Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اف سارونہ !!! تیری شکایت کس کو سنائوں۔۔۔۔

April 5, 2016 0 1 min read
Govt High School Saroona
Govt High School Saroona
Govt High School Saroona

تحریر: محمد امین بلوچ
سب تحصیل سارونہ میں مقیم دو دوست کافی عرصے سے اسرار کررہے تھے کہ ان کے پاس ہوکر آئیں۔ دل بھی وہاں جانے کو چاہ رہا تھا ۔ بالآخر پروگرام بناکر ایک دوست کے ہمراہ ان کے پاس جانے کا اتفاق ہوا۔ حب سے دریجی روڈ پرسفر کرتے ہوئے سارونہ کُل 178 کلومیٹر کافاصلہ طے کرکے سارونہ تھانہ(بازار) پہنچ گئے۔

سارونہ تحصیل وڈھ ضلع خضدار پسماندہ کا سب تحصیل ہے۔ اس کی سرحدیں جنوب مشرقی طرف سے دریجی لسبیلہ، جنوب مغرب سے شاہ نورانی،شمال مشرق سے صوبہ سندھ کو اور شمال مغرب سے سب تحصیل آڑنجی سے ملے ہوئے ہیں۔ کافی پہاڑی اور میدانی علاقہ پر پھیلا ہوا ہے یہاں پر شاہیزئی ،میرحاجی،شہول، محمد حسنی،رئیسانی، جمالی،لانگواوربھوتانی سمیت دیگر قبائل و اقوام رہائش پذیراور آباد ہیں۔یہاں کے تما م لوگوں کا ایک خاص یکساں ذریعہ معاش کا پیشہ نہیں ۔یہاں لوگ کاشتکاری،اورمائیننگ سے کسی حد تک وابسطہ ہیں سارونہ امن و امان کے صورتحال کے حوالے سے کافی پُر امن علاقہ ہے پرُامنی بھی یہاں کے پرامن عوام کی وجہ سے قائم ہے سارونہ میں بھی دوسرے انٹیریر بلوچستان کی طرح پسماندگی کے آثار نمایاں طورپر نظر آتے ہیں۔ کاشتکاری کا 80%حصہ بارانی ہے ۔ اگر بارشیں نہ ہوں تو کاشتکاری کا نظام بھی رُک جاتا ہے۔ 20%لوگوں نے کاشتکاری کیلئے دیگر ذرائع استعمال کررہے ہیںبنیادی سہولیا ت کی کافی حد تک فقدان ہے ان میں سے کچھ چیدہ چیدہ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہیں۔

سڑک و ذرائع آمد و رفت:۔
اگر حب سے دریجی سڑک کوسفر کیلئے استعمال میں لایا جائے تو دریجی سے 22کلومیٹر آگے دیوانہ شاہ تک پکی سڑک ہے اس کے بعد آری پیر کراس سے سارونہ شہر تک کچا راستہ ہے جو پہاڑی سلسلے سے مائیننگ کیلئے بنائے گئے ہیںاور اس پر ٹرکوں کا آمدورفت رہتی ہے ۔ اس راستے پر سفر کرتے ہوئے آری پیر ایریا اور اس کے دامن میں پہاڑوں پر مائینز ہی مائنز ہیں اور بھر ضلع لسبیلہ کا اختتامی حد جس کو ٹوکن کہا جاتا ہے واقع ہے ۔ ٹوکن سے لسبیلہ کی حدود ختم ہوکر خضدار کاانتظامی حد ودشروع ہوتا ہے اس پوائنٹ کو ٹوکن شاید اس لیئے کہا جاتا ہے کہ وہاں پر پتھر لے جانے والے گاڑیوں کے یونین کے لوگ بیٹھے ہیںاور ان سے وہاں پر مائینز کے بارے میں یا لیزز کے بارے میں کوئی پرچی لی جاتی ہے۔ آگے سفر کرتے ہوئے گَڈڑوکاپہاڑ ی سلسلہ آتا ہے جس میں ہر طرف مائینز ہی مائینز دکھائی دیتے ہیں۔یہ راستے کچا ہونے کے ساتھ ساتھ کافی دشوار گزار بھی ہے۔موٹر سائیکل اور گاڑی دونوںپر اوسطََ20کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے زائد پر سفر نہیں کیا جاسکتا ہے۔ علاقے کی مٹی کافی چکنی ہونے کی وجہ سے شاید بارشوں میں سفر کرنا مشکل ہو۔ علاقے میں ایک یہی راستہ اور دوسرا شاہ نورانی کی طرف سے ہے وہ بھی کچا ہے ۔ تیسرا روٹ تحصیل وڈھ آڑنجی کی طرف سے ہے جوکہ مکمل کچا ہے ۔ایک بس علاقے سے خضدار کی طرف چلتی ہے جو مختلف مقامات قصوری،کلغلو ، خوبینٹ ،زگر کوہن ، اوجھاتو، لسو ، اور کنجڑ کی طرف سے ہوتی ہوئی خضدار کو جاتی ہے۔ دو بسیںکراچی کی طرف سے چلتی ہیں ۔ ان بسوں میں کچے سڑکوں اور دشوارگزاری کی وجہ سے مسافروں کو کافی تکالیف برداشت کرنا پڑتی ہے۔اگر کراچی سے کوئی بس شام کو نکلے تو پوری رات سفر میں بیت جاتی ہے۔ علاقے میں سڑکوں کی اشد ضرورت ہے۔

