Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بربط میں نغمہ ہے نہ ترانہ ہے ساز میں

February 1, 2021 0 1 min read
Politics Power
Politics Power
Politics Power

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں گورنر سندھ کی گاڑی میں ایک کُتّا پورے پروٹوکول کے ساتھ گاڑی سے تھوتھنی نکالے ”حالات” کا جائزہ لیتا ہوا پایا گیا۔ بعد ازاں گورنر سندھ نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا ”گاڑی میں میری فیملی سوار تھی۔ پولیس موبائل پروٹوکول نہیں، فیملی کی حفاظت کے لیے تھی۔ اگر گاڑی میں کتا موجود تھا تو یہ کوئی بڑا ایشو نہیں ہے”۔ ہو سکتا ہے کہ گورنرصاحب اپنے اِس بیان کے بعد گنگناتے رہے ہوں ”روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے”۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ یہ کیسی تبدیلی ہے جس میں کبھی حاکمِ وقت کُتوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پائے جاتے ہیں اور کبھی گورنر صاحب کا کتا فُل پروٹوکول کے ساتھ سیر کرتا ہوا۔ دوسری طرف مایوسیوں کی ”گھمن گھیریوں” میں پھنسی قوم کی حالت یہ کہ ”فرشتوں نے جسے سجدہ کیا تھا ۔۔۔۔ وہ کل فُٹ پاتھ پر مُردہ پڑا تھا”۔کیا کپتان کے ہاں اشرف المخلوقات کی حیثیت کتوں کے برابر بھی نہیں؟۔ کیا کپتان کا یہی منشور تھا کہ قوم بھوک کے ہاتھوں خودکشیوں پر مجبور ہواور کتے عوام کی رگوں سے نچوڑے ہوئے خون پر عیش اُڑائیں؟۔

اقتدار میں آنے سے پہلے کپتان کے بلندبانگ دعوؤں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اگر اُنہیں حقِ حکمرانی ملا تو وہ ارکانِ اسمبلی کو ہرگز ترقیاتی فنڈ نہیں دیںگے کیونکہ ارکانِ اسمبلی کا کام پارلیمنٹ میں قانون سازی کرناہے، ترقیاتی کام کروانا نہیں۔ اُن کے خیال میں ارکانِ پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز دینا سیاسی رشوت تھی لیکن اب اُنہوں نے یہاں بھی یوٹرن لیتے ہوئے ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے 50,50 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز کا اعلان کر دیاہے۔ طُرفہ تماشا یہ کہ جس دن ترقیاتی فنڈز کا اعلان کیا گیا، اُسی دن عوام پر مہنگی بجلی کا بم گرا دیا گیا۔ گیس پہلے ہی مہنگی کی جا چکی تھی اور پٹرولیم مصنوعات تو اب ایک ماہ میں دو، دو مرتبہ مہنگی کی جا رہی ہیں۔ حکمران ”بیچارے” کریں بھی تو کیا، خزانہ خالی ہے اور ارکانِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کی صورت میں اپنے ساتھ جُڑے رکھنا مقصود ہے۔ ایسے میں حکمران عوام کی رگوں سے خون نہ نچوڑ کرترقیاتی فنڈز کا بندوبست نہ کریں تو کریں کیا۔

جب کسی گھر میں نوبت فاقوں تک پہنچ جائے تو گھر کے مکین ایک ایک کرکے گھر کا سامان بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔ لگتا ہے کہ تبدیلی سرکار کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔وہ فی الحال 47 اداروں کی نجکاری کر رہی ہے جن میں سے 19 کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ 2019ء میں پاکستان سٹیل مِلز، ایل این جی پلانٹس، سروسز انٹرنیشنل ہوٹل، ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس، ایس ایم ایز اور پاکستان ری انشورنس کمپنی سمیت 12 اداروں کی نجکاری پر کام شروع کیا گیا۔ اب نجکاری کا یہ عمل ایڈوانس سٹیج پر ہے۔ اِس کے علاوہ کچھ اداروں کو گِروی رکھنے کا پروگرام بھی ہے جن میں اسلام آباد کلب بھی شامل ہے۔ کابینہ میٹنگ میں کسی ستم ظریف وزیر نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ ایوانِ صدر کو گروی رکھ دیا جائے کہ وہاں ”ویہلے لوگ” کام کے نہ کاج کے، دشمن اناج کے۔

