Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جمال خشوگی

November 15, 2018November 15, 2018 1 1 min read
Jamal Khashoggi
Jamal Khashoggi
Jamal Khashoggi

تحریر: رانا عبدالرؤف خاں

جمال خشوگی نے اس سال چار اکتوبر کو الجزیرہ ٹی وی کے شہرہ آفاق ٹاک شو پروگرام ”اپ فرنٹ” میں کھُل کر سعودی کراون پرنس شہزادہ محمد بن سلمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ناممکن ہے کہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب ایک جمہوری ملک بن سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ آج سعودی عرب میں سینکڑوں کے حساب سے انسانی حقوق کے کارکن، صحافی اور دانشور غیرقانونی حراست میں ہیں کیونکہ اُن سب کا جُرم ایک ہی ہے کہ وہ یہ خام خیال رکھتے تھے کہ سعودی عرب میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے۔

جمال خشوگی سعودی عرب کے ایک مشہور علمی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو کہ اعلیٰ تعیلم یافتہ تھے۔ شہزادہ محمد بن سلمان پر تنقید کی وجہ سے اُنہیں پہلے سے ہی علم ہوگیا تھا کہ اُن کی جان کو سعودی عرب میں خطرہ ہے اس لئیے اُنہوں نے ایک سال قبل ہی سعودی عرب کو خیر آباد کہ دیا اور امریکہ جا کر خودساختہ جلاوطنی اختیار کرلی۔

جمال خشوگی کے سعودی انٹیلی جنس ایجنسی میں بہت سے سورسز تھے جو اُسے شاہی محل اور محمد بن سلمان کے اقدامات کی خبر دیتے رہتے تھے۔ جمال نے امریکہ میں واشنگٹن پوسٹ میں ایک کالم نگار کی حیثیت سے کام کرنا شروع کردیا۔

سعودی کراون پرنس محمد بن سلمان پر یہ اپنے کالموں میں سخت تنقید کرتے رہتے تھے۔ یہ تنقید شہزادہ محمد بن سلمان کو بہت ناگوار گزرتی۔ شہزاد محمد بن سلمان ایک جارح فطرت، سفاک اور متنقم مزاج مشہور ہے۔ جس کی مثال اُس طاقت ور بدمست ہاتھی کی سی ہے جو اپنی طاقت کے زور پر دشمن کو اپنے پاوں سے کچل دیتا ہے۔ جب سے محمد بن سلمان کراون پرنس بنا ہے تب سے سعودی عرب نے معاملات کو گفت وشنید کی بجائے طاقت کے استعمال سے حل کیا ہے۔
یمن کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے لے کر یمن کی بے گناہ عوام کی قتل و غارت گری تک سعودی عرب نے اپنی طاقت کا بے رحمانہ استعمال کیا ہے۔

جمال خشوگی ایک تُرکی کی خاتون خدیجہ سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن تُرک قانون کے مطابق جمال خشوگی کو سعودی عرب کی طرف سے ایک دستاویز کی ضرورت تھی جس کے بعد ہی وہ خدیجہ سے شادی کے ضابطے کی کاروائی مکمل کرسکتے تھے۔ خدیجہ جمال خشوگی کو سعودی سفارت خانے بھیجنے سے ڈررہی تھی لیکن جمال بہت پُراعتماد تھا اور خدیجہ سے کہ رہا تھا کہ سفارت خانیمیں تعینات لوگ میرے جیسے ہی عام بے ضرر سعودی شہری ہیں مجھے اُن سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن جمال خشوگی خود بھی بڑے چین اور غیر مطمئن تھے ایک انجانا خوف تھا جو اُن کے سر پر سوار تھا لیکن اس انجانے خوف کو جمال خشوگی بہتر طریقے سے سمجھ نہ پائے۔ جمال کو پتہ تھا کہ اُس کا موبائل فون باہر ہی رکھ لیا جائے گا اس لئیے اُس نے ایک احتیاطی قدم ضرور اُٹھایا جس کی بدولت شہزادہ محمد بن سلمان کی جمال خشوگی کو قتل کی ساری منصوبہ بندی بے نقاب ہوگئی۔

