Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شاہ زیب کے بعد اگلی باری آپ کے بچے کی ہو سکتی ہے ‎

December 25, 2017 0 1 min read
Shahzeb Khan Case
Shahzeb Khan Case
Shahzeb Khan Case

تحریر : عماد ظفر
بالآخر جتوئ اور تالپور گھرانوں کے چشم و چراغ باعزت طور پر بری ہوئے ۔ انتہائ اطینان سے انصاف کا خون کیا اور ریاست کے قانونی و سماجی ڈھانچے کو قدموں تکے روندتے ہوئے وکٹری کا نشان بناتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو چل دئیے۔مقتول شاہ زیب خان کے والد نے معافی نامے پر کس دباو کے تحت دستخط کئیے اس کا اندازہ لگانا ہر چند بھی مشکل نہیں ہے۔ البتہ قابل غور بات یہ ہے کہ مقتول شاہ زیب کے والد خود پولیس کے اعلی افسر ہیں اور اگر ّ وہ اعلی پولیس افسر ہوتے ہوئے بھی اس دباو کو برداشت نہیں کر پائے تو سوچئیے ایک عام آدمی کس حد تک اپنے اوپر اپنے سے طاقتور اور بااثر افراد کا دباو برداشت کر سکتا ہے۔ شاہ رخ جتوئ کے فتح کے نشان کے ہیچھے چھپی کہانی کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ 24 دسمبر 2012 کی رات شاہ زیب اپنی فیملی کے ساتھ بہن کا ولیمہ اٹینڈ کرکے گھر آرہا تھا کہ سراج تالپور نامی ایک نشے میں دھت نوجوان نے اس کی فیملی کی ایک لڑکی کو چھیڑنا شروع کیا۔ لڑکی کے بھائی، شاہزیب خان نے اسے منع کیا، جھگڑا ہوا اور تالپور کو مجبورا وہاں سے جانا پڑا۔

تالپور اپنے دوست، شاہ رخ جتوئی اور دو مزید دوستوں کے لے کر ان کے گھر آیا، اور پھر سب کی آنکھوں کے سامنے شاہزیب خان کو شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں نے سیدھے فائر کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا اور فرار ہوگئے۔ شاہزیب کا والد ڈی ایس پی تھا، مقدمہ چلا، ملزمان کو گرفتار کیا گیا، گواہ وغیرہ سب موقع پر موجود تھے، سیشن کورٹ کے جج نے شاہ رخ اور سراج کو پھانسی جبکہ دوسرے دو ساتھیوں کو معاونت کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی۔ لیکن پھر مقتول کی فیملی پر دباؤ ڈلنا شروع ہوا۔ انہیں دھمکیاں ملیں کہ اگر ہمارے بیٹے نہ رہے تو تمہاری بیٹیوں کو ایک ایک کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔

آہستہ آہستہ گواہ بھی غائب ہوگئے اور ثبوت بھی۔بالآخر بیٹیوں کی زندگی بچانے کی خاطر شاہزیب خان کے والدین نے ایک معافی نامہ سائن کرکے عدالت میں جمع کروایا اور سزائے موت آخر کار معطل کر کے عدالت نے از سر نو مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا۔تالپور اور جتوئی گھرانوں نے اپنے سیاسی اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے سندھ حکومت کے زریعے استغاثہ کو کمزورکیا۔ دوسری طرف عدالت میں دہشتگردی کی دفعہ قائم کرنے کے خلاف رٹ دائر کروائ گئ۔ نتیجتا سندھ ہائیکورٹ نے ملزمان پر دہشتگردی کی دفع ختم کردی۔ نئے سرے سے معافی نامہ جمع ہوا اور بالآخر چاروں ملزمان کو ضمانت پر رہائی مل گئی۔شنید ہے کہ مقتول شاہزیب کے والد نے 27 کڑوڑ روپے دیت کی مد میں تالپور اور جتوئ خاندانوں سے بھی وصول کئیے۔ غالبا مقتول کے والد ایک پریکٹیکیل اور حقیقت پسند آدمی ہیں اسی لئیے انہوں نے بیٹیوں کی زندگی بچانے اور ان کے مستقبل کیلئے بااثر قاتلوں سے معافی نامہ کے دستخط کیلئے 27 کڑوڑ روپے وصول کئیے۔ صلح تو بہرحال ہونی ہی تھی کہ ہمارا پولیو زدہ نظام عدل اور ہماری مفلوج ریاستی رٹ اس قدر مضبوط نہہں ہے جو تالپور یا جتوئ جیسے بااثر خاندانوں کو سزا دینے کی ہمت کر سکیں۔ تو پھر مقتول کے خاندان نے ان حالات میں اگر پیسے لے بھی لئیے تو اسے ان کی عقلمندی کہا جانا چائیے۔ بہت سے صحافی بھائیوں اور دانشور ساتھیوں کو اس بات پر مڑوڑ بھی اٹھے کہ ریمنڈ ڈیوڈ کیس کی مانند اس کیس میں بھی پیسہ لیکر قاتلوں کو کیوں معاف کیا گیا ؟