اِس تجویز کو شاید اِس لیے مسترد کر دیا گیا کہ کل کلاں کہیں وزیرِاعظم ہاؤس کو گروی رکھنے کی تجویز بھی سامنے نہ آجائے۔ شاید وزیرِباتدبیر کے ذہن میں ہو کہ اُس کے ”عظیم لیڈر” نے اقتدار میں آنے سے پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ چاروں گورنر ہاؤسز اور وزیرِاعظم ہاؤس کو یونیورسٹیوں میں بدل دیا جائے گا تو پھر ایوانِ صدر کو گروی رکھنے میں حرج ہی کیا ہے لیکن اُس ”بھولے پنچھی” کو کیا خبر کہ عظیم لیڈر کی سب سے بڑی خوبی یوٹرن لینا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے تو یہاں تک کہہ دیاتھا کہ سڑک پر جہاں یوٹرن ہو وہاں کپتان کی تصویر لگا دی جائے، لوگ خود ہی سمجھ جائیںگے۔ سوال یہ ہے کہ جہاں مہنگائی عروج پر ہو، معیشت تباہ وبرباد ہو، روپیہ ”ٹکے ٹوکری” ہو اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق 2019ء کے مقابلے میں 2020ء میں کرپشن 4 درجے بڑھ چکی ہو وہاں حکومت کو کیا کسی اپوزیشن کی ضرورت ہے؟۔ یاد رہے کہ یہ وہی ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل ہے جس کے اقتدار میں آنے سے پہلے کپتان حوالے دیا کرتے تھے۔ یہ بھی سبھی کو یاد ہے کہ ”صاف چلی شفاف چلی” کڑے احتساب کا نعرہ لگا کر ہی اقتدار میں آئی لیکن اب شفافیت ”4 درجے” بڑھ چکی اور ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ قرضے حاصل کیے جا چکے۔ چلیں قرضوں کی بات چھوڑیںلیکن کیا کرپشن بھی اپوزیشن ہی کر رہی ہے جبکہ اُس کے پاس اقتدار کی طاقت بھی نہیں۔

اُدھر 4 ماہ گزرنے کے باوجود پی ڈی ایم کی تحریک کا کوئی سَرپیر نظر نہیں آتا۔ آج تک قوم کو یہ پتہ نہیں چل سکا کہ آخر پی ڈی ایم کی حکمت عملی کیا ہے اور ہے بھی یا نہیں۔ کہا جا رہاہے کہ موسم کی صورتِ حال کو دیکھ کر ہی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اِس 11 جماعتی اتحاد کو پہلے نہیں پتہ تھا کہ ماہِ جنوری میں موسم کس قدر شدید ہوتاہے؟۔ پہلے کہا گیا کہ 31 دسمبر تک استعفے اکٹھے کیے جائیںگے اور جنوری میں لانگ مارچ ہوگا جبکہ آخری آپشن استعفوں کا ہوگا۔ اب بلاول زرداری کہہ رہا ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد بہترین آپشن ہے جبکہ مولانا فضل الرحمٰن یہ ماننے کو تیارہے نہ نوازلیگ۔ حقیقت یہی کہ موجودہ حالات میں تحریکِ عدم اعتماد کسی صورت میں بھی کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ ایک تو حکومت کے پاس نمبر پورے ہیں اور دوسرے مقتدر قوتیں اُن کی پُشت پر۔ اپوزیشن سینٹ الیکشن میں دیکھ چکی کہ سینٹ میں اکثریت کے باوجود چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب نہ ہوسکی۔ اب جبکہ اپوزیشن اکثریت میں نہیں تو پھر وزیرِاعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کیسے کامیاب ہو سکتی ہے۔

عجیب بات یہ کہ جس جماعت (پیپلزپارٹی) نے اے پی سی بلائی اور 11 جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا، اب وہی پاؤں پیچھے کھسکا رہی ہے۔ بہت سے تجزیہ کار بار بار کہہ رہے تھے کہ پیپلزپارٹی استعفوں کا آپشن کبھی استعمال نہیں کرے گی کیونکہ اُس کے پاس صرف سندھ حکومت ہی باقی بچی ہے جس سے وہ ہرگز ہاتھ دھونے کو تیار نہیں لیکن بلاول زرداری باربار بلند آہنگ سے کہتا رہا کہ اُس کے پاس ارکانِ اسمبلی کے استعفے پہنچ چکے۔ پی ڈی ایم جب کہے گی، استعفے پیش کر دیئے جائیں گے اب وہی بلاول زرداری کہہ رہا ہے کہ عدم اعتماد کا آپشن استعمال کیا جائے۔ پی ڈی ایم کی دیگر جماعتیں کیوں بھول گئیں کہ بلاول بھٹو نہیں، زرداری خاندان کا چشم وچراغ ہے اور آصف زرداری نے ہمیشہ مصلحت سے کام لیاہے۔ بھٹو خاندان مزاحمت کی علامت ہے اور زرداری مصلحت کی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو نے جان گنوائی اور آصف زرداری نے پرویزمشرف سے رہائی پائی۔ آصف زرداری کی سیاست ہمیشہ اقتدار کے گرد گھومتی رہی۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ اقتدار تک پہنچنے کے لیے مقتدر قوتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں۔ اُنہوں نے پہلے کمال ہوشیاری سے 11 جماعتی اتحاد بنوایا اور اب مقتدر قوتوں کے ہاں قابلِ قبول بننے کے لیے پیچھے ہٹ رہے ہیں لیکن اُنہیں یاد رکھنا ہوگا کہ میاں شہبازشریف ایسی انتھک کوششوں کے باوجود اب جیل میں ہیں۔ آخر میں تحریکِ انصاف کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کی خدمت میں عرض ہے۔

او بے خبر ! خبر بھی ہے بجتے ہیں تیرے کان
بربط میں نغمہ ہے نہ ترانہ ہے ساز میں

Prof Riffat Mazhar
Prof Riffat Mazhar

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

Share this:
Tags:
change nation power Protocol Social Media اقتدار پروٹوکول تبدیلی سوشل میڈیا قوم
Fawad Chaudhry
Previous Post ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر فواد چوہدری نے حکومتی غلطی تسلیم کر لی
Next Post کرونا کے بعد
Coronavirus

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close