
تحریر: روہیل اکبر
پنجاب کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف بہت اچھا کام نہیں کر رہے تو اتنے برے بھی نہیں جارہے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انہوں نے صوبے میں امن و امان قائم رکھا ہوا ہے اور بہت عرصہ سے دوسرے صوبوں کی نسبت پنجاب میں کوئی بڑی دہشت گردی بھی نہیں ہوئی میٹرو بس کی کامیابی کے بعد اب لاہور میں اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ بھی شروع ہوچکا ہے جسکا فائدہ بھی یقیناً عوام کو پہنچے گا۔
ان سفری سہولیات سے صرف وہی انسان واقف ہوگا جو پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتا رہا ہے ہو یا اب بھی کررہا ہے اسے بخوبی اندازہ ہے کہ پہلے ویگنوں والے کس طرح انسان مرغے بن کر اپنی منزل تک پہنچا کرتے تھے مگر بدقسمتی سے میاں برادران کی میڈیا ٹیم انکے مخالفوں کے خلاف جتنی اچھی مہم چلاتے ہیں اگر اس کے مقابلے میں وہ میاں برادران کے عوامی فلاحی کاموں کے حق میں بھی اتنی محنت کرتے تو آج میاں برادران قوم کے ہیرو ہوتے مگر ایسا نہیں ہوسکا اس میں جتنا قصور ان افسران کا ہے جو انہیں ناکام بنارہے ہیں اتنا ہی قصور خود میاں شہباز شریف کا ہے کہ انہوں نے چن چن کرایسے خشک اور بداخلاق افسران کو اہم سیٹوں پر تعینات کر رکھا ہے جو صرف میاں برادران کی خوش آمد پر سبھی وقت صرف کرتے ہیں۔
واہ واہ اور یس سر کے علاوہ انکی زبان سے کوئی تیسرا لفظ نہیں نکلتا ویزر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے نیک نیتی سے اپنے پروگرام شرع کیے مگر انکے ارد گرد موجود افراد ہی ان کے اچھے کاموں پر پانی بہا رہے ہیں میرٹ اور ایمانداری سے ہٹ کر جن افراد کو وزیر اعلی نے عہدے بانٹ رکھے ہیں وہی پنجاب حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بھی بن رہے ہیں مجھے میاں برادران کی جلاوطنی کے وہ دن بھی یاد ہے جب پرویز مشرف کے دور میں اخبارات اور نیوز ایجنسیاں میاں برادران کی خبریں لگانے وار بھجوانے سے کتراتی تھی اس دور میں جب بھی میرا ٹیلی فون پر میاں شہباز شریف سے رابطہ ہوتا تو خبروں کے حوالہ سے انکے الفاظ آج بھی مجھے یاد ہیں کہ ہماری خبراخبارات میں نہیں لگ رہی صرف میں اپنی نیوز ایجنسی کے زریعے میاں شہباز شریف کے بیانات اخبارات کو بھجواتا تھا اس وقت چوری کھانے والے مجنوں غائب ہوچکے تھے مگر جیسے ہی مسلم لیگ ن کی حکومت دوبارہ قائم ہوئی تو انہی افراد نے مختلف بلوں سے سر نکالنا شروع کر دیے اور پھر آہستہ آہستہ میاں برادران کے قریب ہو گئے۔
اب وہی افراد پھر اہم عہدوں پر براجمان ہیں جن کا کام صرف لوٹ مار اور پیسہ بنانا ہے شہباز شریف حکومت نے اپنے کچھ اچھے کاموں کی طرح ایک اور اچھا کام یہ کیا کہ پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ تو انفارمیشن ایکٹ 2013کے تحت عام آدمی کو بھی معلومات تک رسائی کا موقعہ دیدیا مگر کچھ افسران اس ایکٹ کی بھی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہیں اس ایکٹ کے تحت ہر ایسے فرد کو اسکی متعلقہ معلومات 14دن کے اندر اندر فراہم کردی جائینگی جو اسے مطلوب ہیں مگر ایک ایسا محکمہ جو براہ راست وزیر اعلی پنجاب کی ماتحتی میں کام کررہا ہے وہیں پر اس قانون کو پامال کیا جا رہا ہے اور یہ کسی کے مشاہدے کی نہیں بلکہ میں اپنے تجربے کی بات لکھ رہا ہوں کہ مجھے میرے زرائع نے بتایاکہ محکمہ اطلاعات پنجاب میں مختلف الیکٹرونکس آلات کی مد میں تقریبا 20کروڑ روپے کی خریداری کی گئی ہے اس خریداری کے نتیجہ میں ٹینڈر سے لیکر خریداری اور اب بل تک کرپشن کی عجیب وغریب داستانیں سننے کو مل رہی ہیں اور جن کے لیے یہ آلات خریدے گئے ہیں ایک تو انہیں ابھی تک نہیں دیے گئے اور دوسری بات یہ کہ وہ انتہائی ناقص اور غیر معیاری بھی ہیں جن میں سے بہت سے اب تک خراب بھی ہوچکے ہیں۔
میں نے اسی خریداری کے متعلق معلومات کے حصول کے لیے ایک درخواست ڈائری نمبر 3758لگوا کر 2جون 2015کو جمع کروادی محکمہ ڈی جی پی آر کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اپنے محکمہ کے باس کی عزت کا خیال رکھتے ہوئے فوری طور پر نہیں تو کم از کم14دن کے اندر ہی اس خریداری کے متعلق معلومات مجھے فراہم کردیتے مگر آج ایک ماہ سے اوپر وقت ہوچکا ہے اور اس معاملہ میں کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی کیونکہ ڈی جی پی آرمیں اس سے قبل بھی اربوں روپے کے گھپلے ہوچکے ہیں جن کو پکڑنے کی کوشش اس وقت کے ڈائریکٹرج نرل انٹی کرپشن پنجاب جناب عابد جاوید نے کی تھی مگر یہاں پر بیٹھے ہوئے کرپشن کنگ افسران نے اپنے خلاف چلنے والی انکوائریاں نہ صرف رکوا دی بلکہ عابد جاوید کا انٹی کرپشن سے تبادلہ ہی کروا دیا۔
اس محکمہ کے سیکریٹری اطلاعت جناب مومن علی آغا جوآدم بیزار شخصیت ہیں ایسا لگتا ہے کہ انکی اپنے محکمہ پر کوئی گرفت نہیں ہے وہ صرف وقت گذاری کے لیے اس عہدے کے مزے لے رہے ہیں وزیر اعلی پنجاب کو نہ صرف اپنی میڈیا ٹیم کے حوالہ سے نظر ثانی کرنی چاہیے بلکہ انکے اپنے زیر سایہ چلنے والے محکموں پر عوامی اراکین اسمبلی کو وزیر بنا کر اس میں بہتری کی گنجائش پیدا کرنی چاہیے ورنہ جیسا کام چل رہا ہے اس سے تو نہ چلنا بہتر ہے تاکہ کرپشن اور نااہلیت کا خاتمہ ممکن ہوسکے کیونکہ وزیر اعلی کو اچھا یا برا ثابت کرنا انکی ٹیم کا کام ہوتا ہے جو اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی اور نہ ہی ان میں سے کسی افسر کے اندر اتنی جرات ہے کہ وہ اپنا نقطہ نظر شہباز شریف کے سامنے واضح اندااز میں پیش کرکے سکے کا دوسرا رخ بھی دکھا سکے۔
تحریر: روہیل اکبر
03004821200
