Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بول

May 23, 2015 0 1 min read
Bol
Bol
Bol

تحریر: عبید شاہ
سعودی انٹیلی جنس کا سربراہ کچھ بتانے کو تیار نہ تھامیں نے بالا آخر جھنجھلا کر اس کی کہنی زور سے پکڑی اور فیصلہ کن لہجے میں اس سے سوال کیاکہ تمہیں کیسا لگے گا اگر تمھیں نیویارک ٹائمز میں یہ اسٹوری پڑھنے کو ملے کہ دہشت گردوں کے ایک گروہ نے امریکی صدر کو قتل کرنے کا منصونہ بنایا ہے اور تم ان کی سرپرستی کر رہے ہو؟وہ اس دھمکی پر ڈھیر ہو گیااور طوطے کی طرح بولنا شروع ہوگیا۔انہوں نے سعودیہ میں دہشت گردی کی ایک کاروائی میں ملوث القائدہ کے کچھ لوگوں کو پکڑ رکھا تھااور ہمیں ان تک مکمل رسائی چاھیے تھی“۔
اس طرز کی ”دھمکی“ دینے اور مطلوبہ نتیجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جانے کا اعتراف کرنے والی شخصیت کوئی اور نہیں خود جارج ٹینٹ ہیں۔ موصوف 1997 میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ مقرر ہوئے اورجون 2004 میں ریٹائر ہوئے۔ملازمت سے سبکدوشی کے بعد انہوں نے ”ایٹ دی سینٹر آف اسٹارمز۔ مائی ڈیز ایٹ سی آئی اے“ کے عنوان سے اپنی یاداشتیں قلمبند کیں جو 2007 میں کتابی شکل میں شائع ہوئیں۔

امریکی سی آئی اے کے سربراہ اور سعودی انٹیلی جنس چیف کے مابین ہو نے والے اس مکالمے سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے امریکی حکومت یا خفیہ ادارے اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے کس طرح اپنے ذرائع ابلاغ میں من پسند بلکہ من گھڑت اسٹوریز شائع کرانے پر دسترس رکھتے ہیں اور شائع شدہ خبروں کے بہانے کس نوعیت کے اہداف حاصل کرتے ہیں۔ ساری دنیا یہ بات جانتی ہے کہ عراق میں تباہ کن کیمیائی ہتھیاروں کی بڑی تعداد میں موجودگی کی خبر بھی نیو یارک ٹائمز نے ہی ”بریک“ کی تھی جسے بنیاد بنا کر صدام حسین پر دباؤ بڑھایا گیا اور اسے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنی تمام اہم تنصیبات کا معائنہ کرانے کا پابند کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھام کرنے والی ایجنسی کے حکام نے اپنی رپورٹ میں ایسے کسی ہتھیار کی برآمدگی تو تسلیم نہیں کی مگر خدشات ظاہر کئے کہ کچھ ”باقیات“ سے اندازہ ہو تا ہے کہ شاید ایسے ہتھیار موجود تھے انہیں تلف یا کہیں اور منتقل کیا گیا ہے اسکے بعد بالا آخر انکل سام عراق پر چڑھ دوڑا، دنیا اسے روکتی ہی رہ گئی، ہتھیار تو آج تک نہ ملے مگر لاشوں کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

اگر پاکستانی آئی ٹی کمپنی ”ایگزیکٹ“ کے خلاف شائع شدہ نیو یارک ٹائمز کی اسٹوری کو اسی تناظر میں دیکھا جائے جو کہا جا سکتا ہے کہ یہ عالمی آئی ٹی مارکیٹ پر برق رفتاری سے چھائی ہوئی نظر آنے والی کمپنی کے خلاف کوئی بین الااقوامی سازش ہے۔ متعلقہ رپورٹر ڈکلین والش کو نا پسندیدہ سر گرمیوں میں ملّوث پائے جانے پرپاکستان سے ملک بدر کیا گیا تھا یہ پس منظر بھی ان شکوک کو تقویت بخشتا ہے بہر حال الزامات سچ ہیں یا جھوٹ حتمی طور پر اتنی آسانی سے کچھ کہا نہیں جا سکتا خود چوہدری نثار کہتے ہیں سائبر کرائمز کے ماہرین کو تفتیش کیلئے کم از کم ایک ماہ درکار ہے لیکن پاکستان میں میدان ِابلاغ کے چند شاہ سواروں نے تو فیصلہ سنا ہی دیا ہے۔ ایک طوفان پرپا ہو چکا ہے، لائیو ٹرانسمیشنز چلائی جا رہی ہیں، ایگزیکٹ کے ملازمین منہ چھپائے گاڑیوں میں بیٹھتے دکھائی دے رہے ہیں، سیاستدانوں کو فون کرکے مخالفانہ بیانات جاری کرنے کی فرمائشیں کی جارہی ہیں،لگتا ہے دنیا میں اس سے بڑی اسٹوری اب کوئی اور نہیں،کچھ بعید نہیں کہ اپنے ”ایڈیٹ باکسز“پر ہم یہ مناظر بھی دیکھیں کہ کوئی رپورٹر کہہ رہا ہوں ”ناظرین ہم ایگزیکٹ کے ایک ملازم کے گھر پر موجو د ہیں ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ انکی بیوی نے ان سے مطالبہ کر دیا ہے کہ وہ ایگزیکٹ کی ملازمت فوراً چھوڑ دیں یا پھر انہیں طلاق دیدیں“ فوراً ہی کوئی مفتی صاحب”بیپر“دیں گے کہ ”جناب ایگزیکٹ کی ملازمت حرام ہے اور وہاں کام کرنے والے تمام افراد کے نکاح فسق ہو چکے ہیں انکی تجدید لازم ہے“۔