Govt High School Saroona
Govt High School Saroona

تعلیم:۔
تعلیمی حوالے سے اگر سارونہ کو پرکھا جائے تو کوئی خاطر خواہ تسلی نہیں ملتی علاقے میں پرائمری سطح کے کئی اسکولز ہیں مگر ان کی کارکردگی صفر کے برابر ہے ان پرائمری سکولوں سے ہائی سکول اسٹاف کے مطابق سال میں پانچویں کا کوئی ایک طالب علم بھی ہائی سکول سارونہ میں نہیں پہنچ پاتے جس کی ثبوت گورنمنٹ ہائی سکول سارونہ کے مڈل سیکشن نے خود دی جتنے بھی طلباء ہائی سکول کے مڈل سیکشن میں پڑھتے ہیں سب کے سب اسی ہائی سکول کے پیداوار ہیں فیڈنگ سکول پرائمری ہوتے ہیں ان کی طرف سے ہائی سکول مکمل طورپر ناامید ہے اگر گورنمنٹ ہائی سکول سارونہ اور اس کے کرداراور سابقہ تاریخ پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے تو 2013تک ہائی سکول سارونہ کا تعلیمی حوالے سے کچھ خاص ریکارڈ نہیں رہا ہے 2014سے اب تک اسکول میں طلباء کی تعداد میں 87.5%اضافہ ہوا ہے جس کا تمام تر سہرا علاقے کے لوگ اسکول اسٹاف کی ان تھک محنت کو دیتے ہیں لیکن ہائی سکول سارونہ سرکاری سکول ہونے کی وجہ سے علاقائی لوگوں کی تعلیمی ترجیحات میں عملی طور شامل نظر نہیں آرہے جو وہاں کے لوگوں کے ترجیحات میں ہونا چاہئے تھا صرف کسی سرکاری آفیسر کے دورے کے موقع پر بے مقصد شکاتوں کا انبار لگانے آتے ہیں۔ اسکول کی عمارت کسی بھی زاویے سے ایک ہائی سکول کا منظر پیش نہیں کرتاہائی سکول کُل 7 کمروں پر مشتمل ہے جن میں سے ایک ہیڈماسٹر کا دفتر بھی ہے اور تین کمرے پرائمری سیکشن کے 6 جماعتوں کیلئے جبکہ تین کمرے مڈل اور ہائی سیکشن کے 5 جماعتوں کیلئے تین کمرے ہیں اگر مڈل سیکشن کی ششم تا ہشم کلاسیں پوری ہوں تو ہائی سکیشن کے بچو ں کا اللہ ہی حافظ انہیں بیٹھنے کیلئے شیلٹر تک میسر نہیں ہونگے۔

