Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اے کاش،بیٹیاں تو پیدا ہی نہ ہوتیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

November 30, 2014 0 1 min read
Daughters
Daughters

تحریر :۔محمد احمد ترازی

”برادر ِ گرامی قدر سلامت باشید۔ ۔ ۔ ۔ السلام علیکم!جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ بچی کی شادی کرنی ہے،رشتہ طے ہوچکا ہے مگر تاریخ مقرر نہیں ہورہی کیونکہ تہی جیب ہوں،اب تک بہت ہاتھ پیر مارے کہ بچی کی شادی کے جملہ اخراجات کیلئے کچھ رقم ہوجائے مگر ناکام رہا ہوا،اب آپ ہی بتائیں کدھرجاؤں، تمام زندگی علم وادب کی بے لوث خدمت میں گزار دی، کبھی روپیئے پیسے کا لالچ نہیں کیا،مگراب حالات کی چکی میں پس رہا ہوں۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ بیٹی کو گھر سے کیسے رخصت کروں،پہلے تو غریب آدمی سے کوئی رشتہ ہی نہیں لیتا۔ ۔ ۔ ۔اگر لے لیتا ہے تو پھر جہیز کا مطالبہ۔ ۔ ۔ ۔جہیز کے علاوہ بھی بہت سے خرچے مثلاًزیورات۔ ۔ ۔ ۔ ملبوسات۔ ۔ ۔ ۔اور۔ ۔ ۔ ۔بارات کے کھانے کا خرچہ۔اگر یہ چیزیں دولہا والوں کے معیار پر پوری نہ اتریں تو سب کچھ خاک میں مل جاتا ہے۔کوئی راستہ سجائی نہیں دیتا۔ ۔ ۔ ۔کیا کروں۔ ۔ ۔ ۔کدھر جاؤں۔ ۔ ۔ ۔کیا بچی کو تمام عمر گھر پر بیٹھا رکھوں۔؟اپنی بیماری پر ہرماہ ہزاروں کا خرچہ۔ ۔ ۔ ۔گھر کا خرچہ۔ ۔ ۔ ۔اب شادی کہاں سے ہو۔ہے کوئی میری مشکل حل کرنے والا۔ ۔ ۔ ۔کوئی دوست۔ ۔ ۔ ۔کوئی ادارہ۔ ۔ ۔ ۔کوئی تنظیم۔ ۔ ۔ ۔کوئی صاحب ِ دل ۔ ۔ ۔ ۔جو خاموشی سے اور پردے میں میری دستگیری کرے ۔ ۔ ۔ ۔کہ میری عزت ِ نفس بھی مجروح نہ ہو اور عزت بھی خاک میں نہ ملے۔ ۔ ۔ ۔اے کاش بیٹیاں تو پیدا ہی نہ ہوتیں۔ یہ خط یہ عریضہ اور یہ اپنا مرثیہ،بڑی مجبوری۔ ۔ ۔ ۔دکھ۔ ۔ ۔ ۔درد۔ ۔ ۔ ۔اور۔ ۔ ۔ ۔بے بسی کے عالم میں لکھ رہا ہوں،آپ کے پاس کوئی حل ہو تو بتادیجئے ،زیادہ کیا عرض کروں۔ ۔ ۔ ۔ کوئی محرم ِ راز نہ مل دا۔ ۔ ۔ ۔کینوں حال سناواں دل دا۔ ۔ ۔ ۔
فقط والسلام۔ ۔ ۔ ۔ایک پریشان حال ،مجبور باپ۔“

مورخہ گیارہ نومبر کو ہمارے نام آنے والا یہ خط ملک کے مشہور مولف ومحقق اور صاحب طرز ادیب کا ہے،جنھوں نے ساری زندگی علم وادب کی خدمت میں گزاردی، کم وبیش سو کے قریب چھوٹی بڑی کتابیں مرتب کیں۔بیشتر مقبولیت عامہ کے درجہ پر پہنچی اور تحقیق کا بنیادی ماخذ قرار پائیں،آج علمی وادبی حلقوں میں اُن کا نام غیر معروف نہیں۔بیرون ملک بھی لوگ اُن کی خدمات کوقدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حلقہ احباب میں عزت وا حترام کا جذبہ پایا جاتا ہے،لوگ اُن سے محبت وعقیدت رکھتے ہیں اور اُن کی تخلیقات کوپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ہمارا اُن سے دیرینہ تعلق ہے جس کی بنیاد محبت اوراخلاص ہے،انہوں نے ہمارے ساتھ مشفق رویہ رکھا،ہمیشہ محبت کا مظاہرہ کیا،بارہا قیمتی اور نایاب کتابوں کے تحفوں سے نوازا اور کبھی بھی علمی تعاون سے گریز نہیں کیا،ہم اُن کی علمی رہنمائی اورقلمی احسان کے مقروض اور محبت و شفقت کے اسیر ہیں،چاہ کر بھی اُن کا نام سامنے نہیں لاسکتے کہ یہی ایک مجبور باپ کی سفید پوشی اور عزت نفس کا تقاضہ ہے ۔