یہ نکتہ ان افراد کی جانب سے اٹھایا اور اجاگر کیا جا رہا ہے جنہیں حقیقت میں وطن عزیز کی زمینی صورتحال کا ادراک ہی نہیں۔ جنہیں شاید معلوم ہی نہیں کہ پیسے اور تعلقات کے دم پر جب مقتولین کے ورثا کو ہر جانب سے دھمکیاں آتی ہوں ان کی بیٹیوں اور بچوں کے سکول کالج یونیورسٹی آنے کے اوقات کار معلوم ہونے سے لیکر ان کی تمام سرگرمیوں میں تعاقب کیا جاتا ہو تو والدین پر کیا بیتتی ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئ ایسا بیوقوف والد یا والدہ ہوں گے جو اداروں اور ریاست کو طاقتوروں کے گھر کی لونڈی بنے ہوئے دیکھنے کے بعد اپنے مقتول لخت جگر کے لئیے انصاف کے حصول کی خاطر اپنے زندہ بچوں یا بچیوں کی زندگیوں کو داو پر لگانے کی غلطی کریں۔وہ بھی ایک ایسے معاشرے میں جہاں مجموعی اکثریت کا مشغلہ تماش بینی کرتے ہوئے ہر قتل یا دہشت گردی کے واقعات کے بعد چائے اور کافی کی چسکیوں کے بعد ان واقعات کو زیر بحث لا کر وقت گزاری کرنا ہو۔ بھلا آپ کے یا میرے ایک کالم لکھنے سے یا پھر نجی محفلوں میں اسے ڈسکس کرنے یا سوشل میڈیا پر خالی خولی ٹسوے بہانے سے کیا بدمعاشوں اور قاتلوں سے کسی بھی شخص کو تحفظ حاصل ہو سکتا ہے؟ کیا محض لکھنے اور دعوے کرنے سے ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ لاہور میں مصطفی کانجو کے ہاتھوں مارے جانے والے مقتول زین کی ماں نامعلوم سمت سے آنے والی گولیوں کے آگے اپنی بیٹیوں سمیت کھڑی ہو جائے۔

کیا سوشل میڈیا پر ہماری نوحہ گری کے بعد مقتول شاہزیب کا باپ اپنی زندہ بچنے والی بچیوں کی زندگی بھی داو پر لگا دیتا؟ شاید پیسوں کے عوض جان بخشی کرنے کے طعنے دینے کے بجائے ہم سب کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں تو وقت گزاری کیلئیے اور سوشل میڈیا پر جذباتی سٹیٹس اپ لوڈ کرنے کیلئیے اور اوراق سیاہ کرنے کیلئیے مزید لاشیں مل جائیں گی، ان گنت مزید واقعات مل جائیں گے لیکن شاہ زیب کے والد کو نہ تو اس کا کھویا ہوا بچہ واپس مل پائے گا اور نہ ہی ہم میں سے کوئ اس کی زندہ بچ جانے والی بچیوں کے حصے کی گولی کھانے کیلئیے اس کا ساتھ دینے جائے گا۔اس لئیے ازراہ کرم یہ رقم لینے کے طعنے مارنا بند کیجئیے۔ اگر طعنے مارنے ہیں تو دیت کے اس قانون کو ماریے جو دولت مند کو قانون کی گرفت سے باآسانی فرار ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔چونکہ یہ دیت اور قصاص کا قانون عقیدے سے جڑا ہوا ہے اس لئیے اس پر نہ تو کوئ خاص تنقید سنائ دے گی اور نہ ہی اس قانون کے سقم کی جانب کوئ توجہ دلائے گا۔ یہ قانون جس طریقے سے بااثر افراد کوقتل کرنے کے سہولت مہیا کرنے کے بعد باآسانی مقتول کے ورثا کو للچا کر یا ڈرا دھمکا کر معافی نامے اور صلح کیلئیے مجبور کرتا ہے اس کی مثال ریمنڈ ڈیوس کیس میں بھی سامنے آئ اور شاہ زیب قتل کیس میں بھی۔ یعنی اگر قتل کرنے والا مالدار اور بااثر ہے تو وہ باآسانی دیت کی رقم دیکر جتنے مرضی قتل کرتا پھرے اس کو سو خون معاف اور دوسری جانب ہزارہا لوگ جیلوں میں ساری زندگی اس لئیے سڑیں کہ ان کے پاس پیسہ نہیں جس کے دم پر وہ مخالفین کو دبا سکیں یا للچا سکیں۔

