Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ریاست کی بنیادی خاصیت

February 19, 2013February 20, 2013 0 1 min read
IMRAN-CHANGEZI
pakistan
pakistan

ریاست کی بنیادی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ اسے معاشرے کے ہر رکن پر اختیارحاصل ہوتا ہے ۔ ریاست میں رہنے والے تمام افراد ریاستی فیصلوں کے پابند ہوتے ہیں اور ریاست ہی ایسے اصول و معیارات عمل قائم کرسکتی ہے جن کی پابندی ریاست کے اندر رہنے والے تمام افراد پر بلا استثناء لازم قرارپاتی ہے ۔ریاستی نظا م فی الحقیقت ریاستی کل پرزوں اداروں اور محکموں کا ایک ایسا نظام ہے جو ریاستی قوت و اقتدار کو عملی جامع پہناتا ہے۔

ان میں قانون ساز ادارے ( پارلیمان ) حکومتی انتظامی ادارے (وزارتیں ) بلدیاتی ادارے عدالتیں پولیس اور فوج شامل ہیں ۔ ریاستی بازوؤں اور پنجوں کا یہ نظام ریاستی قوت و اقتدار کو روبہ حقیقت کرتا ہے اور جمہوریت و آمریت میں یہ نظام فی الحقیقت جبر اور دباؤ کے نظام کی ایک منظم صورت ہے جبکہ اشتراکیت یعنی فلاحی نظام میں یہی نظام قومی معاشی ترقی کی رہنمائی کرنے اور معیشت کو منظم و مربوط طریقے سے ترقی کی جانب رواں رکھنے کیلئے ایک بہترین ضابطہ ہے۔
اشتراکی(فلاحی) نظام خاندان مرتبے اور عہدے سے بالاتر ہوکر سب کیلئے مساوات کا صرف ایک اصول متعین کرتا ہے اور وہ ہے ہر شخص سے اس کی اہلیت کے مطابق کام اور ہر شخص کو اس کے کام کے مطابق حصہ۔ اس نظام کے تحت نہ تو جاگیرداریت کا خاتمہ کرنا ہوگا اور نہ ہی سرمایہ داریت سے نجات کی ضرورت پیش آئے گی بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے معاشرے کے ہر فرد تک خوشحالی کے ثمرات پہنچاکر ان کے احساس محرومی اور لسانیت و تعصبات کاخاتمہ اور حب الوطنی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد کی اہلیت کو وطن عزیز کی ترقی کیلئے استعمال کیا جاسکے گا۔

اشتراکی (فلاحی)نظام کے قیام کیلئے پاکستان کے موجودہ استحصالی نظام کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے چونکہ دستور پاکستان بھی استحصالی عناصر نے ہی بنایا ہے اور اس میں عوام سے زیادہ خواص کے مفادات کی نگہبانی کو قانونی شکل دی گئی ہے اسلئے دستور پاکستان کودورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے اور اس دستور میں عوام اور عوام کے حقوق کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرے کی اولین ترجیح مساوات کو بنیاد و اسا س قرار دینے کی ضرورت ہے۔

Political parties
Political parties

بصورت دیگر ہم کئی دہائیوں سے چہروں کی تبدیلیوں کے ذریعے عوام کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں کو اقتدار منتقل کرتے رہے ہیں مگر نتائج ہمیشہ بربادی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ملے کیونکہ مسائل کا حل چہروں کی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی میں مضمر ہے اور جب تک نظام تبدیل نہیں ہوگا عوام کو نہ تو حقیقی آزادی مل سکے گی نہ حقیقی خوشحالی اور نہ ہی حق و انصاف اس لئے پاکستان کے معاشرے کو اسلامی اصول کے مطابق عدل انصاف مساوات محنت اور ثمر کا ترقی یافتہ و فلاحی معاشرہ بنانے کیلئے پاکستان میںفلاحی نظام کا قیام اور آئین کی ازسرِ نو تشکیل کی ضرورت ہے۔

معاشرے کے ہر کمزور سے کمزور فرد تک اس کا حق پہنچانے اور اسے ریاست کا ذمہ دار شہری بنانے کیلئے ضروری ہے کہ قومی ضابطے کو اشتراکی یعنی فلاحی نظام کے تحت مرتب کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آجر و اجیر کے درمیان معاشی خوشحالی کا ایک ایسا تعلق ہو جس کیلئے آجر ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرے اور اجیر بھرپور محنت کرے اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب ہاری کسان دہقان مزدور مل ملازم اور خدمات کے شعبے سے وابستہ ہر فرد کو اس کے شعبہ میں شراکت فراہم کردی جائے یعنی آئین پاکستان معاشرے کے ہر فرد کو یہ تحفظ فراہم کرے کہ وہ جی جان سے محنت کرے اور اس کی محنت سے پیدا ہونے والی پیداوار کے نفع میں اسے مکمل شراکت فراہم کی جائے گی ۔

