
ناسا (جیوڈیسک) امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس وقت روسی شٹل کے ذریعے ہر سال چھ امریکی خلا باز بین الاقوامی خلائی سٹیشن آئی ایس ایس تک جاتے اور واپس آتے ہیں، جس کا ناسا سات کروڑ ڈالر فی نشست کرایہ ادا کر رہا ہے۔
ناسا کے ایڈمنسٹریٹر چارلی بولڈن نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ امریکی خلائی ادارے نے بہت چھان پھٹک کے بعد ان دونوں کمپنیوں کو خلابازوں کے سفر کے انتظامات کرنے کی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ ناسا نے 2011 میں اپنی پالیسیوں کے جائزے اور ترجیحات میں تبدیلیوں کے بعد اپنا سپیس شٹل پروگرام بھی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ خلائی شٹل پروگرام کے خاتمے کے وقت ناسا نے اعلان کیا تھا کہ وہ خلا بازوں کے زمین سے بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک سفر اور واپسی کے انتظامات نجی شعبے کے سپرد کردے گی۔
ناسا کا ارادہ ہے کہ یہ پروگرام 2017 تک فعال کر دیا جائے گا۔ اس درمیانی مدت کے دوران اس کو اپنے خلابازوں کو خلا میں بھیجنے اور واپس لانے کے لیے روسی خلائی شٹل استعمال کرنا پڑ رہی ہے جس پر بھاری لاگت آرہی ہے۔ اس نئے ٹھیکے کی کل مالیت 6 ارب 80 کروڑ ڈالر ہے جن میں سے چار ارب 20 کروڑبوئنگ اور دو ارب 60 کروڑ سپیس ایکس کو ملیں گے۔
