Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سولہ دسمبر اور پاکستان کے دو المناک واقعات

December 15, 2016 0 1 min read
Tragic Incidents Pakistan
Peshawar Tragedy
Peshawar Tragedy

تحریر: سید انور محمود
پاکستان 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا تھا لیکن اسے وجود میں آئے ہوئے ابھی صرف چوبیس سال چار ماہ اور دو دن ہی گزرے تھے کہ بھارتی سازش نے 16 دسمبر 1971 کو پاکستان کو دو لخت کردیا۔سقوط ڈھاکہ یا سانحہ مشرقی پاکستان کو گزرے آج 45 سال ہو گئے ہیں اور تب سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کہلاتا ہے۔ تینتالیس سال بعد پھر اسی سیاہ دن پاکستانی قوم کو طالبان دہشتگردوں کے ہاتھوں سانحہ پشاور کی صورت میں رونا پڑا۔ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے کینٹ ایریا میں وارسک روڈ پر واقع آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں نے حملہ کیا اور148 لوگوں کو مار ڈالا جس میں 132 بچے تھے، زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 124 تھی۔سولہ دسمبر 2014 کے دن دہشت گردوں نے جس درندگی کا مظاہرہ کیا تھا اس پر انسانیت ہمیشہ شرمندہ رہے گی ۔ 16 دسمبر دو مرتبہ پاکستانی ماوں کی گودیں اجاڑ چکا ہے۔

بھارت نے پراپیگنڈے کے میدان میں بہترین صلاحیتوں کامظاہرہ کرکے عوامی لیگ کی علیحدگی پسند تحریک پر جمہوریت کا رنگ چڑھا دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن پاکستان کی حمایت کرنا چاہتے تھے، ان کی حمایت کا اصل ہدف مغربی پاکستان کو بھارتی جارحیت سے بچانا تھا نہ کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو کیونکہ بقول اس وقت کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر کہ ’’مشرقی پاکستان تو کسی بھی صورت میں پاکستان سے علیدہ ہوگا‘‘۔ اکثر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان آرمی ایکشن کے وقت ہی ٹوٹ گیا تھا، باقی 16دسمبر کو جنرل نیازی نے ہتھیار ڈال کر رسم پوری کردی۔ سقوط ڈھاکہ محض بھٹو یا یحیی خان‎ کی وجہ سے نہیں ہوا یہ توبیچ میں آگےورنہ اس کے پیچھے چوبیس سالہ بھارتی سازش تھی، جسکا ذکر بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے گذشتہ سال بنگلہ دیش کے دورے کے دوران کیا تھا اور اپنی دہشتگردی کا برملااظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ “بنگلہ دیش کا قیام ہر بھارتی کی خواہش تھی اوربھارتی فوج مکتی باہنی کے ساتھ مل کرلڑی تب ہی بنگلہ دیش کو آزادی نصیب ہوئی”۔

مشہورتاریخ دان ڈاکٹر صفدر محمود اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’’بلاشبہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھارت نے فیصلہ کن کردار سر انجام دیا اور اگر بھارت پاکستان سے 1947 کی تقسیم کا بدلہ چکانے اور سبق سکھانے کے لئے عوامی لیگ کی سرپرستی نہ کرتا، مکتی باہنی کو اسلحہ اور تربیت سے لیس نہ کرتا اور مشرقی پاکستان پر فوجی یلغار کرکے ہمارا بازو نہ کاٹ دیتا تو شاید ہم اس سانحے سے دوچار نہ ہوتے۔ بھارت کے علاوہ پاکستان کو توڑنے میں روس نے بھی اہم کردار سر انجام دیا جس کی مکمل اور خوفناک حمایت بھارت کو حاصل تھی۔ اس حمایت کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دس سالہ دوستی کے معاہدے کی آڑ میں جہاں روس نے بھارت کو بے پناہ اسلحہ فراہم کیا گیا وہاں روس نے بھارتی کارروائی کو ڈپلومیٹک چھتری بھی فراہم کردی۔ چنانچہ روسی کھلم کھلا حمایت نے نہ صرف اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قراردادوں کا راستہ روکے رکھا بلکہ امریکہ کے بحری بیڑے کو بھی آگے نہ بڑھنے دیا اور چینی مداخلت کے امکانات بھی معدوم کر دیئے‘‘۔

Fall of Dhaka
Fall of Dhaka

نریندر مودی کی طرف سے 1971کے سقوط ڈھاکہ میں بھارت کے ملوث ہونے کے اعتراف نے بھارت کی پاکستان دشمنی کو پورئے طریقے سے ننگا کردیا ہے۔سقوط ڈھاکہ ایک ایسا دردناک واقعہ ہے کہ جس قدر اسکے بارے میں سوچو اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے مگرافسوس اس بات کا ہے کہ ہمار ئے حکمرانوں نے مادر وطن کے دو ٹکڑے ہوجانے والے اس سانحے سے آج تک کوئی سبق حاصل نہیں کیا ہے۔ کم از کم پاکستان کے تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں کو پاکستان توڑنے، پاکستانیوں کو مارنے اور پاکستان کو بدترین الزامات کا نشانہ بنانے والے اقدامات کا معروضی اور تحقیقی انداز سے جائزہ لینا چاہیے۔