جمال نے اپنی کلائی پر ایپل فور سیریز کی ایک جدید گھڑی پہن لی جس پرریکارڈنگ آن کردی اوراُس ریکارڈنگ کو انٹرنیٹ کنکشن کی مدد سے سیدھا جمال خشوگی کے بنے ہوئے آئی کلاوڈ پر محفوظ ہورہی تھیجمال نے اپنی کلائی پر ایپل فور سیریز کی ایک جدید گھڑی پہن لی جس پر ریکارڈنگ نے پوری دنیا کو بتایا کہ جمال خشوگی کو کس بے رحمی اور سفاقانہ طریقہ سے قتل کیا گیا۔

جمال نے ایمبیسی کے اندر داخل ہونے سے قبل خدیجہ کو باہر انتظار کرنے کو کہا اور بوجھل قدموں کیساتھ تُرکی میں موجود سعودی سفارت خانے میں داخل ہوگیا۔ جمال خشوگی کی منگیتر تُرکی میں موجود سعودی ایمبیسی کے سامنے بیٹھی جمال کا انتظار کرتی رہتی ہے لیکن شام کا جب اندھیرا پھیلنے لگتا ہے تو وہ ایمبیسی والوں سے پوچھتی ہے تو اندر سے جواب ملتا ہے کہ جمال خشوگی تو کب کا واپس جاچکا ہے۔ خدیجہ حیران و پریشان کھڑی رہتی ہے اور سوچتی ہے کہ جمال خشوگی تو باہر نکلا ہی نہیں ہے۔

جمال خشوگی جب سعودی ایمبیسی کے اندر داخل ہوتا ہے تو ایک شخص پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق اُسے ایک ہال میں لے جاتا ہے جہاں پر سعودی عرب سے آئی ہوئی خصوصی پندرہ رُکنی ایک ٹیم اُس کے انتظار میں بیٹھی ہوتی ہے۔ خشوگی کی ایپل واچ پر ریکارڈنگ آن ہوتی ہے جو انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے جمال خشوگی کے آئی کلاوڈ پر ساتھ ساتھ محفوظ ہوتی جارہی ہے۔ جمال خشوگی کے ہال میں پہنچتے ہی چند لوگ خشوگی کو پکڑ کر میز پر لٹا دیتے ہیں۔ خشوگی تھوڑی بہت مزاحمت کرتا ہے لیکن پندرہ رُکنی ٹیم جو ماہر کمانڈوز انتہائی تربیت یافتہ تھی اُن کے سامنے بے بس ہوگیا۔ اسی دوران ریکارڈنگ پر سعودی قونصلیٹ جنرل پندرہ رُکنی ٹیم چیختا اور چلاتا ہے کہ یہ تم لوگ کیا کررہے ہو؟ تم لوگ مجھے بھی پھنسواو گے۔ جواب میں شہزادہ محمد بن سلمان کا ایک مشہور باڈی گارڈ چلّا کرکہتا ہے کہ اگر تم زندہ سعودی عرب سے واپس آئے تو کہنا۔ ہمارے کام میں رکاوٹ مت پیدا کرو۔ سب سے پہلے جمال کے سارے کپڑے اُتار دئیے جاتے ہیں لیکن قاتل جمال کی کلائی پر بندھی ایپل کی فور سیریرز کی واچ کو اُتارنا بھول جاتے ہیں یا پھر اُسے نظر انداز کردیتے ہیں۔

