
تحریر : فائزہ جٹ
اگر ہم سب مل کر کوشیش کریں تو کچھ بھی نا ممکن نہیں ہمہاری ایک چھوٹی سی کوشیش سے بہت سی زندگیوں کو اچھا مستقبل بن سکتا آئیں اور سب اس بدلاو کا حصہ بنیں_ضروری نہیں ہر بات کا ذمہ دار ہم دوسروں کو ٹھہرائیں اس سسٹم میں رہنا والا ہر انسان اگر ذمہ دار بن کے اپنا فرض نبھائے تو مجھے امید ہے کسی اچھے حکمران کے آنے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا کیوں کہ اللّه پاک نے خود فرمایا ہے :جو قوم اپنی مدد آپ نہیں کر سکتی وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
اس لئے سب سے پہلے ہمیں اپنے بچؤں کو تعلیم یافتہ اور ذمہ دار بنانا ہو گا سب سے پہلا قدم ہمارا غریب گھر کے بچے جو کم آمدنی ہونے کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے ان کی مختلف طریقوں سے مدد کر سکتے ہیں
سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ جو بچے بے روز گار سڑکوں پر بھیک مانگتے ہیں ان کے ہاتھوں میں قلم دینا ہو گا تا کہ وہ اپنا آنے والا مستقبل لکھ سکیں اور یہ کیسے ہو گا یہ ہم سب کے مل کر ساتھ چلنے سے ہو گا جب ہم راستے میں جاتے ہوۓ بچے کے ہاتھ پیسوں کی جگہ کھانا اور کتاب دیں گے تو اس کے بہت سے فائدے ہونگے۔
ایک تو جو لوگ بچوں سے اپنے فائدے کے لئے مانگنے والا کام کرواتے ہیں وہ کم ہو جاۓ گا بلکہ جو بچے پیسوں کو غلط کاموں میں خرچ کر کے اپنی زندگی کو نشے اور باقی چیزوں میں تباہ کرتے ہیں وہ سلسلہ آہستہ آہستہ تھم جاۓ گا کیوں کہ وہ سمجھ جائیں گے کہ لوگ اب ان کو صرف کھانا اور باقی ضروریات کی چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں دیں گے اگر ہم میں سے کچھ لوگ بھی اس کام کو کرنا شروع کر دیں تو بہت سے بچے جو تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ ضرور ان دی گئی کتابوں کا فائدہ اٹھائیں گے۔
دوسری بات جو اس سے بھی اہم ہے ہم جن بچوں کو اپنے گھر یا کسی اور جگہ دفتر وغیرہ میں کام کرنے کے لئے رکھتے ہیں اگر ہم لوگ ان کو ایک گھنٹہ بھی فارغ اوقات میں پڑھا دیں تو اس سے اچھا اور نیک کوئی کام نہیں ہو گا مگر یہ سب تب ممکن ہے جب سب مل کر اس کام کو انجام دیں کوئی بھی کام کسی ایک کے کرنے سے نہیں ہوتا مگر ہم لوگ اپنی زندگی میں اس قدر الجھ چکے ہیں کہ ہمہارے پاس کسی اور کے لئے سوچنے کا وقت نہیں رہا زندگی کی اس بھاگ دوڑ نے انسان میں سے احساس ختم کر دیا ہے ہم اتنے خود غرض ہو چکے ہیں کہ اپنے علاوہ کسی کا درد نہیں سمجھتے۔
اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ اور بڑے ادارے سے ایجوکیشن دلاتے تاکہ وہ کامیاب اور بہتر انسان بنے اور غریب کے بچے کو اپنے گھر میں کام کروا کہ کچھ روپے کے عوض ان کو خرید لیتے ہیں خدارا خیال کیجۓ اور بچوں کی زندگی کا فیصلہ کرنے کے لئے ان کے ہاتھوں میں قلم دیجیے تاکہ وہ اپنی آنے والی زندگی کو اپنی مرضی سے گزار سکیں نہ کہ اپنی خوائشوں کو مار کر دوسروں کے سکون کے لئے خود کے ارمان دل میں لئے دنیا سے چلا جاۓ میری سب سے اپیل ہے کہ ایسے لوگوں کی مدد کریں اور ان کو زندگی کی رنگینیاں دکھائیں تاکہ وہ بھی خدا کے بناۓ نظاروں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور خدا کا شکر ادا کریں اگر میرے کچھ الفاظ پڑھ کر ایک انسان کی بھی کسی نے مدد کر دی یا اس کے ہاتھوں میں بھیک کی جگہ کتابیں دے دیں تو سمجھ جاؤگی کہ میرا لکھنا بیکار نہیں گیا امید ہے سب کو میری بات پسند آئے گی اور اس پر عمل بھی ہو گا انشااللہ جزاك اللہ۔
تحریر : فائزہ جٹ
