاتھ گروی رکھی ہوئی ہو،جس کے غریب عوام بے بسی و لاچارگی کی زندگی بسرکررہے ہوں۔

زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہوں ،جہاں کھانے کو روٹی اور پینے کو صاف پانی میسر نہ ہو، بھوک ، غربت ،بے روزگاری،بدامنی اور لاقانونیت کا راج ہو،اُس ملک کا ایوان صدر، وزیر اعظم ہاوس ،گورنر ہاوس ،وزیر اعلیٰ ہاوس اور سیکرٹریٹ سینکڑوں ایکڑ پر پھیلی ہوئی عظیم الشان عمارتوں پر مشتمل اور قوم کے اربوں روپئے ہضم کرجاتا ہو،جس میں متعین ہزاروں افراد پر کا عملہ دن رات حکمرانوں کی جنبش ابرو پر کورنش بجالاتا ہو ،ایسی طرز زندگی اختیار کرنے والے حکمرانوں کی قوم مقروض ومفلس ہوسکتی ہے اور کیا ایک مقروض و مفلس قوم کے حکمرانوں ایسی بودوباش جائز ہے۔

اَمر واقعہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے شاہانہ کروفر میں مغل حکمرانوں کو بھی مات دے دی،سابقہ حکومت کے پانچ سالہ دور اقتدار میں قومی خزانے کی لوٹ مار کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا گیا اور تو اور جاتے جاتے تاحیات مراعاتی پیکیج کے نام پر قومی خزانے کی لوٹ مار کیلئے جو نادر طریقہ اختیار کیا گیا اُس کی مثال تو پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی،خود اپنے لیے تاحیات پُر تعش مراعات کا پیکیج منظور کرتے ہوئے انہیں ذرا بھی شرم نہ آئی ،بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا دیکھئے کہ یہ بھی نہیں سوچا کہ اپنے دور اقتدار میں ملک و قوم کا دیا کیا ہے۔

عوامی فلاح و بہبود کاکونسا ایسا کام کیا ہے، جس کی بنیاد پر تاحیات مراعات حق قرار پائیں،کیا ملک و قوم کے مخلص حکمران اور عوام کے حقیقی نمائندے ایسا کرتے ہیں، مہذب دنیا کی تاریخ میں ہمیں کوئی ایسی دوسری مثال نظر نہیں آتی کہ برسراقتدار جماعت سے وابستہ اراکین نے خود اپنے لیے مراعاتی پیکیج منظور کیا ہو،البتہ ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں،جس میں برسراقتدار طبقے سے وابستہ افراد نے اپنے ملک اور قوم کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن مراعات میں بھی کٹوتی یا مکمل دست برداری اختیار کرنے کو ترجیح دی جو ملک کے آئین وقانون کے تحت انہیں حاصل اور اُن کا حق تھیں، ایسی بھی مثالیں موجود ہیں۔

Political Party
Political Party

جس میں محب وطن حکمرانوں نے بے لوث خدمت کو اپنا شعار بنا کر اپنے ملک اور قوم کو ترقی کی معراج پر پہنچایا،مگر افسوس کہ ہم نے اپنی قومی تاریخ میں نہ تو خود کوئی ایسی مثال قائم کی اور نہ ہی کبھی کسی اور کی مثال کو قابل تقلید جانا،صد افسوس کہ ہم تو بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا بحیثیت گورنر جنرل ایک روپیہ تنخواہ کا عملی پیکیج بھی بھول گئے ،سچ کہتے ہیں جب بے شرمی،ڈھٹائی اور بے ضمیری قلب و روح پر غالب آجائے تو صحیح و غلط کی تمیز مٹ جاتی ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ جب ملک کا منتظم اعلیٰ اپنے امراء و مصاحب اور درباریوں کے ناجائز و غلط کاموں پر صرف نظر کرتے ہوئے خاموش رہ کر منظوری کی سند جواز عطا کرنے لگے توآئین و قانون کی بالادستی مفقود اور انصاف ناپید ہوجاتاہے، گذشتہ پانچ برسوں کے دوران سابقہ حکومت کا اسلوب حکمرانی اِس بات کا مظہر ہے کہ اُسے ملک و قوم کی تعمیر وترقی اور فلاح و بہبود سے کتنی ہمددری تھی،چنانچہ اقتدار کے آخری دنوں میں سابقہ ارباب اقتدار کی ابھر کر سامنے آنی والی تصویرکا تقاضہ ہے۔

11مئی کو قوم جمہوری آمروں کے بجائے نیک ،صالح اور ایسے محب وطن نجات دہندہ کا انتخاب کرے، جس کی جڑیں ایمان ،اتحاد، تنظیم اوریقین محکم سے جڑی ہوں ،جو قناعت وکفایت کا نمونہ ،آئین وقانون کا پابند ، اپنے عمل کا جوابدہ اورعوام کے حقیقی مسائل کا فہم وادارک رکھتا ہو، جو خود اگر قائد اعظم نہ ہو تو کم از کم قائد اعظم جیسا تو ہو۔
تحریر : محمد احمد ترازی
mahmedtarazi@gmail.com

Share this:
Tags:
selection war Wisdom امتحان انتخاب جنگ
Previous Post بھمبر کی خبریں 24.04.2013
Next Post لاہور: قومی ویمن بیس بال چیمپئین شپ کا آغاز ہو گیا
Lahore Base ball

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close