Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دھرنا ۔۔۔ درمیانی راستوں کی تلاش

October 27, 2019 0 1 min read
Maulana Fazlur Rehman
Maulana Fazlur Rehman
Maulana Fazlur Rehman

تحریر : رقیہ غزل

پرانے وقتوں کے بادشاہوں نے سزائوں کے لیے ایسے ایسے طور طریقے استعمال کئے کہ جنھیں پڑھ اور نیا جان کر آج بھی دنیا حیران ہو جاتی ہے اور ان سزائوں کی سنگینی پر سخت پریشانی کا اظہار کرتی ہے ۔اُن عبرت ناک سزائوں سے جہاں خلقِ خدا کا بہت نقصان ہوا وہاں ایسے شاہوں کے نام بھی ان کی سفاکی کی بدولت صفحہ ہستی سے مٹ گئے ۔ سیکھنے والوں کے لیے ناقابل فراموش مثالیں بھی قائم ہوئیں ۔پرانے وقتوں میں ایسا ہی ایک بادشاہ تھا جس نے مجرموں کو سزائیں دینے کے لیے دس جنگلی کتے پالے ہوئے تھے ،جو بھی غلطی کرتا وہ اسے ان خونخوار کتوںکے آگے پھینک دیتا اور وہ اس کی تکہ بوٹی کر دیتے ۔۔بادشاہ کا وزیر جو کہ اس جرم میں برابر کا شریک تھا وہ اس عمل کی تعریف کرتا اور بادشاہ کا حوصلہ بڑھاتا تھا۔

بد قسمتی سے ایک دن اسی وزیر سے ایسی غلط ہوگئی جوکہ قابل سزا ٹھہری ۔۔اب بادشاہ جلالی کیفیت میں تھا اور وزیر کو کتوں کے آگے ڈالنے کاحکم جاری کر دیا ۔ وزیر بادشاہ کے قدموں میں گر گیا اور منت سماجت کرنے لگا مگر بادشاہ کا حکم اٹل تھا سو وزیر کو ایک ترکیب سوجھی اور اس نے بادشاہ سے کہا کہ” میں برسوں سے آپ کا خدمت گزار ہوں، مجھے دس دن کی مہلت دے دیں اس کے بعد بے شک مجھے کتوں کے آگے ڈال دیجئے گا ۔” بادشاہ مہلت دینے پر راضی ہو گیا ۔اب وزیر سیدھا کتوں کے رکھوالے کے پاس گیا اور کہا کہ مجھے دس دن ان کتوں کے ساتھ رہنا ہے اور یوں وزیر نے دس دن کتوں کے سارے کام خود کئے اوراس کام کے لیے دن رات ایک کر دئیے ۔۔دس دن بعد جب وزیر کو کتوں کے آگے ڈالا گیا تو سب حیران رہ گئے کہ جو کتے تکہ بوٹی کر دیا کرتے تھے وہ وزیر کے پائوں چاٹ رہے تھے ۔۔بادشاہ نے وزیر سے پوچھا کہ آج ان کتوں کو کیا ہوا ہے ؟ وزیر نے کہا : بادشاہ سلامت ! ”میں آپ کو یہی بتانا چاہتا تھا کہ میں نے ان جانوروں کی دس دن خدمت کی تو انھوں نے مجھ پر حملہ نہیں کیا اور آپ کی برسوں سے خدمت کر رہا ہوں اور آپ نے انسان ہونے کے باوجود میرے احسانوں کو بھلا دیا ۔۔”بادشاہ کو شدید غصہ آیا اور وزیر کو مگر مچھوں سے بھرے تالاب میں پھینکوا دیا تو طے ہوا کہ بادشاہوں کے فیصلے ایسے حتمی ہوتے ہیں کہ جہاں حکمت عملیاں بھی کام نہیں آتیں حالانکہ جو من مرضیوں سے باز نہیں آتے وہ پچھتاتے ہیں۔۔سیاسی میدان کے شعبدہ بازوں کی من مانیاں اور عوام الناس کو ملنے والی ایذا رسانیاں کو دیکھ کر مجھے یہ واقعہ یاد آگیا ۔۔

