Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سر سید احمد خاں کا یوم پیدائش اور مسلم یونیورسٹی کے سو سال

October 17, 2020 0 1 min read
Sir Syed Ahmad Khan

Sir Syed Ahmad Khan
Sir Syed Ahmad Khan

ّ تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری

سر سید احمد خاں ( 17 اکتوبر 1817ء ۔ 27 مارچ 1898ء )نے ایک بڑی اور معیاری یونیورسٹی کا جو خواب کبھی دیکھا تھا ، اس خواب کی تعبیر کے لئے انھوں نے1875ء میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی داغ بیل ڈالی تھی اور جسے 1920ء میں یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہوا تھا۔اس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو تعلیم کے میدان میں تاریخ ساز کارناموں کے لئے عالمی شہرت حاصل ہے ۔ سر سید احمد خاں کی اس عظیم دانش گاہ سے کیسی کیسی اہم اور معتبر شخصیات نے سیاسی، سماجی، سائنسی، صحافتی، ادبی ، کھیل کود اور فلموں کے میدان میں اپنی قابلیت و صلاحیت سے شناخت قائم کی ،ایسی شخصیات کی بہت لمبی فہرست مرتب کی جا سکتی ہے ۔پھر بھی مختلف میدان عمل کے چند نام بے اختیار ذہن کے پردے ابھرتے ہیں ۔

ان میں سیاست کی دنیا کے درخشاں نام خان عبدالغفار خاں ،شیخ محمد عبداللہ، ایوب خان، فضل الٰہی چودھری،خواجہ ناظم الدین ،لیاقت علی خاں، ملک غلام محمد، محمد امین دیدی،محمد منصور علی، ذاکر حسین،محمد حامد انصاری،رفیع احمد قدوائی صاحب سنگھ ورما وغیرہ ان کے علاوہ ادب، صحافت آرٹ،تاریخ،فلم ،اسپورٹس وغیرہ کے میدان عالمی شہرت رکھنے والے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغین میں سعادت حسن منٹو، اسرارا لحق مجاز،راہی معصوم رضا، ظفر علی خاں(زمیندار)، خواجہ احمد عباس، علی سردار جعفری،حبیب تنویر،مظفر علی، نصیر الدین شاہ،جاوید اختر،عرفان حبیب،اشوری پرساد،دھیان چند،لالہ امر ناتھ ، ظفر اقبال وغیرہ جیسی اہم اور نامور ہستیوں نے پوری دنیا میں سر سید کے خواب کو پورا کرنے میں کامیاب رہے ۔ایک یونیورسٹی کی اتنی بڑی اور تاریخی کامیابی دیکھنے کے بعد اور عہد حاضر میں مسلمانوں کی زبوں حالی کے بڑھتے تلخ حقائق کے منظر نامہ کو دیکھتے ہوئے اس امر کا احساس شدت سے ہو رہا ہے کہ کاش مغل حکمراں ، اس ملک کے اندر بڑی بڑی تاریخی عمارتوں کی بجائے اپنے عہد میں سر سید کی طرح مدارس ، درس گاہ یا دانش گاہوں کی تعمیر کراتے ،تو اس وقت یہاں کے مسلمان جس طرح تعلیم کے معاملے بہت پیچھے چھوٹتے جا رہے ہیں ، شائد ایسا نہ ہوتا ۔

ایسے حالات میں سر سید کی ایسی شاندار کوششوں کی جتنی تعریف کی جائے اورجس قدر شکر گزار ہوا جائے ، وہ بھی بہت کم ہے ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سر سید احمد خاں نے غیر منقسم بھارت کے مسلمانوں کو بہتر تعلیم کی جا نب متو جہ کرانے کی ہر ممکن کوشش کی اور اپنے اس اہم مقصد کے حصول کے لئے وہ تحریر و تقریر کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں ایک بڑی تعلیمی تحریک لے کر اترے اور بڑی مخالفتوں کے باوجود انھوں نے ہمّت ہاری اور نہ ہی اپنا حوصلہ کھویا۔ سخت آزمائشوںسے گزرتے ہوئے،اپنے جنون اور جد و جہد سے ایسے کارہائے نمایاں انجام دئے ، جن کی بدولت ملک و بیرون ممالک کے مسلمانوں میں تعلیم کا رجحان بڑھا اور وہ نہ صرف باوقار زندگی گزارنے کے لائق ہوئے بلکہ اپنے تشخص اور اپنی پہچان بنانے میں بھی کامیاب ہوئے ۔ سر سید کا قائم کردہ اس قدیم تعلیمی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اپنی ایک شاندار تاریخ ہے ۔

