Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اسٹیج ڈرامے یا فحاشی کے اڈے

February 14, 2022 0 1 min read
Stage Drama
Stage Drama
Stage Drama

تحریر: روہیل اکبر

پاکستان میں اسٹیج ڈرامے حقیقت میں فحاشی، عریانی اور جنسی بے راہ روی پھیلا رہے ہیں حیرت اور افسوس اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب ہمارے ٹاپ کے فنکار افتخار ٹھاکر،آغا ماجد،امانت چن اور ساجن عباس بھی ایک دوسرے کی ماں کو بہنوں کو نہیں بخشتے ماں تو وہ ہستی ہوتی ہے جو آپ جیسوں کو دنیا میں لاکر ایک شناخت دیتی ہے ماں وہ ہستی ہے جسکے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی گئی ہے اور ہمارے یہ فنکار اپنی ہر جگت کا آغاز ہی ایک دوسری کی ماں کو غلط ثابت کرنے سے کرتے ہیں ڈرامے کے دوران ایسی ایسی جگتیں لگاتے ہیں جو شریف آدمی اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں سن سکتا اسی لیے تو فیملیاں ان ڈراموں کے نام سے بھی دور بھاگتی ہیں چند دن قبل اپنے ایک سرکاری افسر کے ساتھ الفلاح تھیٹر میں ڈرامہ دیکھنے کا اتفاق ہوابے ہودہ ڈانس اور ننگے جملوں سے خود بھی شرمندہ ہوتا رہا اور دوست بھی۔بلاشبہ اس بیہودگی کو پھیلانے میں ہماری آرٹس کونسل ڈپٹی کمشنر آفس اور محکمہ داخلہ کے وہ لوگ شامل ہیں جو خاموش تماشائی بن کر ان کی سرپرستی کرتے ہیں۔

صوبائی دارالحکومت لاہور کی اہم شاہراہ پر پنجاب اسمبلی کے بلکل ساتھ ہمارے سینئر فنکار ایک دوسری کی ماں اور بہنوں کو ہی بازاری عورت ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اس سے ہمارے معاشرے میں کیا پیغام جاتا ہوگا شروع شروع میں تو ڈانس کرتے ہوئے لڑکیاں کپڑے تک اتار دیا کرتی تھیں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی خواش ہے کہ پنجاب کا کلچر موثر انداز میں واضح کیا جائے مگر اس طرح کی بیودہ گفتگو کو وہ بھی پسند نہیں کرتے اور نہ ہی ہماری ایجنسیاں انہیں ان ڈراموں کی رپورٹ پیش کرتی ہونگی۔تھیٹر شروع دن سے ہی تفریح کا زریعہ سمجھا جاتا ہے اورپچھلے 2500 سالوں میں تھیٹر کی ترقی کو نمایاں کرتی ہے۔

اگرچہ اداکاری کے عناصر ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں لیکن تھیٹر کو بطور آرٹ اور تفریح کا زریعہ سمجھا جاتا ہے تھیٹر کی تاریخ کا تعلق بنیادی طور پر ایک خود مختار سرگرمی کے طور پر تھیٹر کی ابتدا اور اس کے بعد کی ترقی سے ہے چھٹی صدی قبل مسیح میں کلاسیکی ایتھنز کے بعد سے تھیٹر کی متحرک روایات دنیا بھر کی ثقافتوں میں پروان چڑھی ہیں تھیٹر کا رسم کے ساتھ بھی اہم تعلق بنتاہے رسم کے ساتھ ابتدائی تھیٹر کی اس مماثلت کی ارسطو نے تصدیق کی ہے یونانی تھیٹر ایتھنز میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ مغربی روایت کی جڑ ہے تھیٹر یونانی زبان کا لفظ ہے قدیم یونان کا تھیٹر تین قسم کے ڈراموں پر مشتمل تھا المیہ، مزاحیہ، اور ڈرامہ۔ ڈرامہ فکشن کا وہ مخصوص انداز ہے جس کی کارکردگی میں نمائندگی کی جاتی ہے۔

