Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سنگاپور سے ٹارزن کی واپسی

August 5, 2015 0 1 min read
Safari Park
Safari Park
Safari Park

تحریر: احمد سعید
”سفاری پارک میں جانور کھلے پھر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ کوئی بڑی بات نہیں، پاکستان میں سڑکوں پر ہی کھلے پھررہے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ شرف سفاری پارک کو ہی حاصل ہوتا ہے کہ آپ جنگل کے اندر پھر رہے ہوتے ہیں۔ آپ چڑیا گھر میں نہیں، اصلی جنگل میں داخل ہوتے ہیں۔ سفاری پارک بس کی سواری پہ گیا پر سفاری سوٹ نہ پہنا لیکن کچھ نہ کچھ پہنا ہوا تھا کیونکہ میں جنگل میں جینگالالا ہو کرتے نہیں جارہا تھا۔ لیکن سنگاپور سفاری پارک کے شروع ہوتے ہی بے شمار جینگا لالاہو دیکھے۔ بڑے بڑے پتوں میں ملبوس ڈھول کی تاپ پر رقص پیش کررہے تھے۔ صرف کرہی نہیں رہے تھے۔ کررہی بھی تھیں، وہ بھی پتوں میں ہی ملبوس تھیں۔ جنگل کا اصلی منظر پیش کیا گیا۔ سفاری پارک داخل ہونے سے پہلے بے شمار دوکانیں تھیں،جنگل میں ہر طرف اندھیرہ ہی اندھیرہ تھا۔ پتے والے یعنی جنگلی انسانوں نے ہاتھوں میں آگ کی شمعیں روشن کی ہوئیں تھیں، جس سے دکھائی دے رہا تھا۔ (پتوں کے علاوہ بھی کئی کچھ) ۔ جنگل میں سیر کے لئے اندر چھوٹی چھوٹی ٹرینیں چلائی ہوئی ہیں، لیکن آپ پیدل بھی دیکھ سکتے ہیں۔

پیدل کا رِسک میں نے نہ لیا بھئی اِن شیروں سے میری دوستی نہ تھی اور لگڑ بگڑوں سے تو میں دوستی کرتا بھی نہیں، اس لئے ٹرین کے سفر کو ہی مناسب جانا۔ ٹرین پہ تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ ٹرین کے ساتھ ساتھ ہرن پھرتی ہوئی دکھائی دیں۔ میں سمجھ گیا کہ جنگل شروع ہوچکا ہے۔ اب نہ واپس جانے کا راستہ اور آگے تو جاہی رہے تھے خیر۔ ٹرین بہت آہستہ آہستہ چل رہی تھی ۔ اور یہ تو ہرنیں تھیں،میں نے سوچا اگرآگے شیر اتنے ہی قریب پھرتے ہوئے تو پھر… تو پھر کیا دوڑیں لگیں گی۔ یا ہم ہوں گے یا پھر شیر یعنی
ہم تم ہوں گے دنگل ہوگا
رقص میں سارا جنگل ہوگا

لیکن یقین جانیں اِس شعر کی طرح کچھ نہ ہوگا یہ شعر کسی شیر کی طرف سے آیا ہے۔ میری طرف سے کوئی دنگل نہیں ہوگا ۔بس ایک دو تین اور ایسی دوڑ کہ اولمپکس والوں نے بھی کبھی نہ دیکھی ہوگی۔ ٹرین جب شیروں کے پاس آئی تو ٹرین والی نے کہا کہ یہاں تصویریں بنانا منع ہے۔ میں نے خود سے کہا کہ ہاتھ سے بنانہیں سکتے۔ یعنی فائن آرٹس کے جو ہر نہیں دکھا سکتے۔ کھینچ تو سکتے ہیں اور کھینچ دی۔ بس تصویر کا کھینچناتھا۔ شیر دھارا ، اور میں بن گیا وچارہ۔ اب خامشی سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا کہ یہ تصویر کس نے کھینچی ہے؟ خیر شیر تھوڑے دور تھے۔ میرا دِل کیا کہ ٹرین چلانے والی کے کان میں جا کر کہوں کہ اِس بار تصویر شیروں نے ہی کھینچ دی ہے۔ انھیں بھی کوئی ہدایات جاری کریں۔ شیر ہیں تو اِس کامطلب جو مرضی کرتے پھریں۔ اب اُن (شیروں) کی آوازیں مسلسل آرہی تھیں اور بالکل شیروں جیسی آوازیں، بھئی شیروں جیسی ہی آنی تھیں وہ کونسا گیدر تھے۔ لیکن ہوبھی سکتے تھے اگر شادی شدہ نکلے تو۔ اب گیدڑوں کی بھی آرہی تھیں لیکن پہلے شیروں کی آئیں پھر گیدڑوں کی۔

