
پاکستانی فنکار قسم کے سیاستدانوں نے کمال کر دیا ہر فرد کو کسی نہ کسی جگہ الجھا رکھا ہے اور ان سیاستدانوں کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے سیاست کو کھیل اور کھیل کو سیاست کا مرتبہ دیدیا ہے اب جتنے میچ ہونے ہوتے ہیں وہ سب اسمبلیوں کے اندر ہی ہوتے ہیں اور سیاسی گرما گرمی کھیل کے میدانوں میں دکھائی دیتی ہے پیپلز پارٹی کے پچھلے پانچ سالوں میں جمہوریت بہترین انتقام اور مفاہمت کے نام پر جو لوٹ مار کی گئی وہ اب کسی کو بھی یاد نہیں کیونکہ اس دور میں عدلیہ اور میڈیا پر ایک سنگین قسم کا معاملہ شروع ہوتا تھا تو عوام کی دلچسپیاں اس میں لگ جاتی تھی۔
سارا سارا دن لوگ ٹیلی ویژن سکرین کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے رہتے تھے کہ شائد اب کچھ ہو جائے مگر پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت نے پانچ سال بھر پور اور مزے سے گذارے اور عوام کی جب آنکھیں کھلی تو پتہ چلا کہ روٹی کپڑا اور مکان کا جھانسہ دیکر وہ تو انکے کپڑے، جوتیاں اور کھانے کا سب سامان بھی ساتھ لے گئے ہیں۔
الیکشن ہوئے نئی حکومتیں بنی تو عوام نے صبر اور شکر کیا کہ شائد اب کی بار کچھ حالات تبدیل ہو جائیں مگر حکومت کا ابھی ہنی مون پیریڈ ہی چل رہا تھاکہ الیکشن میں دھاندلی کا شور شروع ہو گیا بات بڑھتے بڑھتے الیکشن کمیشن، عدلیہ اور پھر نادرا تک جا پہنچی جہاں کچھ سیٹوں کا فیصلہ ہوا تو معلوم ہوا کہ اب الیکشن بھی کرکٹ میچوں کی طرح بک ہو چکے ہیں اور اس معاملہ کو ختم کرنے کے لیے حکومت نے چیئرمین نادار کو ہی ہٹادیا اور پھر ایک نیا تماشا شروع ہو گیا۔
دوسری طرف طالبان کے ساتھ کھیل شروع کر کے دہشت گردی سے متاثر اور اس سے ڈرے ہوئے لوگوں کو اس کھیل میں الجھا دیا گیا اس کے ساتھ ساتھ پرویز مشرف کیس میں عوام کے لیے ہر روز ایک نیا موڑ آنے لگا اور رہی سہی کسر پاکستان کرکٹ بورڈ میں سیاسی کھیل شروع کر کے پوری کردی گئی کھیلوں سے دلچسپی رکھنے والے یہاں الجھ کر رہ گئے اتنے سارے کھیل تماشوں کے بعد اب نہ تو کسی نے پنجاب میں سی این جی کی بندش کے خلاف کوئی احتجاج کیانہ گیس کی لوڈ شیڈنگ پر واویلا ہوانہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر سڑکوں پر ٹائر جلائے گئے نہ ہی ملک میں بڑھنے والی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت پر کسی نے دھیان دیا اور نہ ہی اب فیصل آباد کی انڈسٹری کو گیس کی بندش کے خلاف کوئی احتجاج ہو گا جس سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔
کیونکہ ملک میں ہر کسی کے پسند کا کھیل چل رہا ہے اور سب اپنے اپنے پسندیدہ کھیلوں میں الجھے ہوئے ہیں ابھی ان ڈراموں کا اختتام نہیں ہوا کہ ٹیوب کو پنکچر لگانے کی کہانیاں منظر عام پر آنا شروع ہو گئی ہیں ویسے ایک بات ہے کہ جس ٹیوب کو چار پانچ پنکچر لگ جائیں وہ اتنی پائیدار نہیں رہتی کبھی بھی اپنے سوار کو راستہ میں دھوکہ دے جاتی ہے ابھی موسم سرد ہے جیسے ہی گرمیاں شروع ہونگی تو گرم سڑک پر 35 پنکچر والی ٹیوب کا ٹہرنا مشکل ہو جائے گا پیپلز پارٹی نے تو بڑی ہوشیاری کے ساتھ ایک کے بعد ایک فلم چلائی تھی اسی لیے وہ پانچ سال پورے کرگئے مگرمسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نے اتنے سارے ڈرامے ایک ہی وقت میں شروع کردیے ہیں جن کے زیادہ وزن سے زیادہ پنکچر والی ٹیوب شائد گرمیوں کا انتظار نہ ہی کرسکے اور پٹاخہ بول جائے۔
پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دیدیا گیا ہے ویسے تو آجکل پاکستان اور پاکستانی اپنے مشکل ترین دور سے گذر رہے ہیںپاکستان کا موجودہ نظام ہی کرپشن پر چل رہا ہے اور جو لوگ ملک کے ان چوروں اور لٹیروں کی نشاندہی کرتے ہیں وہ بھی محفوظ نہیں ہیں اسی لیے صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ورلڈ پریس کلب نے پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں شامل کر لیا۔
صحافیوں کی عالمی تنظیم ورلڈ پریس کلب نے دنیا بھر میں صحافیوں پر ہونے والے تشدد اور آزادی صحافت پر عائد پابندیوں کے بارے میں سالانہ رپورٹ جاری کی جس کے مطابق پاکستان میں دو ہزار تیرہ کے دوران سات صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ قتل کیے جانے والے چار صحافیوں کو بلوچستان میں ہلاک کیا گیا رپورٹ میں بلوچستان کو پاکستان کا مہلک ترین صوبہ قرار دیا گیا جبکہ پاکستان میں حکومت صحافیوں کے قتل میں انصاف کی فراہمی میں دلچسپی نہیں رکھتی صحافیوں کی عالمی تنظیم ورلڈ پریس کلب نے دنیا بھر میں صحافیوں پر ہونے والے تشدد اور آزادی صحافت پر عائد پابندیوں کے بارے میں جاری سالانہ رپورٹ میں پاکستان پر کڑی تنقید کی ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال 2013 کے دوران پاکستان میں اپنے پیشے کی وجہ سے کم سے کم سات صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ قتل کیے جانے والے چار صحافیوں کا تعلق بلوچستان سے تھا، جن میں دو صحافی سیف الرحمان، عران شیخ، جب کہ دیگر میں محمد اقبال اور محمود احمد آفریدی شامل ہیں۔
تحریر: روہیل اکبر 03466444144
