
بارسلونا (جیوڈیسک) اسپین کی حکمران جماعت “پارتیدو پاپولر”(پے پے) نے امیگرنٹس لا میں تبدیلی کی خواہش کا اظہار کر دیا اور وہ تبدیلی یہ ہے کہ یہ قانونی حق حاصل کیا جائے کہ کسی بھی امیگرنٹ کو موقع پر گرفتار کر کے ڈی پورٹ کیا جاسکے جو اسپین کے بارڈر سیوتا اور ملیحہ سے غیر قانونی طور پرا سپین میں داخل ہوتا ہے۔
ہسپانوی وزیر داخلہ خرخے فرنینڈس دیاز نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ اگر امیگرنٹ کو موقع پر ہی ڈی پورٹ کرنے کا اختیار مل جائے تو اس سے ان امیگرنٹس کو روکا جاسکے گاجو بارڈر پر لگی باڑ کراس کر کے اسپین میں داخل ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ اسپین میں اس سے قبل جو امیگرنٹ ملک میں داخل ہو جاتا ہے وہ اپنے قیام کیلئے قانونی جنگ کا اختیار رکھتا ہے۔
اور وہ ا سپین میں قیام کیلئے قانونی طور پر رہ بھی سکتا ہے یا اس کے علاوہ بعض لوگ سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرا دیتے ہیں۔ حکمران جماعت “پارتیدوپاپولر” نے امیگرنٹس لا میں تبدیلی اور ترمیم کیلئے باضابطہ درخواست کانگریس میں جمع کرادی ہے۔
واضح رہے کہ ا سپین میں موجود این جی اوز اور محتسبین کئی مرتبہ بارڈرز پر امیگرنٹس پر تشدد اور دیگر معاملات پر اظہار تشویش کر چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں اسپین کے علاقے ملیحہ کے نزدیک مراکش اور اسپین کی سرحدپار کر کے آنے والے ایک افریقی امیگرنٹ پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔
