Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سر سید احمد خان

November 4, 2020 0 1 min read
Sir Syed Ahmad Khan
Sir Syed Ahmad Khan
Sir Syed Ahmad Khan

تحریر : میر افسر امان

جمیل یوسف صاحب سابق پرنسپل سر سید کالج واہ کینٹ ،جماعت اسلامی کے شعبہ علم و ادب ،قلم کاروان کے ہفتہ وار علمی و ادبی پروگرام میں تشریف لائے۔ راقم اور تمام شرکاء کو اپنے کتاب” مسلمانانِ برصغیر کے محسن سر سید احمد خان ” ہدیہ کے طور پر پیش کی ۔ ہماری عادت ہے کہ ہمارے ہاتھ آنے والی ہر کتاب کا مطالعہ کر کے اس پر تبصرہ لکھ کر اپنی ذاتی لائبیر ری کی زینت بنا دیتے ہیں۔ا س کتا ب پر بھی کیا گیا تبصرہ قارئین کی نظر ہے۔

جمیل یوسف لکھتے ہیں کہ دو قومی نظریہ سب پہلے سر سید احمد خان نے پیش کیا تھا۔ اس سے پاکستان کی منزل کا سراغ ملتا ہے۔ اس بات پر اگر تجزیہ کیا جائے توحقیقت تو یہ ہے کہ دو قومی نظریہ تو اس وقت ہی ظاہرہو گیاتھا، جب اسلام اور کفر کی پہلی جنگ ِبدر میں پیش آیا تھا۔ جنگ بدر میں ایک ہی قوم کے افراد ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہوئے تھے۔جس میں ایک دوسرے نے اپنے قرببی رشتہ داروں کو قتل کیا تھا۔ ایک طرف اسلام اور دوسری کفر تھا۔یہیں سے دو قومی نظریہ نے جنم لیا تھا۔

لکھتے ہیں سرسید احمد خان کے حالات و واقعات، ان کی خدمات اور ان کی مہمات کا خیال کیا جائے تو حریت ہوتی ہے کہ یہ کیسا عظم شخص تھا۔ در اصل کئی شخصیتیں اس ایک شخص میں جمع ہو گئیں تھیں۔مذہب، اخلاق، معاشرت، تعلیم، سیاست، خطابت،اُردو نثر، مضمو ن نویسی، ادارت،انجمن سازی،انجینئرنگ، آثار قدیمہ، تاریخ نویسی،غرض قومی زندگی کے ہر شعبہ میں آنے والوں کے انمٹ نقوش چھوڑے۔ مگر قدامت پرستوں اور روایت پسندوں نے ان کی مخالفت کی۔

اگر سرسید کی محنت کو سامنے رکھ کر تبصرہ کیاتو مصنف کی باتیں صحیح نظر آتی ہے۔سر سید نے اپنی کتاب آثار الصنادید ، جس میںشہر دہلی اور اس کے نواح میں موجود پرانی تاریخی عمارات کے مشا ہدے اور ان کے بارے میں تحقیق و تجسس کیا وہ ان کا فطری مشکل پسندی کا جذبہ لگتا ہے۔ سر سیدنے آئین اکبری کتاب کو جو مشکل الفاظ پر لکھی گئی تھی کو آسان زبان میں تحریر کیا۔ اس کتاب میں اکبری دورکے سکوں،ٹکسال،آلات، ظروف، اوزار، ہتھیار، زیوارات، شکار، اور یورش کے موقعہ پر شاہی خیمہ گاہ ،چراغ خانہ اور اکبر کی آتش پرستی ، شکوہ سلطنت، کے تمام کوازمات، تزک و احتشام کے مناطر، فیل خانہ،ہاتھیوں کی پوشش، ہاتھیوں کی کشتی، اس زمانے کے تمام پھل دار درخت، ان کی شاخیں، برگ و ثمراور پھول پتے ، غرض ہر شے کی تصاویر، دہلی کے لائق مصور سے بنا کر کتاب میں شامل کیں۔

اکبر کے زمانے کی حکومت کے تمام محکموں کے طریقہ کارکو اس کتاب میں بیان کیا۔ کیا یہ آسان کام ہے؟ تاریخ فروز شاہی جو ضیاء الدین برنی نے تحریر فرمائی تھی۔ اس کے چار مختلف نسخے حاصل کر کے اس کا تصیح شدہ نسخہ، ایشایٹک سوسائٹی آف بنگال کو دیا۔ جو ایشایٹک سوساٹی آف بنگال نے نئے سرے سے شائع کیا۔ یہ بھی ایک جان جوکھوں جیسا کام سر سید نے کیا۔تبیین الکلام کتاب لکھ کر عیسائیوں اور مسلمانوں مناظرہ بازوں کے درمیان راستی اختیار کر نے کی کوشش کی۔

