Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سٹالن کا روس اور ماس خوروں کا معاشرہ‎

December 11, 2017 0 1 min read
Freedom
Freedom
Freedom

تحریر : عماد ظفر
زمانہ قدیم میں غلاموں یامشقتیوں سے کام لینے کے بعد انہیں قید خانوں میں بند کیا جاتا تو اس امر کا خیال رکھا جاتا تھا کہ انہیں زندہ رکھنے کیلئے غذا کے ساتھ ساتھ آزادی کے حسین خواب بھی دکھائے جائیں. مثال کے طور پر اسٹالن کے روس میں ہر قید خانے میں خود اس کے اپنے کارندے قیدیوں کے روپ میں موجود ہوتے تھے جو دیگر قیدیوں کی ہمت جوان رکھنے کیلئے انہیں آزادی اور روشن مستقبل کے جھوٹے خواب دکھاتے تھے. ان خوابوں اور آسوں کے سہارے قید خانے کے مشقتیوں کا زندہ رہنے کا حوصلہ جوان رہتا تھا. قیدی قید خانے کی دیواروں کے ٹوٹنے کی جھوٹی آس میں زندہ رہنے کا ساماں ڈھونڈ لیتے اور خوب جان لگا کر مشقت کرتے. یوں قیدیوں سے نہ صرف بھرپور مشقت کروا کر کام کرا لیا جاتا بلکہ ان کے عرصہ حیات کو بھی طویل کر دیا جاتا. دراصل انسان کی زندگی امید اور خواب کے دم پر قائم رہتی ہے. سٹالن کا روس اور کمیونزم تو اپنی موت آپ مر گیا لیکن یہ قید خانے کا کلیہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جدید بنیادوں پر استوار ہو کر مختلف اشکال میں آج بھی قائم ہے.

وطن عزیز میں گو کمیونزم تو کبھی بھی نافذ نہیں ہوا لیلن کمیونزم کے دیگر لوازمات جیسے کہ اظہار رائے ہر پابندی , اختلاف رائے کو جرم قرار دینا, شخصی آمریت کا تسلط وغیرہ فی الوقت رائج ہیں. مہزب معاشروں یا مضبوط جمہوریتوں کی چند خصوصیات کو ایک کنٹرولڈ طریقے سے رائج کر کے وطن عزیز میں بسنے والے مشقتیوں اور قیدیوں کو اس گمان میں رکھا جاتا ہے کہ دیگر مہذب معاشروں کی مانند ہمارے ہاں بھی سب اچھا ہے.جبکہ اس کے برعکس , مجموعی طور پر آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کی پالیسی نے ہمیں تضادات اور منافقت کے فن میں یکتا اور بے مثال بنا ڈالا ہے.کبھی مارشل لا تو کبھی کنٹرولڈ جمہوریت ,کبھی اسلامی نظام تو کبھی خلافت راشدہ کے سہانے سپنے, کبھی ضیاالحق کی خود ساختہ شریعت اور کبھی مشرف کا عجیب و غریب لبرلزم, ان تجربات نے معاشرے کو ایک تجربہ گاہ بناتے ہوئے یہاں کے بسنے والوں کو “گنی پگ” سے زیادہ کچھ خاص اہمیت نہیں دی.تضادات, نرگسیت پسندی اور کھوکھلے نعروں کے ساتھ مذہبی شدت پسندی اور نازی جرمنی یا سٹالن کے روس جیسی حد سے زیادہ قوم پرستی کا نتیجہ ہم نے سقوط ڈھاکہ کی صورت میں بھی دیکھا اور فاٹا و بلوچستان کو آگ و خون میں نہلانے کی صورت میں بھی دیکھا لیکن مجال ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بسنے والی اشرافیہ یا معاشرے میں بسنے والی مجموعی آبادی کے اکثریتی حصے کے کانوں پر کوئ جوں بھی رینگی ہو. دہائیوں پرانا نعرے , “وطن اس وقت نازک صورتحال سے گزر رہا ہے” , “مذہب خطرے میں ہے” “ہمیں بین الاقوامی سازشوں کا سامنا ہے” آج بھی نہ صرف مقبول ہیں بلکہ حیران کن طور پر ملکی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ان پر من و عن ایمان بھی رکھتا ہے. ان نعروں یا مفروضوں کے دم پر سیاسی ,دفاعی و مذہبی اشرافیہ نے جس قدر بے رحمی سے معاشرے کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے نابلد و نافہم رکھا ہے شاید ہی دنیا کے کسی اور مہذب معاشرے میں اس کی مثال ملنے پائے.

