Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سیکولر جمہوریت اور مصر کے منتخب صدر شہید محمد مرسی

June 25, 2019 0 1 min read
Mohammed
Mohammed
Mohammed

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی

مشرقی پاکستان کے مرکزی شہر ڈھاکہ کی یونیورسٹی میں ایک نوجوان عبدالملک مجاہد نے اسلامی نظام تعلیم کے نفاذ میں ایک زبردست تقریر کی،وہ جیسے ہی باہر نکلے تو عوامی لیگ کے سیکولرغنڈوں نے انہیںڈنڈے مار مار کر شہید کر دیا۔اس وقوعے پر اس وقت مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ پہلی شہادت ضرور ہے،آخری نہیں۔محمد مرسی عیسی العیاط،منتخب جمہوری صدرریاست اسلامیہ مصرکاعدالتی وانتظامی قتل بھی اسی قبیل سے ہے۔امت مسلمہ دراصل شہادوں کاایک طویل اور جاری و ساری سفرہے۔انبیاء علیھم السلام سے تاسیس پزیرسرفروشان حق کایہ فاقلہ تاقیامت رواں دواں رہے گااور خون شہادت دین اسلام کے شجرسایہ دارکو ہمیشہ سے ہمیشہ تک سرسبزوشاداب رکھے گا۔وادی مکہ سے بدرواحداور کربلاکے سنگلاخ صحرائی سفرکے راستے تقسیم ہنداوراس کے بعد اکیسویں صدی کی خون آشام دہلیزتک قربانیوں کی ایک طویل تر داستان ہے جس میں جام شہادت نوش جاں کرکے حیات جاودانی حاصل کرنے والے ان گنت خوش نصیب ہیں جواپنی مراد پاگئے۔تصویرکادوسرارخ یہ ہے کہ قاتلین بھی ہمیشہ تواس دنیامیں نہیں رہے اور نہ ہی رہیں گے۔آج انہوں نے اپنے ہاتھوں سے ایک راسخ العقیدہ مجاہداسلام کو آگے روانہ کردیاہے توکل ان کی بھی باری تیارہے۔اﷲتعالی کے حضورسب کی پیشی لازمی ہے اور عدالت اخری میں دارومحشرسب سے پہلے قتل کے مقدمات کی سماعت فرمائے گا،جہاں ہرہرمقتول اپنے قاتل کو گریبان سے پکڑکرعادل مطلق کے سامنے پیش کرے گااور عرض کرے گا اے بارالہ،آپ نے تومجھے حق زندگی عطاکیاتھالیکن اس ظالم نے مجھے اس حق سے محروم کردیا۔اس آخری عدالت کا فیصلہ کہیں بھی چیلنج نہیں ہوسکے گا اس کے نفاذ کے راہ میں کوئی رکاوٹ بھی حائل نہیں ہوسکے گی۔

شہیدمحمدمرسی عیسی العیاط بھی ان خوش بختوں میں سے ہیں جن کے مقدرمیں کاتب تقدیرنے شہادت کااعلی و ارفع مقام لکھ دیاتھا۔اقامت دین کا اقرار اور استقامت واستقلال کاجرم انہیں اس مقام تک لانے کاباعث بنا۔8.اگست1951کوشمالی مصر کے ”العدوہ”نامی گاؤں میں پیداہوئے۔ان کے والد ایک کاشتکارتھے اور والدہ محترمہ ایک گھریلو خاتون تھیں۔یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کی جس بڑے انسان کی تاریخ کھولواس کی ماں معمولی پڑھی لکھی اور گھریلو خاتون ہوتی ہے۔آج تک شاید کسی اعلی تعلیم یافتہ اورمشہورومعروف خاتون کے کسی بچے نے کوئی کارہائے نمایاں سرانجام نہیں دیے ۔شہیدمرسی پانچ بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔انہوں نے ایک بار صحافیوں کو بتایاتھا کہ سکول سے واپسی پر انہیں گدھے کی سواری میسرہواکرتی تھی۔ایساشاید دیہاتی ماحول کے باعث تھا۔1975تا1976انہوں نے مصری فوج کے ایک کیمیائی ہتھیاروں والے دستے میں عسکری نوعیت کی خدمات بھی سرانجام دیں۔اس کے بعد انہوں نے دوبارہ اپنی تعلیمی مصروفیات کاتسلسل جاری کرلیااور جامعہ قاہرہ سے انجینرنگ کے اندر 1978ء میں ایم فل سطح کی سند حاصل کرلی۔اعلی تعلیمی کارکردگی کی بنیادپرانہیں حکومت مصرنے امریکہ میں ڈاکٹریٹ کے لیے منتخب کرلیا۔انہوں نے سرکاری اخراجات پر امریکہ میںیونیورسٹی آف ساؤدرن کیلیفورنیاسے 1982ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرلی۔تعلیمی کامیابی کایہ ایک شاندار سفر تھا۔ایک عام سے گاؤں میں جنم لینے والا معمولی کاشتکارکا بیٹا جدیددنیاؤںکی بہترین یونیورسٹی سے تعلیم کی اعلی ترین سند کامستحق قرارپاجائے،یہ بہت بڑے اعزازکی بات ہے۔ہزاروں بلکہ لاکھوں میں کوئی ایک آدھ طالب علم ہی اتنی بڑی ذہنی وعلمی قابلیت کاحامل ہوتا ہے جو بلاشبہ پوری قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتاہے ۔ایسے نوجوان قبیلے کی آنکھ کاتارا ہوتے ہیں اوراپنے ملک و قوم کے لیے باعث عزت وافتخارہوتے ہیں۔

