Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کامیاب کون ؟ جولیس سیزر یا جولیس سالک

April 9, 2019 0 1 min read
Election
Election
Election

تحریر : راؤ عمران سلیمان

ہزاروں سال قبل ایک بادشاہ جولیس سیزر ہوا کرتا تھا لیکن دلوں اور غریبوں کا بادشاہ جولیس سالک بھی تاریخ کی نظروں سے ابھی گزررہاہے پاکستان کی تاریخ کا ایک کامیاب ترین شخص جس کو لوگ جے سالک کے نام سے جانتے ہیں میرا ان سے واسطہ ایک صحافی اور کالم نگارکی حیثیت سے کراچی کی ایک افطارپارٹی میں ہوا تھا جہاں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی موجود تھی اس سے قبل میں اپنے تایاراؤرشید حسین کے حوالے سے انہیں جانتاتھاکیونکہ راؤرشیدحسین (بارے خاں) لاہور میں جے سالک کے ابتدائی دوستوں میں شامل تھے ،جے سالک نے اپنے سیاسی کیئرکا آغازایک ایسے مشن کے ساتھ کیا تھا جس کی کہانی میں کئی ایسے دلچسپ موڑ آجاتے ہیں جنھیں پڑھنے اور سننے والا دنگ رہ جاتاہے ۔جے سالک لاہور میں جس محلے میں رہا کرتے تھے وہاں ان کی ایک صابن کی ایک فیکٹری ہواکر تی تھی اور اس محلے میں صرف ایک ہی مسیحی خاندان تھا اور وہ تھی جے سالک کی فیملی یہ ایک نہایت پڑھی لکھی فیملی تھی۔

اس زمانے میں چھوٹے چھوٹے ہوٹل جے سالک کی فیکٹری کے ثابن تو خریدلیتے تھے مگر ان کے ساتھ سخت تعصب اور اچھوتوں والا سلوک بھی کیا جاتاتھا، اس زمانے میں آٹاگوندھ کر گھروں سے ہوٹل پر جاکر روٹیاں لگوانے کا رواج تھا جس کی بنیادی وجہ لکڑیوں کا جلانااور گھروں میں سوئی گیس کا نہ ہونابھی تھا،ہوٹل پر روٹیاں لگانے والوں کا ایک وطیرہ یہ ہوتاتھا کہ وہ روٹیاں لگاتے ہوئے کچھ آٹے کے پیڑے نکال کر ر کھ لیتے تھے مگر اس قدرپڑھی لکھی اور ایک صابن کی فیکٹری کی ملکیت رکھنے والی فیملی کے آٹے کو ہاتھ تک نہ لگایاجاتاتھا یعنی جے سالک کے گھر سے آئے ہوئے گندھے ہوئے آٹے کے تھال کو واپس کردیاجاتا۔ایک دن اتفاق ایسا ہوا کہ جلدی جلدی میں جے سالک نے اپنی چھوٹی ہمشیرہ کو کہا کہ جاؤ اور جاکرتندور سے روٹیاں لگوالاؤجس پر چھوٹی بہن نے کہاکہ تندوروالا ہم سے تعصب رکھتاہے اور ہماراآٹا واپس کردیتاہے اس دن جے سالک نے کہاکہ آج تو تم ضرور جاؤ اور میں دیکھتا ہوں کہ وہ آٹاواپس کرتاہے یا نہیں ؟۔مگر جلد ہی چھوٹی بہن روتی ہوئی واپس آگئی اور کہنے لگی ؛ بھائی جان وہ روٹیاں لگاکر نہیں دے رہا ..

جسے سن کر جے سالک کو بہت غصہ آیااور اس نے فیصلہ کیا کہ میں آج ہوٹل والے کو مار ہی دونگا۔۔جس پر غصے میں آکر وہ گھر سے نکلااور تندوروالے کے سامنے جاکر کھڑاہوگیاجے سالک اس آس میں تھا کہ تندور والا کوئی ایسی بات کرے جس سے جھگڑے کا جوازپید ہوامگر تندور والا جوایک عمر رسیدہ آدمی تھا غصے میں بھرے جے سالک کے تیور سمجھ چکاتھاجے سالک دوگھنٹے تک اس تندور والے کے سامنے کھڑارہااور پھر گھر واپس آگیااس طرح مسلسل دوروز تک وہ تندوروالے کو دوگھنٹے تک گھورتارہااور تندور والانظریں جھکائے اپناکام کرتارہا۔آخر کار جے سالک کے ضمیر نے ملامت کیا وہ سوچنے لگاکہ ماردینے اور جھگڑاکرنے سے کیا تعصب کرنے کاسلسلہ ختم ہوجائے گا؟ اس دن اللہ پاک نے جے سالک کو راہ دکھائی کیونکہ معاملہ صرف ایک تندور کا نہیں تھا بلکہ کئی تندورایسے تھے جہاں یہ تعصب موجود تھا۔

جنھوں نے مسیحی لوگوں کے برتن تک الگ سے رکھے ہوئے تھے اور تو اور بعض ہوٹلوں پر لکھا ہوتا تھا کہ “مسیحی برادری کے لوگ پہلے مطلع فرمائے “اس دن جے سالک نے فیصلہ کیاکہ وہ جہاں رہتاہے وہاں کے جوانوں کواکٹھاکرکے ایک ایسی ویلفیئربنائینگے جو امن اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے کام کریگی اور زات پات رنگ ونسل کے فاصلوں اور دوریوں کو نزدیکیوں میں بدل دے گی،اس مقصد کے لیے میرے تایا راؤرشید حسین پیش پیش تھے جبکہ ان کے بڑے ہی قریبی ساتھیوں میں مشتاق ناز،غلام مرتضیٰ سماء،طالب حسین جیسے دوستوں کا ساتھ میسر تھااس گروپ کے بن جانے سے ہوٹل والا بہت متاثرہوااور اس کا تعصب خوبخود ہی ختم ہوگیااس کے علاوہ ایک چائے کا ہوٹل بھی ہواکرتاتھاجس نے مسیحی لوگوں کے لیے چائے کے برتنوں کو الگ کیاہواتھاوہ بھی اس اچھوتے پن سے باہر نکل آیاجبکہ طالب حسین جو نائی کاکام کیا کرتھے اس نے بھی نوجوانوں کی اس تنظیم کا حصہ بن کرتولیہ الگ سے رکھنا بندکردیاتھا۔

کیونکہ ان تمام نوجوانوں کے دلوں میں یہ بات گھرکرگئی تھی اسلام میں چھوت ،نفرت اور تعصب کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔اور پھر یہاں سے جے سالک کی سیاست کا حقیقی آغازہوااوروہ پہلی بار مارشل لاء کے دور میں1979میں آزاد حیثیت سے لاہور سے کونسلر منتخب ہوا،اور آتے ہی مارشل لاء کے خلاف ڈٹ گیا ،اس وقت پورے پاکستان میں ہزاروں کونسلر تھے مگر وہ اکیلا ہی مارشل لاء کے خلاف کھڑا تھا جے سالک کی ہمت کو دیکھتے ہوئے بارہ کونسلر اور بھی میدان میں آگئے اور استعفیٰ دیدیا۔ایک تحریک کاخدشہ پنپے لگاتوآرڈیننس کا واپس ہوناایک مجبوری بن چکاتھاان وقتوں میں صحافیوں اور ڈاکٹروں پر بھی کوڑے برستے تھے اس آرڈیننس کی ہی وجہ سے کچھ صحافیوں کو کمر پر کوڑے کھانے پڑے جن میں ایک دبنگ قلم کار خاور نعیم ہاشمی بھی شامل تھا۔ جے سالک کے لیے مشکلات کا دور شروع ہوا،اور انہیں سب سے پہلے 16 ایم پی اوزیعنی امن وامان کوثبوتاژ کرنے کے جرم میں گرفتاری کا سامنا کرناپڑا۔جے سالک ہمت نہ ہارا اور1983میں ایک پھر سے کونسلر بنااور پھر جنرل ضیا کے ظالمانہ اورانسانیت سوزرویوں پر استعفیٰ دے ڈالااور پھر جے سالک اپنی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ1988میں قومی اسمبلی کی نشست پر کھڑے ہوگیا، لیکن ٹوٹل میں غلطی کرتے ہوئے ہارنے والے کے حق میں فیصلہ سنادیا گیامگر جے سالک اس غلطی کو لیکر الیکشن کمیشن میں جسٹس نصرت کے پاس گئے تو انہوں نے کہاکہ ٹھیک ہے کہ غلطی ہوگئی ہے مگر اب آپ کو ٹریبونل میں جانا پڑیگاایک جدوجہد کے بعد یعنی اس انتخاب کے 19ماہ بعد جے سالک کے حق میں نوٹیفیکشن آگیااور اس طرح جے سالک نے 19ماہ بعد حلف آٹھایا اس وقت محترمہ بے نظیر بھٹو اس ملک کی وزیراعظم تھی۔

اس دن یہ اسمبلی آدھا گھنٹہ جاری رہی اور7اگست تک ملتوی کردی گئی یعنی جے سالک 19ماہ کے بعد آیااور 25جون کو حلف لیااور پھر 5اگست کو اسمبلی ٹوٹ گئی ۔ اس کے بعد جے سالک 90کے الیکشن میں کھڑاہوا اور ایک آزاد حیثیت سے پورے پاکستان سے پہلی پوزیشن حاصل کی،دوسال اسمبلی میں تقریریں کرنے کے بعد ایک دن اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جناب اسپیکر میں یہاں اپنی قوم کے حقوق کے لیے آیا تھامگر یہاں تو ہر ممبر اپنے استحقاق کی ہی بات کرتاہے ،اور یہ کہتے ہوئے اپنے خون سے لکھا ہوااستعفیٰ اسپیکر کے حوالے کردیا،اور اسمبلی سے ننگے پاؤں یہ کہہ کرباہر نکل آئے کہ میری جوتیاں گواہ رہے گی کہ کوئی غریب کابچہ اپنی قوم کے حقوق کی جنگ لڑنے آیا تھااورننگے پاؤں اسمبلی سے چلاگیا،اور سیدھا لاہور پہنچا اور علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دیکر جو چادر چڑھائی اس پر لکھا تھا کہ علامہ صاحب میں نے آپ کے خودداری کے فلسفے پر عمل کیااور بہت سکون پایا، خداکاکرنا یہ ہوا کہ 10دن کے بعد یہ اسمبلی بھی ٹوٹ گئی ،اورپھر جب دوبارہ الیکشن ہوئے تو اس بار محترمہ بے نظیر نے جے سالک کو کہاکہ سالک صاحب اس بار آپ ہمارے ٹکٹ سے الیکشن لڑیں ،اس پر جے سالک نے کہاکہ میں نے اگر آپ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑاتو میں آپ کی پارٹی کا نمائندہ ہونگااپنی قوم کا نہیں ۔