قارئین محترم۔ ۔ ۔ ۔! اِس خط کے مندرجات ایک بے کس و مجبور باپ کی لاچاری،بے بسی اورکسمپرسی کا نوحہ ہی نہیں سناتے بلکہ ہماری معاشرتی قدروں کی زبوں حالی اور اخلاقی تباہی کی نشاندہی بھی کرتے ہیں،یہ ہمارے اُس معاشرتی رویئے کے عکاس ہیں جس میں ایک دوسرے سے لاپروائی،سنگدلی،بے حسی اور ظالمانہ خودغرضی جھلکتی ہے،اِس معاشرتی المیے نے بیٹی جیسی اللہ کی رحمت کو ایک سفید پوش باپ کیلئے بوجھ بناکراُسے یہ کہنے پر مجبور کردیا کہ ”اے کاش،بیٹیاں تو پیدا ہی نہ ہوتیں۔“

اَمر واقعہ یہ ہے کہ اس وقت ہمارا معاشرہ جس بے حسی،معاشی بدحالی اور خودغرضی کا شکار ہے اُسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے،سچ تو یہ ہے کہ آج کے دور کا انسان جو کبھی ایک دوسرے کا ہمددر اور غمگسار ہوا کرتا تھا،آج محض خود غرضی اور نفسانفسی کی عملی تفسیر بن کر رہ گیا ہے،آج ہماری روز مرہ کی زندگی کا محور بس اپنی ذات ہے،چنانچہ ہماری زندگی کا سارا کاروبار صرف اسی کے گرد گھومتا ہے،بے شمار چیزیں ایسی ہیں جن کی طلب ہمیں چین سے نہیں بیٹھنے دیتی،ہماری عام فطرت یہ ہے کہ ہم اُن ہی چیزوں کے پیچھے بھاگتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ ہمارے لیے نفع بخش اور فائدہ مند ہیں، مادی آسودگی ہی ہماری زندگی کا پیمانہ ہے،ہم وہی کام کرتے ہیں جس میں ہمیں چار پیسے کا فائدہ نظر آتا ہے اور ہر اُس عمل سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں ہمیں دنیاوی اعتبار سے نقصان کا احتمال ہوتا ہے، درحقیقت زندگی کے بارے میں ہمارا نظریہ ہی بدل گیاہے،ہم حقیقت کو افسانہ اور افسانے کو حقیقت سمجھ بیٹھے ہیں،یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مادی زندگی میں بری طرح الجھ کر رہ گئے اور اُس زندگی کی ہم نے فکر چھوڑ دی جو اخروی اور دائمی ہے۔

Islam
Islam

اسلام میں شادی جو ایک خوبصورت رشتہ ہے دو خاندانوں کے ملاپ کا ذریعہ بنتا ہے،لیکن آج جہیز کے لالچ کی وجہ سے ایک کاروبار کی شکل اختیار کرگیا ہے،کتنی ہی بیٹیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو جاتی ہیں یا کم جہیز لانے کی وجہ اُن کی زندگی عذاب بن جاتی ہے،اگر خدا نخواستہ لڑکی کا سسرال میں نباہ نہ ہوسکے تو ساری زندگی میکے والوں کے طعنے لڑکی کو سہنے پڑتے ہیں،ہمارے ہاں آئے روز ایسے واقعات میڈیاکی زینت بنتے رہتے ہیں کہ”جہیز نہ لانے پر سسرال والوں نے دلہن کو جلا دیا“،’’ کم جہیز لنے کی وجہ سے طلاق ہوگئی‘‘ یا ”جہیز نہ ملنے پر سسرالیوں نے لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔“یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ لڑکی والوں کی حیثیت نہ ہونے کے باوجود لڑکے والوں کی جانب سے بھاری جہیز کا مطالبہ کیا جاتا ہے،جس کی وجہ سے غریب والدین کو قرض کے بوجھ تلے دبنا پڑتا ہے اور اُن کی بقیہ زندگی قرض چکانے میں گزر جاتی ہے،جبکہ بہت سے والدین یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اپنی بیٹی کو زیادہ جہیز دیں گے تو سسرال میں اُسے عزت ملے گی،قدر ہوگی اور خاندان میں اُن کی ناک اونچی ہوگی،جس کیلئے وہ اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔

دوسری طرف امیر گھرانے اپنی بیٹیوں کی شادی پر مختلف قسم کے تحائف اور نقدی رقم جہیز میں دیتے ہیں تاکہ معاشرے میں اُن کی امیری کا رعب قائم رہے،وہ اپنی شان و شوکت کی نمودو نمائش اور اپنی بیٹیوں کو ہر قسم کی آشائش دیتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ اُن پڑوس میں کوئی بھوکا بھی ہے یا اسکی جوان بیٹی دو جوڑے کپڑوں میں رخصتی کی منتظر ہے،اِس معاشرتی رویئے کی وجہ سے جہیز غریب گھرانوں کیلئے ایک سنگین مسئلے کی شکل اختیار کرگیا ہے،ہزاروں بیٹیاں شادی کی اصل عمر کو پار کر چکی ہیں اوراُن کے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کیلئے ترس رہے ہیں،یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسی خواتین کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،جن کی عمر 25 برس سے تجاوز کر چکی ہیں،یوں کنواری لڑکیوں کی شرح میں بڑھتا ہوا اضافہ ایک اور خطرناک معاشرتی مسئلے کی شکل اختیار کرگیاہے۔