شاہ زیب کے قاتلوں کا یوں چھوٹ جانا ہمارے اس معاہدے پر بھی بنیادی سوالات کھڑے کرتا ہے جس کے تحت ریاست اور عام شہری ایک دوسرے کے ساتھ ایک حلف یا عہد نامے سے جڑے ہوتے ہیں۔ بطور شہری اگر ریاست میرے جان و مال کاتحفظ کرنے سے انکاری ہے یا ناکام ہے تو پھر ایسی ریاست میں میرا کیا عمل دخل اور کیونکر مجھے اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔ ریاست اگر عدل کا نظام ہی وضع نہ کرنے پائے اور عام شہریوں کو بااثر افراد کے رحم و کرم پر چھوڑ دے تو پھر ریاست کے پاس کیا جواز بچتا ہے کہ وہ معاشرے میں عدل اور مساوات کی باتیں کرے۔ٹالسٹائ نے کہا تھا کہ ‏‏مملکت سرمایہ داروں کی جماعت کا نام ہے جو محتاجوں اور ضرورت مندوں سے اپنی املاک محفوظ رکھنے کے لیئے اتحاد کرلیتی ہے. ٹالسٹائ کا یہ قول کم سے کم ہماری ریاست پر باالکل ٹھیک اترتا ہے۔ زرداری ،عمران خان، نواز شریف ،یا ان جیسے دیگر تمام افراد دراصل ایک ہی سکے کے مختلف رخ ہیں جو دراصل انہی قاتلوں اور بدمعاشوں کے فرنٹ مین کے طور شرافت اور اصولوں کا جھوٹا لبادہ اوڑھے اس سماج کو گھن کی طرح کھاتے ہی چلے جا رہے ہیں۔

خیبر پختونخواہ میں ڈیرہ اسماعیل خان میں بچی کو برہنہ کرنے کا واقع ہو یا اسلام آباد میں سر عام ایک بیرسٹر کی تاجی کھوکھر کے غنڈوں کے ہاتھوں موت، لاہور میں مصطفی کانجو کے ہاتھوں ہلاک ہونے والا زین یا کراچی میں قتل ہونے والا شاہ زیب ان سب کے قاتلوں کے تعلقات اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے سیاسی افراد کے ساتھ نکلتے ہیں۔ ملک ریاض ہو یا علیم خان ایسے قبضہ مافیا بھی سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی پر پنپتے ہیں۔ اس چیچک زدہ سماج کا گھناونا چہرہ پہچاننا کچھ اتنا مشکل نہیں ہے۔ تالپور اور جتوئ یا دیگر بدمعاش خاندان اس نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور اس نظام کو قائم رکھنے میں ہی ایسے مکروہ انسانوں کا فائدہ ہے۔ جمہوریت یا آمریت کی بحث کرنے سے پہلے بہت ضروری ہے کہ ہم پہلے بااثر لوگوں کے ہاتھوں یر غمال بنے نظام اور ریاست کو درست کرنے پر غور و فکر کریں۔ وگرنہ ہو سکتا ہے کہ اگلی دستک آپ کے در پر ہو یا اگلی کال بیل آپ کے گھر کی بجے اور نشے میں دھت کوئ تالپور ، شاہ رخ جتوئ یا مصطفی کانجو آپ کے بچوں کو بھی اڑا دے۔ ریاست کو یرغمال بنانے والی اس مکروہ اشرافیہ سے جان چھڑوانے کیلئے اپنی اپنی سیاسی اور عقائد کی واببستگیوں سے بالاتر ہو کر عمل کی ضرورت ہے مزمت کی نہیں۔

Imad Zafar
Imad Zafar

تحریر : عماد ظفر

Share this:
Tags:
arrested court Death Imad Zafar justice officers Shahzeb انصاف شاہ زیب عدالت گرفتار ملزمان موت
Emmanuel Macron
Previous Post امریکا خود کو دیوار سے لگا رہا ہے لیکن کسی بھی مناسب وقت میں فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کر لیں گے۔ ایمانول مائکروں
Next Post پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسیحی برادری کرسمس کی خوشیاں منا رہی ہے
Celebrating Christmas

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close