علی گڑھ اخبار نکالا۔ جس میں مسلمانوں کو اور اہل فکر و نظر کو اپنی بنائی ہوئی سائنٹیفک سوسائٹی کی سرگرمیوں سے آگاہ کرنے کی کو شش کی۔،خطبات احمدیہ کتاب میں اسلام اور نبی محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف ولیم مور کی کتاب ‘ لائف آف محمدۖ” میں مخالف تحریر وں کا رد کیا۔سیر سید نے اپنی کتاب خطبات احمدیہ میں دلائل سے جواب دے کر اپنی ایمانی کا مظاہرہ کیا۔سر سید کی اس سے زیادہ بہادری اور کیا ہو سکتی ہے کہ سر ولیم مور اس وقت برطانوی ہند میں لیفٹینیٹ گورنر کے عہدے پر فائز تھا۔ دوستوں نے سر سید کو ایسا کرنے سے منع بھی کیا تھا۔ مگر سر سید نے وہ ہی کام کیا جو ایک سچے مسلمان کو کرنا چاہیے تھا۔سر سید نے رسالہ تہذیب الاخلاق نکالا۔ جس میں مسلمانوں کو انگریزوں کا مقابلہ کرنے کے انگریزی زبان سیکھنے کی ترکیب دلائی۔ہنٹر کی کتاب ” آور انڈین مسلمانز”میں پروپیگنڈا کیا گیا کہ مسلمان کبھی بھی انگریزوں خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ انگریزوں سے لڑنا ان کا مذہبی فریضہ ہے۔

سر سید نے سوچا کہ جومیں نے ١٨٥٧ء کی جنگ کے بعد مسلمانوں اور انگریزوں میں دشمنی کی خلیج کم کرنے کی کوششیں کی تھیں ۔یہ کتاب ان پر پانی ڈال دے گی۔سر سید نے ثابت کیا کہ اسلام عیسائیت میں درمیان بیچ کا راستہ نکل سکتا ہے۔ مسلمانوں حضرت عیسٰی کو بھی نبی مانتے ہیں۔ قرآن عیسائیوں کو اہل کتاب کہتا ہے ۔ سر سید نے لکھا کہ قرآن نے عیسائیوں کو مسلمانوں کامشرکوں اور یہودیوں سے زیادہ قریب کہاہے۔تفسیر القرآن اس لیے لکھنے شروع کی کہ سر سید نے انگلستان میں قیام کے دوران مشاہدہ کیا تھا کہ دنیوی تعلیم کی وجہ عیسائیوں نے ترقی کی ہے۔ اس سے عیسائی دین سے دور ہو گئے۔ سر سید نے بھی علی گڑھکالج میںانگریزوں کی طرز کا نظامِ تعلیم رائج کیا۔ ایسی تعلیم حاصل کر کے کہیں مسلمان بھی اپنے دین سے دور نہ ہوجائیں۔ اس تعلیم سے جو آگے ہونا تھا وہ تو ہوا مگر سر سید نے اس توکو روکنے کی کوشش اپنی تفسیر القرآن میں کوشش تو ضرور کی۔

لکھتے ہیں کہ ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد بے بسی اور کسمپرسی مسلمانوں کا مقدر بن گئی تھی۔

٢
انگریز نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی۔ وہ مسلمانوں کو اپنا حریف سمجھتے تھے۔ مسلمانوں کی باقی ماندہ قوت کے ہر نشان کو سختی سے کچل دینا چاہتے تھے۔انگریز نے مسلمان زعماء اور اشرفیہ کو ایک ایک توپوں سے اُڑا دیا تھا۔مسلمان اپنی جانیں بچانے کے لیے پناہ گائیں ڈھونڈرہے تھے۔ ایسے حوصلہ شکن اور رُوع فرسا حالات میں سی سید احمد خان مسلمان قوم کی دستگیری کو آگے بڑھے۔ بابائے اُردو کی کتاب ” مطالعہ سر سید احمد خان” میں ڈاکٹرنذیر احمد نے اپنے مضمون میں لکھا ہے۔ اگر سر سید نہ اُٹھتے توہندوستان میں مسلمانوں کا وہی حال ہوتا جو اسپین کے مسلمانوں کا ہوا تھا۔ مولانا صلاح الدین نے اسی کتاب میں اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ یاد رکھیں کہ اگر سر سید قومی وحدت اور قومی ہستی کی بنیاد استوار نہ کرتے ، جس پر علی گڑھ کی عظیم المشان عمارت تعمیر ہوئی اور قومی احساس اور روشن خیالی کی وہ شمع روشن نہ کرتے جو آج سے کم و بیش ایک سو پچیس سال پیشتر انہوں نے روشن کی اور ہمیں بلا کے پنجے اور ذہنی استبداد سے نجات دلا کر زندگی کی صحیح اقدار سے روشن نہ کراتے تو ظلمِسانِ ہند میں ہم نیم وحشہ قابائل کی طرح ٹھوکریں کھاتے پھرتے۔

