ٹوبہ ٹیک سنگھ : ٹوبہ کی اعلیٰ عدالتی شخصیت و چیئرمین ہیومن رائٹس نے جمعہ کے روز گورنمنٹ کالج برائے خواتین ٹوبہ ٹیک سنگھ کی انٹرمیڈیٹ کی درجنوں طالبات کا مستقبل تاریک ہونے سے بچا لیا ہے جبکہ طالبات اور ان کے والدین کے شدید احتجاج پر سراسر غیر قانونی و غیر اخلاقی طور پر روکی گئی طالبات کی رول نمبر سلپیں فوری جاری کرنے کے احکامات صادر کردیئے گئے ہیں جس پر مذکورہ طالبات نے سکھ کا سانس لیاہے نیز متاثرہ طالبات کے والدین نے موجودہ پرنسپل اور ان کے شوہر ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز ٹوبہ کو فوری تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انٹرمیڈیٹ کاسالانہ امتحان دینے والی درجنوں طالبات اور ان کے والدین نے جمعہ کے روز میڈیاسے بات چیت کے دوران بتایاکہ ان کی بچیاں دور دراز کے علاقوں سے گورنمنٹ کالج برائے خواتین ٹوبہ ٹیک سنگھ آکر تعلیم حاصل کرتی ہیں۔
جہاں انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کرنا اور ان کا معیار تعلیم بہتر بنانا پرنسپل و دیگر ٹیچنگ سٹاف کی ذمہ داری ہے ۔انہوںنے کہاکہ ایک طرف وزیر اعظم پاکستان میاںمحمدنوازشریف اوروزیراعلیٰ پنجاب میاں محمدشہباز شریف طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے سخت ہدایات واحکامات جاری کررہے ہیں مگردوسری جانب بعض پرنسپلز اس پالیسی کو ناکام بنانے کے درپے ہیں جن میں گرلز کالج ٹوبہ کی پرنسپل بھی سرفہرست ہے۔ انہوںنے کہاگورنمنٹ کالج برائے خواتین ٹوبہ ٹیک سنگھ کی پرنسپل جنہیں اپنے خاوند ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز ٹوبہ ٹیک سنگھ کی بھر پور آشیر باد حاصل ہے نے 30اپریل بروز بدھ سے شروع ہونے والے انٹرمیڈیٹ پارٹ ون ، پارٹ ٹو ، کمپوزٹ ، علوم السنہ کے سالانہ امتحانات4 201ء کے آغاز کے عین موقع پر بڑی تعداد میں امتحان دینے والی طالبات کی رول نمبر سلپیںروک لیں اور یہ مؤقف اختیار کیاکہ ان طالبات کی تعلیمی کارکردگی درست نہیں۔
اس طرح امتحانات کے عین موقع پرسراسر غیر قانونی ، غیر اخلاقی ، غیر انسانی طور پر مذکورہ طالبات کا مستقبل تاریک کرنے کی گھنائونی ساز ش کی گئی ۔ انہوںنے بتایاکہ جب مذکورہ طالبات اور ان کی مائوں نے گورنمنٹ کالج برائے خواتین ٹوبہ ٹیک سنگھ پہنچ کر انتہائی نااہل پرنسپل سے بات کرنا چاہی تو ان کے ساتھ انتہائی ناروا ، ہتک آمیز ، گھٹیا رویہ اختیار کیاگیا جس پر انہوںنے نہ صرف شدید احتجاج کیا بلکہ اس سلسلہ میں فوری طور پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج و چیئرمین ہیومن رائٹس ٹوبہ ٹیک سنگھ سے انصاف کی فراہمی اور طالبات کا مستقبل تاریک ہونے سے بچانے کی اپیل کی جس پر جمعہ کے روز مذکورہ طالبات کو رول نمبر سلپیں فوری جاری کرنے کے احکامات صادر کر دیئے گئے ہیںجن پر انٹرمیڈیٹ کاامتحان دینے کی خواہش مند طالبات اور ان کے والدین نے سکھ کا سانس لیتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیاہے۔ انہوںنے کہاکہ جب سے موجودہ پرنسپل گورنمنٹ کالج برائے خواتین ٹوبہ ٹیک سنگھ نے اپنے عہدہ کا چارج سنبھالا ہے اس وقت سے کالج میں گروپنگ ، پسند نا پسند کی بنیاد پر انتقامی کاروائیاں عروج پر پہنچ چکی ہیںمگر سیاسی بنیادوں پر تعینات ان کے شوہر و ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز ٹوبہ ٹیک سنگھ کی سرپرستی کے باعث کوئی انہیں پوچھنے والا نہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ اگر سال دو سال کے دوران طالبات کی تعلیمی کارکردگی بہتر نہیں بنائی جاسکی تو یہ پرنسپل اور سٹاف کی بد ترین نااہلی ، کوتاہی ، فرائض میں مجرمانہ غفلت ہے کیونکہ طالبات کی فیسوں اور عوام کے ٹیکسوں کی خون پسینے کی کمائی سے تنخواہ لینے والی پرنسپل اور دیگر سٹاف ممبران سارا سال کیاکرتی رہی ہیں اس کا بھی انہیں جواب دہ ہونا چاہیے۔ انہوںنے پرنسپل گورنمنٹ کالج برائے خواتین ٹوبہ ٹیک سنگھ اور اس کے شوہر ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز ٹوبہ ٹیک سنگھ کو فوری طور پر معطل و تبدیل کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