Lion
Lion

لگتا ہے گیدڑ ادب و آداب کا خاصہ خیال رکھتے ہیں یاڈر کیوجہ سے وہ یہ حرکت فرما رہے تھے۔ خیر ہمارے اور شیروں کے درمیان ایک چھوٹی سی نہر حائل تھی۔ یہ محبت کرنے والوں کے درمیان کچھ نہ کچھ حائل ہی رہتا ہے ۔ سوہنی کو تو کچہ گھڑا کرائے پہ لینا پڑگیا۔ اب شیر کیا کرتے میرے لئے ۔میں نے تو اُن کیلئے ٹرین لے لی جو اب انہیں کافی پیچھے چھوڑ چکی تھی ۔ اب ایک ایسی جگہ ٹرین جا کر رُکی جہاں سے آگے پیدل ہی جایا جاسکتا تھا۔ ویسے وہاں گھوڑے بھی داخل ہوسکتے تھے لیکن سفاری پارک والوں نے ہمیں مہیا نہ کئے۔ اب اتنا وقت میرے پاس نہ تھا کہ پہلے جنگل میں گھوڑوں کی تلاش میں نکل پڑتا۔ میں پیدل ہی چل پڑا۔ اندھیرے میں چھوٹے چھوٹے سائن بورڈ لگے ہوئے تھے جانوروں کے، یعنی اُن پہ جانوروں کے نام لکھے تھے اور ساتھ اشارہ تھا کہ اِس قسم کے جانور اِس طرف متواقع ہیں۔ میں نے ایک سائن بورڈ پہ پڑھا بیٹس (چمگا دیں) پہلے تو گھبرایا پھر سو چابھئی ایسے کھلی تھوڑی چھوڑی ہوں گی اور اگر کھلی بھی ہوں گی تو کیا ہوا بچپن میں رات کو جس گراؤنڈ میں کھیلتے تھے وہاں کیا کم ہوتی تھیں؟ لیکن پھر سوچا کہ ہمیں ویسے اُن سے ڈر بہت آتا تھا۔

دماغ نے کہا رہنے ہی دیتے ہیں یہ گراؤنڈ نہیں جنگل ہے۔ دِل نے کہا اِسی لئے تو دیکھنی ہیں کہ یہ جنگل ہے اور انگلش فلم Bats بھی ذہن میں آئی اور میں چل پڑا بیٹس کی طرف آخر میں نے بھی بڑے ”بیٹ” گھمائے ہوئے ھیکرکٹ میں۔ جب اِس علاقہ غیر میں داخل ہوا تو کچھ نہیں تھا۔ میں نے کہا لو اتنی سی بات ۔ کہیں درختوں پہ بیٹھی ہوں گی۔ درختوں کے اوپر دیکھنا شروع کردیا۔ ایک چھوٹی سی چمگادڑ آئی۔ میں نے کہا یہ تو ہماری گراؤنڈ سے بھی ہلکہ کام ہے۔ تھوڑا اور آگے بڑھا اور بڑھتا گیا اب دو چار چمگادڑیں اِدھر اُدھر مجھے ڈرا کے جائیں۔ میں تھوڑا ڈرتا پھر اپنے قدموں پہ کھڑا ہوجاتا ۔ اِس کے چند لمحوں بعد چمگادڑوں کی ایک ایسی فوج آئی کہ میں نے آنکھیں بند کرکے سرپٹ دوڑ لگا دی۔ حو اس ایسے اُڑے دوڑ پیچھے کو لگانی تھی آگے کو لگا بیٹھا۔ اب پیچھے دیکھا تو بڑی بڑی چمگادڑیں آگے اس سے بھی بڑی۔ بہت غصہ آیا سفاری پارک پہ کہ اتنا اصلی جنگل دکھانے کی کیا ضرورت ؟ میری تو نکلوا دیں چیخیں۔ بہت مشکل سے اُس علاقہ غیر سے بے یا رو مدد گار میں جیسے نکلا میں ہی جانتا ہوں۔

” بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے” تھوڑی دیر بعد جب ہوش آیا تو ایک سائن بورڈ پہ گلہڑ یوں کا لکھا ہوا تھا۔ دِل نے کہا یہ بھی بڑا بدتمیز جانور ہے۔ پر دِل نے یہ بھی کہا کہ (آیا ایتھے اَم لین واں) یعنی یہ چیزیں ہی دیکھنے آئے ہو اور کیا یہاں آموں (Mangoes) کی دعوت تھی ؟ سو ہولئے اُس طرف۔ ایک دو تو ہمارے ملک جیسی گلہریاں تھیں،انہیں کافی چھیڑ ا۔ وہ آگے آگے بھاگتی جائیں۔ اِسی دوران چند لوگ ایک درخت کے پاس خا موشی سے کھڑے درخت کو تک رہے تھے، میں بھی فوراً وہاں گیا۔ جیسے ہمارے ملک میں ایک دو شخص آسمان کی طرف دیکھنا شروع کردیں تو قریب کے لوگ ہی اوپر دیکھنا نہیں شروع کرتے باقاعدہ ٹریفک بھی رُک جاتی ہے اوپر دیکھنے کیلئے۔ اور اِس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں اصل بات تو یہ ہے کہ جب انہیں معلوم بھی پر جاتا ہے کہ آسمان کی طرف کوئی بات نہیں تب بھی وہ دیکھی جاتے ہیں۔ خیر یہ ٹھیک دیکھ رہے تھے سفاری پارک میں ایک بڑا سا گلہری نما جانور درخت پہ چپکا ہوا تھا۔ پہلے تو مجھے دیکھ کر ڈرلگا۔ لیکن اتنے سارے لوگ کھڑ ے تھے اِس لئے زیادہ نہ لگا۔ سب اُسے تھوڑا تھوڑا چھیڑ رہے تھے۔ میں وہاں ٹارزن بنا اور اُسے زیادہ چھیڑ بیٹھا۔ پھر اُس نے جو میری طرف چھلانگ ماری کہ میرا تو رونا ہی نکل گیا۔

Animals
Animals

چلو رونا ہی نکلا کہیں کچھ اور نہیں نکل گیا۔ وہ جو اکثر بچوں کا نکل جاتا ہے۔ درحقیقت اِس نے چھلانگ میری طرف نہیں ماری تھی میرے پیچھے درخت تھا اُس پہ ماری تھی، پر وہ بتا کر تو مارتا۔ایک جنگل اُس کے اوپر ایسی حرکتیں جانوروں کو زیب تو نہیں دیتیں۔ پھر اِس قسم کے کسی جانور کو میں نے دیکھنے کی کوشس نہ کی ۔بس پھر بکری، ہرن، چوہا، بلی وہ بھی دور سے ہی میں نے سوچا تھا کہ واپسی پہ سب کو بتائیں گے کہ جنگل سے ٹارزن کی واپسی کیسے ہوئی؟ پر میرے ساتھ جو ہوئی اب میں خود کو ٹارزن کہتا ہی نہ تھا کہ کہیں کسی بکری نے بھی سُن لیا تو وہ جانے میرے ساتھ کیا سلوک کرے۔ چنانچہ ٹارزن کی واپسی تو نہ ہوئی البتہ ٹرین کی واپسی ہوئی اور واپسی پہ ایک جگہ ٹرین کے بالکل ساتھ چھوٹے چھوٹے ہا تھی کے بچے میں نے اُتر کر اُن کو چھونا چاہا، پھر میں نہ اُترا اور نہ انھیں ہاتھ لگایا۔ ماضی سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ وہ تو تھیں بھی بیچاری چمگادڑیں اور گلہری اور یہاں اگر اِن ہا تھیوں کے آباؤ اجداد آگئے تو اُن کے آگے دوڑنہ بھی بے سود ہوگا۔