سکول میں ہیڈ ماسٹر کے علاوہ ایس ایس ٹی کی پوسٹیں عرصہ دراز سے خالی ہیں ایک ایس ایس ٹی بھی نہیں کہ جو ہائی سیکشن کے بچوں کو پڑھائیں سائنسی علوم و تجربات کیلئے کوئی سائنس روم یا لیبارٹری نہیںہے نہم و دہم کے طلباء سائنسی علوم کے حوالے سے ناواقف ہیں اسکول میں لائبریری اور سائنس لیبارٹری کی اشد اور فوری ضرورت ہے اسکول ہٰذا بغیر چاردیواری کے ہے طلباء و طالبات کیلئے کوئی بھی واش روم کی سہولت موجود نہیںہے کھیل کی سرگرمیاں تو ندارد،سکول کے بچوں کے مطابق ایک ٹیچر نے اپنے جیب سے فٹ بال اور کرکٹ کے کچھ سامان طلباء کے کھیلنے اور تفریح کے اوقات میں مصروف رہنے کیلئے خرید لائی ہے اساتذہ کی رہائش کیلئے ایک خستہ حال کواٹر ہے جو رہنے کے قابل نہیں اس کواٹر کی چھت میں دراڑیں پڑ چکی ہیں جو کسی بھی وقت اساتذہ کے لئے خطرے کی گھنٹی بجاسکتی ہے اور نہ ان کیلئے واش روم و باتھ کا کوئی خاص انتظام ہے۔ 14اساتذہ کیلئے10×12کی دو کمرے ہیں جن میں اگر سب ایک ہی دفعہ بیٹھ جائیں تو شاید دو یا تین اساتذہ کو بیٹھنے میں مشکل پیش ہو۔ سارونہ میں ایک پرائمری سکول (کُردان کُھڈوماس)قابل ذکر ہے اس اسکول کا واحد ٹیچر عبدالخالق ہے اور اس پرائمری سکول میں 80سے زائد ریگولر بچے زیر تعلیم ہیں اور عبدالخالق روزانہ موٹرسائیکل پر تقریباََ 16کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے بچوں کو پڑھانے جاتا ہے اور اپنے فرض کو بخوبی نبھا رہے ہیں۔ہائی اسکول سارونہ کے کئی حل طلب مسائل ہیں جن میں چاردیواری ، ایڈیشنل کلاس رومز، سائنس روم و لیبارٹری، لائبریری، پینے کا صاف پانی کیلئے بور، بجلی کیلئے جنریٹراور اساتذہ کیلئے کواٹرزکی فوری اور ترجیحی بنیادوں پر اشد ضرورت ہے۔ سرکاری سکول کے ساتھ ساتھ ایک پرائیویٹ سکول بھی ہے اور اس پرائیویٹ سکول کا سہرا بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کو جا تا ہے سردا ر صاحب اس پرائیویٹ سکول کے لئے تنخواہوں کی مد میں ماہانہ ایک لاکھ 100.000روپے اپنی طرف سے فراہم کرتا ہے جو ان کی تعلیم دوستی کا عملی ثبوت ہے سارونہ جیسے پسماندہ علاقے کی تعلیمی حالات کو اپنی ترجیحات میں رکھا گیا ہے۔

Govt High School Saroona
Govt High School Saroona

صحت عامہ:۔
صحت کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو صرف ایک بنیادی مرکز صحت نظر آتی ہے۔ادویات کی صورتحال بالکل اسی طرح ہے جیسے بلوچستان کے دوسرے تحصیل اور اضلاع میں ہے۔ RHC’sکو اگر کواٹرلی ایک لاکھ کی ادویات ملتی ہوں BHU’sتو ذیلی اور بیسک سطح کے صحتی ادارے ہیںان میں ادویات نہ ہونے کے برابر ہیں روٹین کے ٹیکہ جات سرے سے ہی دستیات نہیں ہیں عملہ میں سے جو موجود ہیں وہ صرف فرمانِ سرکار اور فریضہ سرانجام دینے کی غرض سے ہسپتال بیٹھے ہوتے ہیں باقی اگر کوئی سیریئس نوعیت کا کیس ہوتو علاج کی کوئی دیگر سہولت موجود نہیں BHUسے 70میٹر کے فاصلے پر ایک پرائیوٹ کلینک ہے اور وہ بھی پونسٹان ، پیناڈول جیسے گولیاں اور ورین اور آرٹیفن جیسے انجیکشن تک محدود ہے۔ ایمبولینس کئی سالوں سے خراب پڑی ہے مریضوں کو کراچی منتقل کرنے میں کافی مشکلات درپیش آتے ہیںکئی مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں رہ کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں باہر کے ڈاکٹر اور پیرامیڈیکس کے عملہ کیلئے رہنے کا کوئی انتظامات نہیں ہے وہاں ایک دوست نے بتایا کہ ایک دفعہ ہائی سکول کی ایک ٹیچر کی طبیعت اچانک بگڑ گئی تو اس ٹیچر کو کسی پرائیویٹ پک اپ گاڑی میں علاج کی غرض سے سارونہ سے براستہ کوڑیانگ شاہ نورانی لے گئے آپ سوچ رہے ہوں گے شاید شاہ نورانی میں آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کی کوئی برانچ موجود ہے اس لئے مریض کو وہاں لے گئے اصل میں وہاں ایک جنرل فزیشن بیٹھتا ہے اور کسی حد تک مریضوں کو عارضی یا مستقل قسم کے ایک آدھ ادویات دیا جاتا ہے اس لیئے اس ٹیچر کو وہاں لے گئے مگر بات یہ ہے کہ مریض کو شاہ نورانی ایک تو کیسے لے جایا جائے اگر لے جائیں تو سڑک کٹھن اور مشکل گزار ہے وہاں تک4گھنٹے آسانی سے لگ سکتے ہیںچاہے جتنا بھی جلد بازی کیوں نہ کی جائے تو جناب صحت عامہ کے حوالے سے سارونہ کافی پسماندہ ہے اور ان کی حالات زار پر توجہ دی جائے ۔