تعلیم و تدریس انبیاء کی میراث ہے۔دنیامیں نام پیداکرنے والی اکثریت اسی شیوے سے متعلق رہی ہے۔شہیدمحمدمرسی نے بھی فراغت تعلیم کے بعد اسی میدان کاحسن انتخاب کیا۔وہ امریکہ میں ہی کیلیفورنیااسٹیٹ یونیورسٹی میں 1982ء سے1985ء تک تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے۔اس دوران وہ اپنی اعلی ترین پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف کے طور پر عالمی شہرت یافتہ خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا(National Aeronautics and Space Administration )میںبھی کام کرتے رہے ،جو دنیابھرمیںبہت بڑی عزت افزائی سمجھی جاتی ہے۔اس ادارے سے معمولی تعلق کی اسناد کو بھی اپنے گھرکے دیوان خانے میں سجاکر رکھاجاتاہے تاکہ ہرآنے جانے والا اس کا مشاہدہ کرے اور اس کے حامل کا قد مزید بلند ہو چکے۔تین سال کی پیشہ ورانہ خدمات کے بعد شہید مرسی پر حب الوطنی کاجذبہ عود کر آیااور وہ مصر لوٹ آئے۔یہاں ”جامعہ الزقازیق”میں تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے۔”زقازیق”مصرکے مشرقی صوبے کاایک شہر ہے۔یہاں وہ صدرشعبہ انجینئرنگ کی حیثیت سے تعینات ہوئے اور 2010ء تک یہیں پر اپنے فرائض منصبی اداکرتے رہے۔تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی سے انسان کی ذہنی اپچ کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتاہے۔پوری دنیا میں کتنے فیصد لوگ ہیں جو چکاچوندروشنیوں کے ملکوں سے اپنے تیسری دنیاکے پسماندہ معاشروں میں لوٹ آتے ہیں۔شہیدمرسی کے بارے می بآسانی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ جب روشن مستقبل ،پیسے کی چمک اور لذت نفسانی کے بے پناہ سامان میسرہوں تب بھی ان کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھ کر اپنی ارض وطن کی طرف لوٹ آنا کتنی بڑی قربانی ہے۔انسانوں کی حقیقی قیادت کایہی سچاتاریخی معیار واحد ہے کہ کون کتنی قربانی دے سکتاہے۔قربانیوں کی سیڑھیوں سے قیادت کی سیڑھیاں چڑھی جاتی رہتی ہیں۔جوقیادتیں قربانی کے علاوہ کسی اور راستے سے منصب اقتدارتک پہنچتی ہیں مورخ کاقلم انہیں راہزن قراردیتاہے اور بعد کی نسلیں ان پر لعنتیں بھیجتی رہتی ہیں۔جن افراد کو طشتری میں رکھ کر منصب قیادت پیش کیاجاتاہے یاجو موروثی قیادت کے حامل ہوتے ہیں ان سے ان کی قوموں کو استحصال محض ہی حاصل ہوتاہے۔مصر اوروطن عزیز سمیت کل امت مسلمہ کی تاریخ اس امرحقیقی پر شاہد ہے۔