یعنی قانون سازی کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ذرعی پیداوار ہو یاصنعتی بنکوں کا منافع ہو یا تجارتی کمپنیوں کا ‘ خدمات کے ادارے ہوں یا تحفظ پر مامور شعبے ان کے تمام اخراجات اور تنخواہوں کی ادائیگی کے بعد بچنے والے خالص نفع کو تین حصوں میں اس طرح سے تقسیم کیا جائے کہ 40 فیصد سرمایہ دار یا جاگیردار کو 30 فیصد محنت کش کو اور 30 فیصد سرکار کو بطور ٹیکس حاصل ہو جبکہ دیگر ہمہ اقسام کے ٹیکسز کا خاتمہ کرکے ادارے کے خالص منافع پر 30 فیصد ٹیکس کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو دیانتداری سے ٹیکس کی ادائیگی کی جانب راغب کیا جاسکتاہے۔

جبکہ آجر و اجیر کے درمیان منافع کی تقسیم کے فارمولے سے آجر کیلئے ٹیکس چرانا یا کھاتوں میں ردوبدل کے زریعے نفع کو نقصان میں تبدیل کرنا بھی ممکن نہیں رہے گا اور اداروں سے وابستہ افراد کو نفع میں شریک کرکے گھوسٹ ملازمین اور کام چور افراد سے بھی نجات ممکن ہوسکے گی۔ پاکستان میں استحصالی طبقے نے ایک خاص سازش کے تحت عوام کو صوبائیت لسانیت مسلک اور مختلف گروہ بندیوں میں بانٹا تاکہ وہ کبھی استحصالی نظام کے خلاف متحد نہ ہو سکیں اور یہ استحصالی نظام عوام کا خون چوسنے والے عناصر کو زیادہ سے زیادہ اختیارواقتدار فراہم کرتا رہے تاکہ وہ اس ملک کے وسائل کو اپنی خوشحالی کیلئے ہمیشہ استعمال کرتے رہیں۔

Exploitative System
Exploitative System

مگر اب جبکہ عوام کو اس حقیقت کا ادراک ہورہا ہے اور وہ اپنے حقوق کے حصول و استحصال سے نجات کیلئے وحدت کی ضرورت کو محسوس کررہے ہیں تو استحصالی ٹولے نے ایک بار پھر عوام کو انتشار کا شکار کرنے کیلئے صوبائیت کے نام پر عوام کو لڑانا شروع کردیا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے ایک بار پھر وطن عزیز میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے ایک منظم مہم چلائی جارہی ہے گوکہ وطن عزیز کے تمام علاقوں میں یکساں ترقی اور عوام کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور بروقت و سستا انصاف مہیا کرنے کیلئے چھوٹے انتظامی یونٹوں کا قیام انتہائی ضروری ہے۔

مگر موجودہ انتظامی نظام کے تحت مزید صوبوں کا قیام محض تعصب و لسانیت کے فروغ کا ذریعہ ہی ثابت ہوگا اس سے نہ تو عوام کے بنیادی مسائل کا حل ممکن ہوگا اور نہ ہی پاکستان کے ہر علاقے کی عوام کو ترقی کی یکساں رفتار سے گزارا جاسکے گا ۔ اسلئے مزید صوبوں کے قیام کی بجائے پاکستان کے نظام میں اس طرح سے تبدیلیاں لائی جائیں کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام بھی ممکن ہو اور ان انتظامی یونٹس کے تحت عوام پورے اعتماد و یقین اور احساس تحفظ کے ساتھ ملکی ترقی میں اپنا کردار فعال انداز سے ادا کرسکیں جس کا واحد ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے ۔ ”خود مختار ڈویژنل کونسلوں کا قیام ” یعنی” مقامی خودمختاری ”کا نفاذ ۔