اُن کی تو سونڈ بھی کوئی پچاس فٹ کی ہوتیہے پر جہاں اتنے خطرے مول لیے تھے وہاں ایک اور سہی ۔آگئے اِن کے والدین تو دیکھ لیں گے وہ خود ہی ہمیں۔ ٹرین نے ہمیں جہاں سے جنگل کی سیر شروع کروائی واپسی دوسرے راستے سے کروا رہی تھی، کیونکہ اگر اُسی رستے سے واپس آتی تو سارے جانور کہیں ہمیں الوداع کہنے کیلئے ہی نہ کھڑے ہوتے۔ ٹرین کا یہ اندازِ فکر مجھے بہت بھایا اور میں اللہ اللہ کرکے جنگل سے واپس آیا۔ پر ابھی کچھ جنگل باقی تھا جہاں بڑے بڑے بھینس بڑے بڑے سینگوں سمیت ، یہ سپین کے ملک میں جو کھیلوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں ان سے بھی کئی گنا بڑے سینگوں والے۔ وہاں میں نے یقین کریں کوئی بہادری کا مظاہرہ کرنے کی کوشش نہ کی۔ نہ ہی میرے دِل نے مجھے کچھ کہا نہ ہی کوئی ترکیب ذہن میں آئی۔ بس ہما تن گوش بالکل خرگوش کی مانند انھیں آنکھیں تیز تیز چھپک کر دیکھتا رہا کہ زیادہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اگر دیکھا تو یہ آدم خور بھینسے کہیں برانہ منا جائیں کہ میں انہیں آنکھیں دکھا رہا ہوں۔

Safari Park  Animals
Safari Park Animals

اب میں بھلا انہیں آنکھیں دکھا سکتا تھا؟ میری کیا مجال؟ اِس قسم کے جانور تو دیکھے تھے اِس قسم کے سینگ نہیں۔ عینک والے جن میں زکوٹا جن کے تو بہت چھوٹے سینگ تھے اور ویسے بھی زکوٹا جن اِن کے سامنے کیا۔ اس لئے میں تھوڑی سی نظریں جھکائے دبکے سے بیٹھا رہا اور اِ س کوشش میں تھا کہ کسی نہ کسی طرح ٹرین والی سے عرض کروں کہ بھگا لے ٹرین بھگا لے ۔ کس چیز کا بدلہ لے رہی ہے ۔ایک تو جنگل میں داخل ہونے کے پیسے لئے اوپر سے ہمیں انٹرٹینمنٹ دینے کی بجائے اچھا خاصہ ڈرایا گیا اور اب یہ طوفانی بھینسے ۔ اتنی دیر میں ”سنگاپور نائٹ سفاری پارک ”ختم ہوا اور میرا حوصلہ بھی۔ جنگلی نما انسان ابھی بھی جینگا لالاکررہے تھے ،میں نے بھی تھوڑا سا کیا کیونکہ اب ٹارون کی واپسی ہوچکی تھی۔

تحریر: احمد سعید

Share this:
Tags:
return Safari Park suit رقص سفاری پارک واپسی
Leyyah News
Previous Post ضلع لیہ میں سیلاب سے متاثرین کو فلڈ ریلیف کیمپوں میں خدمات سر انجام دی جارہی ہیں
Next Post بھٹو خاندان پاکستان میں کچلے ہوئے اور مظلوم طبقات کی آواز ہے۔ رانا گلزار احمد
Rana Gulzar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close