محمدمرسی شہیدکویہ اعزازحاصل ہے کہ اج تک کی مصری تاریخ میں وہ اپنے ملک کے واحد منتخب صدر ہیں۔اس سے پہلے 2000ء سے2005ء تک کی مصری پارلیمان میں بھی آزاد منتخب رکن کی حیثیت سے شامل رہے۔آزاد رکنیت کی وجہ یہ تھی کہ مصرکے غیرمنتخب استبدادی صدرحسنی مبارک نے ”اخوان المسلمون”پرپابندی لگائی تھی۔پانی جب اپنی منزل کی طرف بڑھتاہے تو کوئی رکاوٹ اس کاراستہ نہیں روک سکتی،پانی کہیں بلندہوکر تو مشرق کے راستے سے اور کہیں مغرب کی طرف منہ کر نیچے سے سرنگ بناکر اور تمام بندتوڑ کر اپناراستہ خود بناتاہے اور چلتارہتاہے۔مسلمان دنیاکے کم و بیش تمام حکمرانوں نے اسلامی نظریاتی عوامی سیل رواں کاراستہ روک کر باطل قوتوں اور شرپسند طاقتوں کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہنوز وہ اپنے مقصدمیں بری طرح ناکام ہیں۔اسی طرح ”اخوان المسلمون”نے بھی نام بدل کر عوامی حمایت سے اپنے اکران کو پارلیمان تک پہنچایا۔ ان میں سے ایک شہیدمحمدمرسی بھی تھے۔رکن پارلیمان کی حیثیت سے انہوں نے قومی و بین الاقوامی حالات پر بہت ٹھوس،جامع ،مدلل اور جرات مند موقف اپنایا۔خاص طورپر امریکہ میں عالمی مرکزتجارت کے اوپرگیارہ ستمبرکے حملوں پر ان کے بیانات کو بہت وزن دیاگیاتھا۔یہ وہ وقت تھا جب امریکہ بہادرکاجلال اپنی بلندیوں کوچھورہاتھا اور دنیاکی بڑی بڑی حکومتیں بھی امریکہ کی مخالفت سے گریزاں تھیں،لیکن اس وقت قوت ایمانی والے اس رکن مصر ی پارلیمان نے کھل کر بیانات دیے کہ مزکورہ وقوعہ محض تیارشدہ ایک خودساختہ سازش کانتیجہ ہے ۔انہوں نے اسی وقت یہ پیشین گوئی بھی کردی تھی کہ صہیونی طاقتیں امریکہ کے اس واقعے کو بنیاد بناکر امت مسلمہ کے خلاف ایک عسکری محاذکھولناچاہتی ہیں۔ان کی مخالفت اس حدتک حقائق پر مبنی تھی کہ عالم عرب کے اخباروں نے اور دیگرصحافتی اداروں نے اسے شہ سرخیوں کے ساتھ بیان کیا جس کے جواب میں امریکہ کو اپنا دفاع کرنا مشکل ہو گیا۔چنانچہ امریکی دباؤ پر مصری حکومت نے شہیدمحمدمرسی کو ”اخوان المسلمون”کے چوبیس دیگرافراد کے ہمراہ گرفتارکر لیااورانہیں قیدخانے میں ڈال دیاگیا۔ان پر ناجائزمقمات بنائے گئے اور عقوبات داررورسن ان پرروارکھی گئیں۔