سڑکیں:۔
کسی بھی علاقہ کو دوسرے شہروں اور دیہاتوں سے ملانے والے اہم ذرائع سڑکیںہوتی ہیں جس کی وجہ سے علاقوں کے درمیان ہفتوں کی مسافت گھنٹوں میں طے کی جاتی ہیں اور گھنٹوں کی مسافت کو منٹوں میں طے کیا جاتا ہے اگر سڑکوں کی سہولت نہ ہو تو کچھ فرلانگ کا فاصلہ طے کرنا بھی مشکل بن جاتا ہے سب تحصیل سارونہ میں سڑکیں نہ ہونے کے برابر ہیں کچی سڑکیں 20km/hکی رفتار سے بھی سفر کرنا مشکل ہے جس کی مثال سارونہ تھانہ سے چلنے والی بس کا دیوانہ شاہ تک کے 42کلومیٹر کا سفر5گھنٹوں میں طے کرنا ہے سڑکیں اس قابل ہیں کہ اگر کوئی ایک دفعہ سارونہ جائے تو پھر دوبارہ جانے کا دل نہیں کرتا جس کی وجہ صرف اور صرف سڑکیں ہی ہیںشاہ نورانی سے آنے والی سڑک بھی کافی کٹھن ہے جو کوڑیانگ سے ہوتا ہوا سارونہ تھانہ سے ملا ہوا ہے یا درمیانی راستہ چھاپار پہاڑ کے اوپر سے جسے عام طور پرزین کا کھنڈ کہا جاتا ہے موٹر سائیکل پر ایک آدمی بڑی مشکل سے دوسری طرف پار ہوسکتا ہے علاقے میں پکی سڑکوں کی فوری اور ترجیحی بنیادوں پر ضرورت ہے۔

ذرائع آمدورفت و رسل و رسائل:۔
سارونہ براستہ ضلع لسبیلہ کراچی تین بسیں چلتی ہیں مسافروں کے ساتھ ساتھ ان بسوں میں تمام باربرداری اشیاء خوردنوش وراشن سمیت تمام ضروریات زندگی کو انہی بسوں میں لایا جاتا ہے مال مویشی بھی لے جایا جاتا ہے تو یہ ایک آل رائونڈر سروس ہے ۔ اچھے اور پختہ روڈز نہ ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز کارگو سروسز چلانے کی ہمت نہیں کرتے۔