Pakistani Media
Pakistani Media

اکثریت کا خیال ہے کہ نیویارک ٹائمز کی اس کارگذاری کے پیچھے اس مرتبہ امریکن سی آئی اے نہیں بلکہ پاکستانی میڈیا کے وہی مرد ار خور گدھ ہیں جو کل تک خودتاہم دست و گریباں تھے، اس میں دو گروپ تو ایسے ہیں جنکی لڑائی گذشتہ برس اس بات پر شروع ہوئی تھی کہ ایک گروپ نے مخالف گروپ کے ایک ”نوٹنکی“ تجزیہ کار کا استعفیٰ اپنے اخبار میں شائع کر دیا تھا،اب یہ دونوں ایگزیکٹ کے خلاف متحد ہیں کیونکہ ”دشمن کا دشمن دوست ہی ہو تا ہے“۔اس دشمنی کا آغاز یکطرفہ طور پر ایک فریق نے کیا تھا اور وجہ ظاہر ہے یہ تھی کہ ایگزیکٹ کمپنی نے آئی ٹی کے بعد میڈیا انڈسٹری میں بھی قدم رکھنے کا فیصلہ کر لیا تھا یہ ایسے ہی تھا جیسے گاؤں کے”کمّی“ نے بیٹے کو شہر میں لاء پڑھنے کیلئے بھیجنے کا اعلان کر دیا ہو، چوہدری کو تو آگ بگولہ ہونا ہی تھا اسے بھلا یہ بات کیسے ہضم ہو تی سو جنگ شروع ہو گئی۔ ایک بڑے گروپ کے سربراہ کے پاس ایسی اطلاعات تھیں کہ ایگزیکٹ کے چیئرمین شعیب شیخ کے اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر اسلام سے گہرے مراسم ہیں سو انہوں نے براہ ِراست ڈی جی ایس آئی کو او چھے طریقے سے ”ہِٹ“کرنے کی کوشش کی اور اپنے ہی پرَ جلوا بیٹھے اب جب ظہیر الاسلام ریٹائر ہو چکے ہیں تو ایک بار پھر سے پنجے تیز کرکے حملہ کیا گیا ہے۔ذرا دوسرے انداز سے۔

ایگزیکٹ پر الزام ہے کہ یہ ادارہ جعلی تعلیمی اسناد فروخت کرتا ہے، دنیا بھر میں اس نے 370 جعلی یونیورسٹیز، کالجز اور اسکولز کھول رکھے ہیں جو صرف ایک ویب لنک تک محدود ہیں، ان لنکس پر موجود ویڈیو کال کے آپشن پر کلک کیا جائے تو متعلقہ تعلیمی ادارے کے جو نمائندے طالب علم کو راہنمائی فراہم کرنے کیلئے آن لائن آتے ہیں ان میں سے اکثریت نے خود بھی کبھی یونیورسٹی کی شکل نہیں دیکھی ہوتی وہ محض اداکار ہو تے ہیں اور یہ طالبعلموں کو مختلف ٹیرفس کے مطابق فیس کی ادائیگی پر باآسانی ڈگری جاری کرنے کی پیشکش کرتے ہیں اس طرح چند نہایت آسان سے سوالات کا جواب آن لائن ہی دینے اور فیس ادا کرنے والا پندرہ منٹ کے اندر ڈپلومہ کی ڈگری حاصل کرسکتا ہے۔ الزام یہ بھی ہے کہ یہی ادارہ ان جعلی ڈگریوں کی جھوٹی تصدیق کا بھی اہتمام کر دیتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اسی ”طریقہئ واردات“سے ایروناٹیکل انجینئرز تک کی جعلی ڈگریاں جاری کی جاتی رہی ہیں اس طرح معصوم لوگوں سے دنیا بھر میں کروڑوں ڈالرز دھوکہ دہی سے بٹورے گئے۔