اُسی پندرہ رُکنی ٹیم میں سے ایک شخص جس کے پاس ایک الیکٹرانک آرا ہوتا ہے اُسے چلاتا ہے اور جمال خشوگی کی ایک انگلی کاٹ دیتا ہے۔ جمال کی چیخوں سے پورا حال گونج اُٹھتا ہے لیکن یہ سفاک لوگ جمال کی اُبھرتی ہوئی چیخوں سے بے اثر ہوکر اُس کے جسم کو زندہ ہی ٹکڑوں میں تقسیم کردیتے ہیں۔ آرا چلنے اور جمال کی چیخوں کی آوازیں آتی رہتی ہیں پھر جمال کی آواز خاموش ہوجاتی ہے اور آرا تھوڑی دیر تک چلتا رہتا ہے۔ اس دوران قونصلیٹ جنرل اس قاتل ٹیم کو بُرا بھلا کہتا رہتا ہے۔ اس پندرہ رُکنی ٹیم کے کچھ ارکان خون کے دھبوں کو صاف کرتے ہیں اور کچھ لوگ پلاسٹک کے بیگ میں جمال خشوگی کی لاش کے ٹکڑوں کو ڈالتے ہیں جنہیں بعد میں ایک تیزاب کے ڈرم میں ڈال کر ساری لاش کو ایک محلول میں تحلیل کردیا جاتا ہے۔ یہ سارا کام جمال خشوگی کے سعودی ایمبیسی میں داخلے کے پندرہ منٹ کے اندر اندر کردیا جاتا ہے۔ پھر جمال خشوگی کے کپڑے اُسی کے قد کاٹھ کے ایک شخص کو پہنائے جاتے ہیں اور اُسے پچھلے دروازے سے باہر نکلتے سی سی ٹی وی میں ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ یہ ریکارڈنگ اس انداز سے کی جاتی ہے کہ ہوبہو ایسا ہی لگے کہ جمال خشوگی ایمبیسی میں آیا اور پچھلے دروازے سے واپس چلا گیا۔ یہ سی سی ٹی وی ریکارڈنگ محفوظ کرلی جاتی ہے۔

۔(ویڈیو دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں)۔

https://web.facebook.com/Dr.murtaza.kml/videos/1815525925239547/

جمال کی منگیتر فوری طور پر تُرک پولیس کو مطلع کرتی ہے اور جمال خشوگی کے چند دوستوں کو اطلاع دیتی ہے کہ جمال کو سعودیوں نے یرغمال بنا لیا ہے۔ چونکہ جمال کا آئی فون خدیجہ کے پاس ہی ہوتا ہے اور جب وہ آئی کلاوڈ کو کھول کر اُس میں موجود ایپل واچ کی آخری ریکارڈنگ کو سُنتی ہے تو وہ کانپ کررہ جاتی ہے۔ خدیجہ یہ ریکارڈنگ اپنے پاس محفوظ رکھ لیتی ہے اور فوری طور پر تُرک حکام کے حوالے کردیتی ہے۔ تُرکی کی ساری تفتیشی ایجنسیاں جب یہ ریکارڈنگ سُنتی ہیں تو اُنہیں یقین ہوجاتا ہے کہ جمال خشوگی کو کس بے دردی کے ساتھ قتل کردیا گیا ہے۔ تُرک حکام تفتیش کا آغاز کردیتے ہیں توسب سے پہلے سعودی ایمبیسی سے سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ مانگی جاتی ہے تو صرف دو کیمروں کی ریکارڈنگ پیش کی جاتی ہے جس کی ایک فوٹیج میں جمال خشوگی ایمبیسی کے اندر جارہا ہے اور دوسری میں جمال خشوگی پچھلے دروازے سے باہر پیدل جاتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ تُرک تفتیشی حکام جب شہر میں لگے دوسرے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ایمبیسی سے باہر نکلنے والے شخص کا پیچھا کرتے ہیں کہ کدھر جارہا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ شخص قریبی ایک شاپنگ سنٹر میں داخل ہوتا ہے۔ پھر شاپنگ سینٹر کے واش روم میں جاکر جمال خشوگی کے کپڑوں کو تبدیل کرتا ہے، چہرے سے مصنوعی داڑھی اور میک اپ کو ختم کرکے ایک نئے حلیے میں باہر نکلتا ہے۔ تُرک حکام کو یقین ہوجاتا ہے کہ یہ فوٹیج جان بوجھ کو جعلی بنائی گئی ہے اور تُرک حکام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جبکہ شاپنگ سینٹر میں داخل ہونے والے شخص کی سی سی ٹی وی فوٹیج کچھ نزدیکی کیمروں سے بھی ریکارڈ ہوتی ہے جس سے تُرک حکام کو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ یہ جمال خشوگی کی بجائے کوئی اور شخص ہے۔