ڈرامہ، اوپیرا، مائم، بیلے وغیرہ تھیٹر میں، ریڈیو یا ٹیلی ویژن پر پیش کیا جاتا ہے اورعام طور پر شاعری کی ایک صنف کے طور پر تصور کیا جاتا ہے اسی طرح ٹریجڈی ڈرامے کی ایک صنف ہے جس کی بنیاد انسانی مصائب اور بنیادی طور پر ان خوفناک یا افسوسناک واقعات پر ہوتی ہے جو ایک مرکزی کردار کے ساتھ پیش آتے ہیں جبکہ ڈرامے کا اصل حصہ کامیڈی اسی حصہ میں فنکار ہنستے ہنساتے وہ پیغام بھی ڈیلیور کردیتا ہے جو ڈرامے کا اصل مقصد بھی ہوتا ہے کامیڈی ایک تفریح ہے جس میں ایسے لطیفے ہوتے ہیں جن کا مقصد سامعین کو ہنسانا ہوتا ہے قدیم یونانیوں اور رومیوں کے لیے اسٹیج ڈرامہ مزاح کا نام تھا جس کا اختتام بھی خوشگوارہوتا تھا رقص ڈرامہ کی ایک قسم ہے جس نے ڈرامہ میں جدت پیدا کی مغربی تھیٹر نے رومیوں کے دور میں کافی ترقی اور توسیع کی رومن مورخ لیوی نے لکھا ہے کہ رومیوں نے پہلی بار چوتھی صدی قبل مسیح میں تھیٹر کا تجربہ کیا قدیم روم کا تھیٹر ایک فروغ پزیر اور متنوع آرٹ کی شکل تھی جس میں اسٹریٹ تھیٹر، عریاں رقص، اور ایکروبیٹکس کے تہوار پرفارمنس سے لے کر، پلاؤٹس کی وسیع پیمانے پر دلکش صورتحال والی مزاحیہ فلموں کے اسٹیج تک، سینیکا کے اعلیٰ طرز، زبانی طور پر وسیع المیے تک شامل تھے۔ اگرچہ روم میں کارکردگی کی مقامی روایت تھی، لیکن تیسری صدی قبل مسیح میں رومن ثقافت کی ہیلنائزیشن نے رومن تھیٹر پر گہرا اور حوصلہ افزا اثر ڈالا اور اسٹیج کے لیے اعلیٰ ترین معیار کے لاطینی ادب کی ترقی کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

ہندوستانی تھیٹر کی ابتدائی شکل سنسکرت تھیٹر ہی تھی یہ 15ویں صدی قبل مسیح اور پہلی صدی کے درمیان کسی وقت ابھرا اور پہلی صدی اور 10ویں صدی کے درمیان پھلا پھولا جو ہندوستان کی تاریخ میں نسبتاً امن کا دور تھا جس کے دوران سینکڑوں ڈرامے لکھے گئے تھے پورے برصغیر میں گاؤں کے تھیٹر کی حوصلہ افزائی کی گئی جو 15ویں سے 19ویں صدی تک بڑی تعداد میں علاقائی زبانوں میں ترقی کرتا رہا جدید ہندوستانی تھیٹر 19ویں صدی کے وسط سے 20ویں صدی کے وسط تک برطانوی سلطنت کے تحت نوآبادیاتی حکمرانی کے دور میں تیار ہوا رابندر ناتھ ٹیگور ایک جدید ترین ڈرامہ نگار تھے جنہوں نے قوم پرستی، شناخت، روحانیت اور مادی لالچ کی تلاش اور سوال کرنے کے لیے مشہور ڈرامے لکھے ان کے ڈرامے بنگالی میں لکھے گئے ہیں اور ان میں چترا (چترنگاد، 1892)، دی کنگ آف دی ڈارک چیمبر (راجہ، 1910)، ڈاکخانہ (ڈاکگھر، 1913)، اور ریڈ اولینڈر (رکتکاربی، 1924) شامل ہیں 1855 میں اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے دربار میں آغا حسن امانت کے لکھے گئے ڈرامے اندر سبھا (اندرا کی آسمانی عدالت) کی کارکردگی کو اردو تھیٹر کا آغاز قرار دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں تھیٹر روایتی اور رسمی فارسی تھیٹر کے ساتھ ساتھ مغل سلطنت کے کلاسیکی ہندوستانی رقص کے طریقوں سے تیار ہوا ایک اسلامی ریاست کے طور پر ماضی میں ڈراموں کی تیاری اور تھیٹر پرفارمنس کو مذہبی وجوہات کی بنا پرفارمنگ آرٹ کو ترقی اور پنپنے کا موقع نہیں ملا اور جب موقعہ ملا تو پھر ہم نے اپنے مشرق وسطیٰ کے پڑوسیوں کی طرح پرفارمنگ آرٹس کو معاف نہیں کیا خواتین کے جسم کو بے دردی سے دکھایا گیا تھیٹر گروپس نے ایسے کھیل پیش کیے جن میں انتہا پسندی کے ساتھ ساتھ قوم پرستی، مذہب اور جنس کے متعصبانہ تصورات کو بھی دکھایا اور چیلنج کیا گیا پاکستانی ادب کی الگ آواز 1947 میں تقسیم ہند کے فوراً بعد سامنے آئی چونکہ بہت سی ثقافتی مماثلتیں تھیں اس لیے اردو اور انگریزی ادب اس نئی ریاست کو وراثت میں ملا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر صوبے میں ایک ایسا ادب ابھرا جو کسی حد تک منفرد پاکستانی تھا ابتدائی طور پر یہ ڈرامے تحریک پاکستان اور ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے آزادی کے دوران مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم اور مسلم دشمنی کے بارے میں تھے جو بتدریج 1960 کی دہائی میں تبدیل ہونا شروع ہوا اور موجودہ رجحان خاص طور پر پاکستانیوں کی طرف سے بہت سی مختلف انواع میں پیش رفت ہے منٹو 20ویں صدی کے سب سے زیادہ بااثر اردو ادیب ہیں وہ سب سے زیادہ متنازعہ بھی تھے منٹو کا ڈی ایچ لارنس کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے یہ موازنہ اس لیے بھی ہے کہ لارنس کی طرح اس نے بھی اپنے معاشرے کے سماجی ممنوع سمجھے جانے والے موضوعات کے بارے میں لکھا محبت، جنس، بدکاری، عصمت فروشی اور روایتی جنوبی ایشیائی مرد کی مخصوص منافقت کے متنازعہ موضوعات کے بارے میں کافی غصے کوبھی جنم دیا۔