2012ء میں جب مصر میں صدارتی انتخابات ہوئے تو”اخوان المسلون”نے ”محمدخیرت سعدالشاطر”کو اپنا صدارتی امیدوار نامزدکیا۔یہ مضبوط ایمان اور باکردارمصری راہنما تھے لیکن مصرکی سپریم کونسل آف آرمڈ فورسز(Egyptian Supreme Council of the Armed Forces)نے ان کو انتخابی عمل کے لیے نااہل قراردے دیا۔اس نااہلی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اول و آخر ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ محمدخیرت ایک اسلامی ذہن کے راہنما تھے اور فوج کاغالب عنصر سیکولرذہن کاحامل تھا۔حالانکہ فوج کا جمہوری معاملات میں دخل اندازی کا کوئی جواز نہیں ہے۔یہ تواچھاہوا کہ ”اخوان المسلمون”نے ایک متبادل امیدوار کی حیثیت سے محمدمرسی کا نام دیاہواتھا،جو انتخابات میں اسلام پسند قوتوں کے نمائندی کی حیثیت سے سامنے آئے۔”صفوت حجازی”جو مصر کامعروف نام تھا،انہوں نے کھل کر محمدمرسی کی حمایت کی۔صفوت حجازی مصری ٹیلی ویژن پر مبلغ کی حیثیت سے بہت مشہور تھے اور پورے مصرمیں امام کی حیثیت سے جانے پہچانے اور مانے جاتے تھے اور مصری قوم کے ہاں کی رائے بہت بڑاوزن رکھتی تھی۔بعدازاں انہیں بھی اس شہادت حق کے جرم میں پابندسلاسل کردیا گیاتھا۔تائیدایزدی اور بے پناہ عوامی حمائت کے نتیجے میں 24جون2012ء کو محمدمرسی کی صدارت کاباضابطہ اعلان کردیاگیا۔ایک جمہوری حکمران کے طورپر اپنی قومی ذمہ داراں سنبھالتے ہی انہوں نے اپنی جماعتی ذمہ داریوں سے مستعفی ہونے کااعلان کردیا۔عوام کے ببہت بڑے جم غفیر نے مصرمیں قاہرہ کے اندر عالمی شہرت یافتہ ‘تحریرچوک”کے اند راس کامیابی پر اﷲتعالی کے شکرکاجشن منایا۔صدرمرسی نے اپنے ابتدائی خطاب اور اولین بیانات میں کہاکہ وہ آئین کے پابندرہیں گے اوراپنی فکر کو زبردستی عوام پر نہیں ٹھونسیں گے،انہوں نے کہا کہ غیرمسلم بھی اس ملک کت اسی طرح شہری ہیں جس طرح کہ میں ایک شہری ہوں اور غیرمسلموں کو مذہبی آزادی کا یقین بھی دلایا۔

کفروشرک کا حق کے ساتھ نباہ ناممکنات عالم میں سے ہے۔یہ دونوں طاقتیں ازل سے تاامروز ستیزہ کار ہیں۔مصر جیسے ملک میں ایک اسلامی ذہن کے فرد کا اقتدارمیں آجانا سیکولراستعمار کے لیے ناقابل برداشت ہوگیاتھا۔”جمہوریت ”کے نام پر سیکولرقوتوں نے دنیامیں ڈھونگ رچارکھاہے۔انہیں صرف اپنے مفادات کا تحفظ چاہیے،اپنے سودی معاشی نظام کی بڑھوتری چاہیے اور دنیابھرکے وسائل پرناجائز غاصبانہ قبضہ چاہیے۔اس کے لیے انہیں جمہوریت کاراگ الاپنا پڑے تو بھی ٹھیک ہے اوراگر آمریت کی سرپرستی کرنی پڑے تو بھی رواہے اور خاندانی و موروثی سیاست کی پزیرائی کرنی ہوتو بھی فبھا۔عالمی جمہوری ٹھیکیداروں نے مصرکے اندرجمہوری صدر کے خلاف سازشوں کے جال بننا شروع کر دیے ۔عبداﷲبن ابی کاکردارپہلے دن سے اسلامی ریاست کے ساتھ لگارہاہے۔اس منافق کی نسل سے پرورش پانے والے کرداربڑی کم قیمت پراپنے ملک و قوم و ملت حتی کہ اپنے ایمان کو بھی فروخت کردیتے ہیں۔چنانچہ دشمن کو بہت سہولت سے مسلمانوں کے اندر یہ کردارمیسر آجاتے ہیں۔خاص طورپر دورغلامی کے بعد سے غداری کایہ ادارہ بہت متحرک ہوچکا ہے۔جن ملکوں میں سیکولرجمہوریت رائج ہے وہاں پردشمن کو چندسکوں کے عوض یہ کردار بہت جلدی میسرآجاتے ہیں۔کچھ یہی صورتحال مصرمیں بھی ہوئی۔

