Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سرائیکی صوبہ حقائق کیا ہیں۔۔

May 25, 2015 0 1 min read
Seraiki Province
Seraiki Province
Seraiki Province

تحریر: رانا عبدالرب
ذوالفقار علی بھٹو کے دیرینہ رفیق اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر غلام حسین کی طرف سے نومبر 1996ء میں ہمارے ایک قلم کار دوست ایم۔آر ملک کو پاکستان نیشنل کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔یہ کانفرنس فرید پارک لاہور میں ہوئی۔کانفرنس کے روح رواں ایئر مارشل محمد اصغر خان تھے۔کانفرنس میں وطن عزیز کے نامور دانشور، سیاسی شخصیات شریک ہوئیں۔ شرکاء نے تقریر کیں۔

اپنا اپنا مدعہ بیان کیا۔مگر ایک مقرر نے سرائیکی عوام کے غصب کئے جانے والے حقوق کی بات کی ،ان کے استحصال کا ذکر کیا اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے انداز حکمرانی پر بحث کی۔یہ سرائیکی نیشنل پارٹی کے سربراہ عبدالمجید کانجو تھے۔ہمارے دوست کہتے ہیں کہ جب انہوں نے سرائیکی خطہ کے حقوق پر بات کی تو ان کی باتیں سمجھ سے بالا تر لگیں اور میں نے اسے لسانیت کو ہوا دینے والا ایک ایشو سمجھا جبکہ عبدالمجید کانجو کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے مرے ذہن سے یہ بات کئی برس تک نہ نکل سکی کہ سرائیکی اور پنجابی کی بات کرنے والے لوگ علاحدہ وطن کے حصول کے بعد بھی زبان کی بنیاد پر تقسیم ہیں۔اب پبلک مقامات پر بیٹھے ہوئے وہ جب 6کروڑ لوگوں کے استحصال کو دیکھتے ہیں تو14برس قبل لاہور میں مزنگ روڈ پر ہونے والی نیشنل کانفرنس کے مقرر عبدالمجید کانجو کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔

کئی سال قبل تاج لنگاہ جب چوبارہ میں آئے تو مذکورہ قلم کار اور راقم کی بھی ان سے ملاقات ہوئی۔تاج لنگاہ مرحوم نے سرائیکی بیلٹ پر تاریخ کے اس جبر کو واضح کیا جس سے ہماری نئی نسل ناواقف ہے ۔تاج لنگاہ نے ہمیں بتایا کہ جب یونان ،دمشق،سنٹرل ایشیا ء کی ریاستیں،عرب،ایران کے قیصرو کسریٰ تھے تو ملتان اس وقت بھی موجود تھا۔سکندر اعظم جب برصغیر سے گزرا تو ملتان موجود تھا۔محمد بن قاسم کی آمد ہوئی تو ملتان ایک ریاست تھی۔بیرونی حملہ آوروں نے اس ریاست کو تہہ وبالا کردیا مگر سب سے زیادہ نقصان رنجیت سنگھ نے پہنچایا جس نے ملتان کی شناخت کو تاراج کر دیا۔ٹھٹھہ کی حدود سے لے کر گجرات تک ریاست ملتان کی عمل داری تھی ۔رنجیت سنگھ نے 2جون 1818ء کو یہاں کی مذہبی کتابوں کے علاوہ عید گاہ سے خانیوال روڈ پر قلعہ ملتان کے اردگرد40ہزار سپاہ کے ٹھہرنے کی رہائش گاہیں اور بیرکیں تباہ و برباد کیں۔رنجیت سنگھ سے کشمیر ،پشاور،جلال آباد کو وہاں کے باسیوں نے آزاد کرایا،ملتان کی عوام پے در پے حملوں کی وجہ سے تاراج ہوچکے تھے۔ اس بناء پر وہ ملتان کو آزاد نہ کرا سکے۔انگریز سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد نے سب سے زیادہ حصہ سرائیکی خطہ کے لوگوں کا ہے۔

