
آج یادوں کو کریڈ نے میٹھی جل گئے ہاتھ تیری یادوں کے ساتھ
مجھ کوتو تو اب یاد نہیں آخری بارکب ہنسے تھے تیرے ساتھ
توْ نے کہا تھا تیری آواز کی گھنٹیاں جیون کا پتہ دیتی ہیں
ہنستی ہے جب توْرس ٹپکتا ہے کانوں میں
تیری باتیں امیدیں ہیں، ناامیدی کے زمانوں میں
توْ نہیں ہوتی جب ادسیاں گھیر لیتی ہیں مجھے
جہاں چلا جاؤں تیری تڑپ کھینچ لاتی ہے مجھے
اب کہیں سے بھی تیرا پتہ نہیں ملتا
تیری جدائی کے زخم کا منہ سلتا نہیں
دھیرے دھیرے سے مرتی جا رہی ہے زندگی
اوس کے قطروں کی مانند پھسلتی جا رہی ہے زندگی

مسز جمشید خاکوانی