اس کے ماضی کے اوراق پلٹیں تو ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ مغل حکومت کا خاتمہ ، ان کی پسپائی، انگریزوں کا بڑھتا تسلط اور خاص طور پر ملک کے مسلمانوں پر جبر واستبداد، اس دور کے لئے لمحۂ فکریہ تھا ۔ یہاں کے مسلمانوں کے حوصلہ ، جرأت ، ہمّت، وقعت اور عزت وناموس کو انگریزوں نے ان سے اقتدار چھین کر پارہ پارہ کر دیا تھا۔ایسے حوصلہ شکن اور ناگفتہ بہ حالات کا مقابلہ کس طرح کیا جائے ۔ ان کا تدارک کن نہج پر ہو ۔ ان امور پر امّت مسلّمہ کے لئے درد رکھنے اور فکر کرنے والے دانشور، مدبر اور محب وطن پریشان تھے اور وہ ان مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لئے اپنے اپنے افکار وخیالات اور لائحہ عمل کے ساتھ ساتھ سامنے آئے ۔ ان میں سر سید احمد خاں کا نام نمایاں تھا ۔ ان کے دل ودماغ میں انسانی درد اور فلاح امّت مسلّمہ کے احساسات و جزبات سے بھراتھا اور وہ ملک کے مسلمانوں کے بہترمستقبل کے لئے بے حدفکر مند تھے اور کچھ کر گزرنے کے لئے وہ بے چین تھے ۔ سر سید کی دور اندیش نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ اگر یہی نا مساعد حالات رہے تو یہاں کے مسلمانوں کا مستقبل کس قدر تاریک اور بے وقعت ہوگا ۔

اس فکرکے تحت وہ مسلمانوں کے لئے عصری تعلیمی مشن کو لے کرعملی میدان میں آئے اور بہت ساری مخالفتوں کے باوجود وہ اپنے تعلیمی مشن کو لے کر آگے بڑھتے گئے۔ لیکن جس طرح سے اس زمانے میں ان کے اس تعلیمی مشن کی مخالفت ہو رہی تھی اس وقت سر سید کے ذہن میں یہ خیال ابھرا کہ عوام تک اپنے اس تعلیمی مشن کے افکار و خیالات کی دور تک رسائی کے لئے بہترین ذریعہ صحافت ہو سکتی ہے ۔ چنانچہ انھوں نے اپنے خواب کو شرمندئہ تعبیر کرنے کے لئے خاردار اور پر خطر راستے کا انتخاب اپنے ابتدائی دور میں ہی کیا اور بھارت کے مسلمانوں کو تعلیمی ، معاشرتی اور تہذیبی طور پر ایک مکمل اور بہتر طرز زندگی کی جانب راغب کرانے کے لئے نیز ان کی معاشی بدحالی دور کرنے ، سیاسی و سماجی شعور پیدا کرنے اور سماجی پسماندگی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کھوئے ہوئے وقار وعظمت کو بحال کرنے کے مقصد اور مشن کو کامیاب بنانے کے لئے صحافت کا بھی سہارا لیا ۔

ہم اس تلخ حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ کوئی بھی شخص جب کوئی بڑے منصوبہ اور مقصد کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے بہت سارے مسائل سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے ۔ اپنے ان خاص مقاصد کے حصول کے لئے سر سید نے جنوری 1864 ء میں ”سائنٹفک سوسائیٹی” غازی پور میں قائم کی ۔ پورے دو سال تک اپنی سرگرمیوں کو بڑھانے کے بعد 1866 ء میں اسی نام سے ایک اخبار علی گڑھ سے جاری کیا ۔ چونکہ سر سید کو انگریزی اور اردو کو ساتھ لے کر چلنا تھا اور دونوں ہی زبان کے لوگوں کو مخاطب کرنا تھا ، اسی لئے اس کا دوسرا نام”علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ” رکھا ۔ اس میں ایک کالم اردو اور دوسرا انگریزی میں ہوتا تھا ابتدأ میں یہ ہفتہ وار تھا ، لیکن بعد میں یہ سہ روزہ ہو گیا ۔