Govt High School Saroona
Govt High School Saroona

ذرائع ابلاغ و مواصلات:۔ سارونہ میں ذرائع ابلاغ و مواصلات کا کوئی خاص نظام نہیں پرنٹ میڈیا کی بالکل سرے سے رسائی نہیں ہے حب کی طرف سے چلنے والی بسوں میں پسنجرز کبھی کبھار سارونہ آتے ہوئے روزنامہ انتخاب حب کی ایک دوکاپیاں ہاتھوں ہاتھ لاتے ہیں جو اگلے دن پہنچ جاتے ہیں ورنہ کچھ نہیں سارونہ بازار میں دو vfoneسیٹ لگے ہوئے ہیں 7کلومیٹر کے فاصلے پر ایک سیٹ چمروک ایریا میں ہے جن کا بیس BASEکہیں 20کلو میٹردور پہاڑ پر نصب ہے کسی کو اگر رابطہ کرنا ہو تو وہ یہاں سے رابطہ کرنے چلا آتا ہے اوراگر کسی کو کسی اور جگہ سے سارونہ تھانہ کسی سے بات کرنا پڑجائے وہ پہلے کال کرکے متعلقہ شخص کو بلوالیتا ہے پھر وہاں سے مس کال کے ذریعہ اس کے آنے کا خبر دیا جاتا ہے اور پھر وہاں سے فوری کا ل آجاتی ہے اور بات ہوجاتا ہے یہ کام سارونہ بازار میں ایک دکاندار سلطان احمد اوران کے بھائیوں محمد شریف، محمد امین اور حمید کا ہوتا ہے جس کیلئے وہ ایک معقول رقم حاصل کرتے ہیں اور لوگوں کو کسی بھی وقت اس سہولت سے مستفید رکھتے ہیں تقریبا20.000سے 25.000 ہزار انسانی آبادی میں کم از کم ایک موبائل سروس کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔

اسپورٹس:
علاقے میں اسپورٹس گرائونڈ کہیں بھی نظر نہیں آتی فٹ بال کا کھیل تونام کی کوئی چیز ہی نہیں کہ کوئی فٹ بال کھیل کو جان سکے بلکہ کرکٹ کھیلنے والے چند لڑکے وہاں ہائی سکول کے عین سامنے اپنی مدد آپ کے تحت آدھی پچ بناکر کھیلتے نظر آتے تھے لیکن ان کے ساتھ اسپورٹس کے حوالے سے کوئی سرکاری یا علاقائی لوگوں کا تعاون دکھائی نہیںدے رہا تھا گرائونڈ میں موجود دو سینئر کھلاڑیوں سراج احمد اور راشد احمد سے جب اسپورٹس کے افادیت اور اہمیت کے حوالے سے کچھ جاننے کی کوشش کی تو ان کے مطابق کھیلوں کے حوالے سے انہیں کوئی سہولت میسر نہیں علاقے کے منتخب نمائندے یا کونسلران ہوتے ہیں تو وہ صرف اپنے ہی خیر مانگتے ہیں عوام کا اللہ ہی حافظ ان کے بقول گزشتہ سال ڈپٹی کمشنر جناب سید عبدالوحید شاہ نے ان کی ٹیموں سمیت ضلع خضدار کے تمام کرکٹ اور فٹ بال ٹیموں کیلئے کھیلوں کا سامان کافی تعداد میں مہیا کیا تھا لیکن سارونہ کے ٹیموں کی سامان کو نہ جانے زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا یہ سامان خضدار سے مل چکے تھے لیکن سارونہ کی ٹیموں تک نہیں پہنچ سکا فارغ اور شام کے اوقات میں مقامی نوجوانوں کو کھیل جیسے سرگرمی کیلئے مخصوص جگہ میسر نہیں جہاںان کے شام کے کھیل کود کا بندوبست ہوجائے۔

لیویز تھانہ:۔
لیویز انتظامیہ کیلئے تین چا ر کمروں پر مشتمل ایک بوسیدہ عمارت ہے جو کسی بھی وقت معمولی جھٹکے میں گرسکتی ہے ان کمروںمیں نائب تحصیلدار کا دفتر ، رہائش اور قیدیوں کے لئے لاک اپ بھی ہیں ۔۔لاک اپ میں معمولی مقدمے کے نوعیت کے قیدی کو رکھنا بھی بڑی رسک ہے لیکن اگر کوئی دہشت گردیا خطر ناک قیدی پکڑا گیا تو وہ اسے رکھنا بھی ایک غلطی سے کم نہیں لیویز کی نفری بھی کافی کم ہے ۔۔

Mohammad Amin Baloch
Mohammad Amin Baloch

تحریر: محمد امین بلوچ

Share this:
Tags:
friends Heart دل دوست شکایت
Chaudhry Nisar Ali Khan
Previous Post پاناما لیکس : وزیر داخلہ چودھری نثار علی آج پریس کانفرنس کریں گے
Next Post کچھ شیطان پاناما لیکس کے واویلے کو آگے بڑھا رہے ہیں : رانا ثناء اللہ
Rana Sanaullah

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close