صدرمحمدمرسی بہت محتاط اندازسے عوامی حمایت کے ساتھ آئین کے مطابق چلتے رہے۔انہوں نے معیشیت،خارجہ اموراورفلسطین سمیت دیگرحکومتی صیغوں کی اصلاح کی طرف خصوصی توجہ دی۔بہت جلد نتائج بھی برآمدہوناشروع ہو گئے۔خاص طورپر مسئلہ فلسطین اپنے فطری حل کی طرف سرعت سے بڑھنے لگا۔بڑی واضع سی بات ہے کہ فسلسطین کامسئلہ باقی رہنے میں اسرائیل کی بقاہے جب کہ مسئلہ فلسطین حل ہو جانے کی صورت میں اسرائیل کو فناہے۔امریکہ سمیت کل صہیونی طاقتوں کو مسرکااسلام دوست صدر بری طرح کھٹکنے لگاکہ مسئلہ فلسطین کے ناطے ان کے حلق تک صدرمرسی کاہاتھ پہنچنے والا تھا۔عالمی طاقتوں نے حسب معمول مصری فوج کو بڑی آسانی سے استعمال کرتے ہوئے صدر مرسی کے گرد گھیراتنگ کرنا شروع کر دیا۔عوام کی بہت بڑی تعداد اپنے دل پسند صدرکی حمایت میں سڑکوں پر نکلے اور ہفتوں تک بیٹھے رہے۔یہ رمضان کے بہت سخت گرمی کے ایام تھے جب فجر کی نماز کے دوران حالت سجدہ میں موجود مظاہرین پر مصرکی سیکولر فوج نے اپنے ٹینک چڑھادیے اور بیسیوں فرزندان توحید چشم زدن میں فوجی ٹنکوں کی گھومتی ہوئی آہنی سلاخوں سے لپٹ کر جام شہادت نوش کر گئے۔یہ مسلمان ملکوں کی سیکولر افواج کا کردارہے،کہیں تو ہیلی کاپٹرسے مظاہرین پر گولیاں چلادی جاتی ہیں توکہیں اپنی قوم کے افراف کو پکڑ پکڑ کر دشمنوں کے حوالے کر دیاجاتاہے اور یہاں حالت سجدہ میں ٹینک چڑھادیے گئے۔بلآخرحکومت پر فوج نے قبضہ کرلیااورجولائی 2013ء کو منتخب صدر کو پس دیوار زنداں دھکیل دیاگیا۔

Justice
Justice

عدالتی استحصال کا ایک طویل دورشروع ہوا۔سیکولرفوجی استبداد،جس میں انسانیت نام کو نہ ہو اس سے عدل و انصاف کی توقع کرنا کارعبث ہے۔قسم قسم کے نت نئے الزامات لگائے گئے ،فرضی مقدمات میں ملوث کر کے عدالوں سے اپنی مرضی کے فیصلے حاصل کیے گئے ۔قیدخانے میں ان کے ساتھ جو سلوک کیاگیااس کا کسی طرح کا بھی اندازہ غلط نہیں ہوسکتا۔سیکولرفکر دراصل انسانیت سے عاری ہے۔چھ سات سالوں کے دوران صدر مرسی پر دخت پابندیاں رہیں اور ان پر کمرہ عدالت میں بھی عدالتی آزادیوں پر قدغن تھی۔17جون2019ء کو مصرکے ریڈیونے اچانک خبر دی کی کمرہ عدالت میں صدرمرسی بے ہوش ہوگئے اور پھران کی وفات کی خبر نشر کردی گئی۔روایات کے مطابق سابق صدرکی آخری رسومات سرکاری طورپراداکی جانی چاہیے تھیں،لیکن ان کا جنازہ تک نہیں دکھایاگیا۔ان کے اہل خانہ میں سے صرف دو یاتین افراد کو ان کاآخری دیدارکرایا گیااور نہایت مجرمانہ خاموشی سے انہیں کہیں دفن کردیاگیا۔ساری دنیاکا میڈیا،جمہوری آزادیوں کی تنظیمیں،انسانی حقوق کے علمبرداراور اقوام متحدہ سمیت کل سیکولرعناصر مطلقاََخاموش ہیں،صرف ترکی کے صدر طیب ارزگان نے کچھ سخت الفاظ استعمال کرکے مصری حکومت کے خلاف بیان دیاہے۔صدرمرسی کی حیات و ممات دونوں سیکولرازم کو بے نقاب کرگئے۔اﷲ تعالی انہیں غریق رحمت کرے اور ان کی شہادت قبول کرے اور امت مسلمہ کوان کا بہترین نعم البدل عطا کرے آمین۔

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی
drsajidkhakwani@gmail.com

Share this:
Tags:
democracy Mohammed Morsi president secular جمہوریت سیکولر صدر مصر منتخب
Drugs
Previous Post انسداد منشیات مہم۔ ملک و قوم کی ترقی، مستقبل کی ضامن
Next Post ایوان صدر اسلام آباد میں ہونے والی تقریب ایوارڈ میں نجی الیکٹرانک میڈیا نیوز چینل کے نمائندگان کا صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے ہمراہ گروپ فوٹو
Group Photo

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close