سیاسی اشرافیہ نے روز اول سے ایک ہی گردان الاپی ہوئ ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے , مذہبی اشرافیہ کو دیکھیں تو مذہب خطرے میں ہے کی گردان اور دفاعی اشرافیہ کی جانب سےہمہ وقت وطن کی سالمیت خطرے میں ہے کا راگ سنائ دیتا ہے. ان نعروں اور مفروضوں کو سن کر گمان ہوتا ہے کہ جیسے وطن عزیز کے کل مسائل صرف اور صرف مذہب ,جمہوریت اور نظریاتی و دفاعی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے.جبکہ ساٹھ فیصد سے زائد آبادی زہر آلود پانی پئیے , تقریبا نصف سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارے, کڑوڑوں بچے علم کی روشنی سے محروم رہیں , مشعال جیسے بچے دن دہاڑے جنونیوں کے ہاتھوں کچلے جائیں یا عنبرین جیسی ان گنت بچیاں غیرت کے نام پر قتل کر دی جائیں یہ حقائق و واقعات گویا کوئ معنی ہی نہیں رکھتے اور نہ ہی ان کا تدارک ہماری ترجیحات میں شامل ہے. ہماری ترجیحات قیام پاکستان سے لیکر آج تلک صرف اور صرف مختلف گروہوں کے اشتراک پر مبنی اشرافیہ اور ان کے حواریوں کے اغراض و مقاصد کو پورا کرنا اور اپنی اپنی تجوریوں کو بھرنا ہے. دوسری جانب عام آدمی بھی اس اجتماعی نفسانفسی اور نرگسیت کا شکار ہو کر یا تو انہیں اجارہ داروں کا غلام بن کر روزی روٹی پوری کرتا ہے یا پھر اپنی اپنی بساط کے مطابق بے ایمانی یا کرپشن کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتا ہے. جمہوریت ہو یا آمریت دونوں نظام صرف اور صرف معاشرے کے استحصال کے گرد گھومتے رہے ہیں. یہی وجہ ہے کہ ایوب خان ہو یا پرویز مشرف یا پھر نواز شریف ہو یا عمران خان ان سب افراد اور ان سے منسلک قریبی گروہ بھرپور ترقی کرتے نظر آتے ہیں.

دفاعی و سیاسی اشرافیہ یا مذہبی اشرافیہ کے اس استحصالی گٹھ جوڑھ سے جہاں وطن عزیز میں معاشی و اقتصادی مسائل کا ایک انبار ستر برسوں میں جمع ہوا ہے ,وہیں اس گٹھ جوڑ نے معاشرے کو اخلاقی پستی اور انسانی جبلتوں سے دور رہتے ہوئے ایک شتر مرغ کی مانند ریت میں سر چھپا کر جینے کا درس بھی سکھایا ہے . کشمیر کی آزادی کے کھوکھلے نعرے ہوں یا فلسطین و برما میں مظالم کے خلاف احتجاج,چیختے چنگھاڑتے گلے پھاڑتے افراد اپنے ہی معاشرے میں اقلیتوں کو بربریت سےقتل کئیے جانے اور ان کے حقوق غصب ہونے پر بالکل خاموش دکھائ دیتے ہیں. لال مسجد کا سانحہ ہو یا ماڈل ٹاون کا قتل عام, ان سانحات میں مرنے والوں کو شاید انسان ہی تصور نہیں کیا جاتا. اپنے ہی وطن میں بلوچستان سے ملنے والی سینکڑوں مسخ شدہ لاشیں ہمارے کھوکھلے نعروں اور تصورات کا سر عام مذاق اڑاتی دکھائ دیتی ہیں. وطن عزیز کے قیام سے لیکر آج کے دن تک ترجیحات کے غلط ہونے اور اپنا اپنا الو سیدھا کرنے کی سوچ نے معاشرے میں جو جمود طاری کیا ہے اس کے نتیجے میں جمہوریت آمریت مذہب صحافت اور دفاع کے نام پر مبنی گروہ معاشرے کی ہڈیوں سے ماس تک اتار کر کھا چکے ہیں. یہ ڈھانچہ ان ماس خوروں کے تسلط سے آزاد ہو گا تو پھر سے گوشت پوشت حاصل کر کے تندرستی کی جانب مائل بہ سفر ہو سکے گا. لیکن اس کے لئیے ان ماس خوروں سے نجات بے حد لازمی ہے.

نجات یا آزادی کیلئے قیدیوں کا جھوٹے خوابوں اور مخبریوں سے پیچھا چھڑانا ضروری ہے.سٹالن کے کلئیے کی مانند سیاسی ,مذہبی , دفاعی اشرافیہ نے معاشرے کے قید خانے میں مخبر چھوڑ رکھے ہیں جو دانشوروں , صحافیوں سیاسی کارکنوں , مولویوں پیروں یا دفاعی تجزیی نگاروں کی شکل میں ہم سب کے ارد گرد موجود رہتے ہیں. یہ ایجنٹ یا مخبر سٹالن کے کلئیے کے مطابق قیدیوں کو جھوٹے آزادی کے سپنے دکھاتے ہوئے روشن مستقبل کی نوید سناتے رہتے ہیں تا کہ قیدیوں کے ذہنوں میں حقیقی آزادی کا تصور ابھرنے ہی نہ پائے.اور قیدی بھرپور طریقے سے ان ماس خوروں کیلئے مشقت کرتے ہوئے ان کے مفادات کا تحفظ کرتے رہیں. وطن عزیز میں موجود قیدی کیا خود کبھی اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے ان ماس خوروں اور ان کے ایجنٹوں سے نجات حاصل کریں گے یا پھر سٹالن کے روس کی مانند ظلم و جبر اور قدغنوں کے بوجھ تلے دفن ہو کر یہ کھوکھلا نظام خود ہی دم توڑ جائے گا اس کا جواب آنے والا وقت دے گا. وقت کا جواب چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی سب کو سننا اور دیکھنا پڑتا ہے.

Imad Zafar
Imad Zafar

تحریر : عماد ظفر

Share this:
Tags:
democracy Development Freedom Imad Zafar russia Society آزادی ترقی جمہوریت روس معاشرہ
Teacher Mohammad Siddiq
Previous Post استاد کو میرا سلام
Next Post یہود و نصار کی منظم منصوبہ بندی
Netanyahu and Donald Trump

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close