اس طرح اب ہم یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ سر سید نے تعلیمی ،سماجی، اور معاشرتی تبدیلی کا سفر، صحافت سے کیا اور ایک طرف جہاں انھوں نے اپنے گہرے مطالعہ ومشاہدہ اور تجربہ سے اردو صحافت میں گرانقدر اضافے کئے ، وہیں دوسری جانب سر سید کو اردو صحافت نے ان کے مقاصد کے حصول اور ان کے افکار ونظریات کی تبلیغ وترسیل کے لئے راہ ہموار کیا ۔ سر سیدنے اپنے دونوں اخبارات میں ہمیشہ تعلیمی مسئلے کو فوقیت دی ۔جس کے بین ثبوت ان کے وہ ادارئے ہیں ۔ جن میں انھوں نے بڑے خوبصورت اور سلیس انداز میں اپنی باتوں کو پیش کرتے ہوئے لوگوں کے دل و دماغ تک پہنچنے کی کامیاب کوشش کی ۔ اس کی چند مثالیں دیکھئے…..
” افسوس ہے کہ بنگالہ کے مسلمانوں نے جو تدبیر مسلمانوںکی ترقی کی اختیار کی ہے ۔ اس سے ہم کو اختلاف کلی ہے ۔ ان کی تدبیر، جس پر وہ مختلف طریقوں سے زور دے رہے ہیں ۔ یہ ہے کہ گورنمنٹ کی مسلمانوں کے لئے خاص رعایت مبذول ہو ۔ سابق میں بھی اس مطلب سے انھوں نے بہت زبردست درخواست پیش کی تھی، اور حال میں نواکھالی کے مسلمانوں نے اس قسم کی درخواست پیش کی ہے ۔ ہم اس تدبیر کو پسند نہیں کرتے…ہمارا اصول”سلف ہیلپ” پر مبنی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں مسلمان خود اپنی ترقی کے لئے آپ کوشش کریں”۔

(Eminent Mussalmans page-15)
” میری یہ سمجھ ہے کہ ہندوستان میں دو قومیں ہندو اور مسلمان ہیں اگر ایک قوم نے ترقی کی اور دوسری نے نہ کی تو ہندوستان کا حال کچھ اچھا نہیں ہونے کا ۔ بلکہ اس کی مثال ایک کانڑے آدمی کی سی ہوگی۔ لیکن اگر دونوں قومیں برابر ترقی کرتی جاویںتو ہندوستان کے نام کو بھی عزت ہوگی اور بجائے اس کے کہ وہ ایک کانڑی اور بڈھی بال بکھری ، دانت ٹوٹی ہوئی بیوہ کہلاوے، ایک نہایت خوبصورت ، پیاری دلہن بن جاوے گی”۔
(اخبار ‘سائنٹفک سوسائٹی، علی گڑھ، 3 جون1873ء )
” جو تعصبات کہ آپس کی محبت اور ارتباط کے مخل ہوتے ہیںان کو دور کرے اوران کے دلوں میں ایسا عمدہ کرے کہ وہ تمام قوم جسمانی بلکہ روحانی بھلائی و بہبودی کے بڑے بڑے کاموں میں اپنے آپ کو بھائی بھائی سمجھیں ”۔
( سائنٹفک سو سائیٹی ، علی گڑھ ، 19 اپریل 1867 ء )