الزام بلاشبہ بے تحاشہ سنگین ہے اور بھیانک ہے ظاہر ہے کہ یہ پاکستان کی رسوائی کا سبب ہے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین تو یہاں تک کہہ گئے کہ الزامات سن کر دماغ کے پرخچے اُڑ گئے مگر ایگزیکٹ کے چئیرمین شعیب شیخ کا اپنے دفاع میں کہنا ہے کہ ہم ایسے کسی کام میں ملّوث نہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسی جعلی ڈگری پر ایگزیکٹ کا نام ہے؟ انہوں نے متعدد جعلی یونیورسٹیز اور ایگزیکٹ کی ہوسٹنگ ایک ہی سرور سے کئے جانے کے سوال پر تسلیم کیا کہ وہ اپنی ایپلی کیشنز اور سافٹ وئیرز کے ذریعے اساتذہ اور اسٹوڈنٹس میں رابطے کا کام انجام دیتے ہیں، یعنی ایک پلیٹ فارم مہّیاکرتے ہیں اس کے بعد ڈگری بیچنے اور خریدنے کے معاملے سے انکا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اپنی ”کلائنٹ“ یونیورسٹیز کے جعلی ہونے کا علم ہونے سے متعلق سوال پر یہ بھی تسلیم کیا کہ امریکہ میں کسی تعلیمی ادارے کیلئے رجسٹرڈ ہونے کی کوئی شرط نہیں یعنی کان پکڑا تو سہی مگر ہاتھ گھما کر۔ہمارے اردگردموجودجانے پہچانے،اسیِ کمپنی سے ملازمت چھوڑنے والے پاکستانی نوجوانوں کی ”آپ بیتیاں“سن کربھی یہی لگتا ہے کہ دال میں ”کچھ“ کالا ضرور ہے۔شعیب شیخ نے اس انٹرویو سے ایک روزقبل اپنے ٹی وی چینل کے تمام ملازمین کو ادارے کے آڈیٹوریم میں یکجا کیا اور کہا کہ یہ مہم ایگزیکٹ کے خلاف نہیں بلکہ انکے ٹی وی چینل ”بول“ کے خلاف ہے۔ انہوں نے بول کی نشریات کے آغاز کیلئے یکم رمضان کی تاریخ کا اعلان کر دیاانہوں نے یہ شعر بھی پڑھا۔

BOL Network
BOL Network

طوفان کر رہا تھا میرے عزم کا طواف
دنیا سمجھ رہی تھی کشتی بھنور میں ہے
چلئیے پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں ایک نئے چینل کا اضافہ ہونے کو ہے اسے خوش آئندہ ہی گرداننا چاھئیے۔یہ درست ہے کہ”مدعا“ایگزیکٹ نہیں ”بول“ہی ہے سوال بھی تو یہی ہے کہ ایگزیکٹ کی کارگذاری سے کسی میڈیا گروپ کو 2006 سے لیکر اس وقت تک کوئی غرض کیوں نہ تھی جب تک اس نے ”بولنے“ کا ارادہ نہ کیا تھا گویا یہ کہنا چاھئیے کہ ایگزیکٹ نے اگر کچھ غلط کیا، اسکی کاروباری سرگرمیاں دھوکہ دھی پر مبنی تھیں تو اس سے اس وقت تک ہمارے معاشرے پر کوئی فرق نہ پڑتا تھا جب تک اس نے میڈیا گروپس کی ہم عصری کا ارادہ نہ کر لیا۔ ہمارے ذرائع ابلاغ کا یہ رویہ کیا خود بھی پوری طرح ایک ماتم کا عنوان نہیں۔ایک بڑے میڈیا گروپ کا رویہ یہ ہے کہ ایک شحض کو عالم ِاسلام کا ایک مؤثر ترین اسکالر بنا کر پیش کیاگیا، اس کے امیج کے غبارے میں ہوا بھر بھر کر اسے خوب پھلایا گیا اور ہائی ٹی آر پی پر چھلانگیں ماری جاتی رہیں مگر جب وہ مخالف چینل سے منسلک ہو گیاتو اسکا مکروہ چہرہ بے نقاب کرنے والی ٹیپس افشا کرا دی گئیں پھر اسے ”کٹ ٹو سائز“کرکے واپس بھی رکھ لیا گیا یہ تو محض ایک مثال ہے ان غلام گردشوں میں ایسی لا تعداد مثالیں بکھری پڑی ہیں عجیب تماشہ ہے قوم کو اخلاقیات کا درس دینے والوں کو خود کوئی اخلاقیات ہی نہیں۔ایگزیکٹ پر ٹیکس چوری کا الزام لگانے والے خود اربوں روپے کے نادہندہ ہیں اور عدالتوں کے اسٹے آرڈرز کی آڑ میں چھپے پیٹھے رہتے ہیں اُدھر”عجب کرپشن کی غضب کہانیاں“عوام تک پہنچانے والوں کو دیکھئے کرارے کرارے نوٹوں کی خوشبو سونگھتے ہوئے انکھیں ایسی بند کیں کے ناک کے نیچے کیا ہو رہا ہے کچھ پتہہی نہ چلا۔

