Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

علماء سیاست چھوڑیں، دینی تعلیمات کو فروغ دیں

March 12, 2015 0 1 min read
Islam
Islam
Islam

تحریر: ڈاکٹر سید احمد قادری
بات تلخ ہے، لیکن سچ ہے کہ جس طرح عوام الناس کے درمیان سے ہمارے سیاسئین کا ان کے کردار و عمل سے اعتماد و اعتبار ختم ہو گیا ہے۔ ٹھیک اسی طرح عہد حاضر میں ہمارے علمأ کرام نے جب سے دینی تعلیمات سے دور ہو کر اپنی انا، خودداری اور دینی و مذہبی تشخص کو فراموش کر عملی سیاست کا حصّہ بننے کی کوشش میں مصروف ہوئے ہیں ، ان کی بھی عزّت، عظمت اور مرتبہ و وقار میں بہت کمی واقع ہوئی ہے۔

یوں تو ادھر علماء کے تعلق سے ایسے کئی واقعات سامنے آ ئے ہیں ،جن کی وجہ کر عام مسلمانوں نے اپنی تضحیک محسوس کی ہے ، لیکن حالیہ دنوں میں سیاست کی گلیوں کا چکّر لگانے والے علماء کے دو واقعات نے مسلمانوں کو بہت زیادہ رسوا کرایا ہے ۔ چند دن قبل اردو کے ایک روزنامہ میں اپنے ایک کالم میں یوگندر یادو نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ” دہلی الیکشن سے ایک دن پہلے امام بخاری کا واقعہ آج بھلے ہی غیر اہم دکھائی دے ، لیکن اس چھوٹی سی کھڑکی سے تاریخ کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے ۔ اچانک جیسے کچھ ہی گھنٹوں میں سیکولرزم کی سیاست بیسویں صدی سے اکیسویں صدی میں داخل ہو گئی۔ جیسے آئین بننے کے 65 سال بعد سیکولرزم کے اصولوں کی اپنی کھوئی سیاست مل گئی۔ واقعہ چھو ٹا سا تھا ۔ الیکشن سے کچھ ہی گھنٹے پہلے جامع مسجد کے نام نہاد شاہی امام بخاری وارد ہوئے ۔ اپنے آپ کو مسلمانوں کا ٹھیکہ دار مانتے ہوئے انھوں نے مسلم رائے دہندگان سے عام آدمی پارٹی کو حمایت دینے کی اپیل کی ۔ ڈرامائی طریقے سے کچھ ہی منٹوں بعد وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس اپیل کے بدلے اس کی مخالفت کرنے والوں کو متحد ہونے کی اپیل کی ۔ پولورائزیشن اور رد عمل پولورائزیشن کا یہ کھیل نیا نہیں تھا ۔ اس کھیل کے جانکاروں کا ماننا ہے کہ دونوں کھلا ڑیوں میں ملی بھگت رہتی ہے ۔ عام آدمی پارٹی کے غیر متوقع جواب نے اس واقعہ کو نیا موڑ دیا ۔ پارٹی کے ترجمان نے فوراََ ہی ٹی وی پر آ کر اس حمایت کو خارج کر دیا ۔ میری معلومات میں شاید یہ پہلا موقع تھا جب مسلم ووٹ کو حاصل کرنے والی کسی پارٹی نے امام بخاری کی حمایت کو ٹھکرا دیا۔ ”