Saraiki People
Saraiki People

اس وقت جب سرائیکی نیشنل ازم کا سوال پبلک مقامات پر زیر بحث ہے اور سرائیکی قوم پرست الگ قومی تشخص کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔سرائیکی نیشنل ازم کا گلا گھونٹنے کے لئے چند ایسی قوتیں متحرک ہیں جن کا یہاں کے عوام کی محرومیوں سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ بہاولپور صوبہ کی بحالی کی آواز نواب زادگان آف ریاست بہاولپور عباسیوں کی طرف سے اٹھنی چاہیے تھی اور یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ یکم اگست1975ء کو جب ریاست بہاولپور کے سربراہ جنرل سر صادق محمد عباسی کے صاحبزادے اور بہاولپور کے چودہویں امیر برگیڈئر محمد عباس عباسی نے بطور گورنرحلف اٹھایا تو اپنی پہلی کانفرنس میں یہ وضاحت کی کہ بہاولپور کا الگ صوبہ بنانے کی تحریک ختم ہوچکی ہے۔جن عوامل کی بناء پر تحریک نے جنم لیا وہ باقی نہیں رہی ۔علاوہ ازیں جب 1955ء میں پاکستان کی چھوٹی قومیتیوں کے علاقوں سندھ،بلوچستان،خیبر پختونخواہ اور بہاولپور کو پنجاب میں ضم کرکے مغرنی پاکستان کے ون یونٹ کانام دیا گیا تو سرائیکی نیشنل ازم نے سرائیکی صوبہ محاذ سے سفر کا آغاز کیا مگر اقتدار میں آنے کے باوجود اور وعدوں کے باوجود 19اضلاع کے 6کروڑ عوام کی آواز کو ابھی تک سیاسی ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا۔

سرائیکی صوبہ کی تحریک سرائیکستان ،سرائیکی صوبہ کی شکل میں بلوغت سے نکل رہی ہے۔سرائیکی نیشنل ازم کا سوال مستقبل میں سیاسی طور پر بھرپور اندازمیں اپنے آپ کو کیسے منواتا ہے اور اپنے الگ قومی تشخص کے لئے جدوجہد کے کن مراحل سے گزرتا ہے یہ تو آنے والا کل ہی بتائے گا مگر یہ بات عیاں ہو چلی ہے کہ ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ،محترمہ ساجدہ لنگاہ ،عبدالمجید کانجو،خواجہ غلام فرید کوریجہ اور معروف سرائیکی دانشور ظہور دھریجہ ،ڈاکٹر عاشق بزدار، پروفیسر شفقت بزدار ،عبدالقیوم جتوئی اور اللہ نواز سرگانی کی شکل میں سرائیکی نیشنل ازم کی گونج ملک میں ایک عرصہ سے شدت کے ساتھ ہمیں سنائی دے رہی ہے ۔ہم جب تاریخی اور سیاسی عوامل پر غور کرتے ہیں تو ماضی کے آئینے میں سرائیکی وسیب کی سیاسی ،معاشی اور ثقافتی محرومیاں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔محرومیوں کے شکار کی غالب تعداد نوجوان نسل کی ہے ۔جن کی کثرت بے روزگاری بھٹی میں جھلس رہی ہے ۔بے روزگاری کا مسئلہ بھی سرائیکی قوم پرستی کامحور بن چکا ہے۔جوں جوں سرائیکی وسیب کا نچلا اور درمیانہ طبقہ زمین سے آزاد ہو کر ملازمتوں کی تلاش میں شہروں کا رخ کررہا ہے اس کی توقعات ریاست سے اور زیادہ وابستہ اور گہری ہوتی جارہی ہیں۔ماضی میں چونکہ سرائیکی وسیب پر برسراقتدارجاگیردار طبقہ نے صنعتوں کے قیام کے لئے سرمایہ کاری نہیں کی سو اس بناء پر بھی سرائیکی وسیب کے بیروزگار نوجوانوں کا انحصار ریاستی شعبہ پر ہے۔چونکہ ریاست بڑی تعداد میں ملازمتیں فراہم کرنے سے قاصر ہے اور سرائیکی خطہ کو اس کے وسائل کے مطابق اقتدار میں حصہ نہیں مل رہا اس لئے سرائیکی وسیب کے بیروزگاروں کی بے اطمینانی اور اشتعال میں اضافہ فطری عمل ہے ۔6کروڑ عوام اپنی علاحدہ شناخت کے لئے کیوں بے چین ہے؟ یہ سوال اب شدت کے ساتھ اپنا جواب مانگ رہا ہے ۔ماضی کے آمرانہ فیصلوں کے تسلط اورپنجابی بیوروکریسی کے ہتھکنڈوں نے سرائیکی وسیب کے سیاسی اور معاشی قتل پر جبکہ اقتدار اور حاکمانہ روش نے سرائیکی عوام کے اندر نفرت کی خلیج وسیع کردی ہے۔