جب سے مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کا اعلان کیا ہے تب سے سیاسی میدان کی گہما گہمی دیکھنے لائق ہے ۔ جو اندر ہیں ان کے سلگتے بیانات اور جو باہر ہیں ان کے حسرت و یاس میں ڈوبے متضاد اعلانات نے عوام الناس میں کھلبلی مچا رکھی ہے ۔ایک طرف مولانا لوگ ہیں اور دوسری طرف کپتان کا لنگر خانہ ہے ۔ عوام پریشان ہیں کہ کیا ان کے نصیب میں صرف غربت و افلاس ،بے بسی اور مہنگائی رہ گئی ہے ؟ اپوزیشن سیاسی جماعتیں گو مگو کی کیفیت میں ہیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ مولانا کو بہر طور گرفتار کر لیا جائے گا لہذا اگر وہ ساتھ کھڑے ہو گئے تو واپسی کا راستہ نہیں ملے گا مگر اس سے بھی انکار نہیں کہ مولانا مذہبی لاٹھی بردار جہادی جماعت کے سربراہ ہیں اور انھیں ڈنڈوں اور گولیوں سے دھمکایا نہیں جا سکتا تو یقینا ایک خوفناک تصادم کے آثارتو دکھائی دے رہے ہیں ۔خاص طور پر مولانا صرف ڈٹ کر نہیں کھڑے ہیں بلکہ وہ بھی ”میں آئوں ” اور ”میں نہ مانوں ” کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ۔ ایسے میں حکومتی ایوانوں کی بوکھلاہٹ سمجھ سے بالاتر ہے کہ دھرنے سے پہلے ہی احتیاطی تدابیر کے طور پر مارچ رکوانے کے لیے عدالت کو درخواست بھی دلوا ڈالی جسے معزز عدالت نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ پر امن احتجاج شہریوںکا حق ہے ۔ اس کے بعد تبدیلی سرکار نے نام نہاد کرپشن کا پانسہ پھینکا ہوا ہے یعنی اگر مولانا باز نہ آئے تو گرفتاری بھی عمل میں آ سکتی ہے۔ مولانا کی پریس کانفرنس کو براہ راست دکھانے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے اس پابندی کا تذکرہ بھی جیونیوز نے اپنی خبروں میں کیا ۔۔ہر طرف جیسے جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے ایسی ہی پالیسیوں کیوجہ سے تحریک انصاف اپنی رٹ کھو رہی ہے ۔

تبدیلی غبارے سے تقریباً ہوا نکل چکی ہے۔ عوام جان چکے ہیں کہ ”ہیں کواکب کچھ اور نظر آتے ہیں کچھ ، دھوکا دیتے ہیں یہ بازی گر کھلا ”تبدیلی سرکار کا جمہوری حکومت کا نعرہ تو نعرہ ہی بن کر رہ گیا ہے اور منشور واضح ہو چکا ہے کہ کنگال کر دو اور بھکاری بنا دو ۔۔ ! حالانکہ گداگری کتنی ہی نفع بخش کیوں نہ ہو ، ملک و قوم کے لیے ذلت و رسوائی ہے محنت کرنے اور غیرت مند رہنے کی عادت نہیں رہتی ۔بدقسمتی تو یہ ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں نے عوام کو عالمی بھکاری تو بنا ہی دیا تھا اب ذہنی غلام بنانے کے لیے دن رات ایک کئے جا رہے ہیں ۔عوام کی بھی کیا قسمت ہے کہ نسل در نسل غلام پیدا کئے جائو اور غلام ہی مر جائو بلکہ اب تو مرنا بھی مہنگا ہوگیا ہے۔ستم تو دیکھیئے کہ ادھر لنگر خانوں کا افتتاح کیا گیا اور دوسری طرف 400 اداروں کو بند کرنے کا عندیہ دے دیا گیا اور عوام الناس کو واضح الفاظ میں دو ٹوک فیصلہ سنا دیا گیا کہ نوکریاں دینا حکومت کا کام نہیں ہے ۔نوکریوں کے لیے پرائیوٹ سیکٹر سے رجوع کریں ۔ یہ جو لاکھوں لوگ بیروزگار ہونگے یقینا وہ رجوع کریں گے مگر اس ذات باری تعالی سے جس نے نا اہلوں کو ان پر مسلط کیا ۔۔ ہر قسم کے جائز و نا جائز ٹیکسزز کے بعد ایک کروڑ نوکریوں اورپچاس لاکھ گھروں کے ہوائی قلعے تعمیر کرنے والوں کے اس بیان نے عوام الناس پر بجلی گرادی ہے اور وہ کہہ اٹھے ہیں کہ :