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ امام بخاری کے ذریعہ مسلمانان دہلی کو دئے گئے سیاسی مشورہ( فتویٰ) کو دلّی کے مسلمانوں کے ذریعہ مسترد کئے جانے کے بعد انھیں جس طرح مختلف بیانات میں ہدف ملامت بنایا گیا ، وہ بہت ہی تضحیک آمیزتھا۔ کچھ ایسی ہی ذلالت اور رسوائیاں 2014 کے عام انتخابات میں بھی ان کے حصّے میں ان کے اپنے بھائی کے ذریعہ دئے گئے ان کے خلاف بیان کے بعد آئی تھیں۔ اپنے بھائی کے ایسے سخت اور بے حد متنازعہ بیان کے بعد لوگوں کو یہ امید تھی کہ اس کے بعد اب احمد بخاری صاحب سیا ست سے پوری طرح کنارہ کش ہو جائینگے۔ لیکن افسوس اتنی ذلّت اور رسوائیوں کے بعد بھی وہ خاموش نہیں بیٹھے ۔ اس ناخوشگوار واقعہ کے بعد فیض آباد کے مفتی محمد الیاس نے فرقہ پرست جماعتوں کے اعلٰی عہدیداروں اور ان کے پیروں کاروں کو خوش کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ سیاسی منعفت حاصل کرنے کے لئے بیان دے دیا کہ ” بھگوان شنکر ہی پیغمبر آدم ہیںاور پاروتی حوا ہیں اور بھگوان شنکر مسلمانوں کے پہلے نبی تھے اور مسلمان بھی سناتن دھرم سے تعلق رکھنے والے ہیں ” ظاہر ہے ایسے متنازعہ اور غیر ذمّہ دارانہ بیان کا بی جے پی اور ان کے ہمنواؤں کی جانب سے خوب خیر مقدم کیا گیا ۔ عام مسلمانوں نے اس بیان کو سرے سے خارج کرتے ہوئے مفتی محمد الیاس کے سلسلے میں ایسے ایسے نازیبا الفاظ کے ساتھ بیانات سامنے آئے کہ باوقار اور اعلٰی ظرف علماء کا سر شرم سے جھک گیا ۔

Muhammad PBUH
Muhammad PBUH

حالانکہ علماء کرام کو انبیأ کا وارث قرار دے کر انھیں اتنا بڑا درجہ عطا کیا گیا ہے، کہ وہ امّت مسلمہ کے دینی، سماجی اور ثقافتی و تہذیبی تعلیمات کو فروغ دیں ، تاکہ امّت مسلمہ کے اندر نہ صرف دینی اور دنیوی احساسات و جزبات موجزن ہوں بلکہ ان کے اندر اتحاد و اتفاق، قناعت پسندی، کفایت شعاری، صبر و تحمل ، برد باری ، عدل و انصاف، ہمدردی ، اخوت اور دور اندیشی پیدا کر اشرف المخلوقات ہونے کا جواز پیدا کریں ۔ ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ کے رسول محمدۖ نے یہ بشارت دی ہے کہ انسانوں میں سب سے افضل وہ ہے جو قران سیکھے اور سکھائے۔ یہ بتانے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ قران علم و آگہی کا ایسا سمندر ہے ، جس کے احکام پر چل کر ہم دین و دنیا دونوں کو سنوار سکتے ہیں ۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ علما ٔ کرام کی عظمت اور وقار، ان کے دینی علوم کا ادراک و آگہی اوردینی فکر و عمل کی بنأ پر حاصل تھا ، ان کا جاہ و جلال ایسا تھا کہ بڑے بڑے بادشاہ وقت بھی ان کے پاس اپنی حاجت لے کر آنے میں گھبراتے تھے۔ یہ وہی علمأ تھے ، جنھوں نے انگریزوں کے جبر و ظلم اور استحصال کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ان کے خلاف احتجاج بلند کیا ، جس کے نتیجہ میں انھیں تختئہ دار پر چڑھا دیا گیا ،لیکن ان علمأ نے اُف نہیں کیا ، اوراپنے دینی ، سماجی و ملّی تشخص پر حرف نہیں آنے دیا ۔ آزادیٔ ہند کے لئے اور انگریزوں کی طوق غلامی کو اتار پھینکنے کے لئے حب ا لوطنی کے جزبہ سے سرشار ، پھانسی کو ترجیح دینے والے ان علمأ کی تعداد سینکڑوں، ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں تھی۔ ان علماء میں سے بہت سارے علماء کو معافی مانگ کر پھانسی کی سزا سے بچ جانے کی ترغیب انگریزوں نے دی ، لیکن ان علماء نے انگریزوں کے سامنے سر نگوں ہونے کی بجائے اپنی انا ، خود داری ، ضمیر ، اور وطن عزیز کی آزادی کو ترجیح دی ۔ اس دور میں شائد ہی ایسی کوئی مثال ہوگی کہ علمأ نے ظالم و جابر حکمرانوں کی کاسئہ لیسی کی ہو، یا رطب السان رہے یاان کی حاشیہ برداری یا مدح سرائی کر ذاتی منفعت کو پسند کیا ۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا،
جب ہمارے سامنے مولانا شوکت علی، مولانا جوہر علی، حسرت موحانی، مولانا ابو الکام آزاد ، مولانا حفظ الرحمٰن وغیرہ جیسی عقبری شخصیات نے اپنے قول و عمل اور اپنے کردار و افکار سے ہمارے سامنے ایسی مثالیں چھوڑی ہیں ، کہ آج ہم ان پر جتنا بھی فخر کریں کم ہے۔ نظر اٹھا کر دیکھئے ، پورے ملک میں اس وقت ان جیسی شخصیات کا ایسا کوئی ہم پلّہ ہے ،جو ملّی مسائل کے تدارک کے لئے یا دن بہ دن مسلمانوں پر تنگ اور سخت ہوتی زندگی کے خلاف حکومت وقت سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے۔ ابھی لوگ بھولے نہیں ہونگے کہ ظلم و زیادتی سے تنگ آ کر جامع مسجد ، دہلی کے امام ( مولانا امام بخاری ) کی ایک آواز پر لوگوں نے حکومت کا تختہ پلٹ دیا ۔ ایک مثال یہ بھی ہے کہ جب اتر پردیش کی حکومت نے اپنی ریاست کے اسکولوں میں ‘ وندے ماترم ‘ کو ضروری قرار دئے جانے کا فرمان جاری کیا ، تب مولانا علی میاں نے بڑے صبر و تحمل سے صرف ایک جملہ ادا کیا تھا کہ ایسے تمام اسکولوں سے مسلمان اپنے بچوں کو ہٹا لیں ۔ اس ایک جملہ کا یہ اثر ہوا کہ حکومت پر لرزہ طاری ہو گیا اور فی الفور حکومت کے ذریعہ وہ فیصلہ واپس لے لیا گیا ۔