اس پر محترمہ نے کہاکہ سالک صاحب آپ ہارجائینگے ۔تو جے سالک نے کہاکہ محترمہ مجھے آپ سے ہارنے میں خوشی ہوگی ۔مگر جب الیکشن کا رزلٹ آیاتوتیر کے نشان کے سات ہزار ووٹ تھے اور جے سالک کے 85ہزار چھ سو سے زائد ووٹ تھے اور اسی طرح آئی جے آئی کے سائیکل کے نشان کو بھی 68ووٹوں کی لیڈ سے ہرادیا۔اس انتخاب کے بعد نوازشریف اور بے نظیر دونوں کو ہی ووٹوں کی ضرورت تھی جے سالک نے فیصلہ کیا جو میرے گھر چل کر آئے گا،میں اپناووٹ اس کو دونگاجے سالک کا بنیادی مقصدمسیحی قوم کو عزت بخشناتھا،سب سے پہلے میاں شہباز شریف جے سالک کے گھر آئے مگر کسی وجہ سے بات نہ بن سکی اس کے بعد محترمہ کی سیکرٹری ناہید خان نے 4سے پانچ بار فون کیامگر جے سالک نے محترمہ بے نظیر کے فون کو ہی اٹھایا، ،محترمہ نے کہاکہ میں نے یوسف رضاگیلانی اور جہانگیر بد ر کو آپ کے پاس بھیج دیاہے جب تک میں نہیں آجاتی وہ وہی رہینگے۔محترمہ کے آنے کے بعد جے سالک نے حسب وعدہ اپنا ووٹ محترمہ بے نظیر کو دیااور وزیراعظم بننے کے تین ماہ بعد محترمہ بے نظیر نے جے سالک کو وفاقی وزیربنادیااور اس طرح وہ پاپولیشن کے منسٹربنے ،وفاقی وزیر بنتے ہی جے سالک نے خودپربے شمار پابندیاں لگادی خاکی لبا س پہننا شروع کردیا،اور گوشت تک کھانا چھوڑ دیا۔

اس سنھری دور میں جے سالک کی پہلی کامیابی یہ ہے کہ وہ سرکاری طورپر 1996میں کیبنٹ سے میرٹ پرنوبل پیس پرائز کے لیے نومینیٹ ہیں دوسری کامیا بی یہ ہے کہ ان کی امر یکا میں ایک کتاب چھپی ہے جو انگلش میں ہے جس کا نام ہے ( PEACE JOURNEY) جولیس سالک ۔یہ کتاب351صفحات پر مشتعمل ہے اور اس وقت Amazon)) پر بھی فروخت ہورہی ہے ۔ جے سالک کی ایک دلی خواہش یہ ہے کہ وہ پاکستان کو ایک پیس یونیورسٹی دے کر جاناچاہتے ہیں اور اسے پوپ جان پال کے نام سے منسلک کرناچاہتے ہیں جو اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں اور وفاق سے انسانی ہمدردی کی خدمات کے نتیجے میں خراج تحسین وصو ل کرچکے ہیں ،جے سالک کلر کہار میں اس یونیورسٹی کا قیام چایتے ہیں ،کیونکہ وہاں کچھ صدی قبل بہت خون ریزی ہوئی تھی ۔ اس یونیورسٹی کے قیام کے لیے آجکل جے سالک کو ایک ہمسفر کی ضرورت ہے اور ان دنوں وہ اسی کی تلاش میں سرکرداں ہیں اور جو بھی اس کامیاب اور عظیم لیڈر کا اس مشن میں ساتھ دینا چاہتاہے وہ اس نمبر پر ان سے رابطہ کرسکتاہے ۔0012672063433 ۔ آپ کی فیڈ بیک کا انتظار رہے گا۔

Rao Imran Suleman
Rao Imran Suleman

تحریر : راؤ عمران سلیمان

Share this:
Tags:
History pakistan political parties Poor successful پاکستان تاریخ سیاسی جماعتوں غریبوں کامیاب
Jerusalem
Previous Post قبلہ اول اور امت مسلمہ
Next Post آئی ایم ایف نے پاکستان کے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا
IMF

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close