پاکستان کو مسائل و مصائب سے نکالنے اور مستحکم و ناقابل تسخیر بنانے کیلئے ضروری ہے کہ صوبائیت ‘ لسانیت اور ہر قسم کے مسلکی و مذہبی تعصب و منافرت کا خاتمہ کرکے قومی وحدت کو فروغ دیا جائے جس کیلئے وطن عزیز میں ایک ایسااسلامی معاشرے کا قیام ناگزیر ہے جس میں عورت و مرد اور اقلیتوں سمیت معاشرے کے ہر فرد کو یکساں حقوق حاصل ہوں اور خاتم المرسلین کے خطبہ حجة الوداع کے مطابق اس معاشرے میں کسی کو بھی کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہ ہو بلکہ عدل و انصاف کے ترازو میں سب کا وزن یکساں ہو اور مساوات کے اس معاشرے میں ہر فرد کو سرکاری سطح پر تعلیم علاج روزگار اور رہائش کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اس کی محنت و صلاحیت کے مطابق بہترین معاوضے کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

کسی بھی فرد کو کسی بھی دوسرے فردکے استحصال کا کوئی حق حاصل نہ ہو جبکہ تمام قومی معاملات قوم کی رائے کی روشنی میں ان کی اُمنگوں کے مطابق طے کئے جائیں تاکہ پاکستان کا ہر فرد پاکستان سے محبت اور اس کی ترقی و استحکام کیلئے بھرپور محنت کرے۔ ایسا اسی وقت ممکن ہے جب عوام کو براہ راست اختیارو اقتدار میں شراکت اور تمام امور میں رائے دہی کا حق فراہم کیا جائے۔

تاکہ پاکستان کا ہر شہری یہ محسوس کرسکے کہ اس ملک کے نظام میں اس کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے مگر اس کیلئے ”مقامی خود مختاری ” کا نفاذ ناگزیر ہے جس کے تحت ڈویژنوں کو خود مختاری فراہم کرکے عوام کو نہ صرف بنیادی سہولیات ان کے گھر کی دہلیز پر فراہم کرکے مسائل سے پاک ایک ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے بلکہ مفت علاج مفت تعلیم لازمی روزگار اور سرکاری سطح پر رہائش کی فراہمی کے ذریعے غریب عوام کو ریلیف فراہم کرکے مہنگائی غربت بیروزگاری جیسے مسائل کا حل بھی نکالا جاسکتا ہے۔

اوربدامنی دہشت گردی و جرائم کے عفریت پر بھی قابو پاکر ایک ایسے پر امن معاشرہ بھی تشکیل دیا جاسکتا ہے جہاں صنعتوں کا پہیہ پوری تیز رفتاری سے چلے اور صنعتی و ذرعی پیداوار کے ذریعے وطن عزیز میں معاشی خوشحالی کا دور دورہ ہو جبکہ بیرونی سرمائے کو قومی پالیسی کا تابع بناکرنہ صرف پاکستان کے آزاد تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے بیرونی سرمائے سے صنعت و ذراعت کو فروغ دیا جاسکتا ہے بلکہ ”ایکسپورٹ اورینٹڈ پالیسی” اپناکر کثیر تعداد میں زرِ مبادلہ کے حصول کے ذریعے پاکستان سے غربت کا مکمل خاتمہ بھی کیاجاسکتا ہے ۔

مقامی خود مختاری ” کے نفاذ کے ذریعے عوام کوطبقاتی اور وی آئی پی کلچر سے نجات کے ساتھ بر وقت سستے اور سہل انصاف کی فراہمی کی مکمل ضانت حاصل بھی حاصل ہوگی اور آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل بھی ممکن ہوگی جس
کے ذریعے پاکستان کو دنیا میں نمایاں مقام دلانے اور دفاع پر بھرپورتوجہ دے کر پاکستان کو ناقابل تسخیر بنایا جاسکے گا جبکہ ”مقامی خود مختاری ” کے تحت ڈویژنل کونسلوں صوبوں اور مرکز کے مابین اختیارات و فرائض کی آئینی تقسیم کے ذریعے ڈویژنوں کا صوبوں سے اور صوبوں کا مرکز سے ایک ایسا مضبوط ربط بھی پیدا کرتا ہے جس سے نہ صرف مرکز مضبوط ہوگا بلکہ صوبے بھی خوشحال ہوں گے اور ڈویژنیں بھی بااختیار ہوکر اپنے مسائل کے حل کیلئے صوبے یا مرکز کی محتاج نہیں ہوں گی۔

IMRAN-CHANGEZI
IMRAN-CHANGEZI

تحریر : عمران چنگیزی
imrankhanchangezi@gmail.com

Share this:
Tags:
primary property Society state بنیادی ریاست معاشرے
Asif Bajwa
Previous Post اذلان شاہ ہاکی کپ، قومی ٹیم کا اعلان 25 فروری کو ہوگا
Next Post راجپوت ویلفئیر سوسائٹی گجرات کاایک اہم تعزیتی اجلاس زیر صدارت اعجاز احمد چوہان منعقد ہوا

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close