
دنیا نے تو ہم کو پیار کے تمغے بہت دیئے
پر تیری کج ادائیوں نے صدمے بہت دیئے
اس بجھے بجھے سے گھر میں دیا پھر سے جلا لیا
تم نے تو ہمارے دکھ کے ساماں بہت کیئے
کبھی رنجشوں سے گذر گئے، کبھی وحشتوں میں اتر گئے
اس حامل ستم پر بھی احساں بہت کیئے
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
اس چار دن کی زندگی میں بھی ناز بہت کیئے
دنیا کی خباثتوں سے تعلق نہیں رکھا
پھر بھی زمانے نے الزام بہت دیئے