افسوس صد افسوس کہ آج بیس کروڑ سے زائد مسلمانوں میں ایک بھی ایسا ہمارا اسلامی اور مثالی رہنما نہیں ، جس کی آواز میں وہ گھن گرج ہوکہ وہ کبھی بولے،تو حکومت دہل جائے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں، اس پر بہت سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے ناگفتہ بہہ حالات میں ہماری نگاہ بے ساختہ اپنے علماء کرام پر فطری طور پر اٹھتی ہے، اس لئے کہ ہمیشہ سے ہمارے علماء کرام نے اپنی دینی اور دنیوی تعلیم ، اعلیٰ کردار و عمل، مذہبی افکار و اظہار سے قوم کو راہ دکھانے کا کام کیا ہے ۔ لیکن عصر حاضر میں ہمارے علماء نے ان تمام دینی و مذہبی ترجیہات اور تعلیمات سے دور ہو کر آج کی گندی سیاست کا حصّہ بن کر اپنے ملّی فرائض اور دینی ذمّہ داریوں کو فراموش کرد یا ہے۔مختلف ایوانوں کے انتخابات کے وقت ایسے علما ٔ کرام کا جس طرح سے مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنما ان کا سیاسی استعمال اور استحصال کرتے ہیں ، وہ ایک الگ تماشہ لگتا ہے۔ مسلمانوں کی داڑھی ٹوپی کو مختلف سیاسی پارٹیاں اپنے جلسہ ، جلوسوں میں جس انداز سے پیش کرتی ہیں ، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان سیاست دانوں کی نگاہ میں ہمارے شرعی مسلمانوں اور علمأ کی کیا اہمیت ہے۔؟ علمأ ان سیاسیئن کی منظم سازش کا شکار بھی ہو رہے ہیں ۔ پہلے مسلمان کا مطلب مسلمان ہوا کرتا تھا ، لیکن ان سیاست دانوں نے مسلمانو ں کو کئی خانوں میں منقسم کر دیا ہے۔ اختلاف رائے ، اختلاف شریعت میں بدل گئی ۔ امّت مسلّمہ کے دینی اور بنیادی مسائل پس پشت چلے گئے۔ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اس وقت مسلمانوں کو اتنے مسلکوں میںتقسیم کر دیا گیا ہے کہ معصوم مسلمان حیران و پریشان ہے کہ میں کس مسلک کی تقلید کروں ۔ کوئی کہتا ہے آمین زور سے کہو، کوئی کہتا ہے دھیرے سے بولو، کوئی بتاتا ہے کہ تحریمہ سینہ سے اوپر باندھنا جائز ہے، تو کسی نے کہا یہ ناجائز ہے، کسی نے داڑھی کی لمبائی پر زور دیا تو کسی نے ٹوپی کو ضروری قرار دیا وغیرہ وغیرہ جیسے فروعی معاملات میں الجھا کر اور جو بنیادی اور ضروری شرعی احکامات ہیں ، انھیں پس پشت ڈال کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کی تعمیر میں مشغول ہیں ۔ دینی و عصری علوم کے لئے قائم مدارس سے ان کی بے توجہی سے بہت سارے مسائل سر اٹھا رہے ہیں ۔ اسلامی تعلیمات سے دوری کے باعث ، ہمارے نوجوان، بے راہ روی اور گمراہی کے شکار ہو رہے ہیں ، تعلیم، صنعت، تجارت اور ملازمت سے بڑھتی دوریاں ، انھیں نہ صرف عدم تحفظ کا احساس کرا رہے ہیں بلکہ احساس کمتری میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔ اس وقت ہمارے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان ملک کے مختلف جیلوں میں بے گناہی کی سزا کا ٹ رہے ہیں ۔ ملک کا منظر نامہ جو تیار ہو رہا ہے ، وہ امّت مسلمہ کے لئے لمحۂ فکریہ عطا کر رہا ہے۔ لیکن ان مسئلوں سے ہمارے علماء کو کوئی فکر نہیں ۔ ہمارے علمأ ، مفتیان کرام اور رہبران قوم و ملّت کا حال یہ ہے کہ’ شائننگ انڈیا ‘سے بذات خود متاثر ہو کر پورے ملک کے مسلمانوں کو اس کا اسیر بنانے کی اپیل جاری کرتے ہیں ، لیکن انھیں اپنی اوقات کا اندازہ اس وقت ہو جاتا ہے، جب ان کی اپیل کو ملک کے مسلمان پوری طرح مسترد کر دیتے ہیں ۔ ایک امام انتخاب کے زمانہ میں چاندنی چوک میں گھوم گھوم کرامیدوار کی فرقہ پرستی کے داغ کو دھونے میں کوشاں نظر آتے ہیں۔ ابھی چند دنوں کی بات ہے کہ لال بتّی والی گاڑی پر گھومنے والے ایک عالم دین ایک سیاست داں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ان کے سرکاری رہائش گاہ پرمکر سنکرانتی کے پرب کا دہی چوڑا کھانے میں مصروف نظر آئے ، تو سوشل میڈیا پر خوب لعن طعن کی گئی۔ ابھی ابھی ایک مولانا کو سبکدوشی سے صرف ایک ہفتہ قبل بڑے بے آبرو کر سرکاری کوچے سے نکال کر، انھیں سائرن بجاتی لال بتّی والی گاڑی سے بے دخل کر دیا گیا، اب وہ کورٹ کچہری میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں مصروف ہیں ۔ ابھی عزیزپور( مظفر پور، بہار) میں فرقہ وارانہ فساد ہوا، کئی لوگ ہلاک ہوئے اور سینکڑوں لوگ گھر سے بے گھر ہو گئے، ان کی حالت زار دیکھنے جانے کی بجائے ہمارے امیر شریعت اپنی تعریف میں شائع کرائی گی کتا ب کی رسم اجرأ (سابق اور موجودہ) وزیر اعلیٰ سے کرانے میں مصروف تھے۔