سولہ دسمبر 2014کو آرمی پبلک اسکول پردہشت گردوں نے حملہ کیا، دہشتگرد اسکول کی پچھلی طرف سے آڈیٹوریم میں داخل ہوئے اور داخل ہوتے ہی بچوں اور اساتذہ پر فائرنگ کردی ۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری طور پر کارروائی شروع کی گئی لیکن اُسکے باوجود مرنے والوں کی تعداد 148 ہے، جس میں 132 بچے تھے، زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 124 تھی۔ تحریک طالبان پاکستان نےپشاور میں اسکول پر حملے کی ذمے داری قبول کرلی تھی۔ اس سانحہ نے جہاں پوری دنیا کو غمناک کیا، وہیں پاکستانی قوم کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا اوردہشتگردی و انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے پوری قوم متحد ہوگئی تھی ۔آرمی پبلک اسکول کےمعصوم بچوں پرحملہ ظلم وبربریت کی بدترین مثال ہے۔ ماوں کی گودیں اجاڑنے والے انسانیت اورپاکستان کے دشمن ہیں،تعلیم دشمن دہشتگرد انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں ہیں۔ طالبان دہشتگردوں کے حملے میں مارئے جانے والوں میں 10ویں جماعت کے طالب علم اسفند خان کی والدہ مسز شاہانہ اجون نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ والدین کو سکون نہیں آرہا، انہوں نے کہا تھا کہ”وہ اپنے بچوں کی فیس کے ساتھ اسکول کی سکیورٹی فیس بھی دیتے تھے”۔ اُن کا کہنا تھا کہ “اسکول کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری آرمی کی تھی اور اُنہوں نے کیا سکیورٹی کی تھی وہ اس بارے میں والدین کو بتائیں اس کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتیں ذمہ دار ہیں”۔

 Tragic Incidents Pakistan
Tragic Incidents Pakistan

لال مسجد کےدہشتگردمولانا عبدالعزیز نے پشاور حملے کی مذمت کرنے سے انکار کردیا، سول سوسایٹی کی طرف سے اُس کے خلاف کئی کیسز بھی دائر کیئے گئے تھے تاہم اس کے باوجود اُس کے ہاتھوں میں ہتکڑیاں پہنانے کی ہمت کوئی نہ کرسکا، پاکستان کے وزیر داخلہ اس کے خاص ہمدردوں میں سے ہیں۔ سول سوسایٹی کی طرف سے حکومت سے کہا گیا کہ دہشتگردی کے خلاف زرہ برابر بھی لچک کا مظاہرہ نہ کریں اورنام نہاد جہادیوں اور عسکریت پسند سوچ رکھنے والے افراد کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی کے تحت ایکشن لیا جائے۔ حکومت کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔آج پشاور اسکول پر دہشتگردی ہوئے پورے دو سال ہوچکے ہیں ، کچھ سوالات اس دہشتگردی کے بارئے میں باربار اٹھائے جارہے ہیں، آج بھی بچوں کے والدین یہ سوال کررہے ہیں کہ ان تمام واقعات میں حکومت پاکستان اور اس کے ادارے کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے۔

پشاور اسکول حملے کے متاثرہ والدین یہ سوال بار بار اٹھاتے ہیں کہ اسکول کی سکیورٹی کی ذمہ داری کس کی تھی، کیوں اور کس نے ایک سال قبل اس کی سکیورٹی کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا؟ فوج بتائے کہ طلبہ کے تحفظ میں غفلت کہاں ہوئی؟قومی ایکشن پلان کو پشاور اسکول حملے کا منتظر کیوں ہونا پڑا؟ شدت پسندوں کی فوج کو ملک کے اندر کن کن کی مدد حاصل تھی؟ اور انکے سہولت کار کون تھے یا ہیں؟ اور آخری سوال وہ کون ہیں جو دہشتگردں کی سرگرمیوں سے پہلو تہی کرتے رہے؟ گذشتہ سال بھی یہ سوال تھا اور آج بھی یہ ہی سوال ہے کہ” سانحہ پشاور کا ذمہ دار کون ہے؟”۔؟ اگر اس سوال کا جواب کسی نے نہیں دیا تو پھر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پشاور میں ان طلبا کے قتل عام کے ذمہ دار انٹیلی جنس ایجنسیاں، سیکوریٹی کے ادارے، صوبائی انتظامیہ اور وفاقی حکومت کے ذمہ داران ہیں۔ ان سب نے ان بچوں کو دھوکہ دیا ہے۔ یہ سب ان مرحوم بچوں اور ان کے والدین اور گھر والوں کے مجرم ہیں۔

Syed Anwer Mahmood
Syed Anwer Mahmood

تحریر: سید انور محمود

Share this:
Tags:
Fall of Dhaka pakistan Peshawar tragedy Syed Anwer Mahmood پاکستان
Protest
Previous Post حلب میں جاری فوجی آپریشن کیخلاف دنیا کے مختلف شہروں میں مظاہرے
Next Post کرپشن کیس : مودی کیخلاف کارروائی روک دی گئی
Modi and Indian Supreme Court

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close