
واشنگٹن (جیوڈیسک) اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل میں شام پر حملے کی قرارداد منظور نہ ہوسکی، امریکی صدر باراک اوبا کا کہنا ہے کہ شام پر فوجی حملے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اقوامِ متحدہ کی ٹیم نے شام میں مبینہ کیمیائی حملوں کے مقام کا دورہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے۔ روس نے پھر واضح کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ سے پہلے شام کے خلاف فوجی کاررائی نہیں ہونی چاہیے، برطانیہ نے بھی اس موقف کی تائید کر دی ہے۔ شام میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مخالفین کیخلاف مبینہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی اطلاعات کے بعد بشارالاسد حکومت کے خلاف کارروائی کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں شام پر حملے سے متعلق ایک قرارداد پیش کی گئی تھی جس پر گرماگرم بحث ہوئی۔
واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہارف کا کہنا تھا کہ امریکا شام میں کیمیائی حملوں کاذمے دار صدربشارالاسد کوسمجھتاہے۔ ترجمان نے سلامتی کونسل میں روس کے رویے پربھی کڑی تنقید کی اور کہاکہ روس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سیکیورٹی کونسل میں شام میں زہریلی گیس کے استعمال کیخلاف مذمتی قرارداد منظور نہ ہو سکی۔ شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے بڑے مخالف روس کا کہناہے کہ اقوامِ متحدہ کا فیصلہ آنے سے پہلے، طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ روسی وزیرِ خارجہ نے اپنے برطانوی ہم منصب کو بھی اس موقف پر قائل کر لیا ہے اور اب برطانیہ نے بھی اقوامِ متحدہ کی رپورٹ آنے تک شام کے خلاف فوجی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔
ادھر دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کی ٹیم نے اسپتالوں سے مبینہ کیمیائی حملوں کا شکار ہونے والے افراد کے نمونے حاصل کرلیے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون یہ واضح کر چکے ہیں کہ تمام تحقیقات مکمل ہونے میں مزید تین سے چار دن لگیں گے۔