لکھتے ہیں کہ جنگ آزادی میں مسلمانوں کی شکت کے باجود انگریز کو اگر خطرہ تھا تو مسلمانوں سے ہی تھا۔ دوسری طرف مسلمان انگریز سے شدید نفرت کرتے تھے جو فطری تھی۔سر سید نے انگریز کے خوف اور مسلمانوں کی نفرت کے وقت کے درمیان خلیج پاٹنے کے لیے رسالہ” اسباب بغاوتِ ہند” تحریر کیا۔اس کی کاپیاں عام انگریزوں اور پارلیمنٹ کے ارکان میں تقسیم کیں۔ اس پر مسلمانوں نے انگریزوں کا ایجنٹ اور انگریزوں نے بغاوت مقدمہ قائم کرنے کی دھمکی دی۔
اگر غیر جانب داری سے اس پر تبصرہ کیا جائے تو ایسے جنگی ماحول میں کسی مسلمان کی طرف سے کوئی مفاہمت کا راستہ نکالنے کہ ہمت کرنا جان جوکھوں میں ڈالنے والی بات تھی۔ شکست سے چور مسلمان اسے اپنے زخموں پر نمک چھڑکنا سمجھتے اور جیتنے والے انگریزسے مسلمانوں کی طرف سے پھر سر اُٹھاناسمجھتے۔ اس کو اگر کوئی سر سید کو ملامت کرتا ہے تو ہمارے نزدیک تو اسے وقت کی نزاکت کاا دراک نہیںتھا۔

ایک بات جو مصنف نے لکھی ہے کہ سر سید علامہ اقبال، حمیداللہ فراہی، غلام احمدپرویز، مولانا امین احسن اصلاحی اور موجودہ دور کے جاوید احمد غامدی نے اسی طریقے پر قرآن کی تفسیر کی ہے۔ عرض گزارش ہے کہ علامہ اقبال نے تو قرآن کو حدیث کو سامنے رکھ کر بات کی ہے ۔ ایک مردہ قوم کو پھر سے زندہ کیا ہے۔قوم میں بھی متنازہ نہیں ہیں۔ آج اگر ہمارے علماء مشائق، سیاست دان، دانشور اور عام مقررعلامہ اقبال کا ایک شہر اپنی تقریر میںنہ پڑھیں تو ان کی تقریر مکمل نہیں ہوتی۔ رہا دوسرے لوگوں کا تو اگرحدیث کے خزانے جس کو ہمارے اسلاف نے بڑی محنت سے ہم تک پہنچایا ہے،اس کو ایک طرف رکھ کر کوئی بھی قرآن کی تفسیر کرتا ہے تو اس کو قبولیت عام نہیں مل سکتی جو قرآن اور حدیث کو ایک ساتھ رکھ کر مل سکتی ہے۔

صاحبو!اگرمسلمانوں کے کسی تعلیمی ادارے کا چیف انگریز ہو۔تدریس کا سارا عمل آکسفورڈ سے لایا گیا انگریز ہو۔لانے والا وہ سید محمود ہوجو ہر وقت شراب میںدھت رہتا تھا۔جس ادارے کا مالیت کا انچارج ایک ایسا ہندو ہو جو سالوں سے کرپشن کرتا رہا ہو۔ پکڑے جانے پر خود کشی کر لے۔ اس ادارے کی بلڈنگ کتنی ہی عالیشان ہو۔ اس ادارے میں تعلیم حاصل کرنے والے ویسے ہی نکلیں گے جیسے ان کے اُستاد تھے۔ اب بھی مشنری اسکولوں سے نکلنے والے مسلمان تو ہوتے ہیں،مگر انگریز کی تہذیب ساتھ لاتے ہیں۔ جیسے ہماری سابقہ وزیر اعظم صاحبہ فرماتیں تھیں کہ آذان بج رہا ہے۔ مشنری اسکولوں سے پڑھے بیروکریٹس ملک کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔سر سید کے کالج سے پڑھ کر نکلنے والوں پر خود سر سید نے بھی پریشانی کا اظہار کیا تھا۔لیکن مسلمانوں کی اصلاح کے لیے دن رات ایک کرنے والے سر سید احمد خان،کی ذات پر جو مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والی ہر سازش کا توڑ کرتے تھے ، کو کسی قسم کا الزام دینا سورج کے سامنے انگلی والی بات ہو گی۔

Mir Afsar Aman
Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان

Share this:
Tags:
Alam Jamaat-e-Islami Muslim pakistan Sir Syed Ahmad Khan پاکستان جماعت اسلامی سر سید احمد خان علم مسلمان
Muhammad PBUH
Previous Post ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عظیم تر ہیں
Next Post امریکا میں جو بھی جیتے، ایران کی امریکی پالیسی تبدیل نہیں ہو گی: خامنہ ای
Ali Khamenei

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close