ایگزیکٹ انتظامیہ کے خلاف وزارت داخلہ کی ”پھرتیاں“لا محالہ اس ریموٹ کنٹرول کے سگنلز کے مطابق ہیں جو دو، تین بڑے میڈیا گروپس کے ہاتھوں میں باری باری جھول رہا ہے خدشہ ہے کہ جلد اس ریموٹ کنٹرول پر حق کا جھگڑا خود انکے درمیان بھی شروع ہو جائے گا صرف اتنا ہی نہیں ٹیکس چوری اورمنی لانڈرنگ کے الزامات کی فائلیں بھی کھلوا دی گئی ہیں۔ افسوس صد افسوس پاکستانی ذرائع ابلاغ اپنے دشمن آپ بن چکے ہیں اور اس صورتحال میں وہ جس معاشرے کی تشکیل کر رہے ہیں وہ نہایتبھڑکیلا، رنگ باز اور خون آشام ہوگا۔ایگزیکٹ کے خلاف تحقیقات ضرور ہو نی چاھئیں مگر شفاف،کسی دباؤ اور فیورٹ ازم سے پاک۔ اگر یہ ادارہ جعلی ڈگریوں کے مکروہ کاروبار میں ملوث پایا جائے تو شعیب شیخ اور دیگر”بینیفشریز“کے کپڑے تک اتار کر قومی خزانے میں جمع کرلئے جائیں مگر الزامات ثابت ہو نے سے قبل ہی اس ادارے کو گلا گھونٹ کر مارنے کی کوشش کرنا ٹھیک نہیں۔ چوہدری نثار کی پریس بریفنگ ”معصومانہ“تھی، انہوں نے اتنی ”میڈیا ہائپ“ پیدا کئے جانے پر حیرت کا اظہار کیا وہ تو ”بھولے“ ہیں مگر ایسے ”بھولوں“ کو چلانے والے تو ہوشیار ہیں ناں وہ اب بھی نہیں سمجھے تو بزبان شاعر عرض ہے
آج اگر زَد یہ ہوں تو خوش گماں نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہو ا کسی کی نہیں

Scandals
Scandals

ایسی مثالیں قائم کرنے سے اجتناب کرنا چاھئیے جن کی چوٹ کل خود بھی سہی نہ جا سکے۔ یہ اس سارے معاملے کا صرف ایک زاویہ ہے ایک اور زاویہ یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں خوفناک اسکینڈلز کی غیر جانبدارانہ اور بر وقت تفتیش کے معاملے میں حکومتوں کی کارکردگی صفر ہے،اربوں روپے کی کرپشن، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے الزامات خود موجودہ وزیر اعظم اور سابق صدر مملکت سمیت سینکڑوں طاقتور شخصیات پر لگتے رہے ہیں مگر آج تک کوئی کیفرِ کردار تک نہیں پہنچا یاد رہے خود ایک بڑے میڈیا گروپ کے بارے میں ہی اسی حکومت کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ”یہ گروپ غدار ہے میں نے ثبوت اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں“پھر ہواکیا سب کچھ ویسا ہی ہو گیا جیسا تھا یوں لگتا ہے جیسے ایگزیکٹ کے قضیے کا بھی وہی ہو گا جو دوسرے بہت سارے اسکینڈلز کا ہوا کیونکہ پیسے کی چکا چوند باقی سب چیزوں کو ماند کر دیتی ہے اور یہاں تو معاملہ کڑوڑوں ڈالرز کا ہے۔ اشفاق احمد یاد آتے ہیں انہوں نے کہا تھا”جس معاشرے میں سب کچھ چلتا ہے وہ معاشرہ پھر مشکل سے ہی چلتا ہے“۔

تحریر: عبید شاہ

Share this:
Tags:
chief decision intelligence murder saudi speaking انٹیلی جنس بول سربراہ سعودی فیصلہ قتل
Karachi
Previous Post بلدیاتی انتخابات میں کامیابی اقتدار کی جانب ایم آر پی کا پہلا قدم ثابت ہوگا ‘ امیر پٹی
Next Post ذوالفقار مرزا کی ضمانت میں توسیع کے فیصلے کے خلاف ڈاکٹرعزیر میمن کی قیادت میں دھرنا
Zulfiqar Mirza Agaisnt Rally

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close