کرسی ہے یہ تمہارا جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تبدیلی سرکار مرغیوں ،کٹوں ،مسافر خانوں ،لنگر خانوں اور گمراہ خانوں میں الجھ کر رہ گئی ہے ۔ ۔تبدیلی نعرے بھی ہوا ہو چکے ہیں ۔ کوئی تعمیری منصوبہ انائونس نہیں کیا گیا بلکہ چلتے منصوبوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے جبکہ ہر قسم کا ٹیکس لاگو کر دیا گیا ہے اور ہر دن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔ ادویات کی قیمیتوں میں ایک سال کے دوران تیسری مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے ۔ فری علاج کی سہولت ختم کر دی گئی ہے ۔ غریبوں کی مسیحائی کے دعوے داروں کا ہر فیصلہ غریب مکائو مہم ثابت ہوتا ہے ۔ کرپشن کے واویلوں میں مزید شدت آگئی ہے حالانکہ کرپشن انڈیکس میں پاکستان کا نمبر 99 سے 101پر آگیا ہے ۔ میرٹ کی دھجیاں اڑ رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ سبھی اپنی اپنی بساط کے مطابق سمیٹ رہے ہیں کیونکہ پی ٹی آئی میں شمولیت ”گنگا نہانے ” کے برابر ہے ۔ احتسابی عمل محدود افراد اور پارٹیوں کے گرد گھومتا ہے ۔

ان دگر گوں حالات میں کہ حق الیقین ہو چلا ہے کہ معیشت ڈوب رہی ہے ، کاروبار تباہ ہورہے ہیں ، کشمیر ہاتھ سے جارہا ہے ،ادارے بند ہو رہے ہیں اور ہمارے وزیراعظم مصالحتی دوروں پر ہیں ۔ جبکہ جدھر بھی نگاہ دوڑا ئیں مسلم امہ لڑ رہی ہے ۔مسلمان مر رہے ہیں ، مسلم امہ کی غیرت و اسلامی حمیت سو چکی ہے اور لب سلے ہوئے ہیں ۔۔سوال تو یہ ہے کہ مسلم امہ کا اتحاد کہاں ہے ؟ روس اور امریکہ کا مسلم امہ کی لڑائی میں کردار کیا ہے ؟ مسئلہ کشمیر پر دنیا خاموش کیوں ہو گئی ہے ؟ جو لوگ ہمارے مسائل پر آنکھیں بند کئے بیٹھیں ہیں ان کے لیے ہم ہلکان کیوں ہو رہے ہیں ؟ جب ہم اپنی معیشت کی ڈوبتی کشتی کو سنبھالا نہیں دے سکتے ، اپنا مقدمہ مئوثر انداز میں پیش نہیں کر سکتے، تو بیگانی شادی میں عبد اللہ دیوانہ کے مصداق ثالثی کے کردار کے لیے ملک و قوم کے قرض پر حاصل کردہ پیسے کیوں بر باد کر رہے ہیں ؟جبکہ اس پیسے کو اکٹھا کرنے کے لیے عوام الناس پر زمین تنگ کر دی گئی ہے ۔غریب جھولیاں اٹھا کر بد دعائیں دے رہا ہے ۔۔رو رہا ہے اور وزراء و مشیران کا اہانت آمیز رویہ لمحہ فکریہ ہے ۔ وہ بیچارے بھی کیا کریں عہدوں کی بندر بانٹ کے لیے ہر روز ماضی کے موقع پرستوں کے درمیان میوزیکل چئیر کا کھیل کھیلا جاتا ہے جو بیٹھ جاتا ہے اسے یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ اس کی قابلیت کیا ہے اور اسے کام کیا کرنا ہے ؟ یہی وجہ ہے کہ پوچھنے پر کہتے ہیں کہ ”ہم سیکھ رہے ہیں ” اور کار گردگی کا حساب کیا جائے تو کہتے ہیں کہ ”ہم مصروف تھے ”مگر یاد رہے کہ کاغذ کی نائو سدا نہیں چلتی ۔۔اور

شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے
جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے !

تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جنھوں نے اپنے عوام کا جینا دوبھر کیا ان کا انجام عبرتناک ہوا کیونکہ انسان ایک پالتو جانور کا حساب نہیں دے سکتا اور آپ کے ذمے تو بائیس کروڑ انسانوں کا حساب ہے جو اب آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔۔یہاں مجھے کہنے دیجئے کہ جمہور کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ چپ چاپ جمہوریت کی دھجیاں اڑتے دیکھتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں عوام ایسے حکمرانوں اور عہدے داروں کا از خود محاسبہ کرتے ہیں کہ کچرے کے ڈبے میں پھینکنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور ہمارے ہاں” اے کلاس” فراہم کی جاتی ہے اور یوں خاطر مدارات ہوتی ہیں کہ پیشی کے وقت کی ہشاشیت و بشاشیت قابل دید ہوتی ہے ۔ ملزمان اور مجرمان عدا لتوں میں ایسے آتے ہیں جیسے شادی ہال میں کوئی” دولہا ”آتا ہے اور شرم نہیں کرتے بلکہ دور نہ جائیں ابھی کل خورشید شاہ پیشی بھگتنے کے لیے آیا تو پولیس اہلکار نے اس کا ہاتھ چوما ۔خبرہے کہ اسے معطل کر دیا گیا ہے یقینا کچھ دن تک بحال بھی ہوجائے گا ۔یہی تودو پاکستان کا وہ فرق ہے جسے مٹانے کا وعدہ جناب وزیراعظم نے کیا تھا مگر اب ان کے حلیفوں کے پروٹوکول اور پرتعیش معیار زندگی اور کھلے عام قوانین کی خلاف ورزیاں زبان زد عام ہیں اورموجودہ حکمرانوں کے پاس صرف تقریریں ہیں جبکہ میں نے پہلے بھی مثال دی تھی کہ دنیا کا سب سے مختصر خطبہ جمعہ سوڈان کے شیخ عبد الباقی المکاشفی نے دیا تھا ۔وہ منبر پر بیٹھے اور فرمایا ”بھوکے مسکین کے پیٹ میں ایک لقمہ پہنچانا 1000 مساجد تعمیر کرنے سے بہتر ہے ”صفیں درست فرمالیں ”۔پاکستان کی موجودہ بد حالی صرف سیاستدانوں کے غلط فیصلوں کی مرہونِ منت نہیں ہے ۔آئین پاکستان سے غداری کر کے ملک کو مارشل لائوں کی جہنم میں جھونک کر کچھ ججز کی مادر پدر آزادی نے بھی ملک کا بیڑا غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔آج پوری قوم اپنی آزادی کو گروی رکھ کر IMF کے جن 6 ارب ڈالرز قرضے پر آئندہ چند برسوں کیلئے دانہ پانی اکٹھا کر رہی ہے ۔

