
کراچی (جیوڈیسک) قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے فاروق ستار نے کہا کہ موجودہ ملکی صورتحال میں واضح اور ٹھوس اقدام کی ضرورت ہے۔ اگر آج ہم نے ابہام کی ڈھال کا سہارا لیا تو عوام میں مایوسی پھیلے گی۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے آج کارروائی کا فیصلہ نہ کیا تو پھر ہنگو کے بچوں کو کیا جواب دینگے۔ اکیس سے زائد دہشتگردی کے واقعات ہوئے۔ طالبان نے کبھی مذاکرات کی بات نہیں کی۔ فاروق ستار نے کہا کہ عوام اب حکومت سے سوال کر رہے ہیں کہ دیوار سے لگانے والوں سے مذاکرات کیوں کئے جا رہے ہیں۔
خدانخواستہ خاموشی اور مصلحت کے ذریعے شہیدوں کے لہو سے سودا کرنے کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ریاستی ادارے اس جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اب اگر مگر سے نکل آنے کا وقت ہے۔
حکومت کو مذاکرات کے بجائے بے بسی کا اعلان کر دینا چاہیے جو مذاکرات چاہ رہے ہیں انہیں اب تک مذاکرات کی میز پر ہونا چاہیے تھا۔ طالبان منظم ہونے کے لیے وقت مانگ رہے ہیں۔
فاروق ستار نے کہا کہ کراچی میں اغواء برائے تاوان کے ذریعے پیسہ حاصل کر کے پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ کل کو یہی پیسہ بیرون ملک دہشتگردی کیلئے استعمال ہوگا۔