جمال خشوگی پورے پانچ دن پہلے سعودی ایمبیسی سے اپنی اپائنٹمینٹ لیتا ہے۔ سعودی ایمبیسی اُسے اکتوبر کی دو تاریخ کو دوپہر کے وقت بُلاتی ہے۔ تُرک حکام کے علم میں یہ بات آتی ہے کہ دو تاریخ کو ہی دو سعودی چارٹر طیارے آتے ہیں جن میں یہ پندرہ لوگ سوار ہوتے ہیں۔ اپنا کام مکمل کرنے کے بعد دو تاریخ کوہی یہ پندرہ رُکنی ٹیم جس خاموشی کے ساتھ آتی ہے اُسی خاموشی کے ساتھ واپس چلی جاتی ہے۔ تُرک حکام بار بار سعودی ایمبیسی سے سی سی ٹی وی فوٹیج کا مطالبہ کرتے ہیں تو جواب میں کہا جاتا ہے کہ اُس دن کیمرے خراب تھے۔

تُرکی کی تفتیشی ایجنسیاں جب مزید تفتیش کرتی ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ دو اکتوبر کو حسب معمول ایمبیسی میں کام ہورہا تھا کہ اچانک دن گیارہ بجے ہی مقامی تُرک عملے کو کہا جاتا ہے کہ وہ فوری طور پر چھٹی کرلیں۔ تُرک عملہ بھی حیران ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس طرح سے پہلے کبھی وقت سے قبل ایمبیسی کو بند نہیں کیا گیا یہ آج اچانک کیوں ایسا ہورہا ہے۔

اس طرح سے حقائق کے تمام پردے ایک ایک کرکے ہٹنے لگتے ہیں اور تُرک وزیراعظم طیب اردگان پریس کانفرنس کرکے اُس پندرہ رُکنی ٹیم کے ایک ایک رُکن کو بے نقاب کردیتے ہیں۔
ان ارکان میں ایک رُکن تو محمد بن سلمان کا ذاتی باڈی گارڈ محمد سعد الزاہرانی ہے جسے محمد بن سلمان کے بہت قریب دیکھا جاتا ہے۔

اس پندرہ رُکنی ٹیم کا ایک شخص سعودی عرب میں ایک مشکوک ٹریفک حادثے میں مارا جاچکا ہے جبکہ یہ بھی سامنے آیا کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے دو اہم افراد نائب انٹیلی جنس چیف احمد العسیری اور رائل کورٹ کی میڈیا ایڈوائزر سعود القحطانی کو شاہ سلطان نے اس معاملے پر برطرف کر دیا ہے۔ سعود القحطانی کے متعلق بھی یہ خبریں عام ہیں کہ وہ بھی گرفتار ہے۔ میں نے ذاتی طور پر جب سعود القحطانی کے ٹوئیٹر ہینڈلر کو دیکھا تو یہ بھی کچھ دنوں سے مکمل خاموش ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جمال خشوگی کے قتل کا حکم محمد بن سلمان نے ہی دیا تھا اور اُسی کے قریبی لوگ اس قتل میں براہ راست ملوث ہیں۔ اس بات کا دوسرا بڑا ثبوت یہ ہے کہ جمال کے قتل کے بعد تُرکی میں موجود سعودی قونصلیٹ سے فوری طور پر دو کالیں محمد بن سلمان کو براہ راست کی گئیں اور اُسے مشن کے مکمل ہونے کی خبر دی گئی۔ ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ کال شہزادہ محمد بن سلمان کے بہت ہی قریبی ساتھی مھر عبدالعزیز مطرب نے کی جو اکثر بیرون ملک دوروں میں شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ جو ریکارڈنگ تُرک تفتیشی ایجنسیوں کے پاس ہے اُس میں واضح طور پر مھر عبدالعزیز مطرب کو عربی زبان میں یہ کہتے ہوئے سُنا جاسکتا ہے جو کہ رہے ہیں کہ اپنے باس کو بتا دو مشن مکمل ہوگیا ہے۔