اتنے ہی 6 ارب ڈالر یعنی 600 ارب پاکستان کو جرمانہ کر دیا گیا ہے ۔سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا ایک غلط فیصلہ پاکستان کو 900 ارب میں پڑا ہے ۔اپنے لا متناہی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد ات کو دائو پر لگا کر غیر ملکی کمپنی کو دیا گیا ٹھیکہ کینسل کرنے کا حکم دیا گیا تھا جو وہ کئی ارب اب بن گئے ہیں اور 800 ارب کا جرمانہ دینا پڑھ گیا ہے ۔قومی خزانے کو عدلیہ کے صرف ایک اُسی فیصلے سے ہی نقصان نہیں پہنچا بلکہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے موبائیل کارڈز پر TEX ختم کر کے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نا قابل تلافی نقصان پہنچایا تھا ۔ان ماضی کے ان جیسے دیگر مجرموں کا کوئی احتساب کرے گا جو اپنے فرائض چھوڑ کر تیرتی کشتیاں ڈبوتے ہیں !

تاہم موجودہ صورتحال یہ ہے کہ مولانا مارچ سب کے ذہنوں پر سوار ہے اور کہا جاتا ہے کہ مولانا کا دھرنا کرسی کے لیے ہے تو ہم یہی کہتے ہیں کہ مولانا کا دھرنا کرسی کے لیے ہے مگر خان صاحب کا دھرنا کونسا خلیفئہ وقت بننے کے لیے تھا ؟ مولانا حکومت گرا ہی نہیں سکتے ،ان کا مقصد حکومت گرانا بھی نہیں بلکہ حکومت کو کمزور کرنا ہے ۔ اب آپ اسے مذہب کارڈ کہیں یا کرسی کا شوق درحقیقت مولانا نے سوچا ہے کہ گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو ۔۔اب دیکھنا ہے کہ یہ دھکا کتنا کارگر ثابت ہوتا ہے اور کیامولانا ہی تبدیلی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکیں گے یا عام عوام کو ٹھکوائیںگے یا بالآخر شکستہ دل لوٹ جائیں گے۔۔

اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا کہ ”وہ لائیں لشکر اغیار و اعدا ہم بھی دیکھیں گے ،وہ آئیں تو سر مقتل تماشا ہم بھی دیکھیں گے ”۔سر دست تو مولانا اور دیگر اپوزیشن راہنما جنہوں نے سیاست کو بہت بڑا منفعت بخش کاروبار بنا رکھا ہے ۔وہ تمام شطرنج کی بازی لگا رہے ہیں یعنی اندر سے چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا اس کی لاش پر اپنا جھنڈا گاڑھ لے مگر ریاکاری کے باوجود حالات نے سب کو اس حد تک مجبور کر رکھا ہے کہ سامنے آتے بھی نہیں اور صاف چھپتے بھی نہیں ۔لیکن اصل بد بختی تو پاکستانی عوام کی ہے کہ جو رتی برابر بھی سوچ یا ماضی سے ان کے ساتھ ان سیاسی کاریگروں کی طرف سے ہونے والی زیادتیوں کو یاد نہیں رکھتے اور یہ فیصلہ ہی نہیں کر سکتے کہ کس کو کون سی بات پر لبیک کہنا ہے تو ایسے بے حمیت لوگوں کو بار بار ذلت و رسوائی کے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا ۔۔!

Roqiya Ghazal
Roqiya Ghazal

تحریر : رقیہ غزل

Share this:
Tags:
criminals find punishments sit ways تلاش راستوں سزائوں مجرموں
Nawaz Sharif
Previous Post نواز شریف کی رہائی پر ڈیل یا بیانیہ پر قائم ؟
Next Post نواز شریف کی حالت بدستور تشویشناک، گردے بھی متاثر ہونے لگے
Nawaz Sharif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close