 Saraiki People Protest
Saraiki People Protest

مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کیسے بنا؟ اس سوال کا جواب بھی مغرنی پاکستان سے مشرقی پاکستان پر مسلط ہونے والی بیوروکریسی ہے جس نے اپنے دفاتر کے باہر سنتری بیٹھا دئیے ہیں اور آئین پاکستان میں جن کے لئے پبلک سرونٹ کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ حاکم بن کر دفاتر میں بیٹھ گئے اور اپنے دفاترکے باہر وقت ملاقات کی تختیاں آویزاں کردیں۔بنگالی قوم کو یہ بات نا گوار گزری ۔علاوہ ازیں ان درآمدی بیوروکریٹس نے اپنے ظالمانہ رویوں سے بنگالی قوم کے اذہان میں نفرت بھر دی ۔بالآخر اس ناانصافی کی بنا پر 25برس بعد اکثریتی بنگالی آبادی ہم سے علاحدہ ہو گئی یہی وتیرہ اپر پنجاب کے آفیسرز نے سرائیکی وسیب کی عوام کے ساتھ روا رکھا ہے ۔یہ درآمدی بیوروکریسی سرائیکی وسیب کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے ناصرف لوٹنے میں مصروف ہے بلکہ یہاں کی عوام کو بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی طرح سمجھا جاتا ہے ۔سرائیکی وسیب کے ہیرو اور عظیم صوفی بزرگ خواجہ غلام فرید کوٹ مٹھن کے دربار کی تالہ بندی بھی اسی بیوروکریسی کا کیا دھرا ہے اور یہ سزا صرف سرائیکستان کی شکل میں آواز اٹھانے پر غلام فرید کوریجہ کو دی گئی ۔جب ہم ماضی کے سالانہ بجٹ کودیکھتے ہیں تو سرائیکی وسیب کے ساتھ یہاں بھی ناانصافی کی انتہاء نظر آتی ہے۔

زیادہ آبادی اور وسائل رکھنے والا خطہ 68برسوں سے نظر انداز ہے ۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ 170ارب روپے کے پنجاب کے سالانہ بجٹ میں 6کروڑ عوام کے خطہ کے لئے صرف2.3فی صد یعنی صرف 5ارب رکھے گئے ہیں۔جبکہ صرف لاہور کے فیروز پور روڈ کے لئے 32ارب،رنگ روڈ کے لئے 10ارب مختص کر دئیے جائیں۔وطن عزیز بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے خردنی اجناس کے علاوہ ایسی اجناس پیدا کرنے والا خطہ جن کی بیرونی منڈیوں میں ہمیشہ مانگ رہی اور قیمتی زرعہ مبادلہ حاصل ہوا یہ حیثیت مشرقی پاکستان کی موجودگی میں پٹ سن کو حاصل رہی اور وطن عزیز کی معیشت کا دارو مدار آج کپاس کی فصل پر ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 80فی صدر کپاس سرائیکی خطہ پیدا کرتا ہے جو ایک کروڑ بیس لاکھ گھانٹھ سالانہ ہے۔ساڑھے 8ارب زر مبادلہ صرف کپاس سے حاصل ہوتا ہے۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ خام مال پیدا کرنے والا خطہ (Cotton Based)انڈسٹری سے آج تک محروم ہے ۔زرعی ادارے اور ریسرچ سنٹر ز بھی سرائیکی خطہ میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔زرعی مشینری ،کھاد،ڈیزل،بیج،کیڑے مار ادویات،بجلی و پانی کی قلت اور مہنگائی نے پیداواری لاگت کو آسمان پر پہنچا دیا ہے ۔سرائیکی خطہ کے لوگوں کو فصل کی قیمت بین الاقوامی منڈی کے عشر عشیربھی نہیںملتی۔کیوں کہ حکومت خود کپاس کی تجارت کرتی ہے اور کپاس پیدا کرنے والی قومیتیوں کے عوام کی نمائندگی فیصلہ کی قوت رکھنے والی بیوروکریسی میں نہ ہونے کے برابر ہے ۔اس لئے حکومت نرخوں کے معاملے میں مٹھی بھر ٹیکسٹائل مافیا سے گٹھ جوڑ کرکے من مانی کرتی ہے ۔اس طرح حکومتی منافع اور زر مبادلہ کے مفادات سے سرائیکی خطہ مکمل طور پر محروم چلا آرہا ہے۔سندھ طاس منصوبہ کے تحت جب وطن عزیز کے تین دریائوں کو بھارت کے ہاتھ فروخت کیا گیا تو اس آمرانہ فیصلہ نے بیوروکریسی کے بنائے ہوئے مضبوط مرکز کا دخل تھا۔ایسا مرکز جس میں بنگالی،سرائیکی،سندھی ،پختون،بلوچ قومیتوں کی کوئی حیثیت کی کوئی شنوائی نہ تھی۔جب سرائیکی بیلٹ کی زمینیں قابل کاشت تھیں تو حکمرانوں کے چہیتے بیوروکریٹس،ان کے رشتہ داروں اور دیگر مراعات یافتہ لوگوں میں وہ زمینیں مال مفت اور دل بے رحم کے مصداق تقسیم کی گئیں۔سرائیکی بیلٹ کے پسماندہ ضلع لیہ کی مثال دینا ضروری ہے جہاں تھل کی آبادکاری کے وقت پانی کے بدلے جو دو تہائی اراضی مقامی لوگوں سے ہتھیائی گئی وہ اراضی ایک معاہدہ کے تحت واپس کرنے کی بجائے لاہور اور اپر پنجاب سے آنے والے اضلاع کے انتظامی آفیسروں نے جعلی کلیموں کے ذریعے منظور نظر اور قریبی عزیزوں کو حق ملکیت کی شکل میں تفویض کردی اور یہ انتظامی آفیسرز خود بھی بڑے بڑے قطعات اراضی کے مالک بن گئے۔