قدامت پسند حلقوں میں عام شکایت یہ ہے کہ کمرشل تھیٹر فحش مکالموں اور رقص پر پروان چڑھتا ہے اور پنجاب حکومت کی طرف سے کم از کم تین محکموں کو کمرشل تھیٹر کی سرگرمیوں کی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے پنجاب آرٹس کونسل جو کہ سکرپٹ کی جانچ کی ذمہ دار ہے ضلعی انتظامیہ جو ڈراموں کی نمائش کی نگرانی کے مجاز ہیں اورمحکمہ داخلہ جو پروڈیوسروں، ہدایت کاروں، فنکاروں اور تھیٹر مالکان کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔ لاہور میں کمرشل تھیٹر کی آمد 1980 کی دہائی کے اوائل میں ہوئی ناہید خانم، امان اللہ، مستانہ اور ببو برال کی مشترکہ کاوشوں سے فن میں جاندار مکالمے اور اختراعی انداز شہریوں کے لیے تازہ ہوا کی سانس کی مانند تھا ان ڈراموں کے اسٹیج کا ابتدائی مقام الحمرا تھا لیکن-82 1981 میں الحمرا کے بند ہونے کے بعد متبادل مقام تلاش کرنا پڑا ہر اسکرپٹ کو پنجاب آرٹس کونسل (پی اے سی) کو کلیئر کرتا ہے شروع شروع میں لاہور میں پانچ نجی تماثیل، محفل، ناز، تاج اور الفلاح سمیت ایک سرکاری تھیٹر الحمرا تھاجنکی تعداد اب بڑھ چکی ہے جہاں اب تفریح کی بجائے جنسی تسکین کا سامان مہیا کیا جاتا ہے گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان،ساہیوال اور بہاولپور میں میں بھی گھٹیا، فحش اور بے ہودہ اسٹیج ڈراموں سے شہریوں کا دھڑن تختہ ہورہا ہے لاہور میں زیادہ تر سامعین جنہیں اب تماشبین بھی کہا جاتا ہے دوسرے شہروں سے آتے ہیں۔ جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کو تھیٹر کھچا کھچ بھرے ہوتے ہیں ایک اسٹیج ڈرامہ تقریباً 20 لاکھ روپے تک کماتا ہے ٹکٹ کی قیمت ایک ہزار روپے سے لیکر 6ہزار روپے تک ہوتی ہے اب ان ڈراموں میں نہ کوئی پیغام ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی سبق صرف لوگ آتے ہیں توسستی جنسی تسکین حاصل کرنے کے لیے حکومت کو ایسے پرڈیوسرز،رائٹرز اور ہدایت کاروں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ تھیٹر کوبھی بند کردینا چاہیے کیونکہ یہ ہماری نوجوان نسل کو تباہی کی طرف لیکر جا رہے ہیں۔

Rohail Akbar
Rohail Akbar

تحریر: روہیل اکبر

Share this:
Tags:
Artists Families pakistan reality stage drama اسٹیج ڈرامے پاکستان حقیقت فنکار فیملیاں
Noor Muqaddam Case
Previous Post نور مقدم قتل: ظاہر جعفر نے عدالت میں کیا بیان جمع کرایا
Next Post ڈالر کے اوپن مارکیٹ ریٹ 178 روپے سے تجاوز کر گئے
Dollar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close