
تحریر: یم آر ملک
دنیا میں جتنی عمر ظلم کی ہے اتنی اس کے خلاف احتجاج کی ہے
لیکن یہ جمہوری معاشروں میں ہوتا ہے کہ آپ کے احتجاج کو ثبات ملے پاکستان میں وہ کھوٹے سکے جو اس کی بنیاد کے ساتھ ہمارے حصے میں آئے آج تک اقتدار کے ایوانوں پر بر اجمان ہیں جنہوں نے سچائی کی طاقت کو اپنے حق میں مولڈ کرنے کی کوشش کی ازل سے ایسے واقعات ہمارے سامنے صفحہ قرطاس پر بکھرے بااثر کے مظالم کی یاد دلاتے ہیں حضرت عیسیٰ کو چوروں کے ساتھ کھڑا کیا گیا ،سقراط کو زہر کا پیالہ محض اس لئے پینا پڑا کہ وہ اپنے عہد کا سچا انسان تھا پاک دھرتی پر ہر آمر کے خلاف کسی نہ کسی سچے کی بغاوت کا ایک ایسا باب ملتا ہے جو کھلنے کے بعد بند ہونے کا نام نہیں لیتا صفحے پلٹتے ہیں تو ظلم کی نئی داستان کا آغاز ملتا ہے۔
صحافت میں ایسے ایسے باکردار ملتے ہیں جن کے کردار سے آنکھیں وضو کرتی ہیں شورش کاشمیری کے قد کے سامنے ہر کوئی ہیچ نظر آتا ہے ایوبی آمریت کے ایوانوں میں زلزلہ بر پا کر دینے والی اس آواز کو خاموش کرنے کیلئے شاہی قلعہ کے زنداں میں ڈالا گیا ،مگر موت سے واپسی بھی اُس کے سچ پر ضرب نہ لگا سکی ،حسن ناصر ضیائی آمریت کے دوران لاہور کے اسی شاہی قلعے میں سچائی پر کاربند رہنے کے جرم میں شہید کہلایا ،کئی کمریں آج بھی اُن کوڑوں کے نشانات لئے ہوئے ہیں۔

جو ایک آمر کی فسطائیت کی شکل میں ان کے جسم پر برس گئے مگر صحافت کا کارواں چلتا رہا شہر قائد میں غازی صلاح الدین ایک فاشسٹ پارٹی کے ہاتھوں شہادت کے رتبہ کو پہنچا پھر پرویزی دور آیا تو پاکستان کے مانچسٹر میں صحافیوں پر جبرو تشدد کا ہر حربہ آزمایا گیا مگر سچائی نہ جھک سکی اور نہ جھکائی جاسکی اب کئی روز سے بول ٹی وی چینل کے خلاف انتقامی کارروائی کا ڈول ڈالاجارہا ہے شعیب شیخ کا جرم محض یہ ہے کہ اس نے روایت کے خلاف بغاوت کی ہے۔
اگر وہ بھی روایت کو لیکر چلتا تو یہ کارروائی کبھی بھی اس کا مقدر نہ بنتی اُس کے سچ پر کارزار صحافت میں ننگے پائوں چلنے والے کرب ِ مسلسل میں ہیں صحافت کا یہ ٹرائل ہے کہ آپ اجارہ داری توڑنے والے کے در پے ہو جائیں رانا عبدالرب اور میں کئی روز سے یہ سوچ رہے تھے 2200 سے زائد صحافیوں کے استحصال کیخلاف آواز اٹھائی جائے گزشتہ روز یہ آواز بالآخر اٹھی کہ ہر چیز اپنے مقرر پر انجام پاتی ہے پریس کلب میں احباب کا تعاون ملا اور بول کیلئے احتجاج کو حتمی شکل ملی۔

تحریر: یم آر ملک