یہ امر بھی اہمیت کا حامل ہے کہ شادی کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ بھی اِس کی ایک بڑی وجہ ہے جس نے غریب اور نادار والدین کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کردیا ہے،اگر کسی طور غریب والدین اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے کر بھی دیں تو شادی کے بعد لڑکی والوں کی جانب سے نت نئی فرمائشیں اور مطالبات لڑکی کی ہی نہیں والدین کی زندگی بھی اجیرن بنادیتے ہیں، ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو دیکھنے میں انتہائی با اخلاق اور مذہبی نظر آتے ہیں،اٹھتے بیٹھتے قرآن وحدیث کے حوالے بیان کرتے ہیں لیکن جب معاملہ اپنے بیٹے کی شادی کا آتا ہے تو ساری واعظ ونصیحت بھول جاتے ہیں،جبکہ ہم اگر جہیز کے سامان کو نظر انداز کر کے لڑکیوں کی تعلیم وتربیت اور اُن کے کردار کو مد نظر رکھیں تو بہت سارے خاندان آباد ہو سکتے ہیں،ہمارا ماننا ہے کہ لڑکی کو جہیز کی بنیاد پر نہیں بلکہ حسن اخلاق،سلیقہ مندی اور تعلیم وتربیت کی بنیاد پر پرکھا جائے تویہ مسئلہ بہت حد تک حل ہوسکتا ہے اور کوئی لڑکی محض جہیز نہ ہونے کے سبب اپنے والدین کی دہلیز پر بیٹھی نہیں رہے گی۔

یہ درست ہے جہیز بیٹی کیلئے ماں باپ کی محبت اور شفقت کی نشانی ہوتا ہے،خود حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کتنا جہیز میں دیا تھا وہ تاریخ کی کتابوں میں مرقوم ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد شادیاں کیں مگر آپ کی ازواج مطہرات میں سے کوئی بھی اپنے ساتھ جہیز نہیں لائیں،اسلام میں ماں باپ کی حیثیت اور استطاعت کے مطابق جہیز دینے کا تصور پایا جاتا ہے، ماں باپ کی طرف سے بیٹی کو جہیز دینا فرض یا واجب نہیں،کیونکہ شادی ایک ایسے بندھن کا نام ہے جس میں دو افراد کوساری عمر ایک ساتھ گزارنی ہوتی ہے،جو رشتے مادی اشیاءکی بنیاد پر قائم کیے جاتے ہیں وہ زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوتے، لڑکے والوں کو اپنے بیٹوں کے رشتے دیکھتے وقت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس حدیث مبارکہ کو ذہن میں رکھنا چاہئے،جس میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ! عورت سے شادی کرنے میں چار چیزیں دیکھو،دولت مندی،خاندانی شرافت،خوبصورتی اوردین داری”لیکن تم دین داری کو اِن سب چیزوں پر مقدم سمجھو۔“

لیکن افسوس کہ دین اسلام میں شادی جیسے پاکیزہ اور مقدس رشتے کے متعلق واضح احکاما ت ہونے کے باوجودہم جہیز کو ہی لڑکیوں کی کامیاب ا ور خوش گوار زندگی کا ضامن سمجھتے ہیں،جس کی بنیادی وجہ وہ عہد ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں،اُس میں نیکی و شرافت،تقویٰ وپرہیز گاری اورخود داری نہیں دیکھی جاتی،مادیت پرستی کے اِس دور میں غریب کے جھونپڑے میں رہنے والی حسین وجمیل اور نیک و صالح کردار بیٹی گھر میں بیٹھی رہ جاتی ہے۔ہمارے محترم مکتوب نگار بھی اسی اذیت سے دوچار ہیں،دعا ہے کہ اللہ کریم اُن کے اور اُن جیسے تمام والدین کی مشکل کو آسان فرمائے،ہمیں ایک دوسرے کے دکھ درد اور تکلیف میں ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام والدین کو اُس کربناک لمحے کا سامنا کرنے سے بچائے کہ بیٹی جیسا محبت اور پیار بھرا وجود انہیں بوجھ محسوس ہو اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ ”اے کاش،بیٹیاں تو پیدا ہی نہ ہوتیں۔“ یاد رکھیں بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔

Mohammad Ahmad Tarazi
Mohammad Ahmad Tarazi

تحریر:۔محمداحمد ترازی
mahmedtarazi@gmail.com

Share this:
Tags:
decorated hard life Peace relationship services study تحقیق خدمات رشتہ زندگی سلامت مشکل
Previous Post اشتہارات کا مقصد عمران خان اور انکے غیر قانونی دھرنے کو بےنقاب کرنا ہے، پرویز رشید
Next Post جاگتی آنکھوں کے خواب

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close