یقینی طور پر یہ پیغام واضح طور پر شہزادہ محمد بند سلمان کے لئیے ہی تھا۔ سعودی عرب نے سب سے پہلے تو جمال کے قتل سے انکار کیا اور کہا کہ جمال سعودی قونصلیٹ سے بحافاظت جا چکا تھا۔ پھر جب تُرکی کے صدر طیب اردگان نے پریس کانفرنس میں ٹھوس موقف دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس جمال خشوگی کے قتل کے مکمل ثبوت موجود ہیں۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ جمال کے ہاتھ پر بندھی ایپل کی گھڑی سارے ثبوت فراہم کردے گی۔

پھر بیرونی دُنیا کو اپنا سافٹ امیج دکھانے کے لئیے تئیس اکتوبر کو شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان ریاض میں پہلے سے قید جمال خشوگی کے بیٹے اور بھائی کو اپنے محل میں بُلواتے ہیں جہاں پرانتہائی مجبوری کے عالم میں جمال خشوگی کے بیٹے صلاح کو اپنے ہی باپ کے قاتل سے مصافحہ کرنا پڑتا ہے۔ اسی ملاقات میں جمال خشوگی کے بیٹے صلاح خشوگی شاہ سلمان نے مطالبہ کرتے ہیں کہ اُن کے والد کی لاش اُن کے حوالے کی جائے تاکہ وہ اُن کی آخری رسومات کو عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کرسکیں۔ اس بارے میں محمد بن سلمان نے خشوگی فیملی کو یقین دلایا کہ وہ اُن کے ساتھ تعاون کریں گے۔

سوچنے والی بات صرف یہ ہے کہ مملکت اسلامیہ کے مرکز سعودی عرب پر کیسے سفاک لوگ حاکم بنے ہوئے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے پوری دُنیا کے سامنے جو اسلام کی ایک شبیہہ پیش کی ہے وہ بہت ہی سفاک شکل پیش کی ہے۔ یہ کیسے اسلامی رہنما ہیں جو لوگوں کے سروں کو کچل کر روند کر، زندہ شخص کو پکڑ کر آرے کی مدد سے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اور اپنے مخالفین کو خفیہ طریقوں سے قتل کرکے سمجھتے ہیں کہ اُن کا اقتدار اب محفوظ ہوچکا ہے۔ مجھے ساحر لدھیانوی شہرہ آفاق نظم یاد آگئی کہ مظلوم کا خون کیسے بہتا ہے اور کیسے چیخ و پکار کرکرکے دست قاتل کی نشاندہی کرتا ہے۔

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمے
فرق انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
تیغ بیداد پہ یا لاشہ? بسمل پہ جمے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ
سازشیں لاکھ اڑاتی رہیں ظلمت کی نقاب
لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ
ظلم کی قسمت ناکارہ و رسوا سے کہو
جبر کی حکمت پرکار کے ایما سے کہو
محمل مجلس اقوام کی لیلیٰ سے کہو
خون دیوانہ ہے دامن پہ لپک سکتا ہے
شعلہ تند ہے خرمن پہ لپک سکتا ہے
تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ہے
کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کر
خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سے
سر اٹھاتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں سے
ظلم کی بات ہی کیا ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک
خون پھر خون ہے سو شکل بدل سکتا ہے
ایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے
ایسے نعرے کہ دباؤ تو دبائے نہ بنے

Abdul Rauf Khan
Abdul Rauf Khan

تحریر: رانا عبدالرؤف خاں

Share this:
Tags:
country Freedom Mohammad bin Salman saudi arabia steps آزادی اقدامات سعودی عرب محمد بن سلمان ملک
Police
Previous Post پولیس اب بہتر ہو جائے گی
Next Post 1999 میں مارشل لاء کے بعد کاروبار کا تمام ریکارڈ ایجنسیاں لے گئیں: نواز شریف
Nawaz Sharif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close