سر سید کے تحریر کردہ اداریوں کے یہ اقتباسات سر سید کی ذہانت ،دانشوری، دوراندیشی اور ان کے نظریات و خیالات کے مظہر ہیں اور ہر اداریہ ایک طویل تشریح و تفسیر کا متقاضی ہے ۔ سر سید نے بھارت کے مسلمانوں کوکامل درجہ کی تہذیب اختیار کرنے ، ان کا شمار دنیا کی معزز اور مہذب قوموں میں کرانے کے خاص مقصد کے تحت24 دسمبر 1875 ء سے ایک رسالہ بھی نکالا تھا ۔ اس کے بھی دو نام تھے، اردو میں ”تہذیب الاخلاق” اور انگریزی میں ”دی محمڈن سوشل ریفارمر” ۔ ان رسالوںکے مختلف شماروں میں ایسے ایسے اہم ، بامقصد اور مؤثر مضامین شائع ہوئے کہ بعض ناعاقبت اندیشوں کی نیندیں حرام ہونے لگیں اور ”تہذیب الا خلاق” کی بڑھتی مقبولیت اور کامیابی کی جانب بڑھتے ہوئے سر سید کے قدم نے قدامت پسند لوگوں اور سر سید کے مخالفوں کی نیندیں اڑا دیں ۔سر سید کی رہنمائی میں بڑھتے تعلیمی کارواں کے سامنے انھیں اپنا وجود خطرہ میں نظر آنے لگا تھا ۔ لیکن الطاف حسین حالی جیسی جید شخصیت ، جوسر سید کی تحریر و تحریک کی بڑی مداح تھی۔ ‘ انھوں نے ‘تہذیب الا خلاق ” کی اشاعت کے بعد اس کی بڑھتی مقبولیت اور مخالفت کو دیکھتے ہوئے لکھا تھا کہ ‘ اس کی اشاعت کا سب سے بڑا نتیجہ یہ ہے کہ ”محمڈن اینگلو اورینٹل کالج” قائم ہو گیا ، جو آج تعلیم کا سب سے بڑا مرکز بن کر ‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی’ کے نام سے ہمارے سامنے ہے ‘۔

اس مختصر جائزہ کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سر سید نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم کر بھارت کے مسلمانوں کے اندر تعلیمی صلاحیت اور لیاقت پیدا کر، نہ صرف تعلیمی میدان میں کامیاب ہونے بلکہ سماجی ، سیاسی اور معاشرتی و تہذیبی اقدار کو سمجھنے اور عمل کرنے کا رجحان بھی پیدا کیا ہے ۔ یہ سر سید کی ہی دین ہے ملک کے کئی گوشوں میں سیر سید کی طرز پر تعلیمی مراکز کا قیام عمل میں لا کر مسلمانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر، ان کے اندر خود اعتمادی اور زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کرنے کا حوصلہ پیدا کیا جا رہا ہے ۔ جو دِل یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے ۔ سر سید کی قائم کردہ یونیورسٹی نے جس طرح یہاں کے مسلمانوں کو تعلیمی ، سماجی ، معاشرتی اور سیاسی شعور اور فہم و ادراک پیدا کر باوقار زندگی گزارنے کا جو حوصلہ دیا ہے ۔ اس سے بعض متعصب او رفرقہ پرست لوگوں کی پریشانیاں بڑھی ہوئی ہیں ۔ اس یونیورسٹی کی مخالفت وہی لوگ زیادہ کر رہے ہیں، جو منظم اور منصوبہ بند سازش کے تحت یہاں کے مسلمانوں کو حاشیہ پر ڈال کر انھیںتعلیمی، سماجی ، معاشی اور سیاسی طور پر بے وقعت اوربے دست و پا کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ سر سید کاتعلیمی مشن کبھی ختم نہیں ہوگا اور سر سید کے تعلیمی مشعل کی روشنی دور بہت دور تک نسل در نسل پہنچتی رہے گی ، جن سے امت مسلمہ ہمیشہ فیضیاب ہوتی رہے گی اور سر سید کے دیکھے ہوئے خواب کی نئی نئی تعبیر یں سامنے آتی رہینگی۔

Dr Syed Ahmad Quadri
Dr Syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری

Share this:
Tags:
birthday Muslim University Sir Syed Ahmad Khan year سال سر سید احمد خاں مسلم یونیورسٹی یومِ پیدائش
DMC Korangi Sports Festival
Previous Post کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد بہتر اقدام ہے نوجوانوں کے تعاون سے میدانوں کو آباد کرینگے۔ فہیم خان
Next Post پاکستان پر عالمی برادی کا اعتماد اور وزیر دفاع
Indian Army - LOC Firing

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close