چولستان کی لاکھوں ایکٹر اراضی بھی قابل کاشت بنا کر ان آفیسرز میں بانٹی گئی ۔زرعی معیشت کے علاوہ مدنی و قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود سرائیکی خطہ کے مقامی لوگ و بیروزگار نوجوان لاکھوں کی تعداد میں لاہور، فیصل آباد ،اسلام آباد کی شاہراہوں کی خاک چھانتے ہیں۔دوسرے صوبوں کے علاوہ خلیج کی ریاستوں نے روزگار کے لئے دھکے کھا رہے ہیں۔عرب ممالک نے اس غربت کی بناء پر سرائیکی خطہ کے لوگ اونٹ ریسوںمیں اپنے لخت جگر ایجنٹوں کو بیچ رہے ہیں۔برصغیر پاک و ہند کی حیثیت صدیوں سے ایک کثیر اللسانی ،کثیر الثقافتی اور کثیر اللقومی خطہ کی رہی ہے اور رہے گی 1940ء کی قرار داد پاکستان میں واضح طور پر ریاستوں اور ان حقوق کا ذکر ہے مگر سرائیکی قومیت کو اقلیت میں تبدیل کرکے مکمل غلام بنایا جارہا ہے۔تحریک استقلال کے ایئر مارشل محمد اصغر خان،عوامی تحریک کے ڈاکٹر طاہر القادری کا مؤقف بھی یہی ہے کہ وطن عزیز کوکئی صوبوں میں تبدیل کردیا جائے تاکہ قومتییوں کے اندر پائے جانے والے احساس محرومی کا خاتمہ ہوسکے۔دنیا کے اس وقت 112ممالک کی آباد ی صوبہ پنجاب سے کم ہے ۔کثیر اللقومی ،کثیر اللسانی،کثیر الثقافی پاکستان کا آئین عوام کی مرضی کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے یہ قومی سوال حل طلب ہے ۔اگر انگریزوں کے بنائے ہوئے انتظامی یونٹوں کی خرابی کو دور نہ کیا گیا تو حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھتے رہیں گے۔طبقات کے درمیان نفرتیںاپنی عروج پر ہیں اس کے باوجود برسراقتدار طبقہ کی صوبوں کی ری آرگنائزیشن کی طرف سے آنکھیں مکمل طورپر بند ہیں۔نہ دیدہ قوتیں اقتدار سے بری طرح چمٹی ہوئی ہیں اور اتنی ہی شدت سے وہ اس آئین کی حفاظت کرہی ہیں۔جس کی وجہ سے ملکی و سیاسی معاملات سے عوام روز بروز دور ہوتے جارہے ہیں۔جبکہ حکومت کے پیرول پر کام کرنے والی کچھ قوتیں سرائیکی صوبہ کے نام پر عوام کو بے وقوف بنانے میں پیش پیش ہیں۔لاکھوں روپے کی فنڈنگ ان کے اکائونٹس میں سرائیکی خطہ سے غداری کی شکل میں منتقل ہورہی ہے۔ضلع لیہ میں ایسے چہرے میڈیا نے بے نقاب کئے ہیں جو ایک طرف تو سرائیکی عوام کے حقوق کی بات کرتے تھے اور دوسری طرف تخت لاہور کے تنخواہ دار تھے۔

Rana Abdulrab
Rana Abdulrab

تحریر: رانا عبدالرب
03456150150
abdulrab.rana@gmail.com

Share this:
Tags:
facts pakistan participants zulfikar ali bhutto پاکستان حقائق ذوالفقار علی بھٹو سرائیکی صوبہ شرکاء کانفرنس
Previous Post ڈسکہ فائرنگ ، زخمی وکیل گوجرانوالہ کے ڈی ایچ کیو اسپتال میں چل بسے
Next Post الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر امیر جماعت اسلامی کا معافی نامہ قبول کرلیا
Sirajul Haq

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close