Islamic Scholars
Islamic Scholars

ایسی سینکڑوں مثالیں بھری پڑی ہیں ۔ جو ہمیں نہ صرف شرمندہ کرتی ہیں ، بلکہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ میں یہ قطئی نہیں کہہ رہا ہوں کہ سارے کے سارے علمأ ایسے ہیں ۔ نہیں ، با لکل نہیں ، آج بھی ایسے بہت سارے قابل قدر اور باعث فخر علما ٔ ہیں ، جنھیںلوگ سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں ۔ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے کہ دہلی کے جامعہ نگر تھانہ میں عالم دین مولانا حضرت یٰسین اختر مصباہی کے ساتھ پولیس نے جو زیادتی کی ، اس سے برہم ہو کر ان کی محبت اورہمنوائی میں جس طرح لوگ جوق در جوق سڑکوں پر اترے اور تھانہ کا گھیراؤ کر پولس کو مجبور کیا کہ وہ ہر حال میں مولانا کو رہاکرے ۔ یہ واقعہ اس بات کا گواہ ہے کہ لوگوں کی نگاہ میں ہمارے علمأ کی کتنی قدر و منزلت ہے۔ ایسی عزّت اورعظمت کے لئے اور امّت مسلمہ کے درمیان اعتماد و اعتبار حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہمارے علما ٔ کرام موجودہ گندی سیاست سے دوری بنائیں ، ذاتی مفاد اور عہدہ و منصب کے حصول کے لئے سیاست دانوں کی رطب ا لسانی، مدح سرائی اور حاشیہ برداری کر اپنی عظمت کو داغدار نہ کریں ۔ مدارس کے کھوئے ہوئے وقار کو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کریں ۔ اردو زبان کی اہمیت اور افادیت کو فروغ دیں کہ اردو ایک زبان نہیں ، بلکہ پوری ایک تہذیب ہے۔ اپنی مادری زبان سے دوری نہ صرف مذہب و ملّت سے، بلکہ اپنے اقدار اور مثبت امکانات سے دور کئے دے رہی ہے۔

کچھ لوگ امریکہ کی مثالیں دیتے ہیں کہ وہاں کے علمأ کا قول و عمل کیسا ہے کہ وہاں بڑی تعداد میں لوگ مشرف بہ اسلام ہو رہے ہیں ۔ اس کی وجہ جاننے کی میں نے بہت قریب سے کوشش کی ہے اور ابھی میں چند ماہ امریکہ میں گزار کر آیا ہوں ۔ میں نے دیکھا کہ معدودے چند فروعی معاملات کو چھوڑ وہاں کے علمأ بہت سنجیدگی سے بغیر حرص و طمع کے اورکسی کی مدح سرائی اور حاشیہ برداری کے، دینی اصولوں پر خود چل رہے ہیں اور دوسروں کو بھی چلنے کی تلقین کر رہے ہیں ۔ جس کا مثبت اثر یہ ہو رہا ہے کہ وہاں کے مسلمان بہت ساری برائیوں سے دور ہیں اور اپنے قول و عمل سے مثالی مسلمان بن کر اپنی خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان کے ایسے ہی مثالی کردار و عمل سے دوسرے مذاہب کے لوگ متاثر ہوتے ہیں ، ان کے اندر تجسس جاگتا ہے اوریہی تجسس ایسے مسلمان ا ور اسلام کا مطالعہ کرنے پر مجبور کرتا ہے اور پھر انھیں اندازہ ہوتا ہے کہ سب سے اچھا اور سچا مذہب اسلام ہی ہے۔

اگر یہاں بھی ہمارے علمأ ایسے کردار و عمل کا مظاہرہ کریں تو یقینی طور نہ صرف پر ان کی کھوئی ہوئی عزّت وعظمت لوٹ سکتی ہے بلکہ وہ امّت مسلمہ کے راہ رو اور رہبر بن کر بہت ہی مثبت رول ادا کر سکتے ہیں ۔اپنی کوششوں سے مسلمانوں کی نہ صرف دینی بلکہ تعلیمی، سماجی، اور سیاسی رہبری کر سکتے ہیں ، جن کی عہد حاضر کی سیاسی، سماجی، معا شرتی، اقتصادی، دینی اور لسانی منظر نامے میںاشد ضرورت ہے۔ اس پر آشوب دور میں بھی اگر ہم ان بنیادی باتوں پر سنجیدگی سے غور و فکر نہیں کرتے ہیں تو جیسے حالات بن رہے ہیں ، ایسے میں بہت دیر ہو جائیگی اور پھر ہم کف افسوس ملتے رہ جائینگے۔

Syed Ahmad Quadri
Syed Ahmad Quadri

تحریر: ڈاکٹر سید احمد قادری
موبائل :91-9934839110
email: squadri806@gmail.com
Mob No: 09934839110

Share this:
Tags:
Muhammad (PBUH) Muslim politics promotion public Religion Scholars Syed Ahmad Quadri چھوڑیں عوام فروغ مسلمان
Lara Dutta
Previous Post لارا دتہ فلم فتور کی کاسٹ میں شامل، آرٹ گیلری کی سرپرست بنیں گی
Next Post کراچی : 26 ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں رینجرز نے پیش کر دیا
Karachi– Breaking News – Geo

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close