
تحریر: اقبال احمد
میں آپ کے توسط سے علمائے کرام کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ 25 اور 26 اپریل کو نیپال اور اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں بشمول ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں جو زبردست زلزلہ آیا اور اس کے بعد مسلسل معمولی جھٹکے محسوس کئے جاتے رہے ، وہ برادران وطن تک دعوت دین کو پہنچانے کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ قدرتی آفت کا یہ سلسلہ ابھی پوری طرح تھما بھی نہیں ہے کہ گرج اور بجلی کی چمک کے ساتھ خوفناک آندھی اور تیز بارش کا دور چل پڑاہے۔ اس دوران بھی زمینی حرکت کا احساس لوگوں کو اور خود مجھے بھی ہوتا رہا ہے۔
محکمۂ موسمیات کی پیشنگوئی کے مطابق یہ سلسلہ ہنوز جاری رہنے کا امکان ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ قدرتی آفات آندھی، طوفان، بے موسم بارش اور اس طرح کے بھیانک اور قیامت خیز زلزلے، جن کی تباہ کاریوں اور ہلاکتوں سے پوری دنیا کانپ رہی ہے، خدا کی طرف سے ایک تنبیہ ہے۔ کیا یہ موقع نہیں ہے کہ ہم اپنے اعمال کا انفرادی اور اجتماعی طور پر جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ بالعموم مسلمانوں کو نصیحت کریں کہ وہ اپنا احتساب کرتے ہوئے اپنی زندگی خدا اور رسول کے فرامین کے مطابق ، دین و شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق گذاریں۔ اپنی زندگیوں میں سادگی کو ترجیح دیں۔ گناہ کبیرہ و صغیرہ سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کریں۔ غیر شرعی اعمال سے بچتے رہیں۔ یہ موقع اس نوعیت سے بھی غنیمت محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی جانب سے برادرانِ وطن بالخصوص غیر مسلم لیڈران کے سامنے دین اسلام کی دعوت پیش کی جائے۔

خدا کی خدائی اور اس کی بڑائی بیان کی جائے۔ اسلام کی صداقت و حقانیت کو ان کے سامنے رکھا جائے۔ قرآن و حدیث کے حوالے سے حکمت کے ساتھ انھیں یہ بتانے کی کوشش کی جائے کہ اس طرح کے زلزلے، طوفان، موسم میں بے وقت تبدیلی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تیز بارش، اولہ باری اور تباہ کن آندھیاں غرض کہ مختلف قدرتی آفات و بلایات اور حادثات انسانوں کی بداعمالیوں، شراب نوشی کے عام ہو جانے، جنسی بے راہ روی، بے حیائی، عصمت دری، لوٹ کھسوٹ، قتل و غارت گری اور ان جیسے دوسرے گناہ کبیرہ کے کاموں میں انسانوں کے عام طور پر ملوث ہو جانے کے نتیجے میںسامنے آتے ہیں۔ خدا کا غصہ بھڑکتا ہے اور وہ زمین کو حکم دیتا ہے کہ وہ زلزلے بپا کرے، آسمان کو کہتا ہے وہ آندھی اور طوفان کی شکل میں اللہ کے غیض و غضب کو ظاہر کرے۔

اس موقع پر یہ بات بخوبی واضح ہے کہ تمام ہی بندگان خدا خود زدہ ہیںاور اس طرح کی تباہ کاریوں سے بچنے کی راہ تلاش رہے ہیں ظاہر ہے اور ہمارا ایمان بھی ہے کہ انسان کی تمام طرح کی پریشانیوں سے نجات کا ضامن دین اسلام ہے جو اللہ کے آخری رسول محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت میں مضمر ہے اور یہی انسان کی نجات و فلاح کا ذریعہ بھی ہے۔ امید ہے کہ آپ اس جانب توجہ فرماتے ہوئے جمعہ کی تقاریر اور خطبے کے دوران عام طور پر مسلمانوں کو متنبہ کریں گے اور اپنی تحریر اور دیگر ذرائع ابلاغ کے توسط سے برادرانِ وطن خاص طور سے غیر مسلم رہنمائوں اور دانشوروں کے سامنے دین کی دعوت کو اس حوالے سے پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔
تحریر: اقبال احمد
ایڈمنسٹریٹر الحراء پبلک اسکول شاہ گنج، پٹنہ
رابطہ:+91-9905434063
