Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سپریم کورٹ کا فیصلہ، خیر مقدم کرتے ہیں

December 13, 2013December 13, 2013 0 1 min read
Mohammad Asif Iqbal
Allah
Allah

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے”ان سے پوچھو، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں ؟”(الزُّمَر:٩)۔ مزید کہا کہ :”حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے ڈرتے ہیں”(فَاطِر:٢٨)۔معلوم ہوا کہ علم سے مراد فلسفہ و سائنس اور تاریخ و ریاضی وغیرہ درسی علوم نہیں ہی بلکہ صفات الہٰی کا علم ہے قطع نظر اس سے کہ آدمی خواندہ ہو یا نا خواندہ۔جو شخص خدا سے بے خوف ہے وہ علّامہ دہر بھی ہو تو اس علم کے لحاظ سے جاہل محض ہے۔ اور جو شخص خدا کی صفات کو جانتا ہے اور اس کی خشیت اپنے دل میں رکھتا ہے وہ اَن پڑھ بھی ہو تو ذی علم ہے۔علم کیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے کہ جس کو اگر حل کر لیا جائے تو پھر زندگی کا مقصد حل ہو جاتا ہے اور اگر اس کے جواب میں ترد ّداور تذبذب ہو۔

تامل و شک و شبہ ہو،اندیشہ خوف اور ڈر ہوتو پھر زندگی کا ہر کام ایک لا حاصل عمل ہوگا جو یقین و اعتمادپر نہیں بلکہ گمان،شک و شبہ اور وہم پر منحصر ہوگا۔نتیجتاً انسان کی فکر اس کا نظریہ اس کا عمل اور اس کی شخصیت سب کچھ مجروح ٹھہرے گی۔یہ معاملہ تو ایک انسان کا ہے لیکن اگر انسانوں کے گروہ اس پر عمل پیرا ہوں تو وہ گروہ کے گروہ اور وہ اجتماعیت مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہوگی۔وہ لوگ جو اس نظریہ اور فکرکے علمبر دار ہیںوہ خود بہ خود ایک عرصہ بعد ثابت کر دیں گے کہ ان کی بات میںوزن نہیں ۔ اور جس بات میں وزن نہ ہو اس کے پیش کرنے والوں کی نہ وقعت ہوتی ہے اور نہ ہی قدر ومنزلت۔کہا کہ:”اور لْوط کو ہم نے حکم اور علم بخشا اور اْسے اْس بستی سے بچا کر نکال دیا جو بدکاریاں کرتی تھی۔۔۔۔ درحقیقت وہ بڑی ہی بْری ، فاسق قوم تھی”(الانبیا:٧٤)۔”حکم اور علم بخشنا” بالعموم قرآن مجید میں نبوت عطا کرنے کا ہم معنی ہوتا ہے۔”حکم” سے مراد حکمت بھی ہے ، صحیح قوت فیصلہ بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سند حکمرانی (Authority) حاصل ہونا بھی۔ رہا ” علم” تو اس سے مراد وہ علم حق ہے جو وحی کے ذریعہ عطا کیا گیا ہو۔

قرآن کی روشنی میں یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ علم وہ ہے جو اللہ کے ذریعہ انبیا علیہ السلام کو حاصل ہوا اور جس میں ذرہ برابر کمی بیشی کیے بنا اللہ کے بندوں کو پہنچادیا گیا ہو۔اب جو حکمت ِ خداوندی سے محروم ہو، جس میں قوتِ فیصلہ نہ پایا جاتا ہو اور جس کے پاس “علم”ہی نہ ہو وہ کیونکر صحیح الدماغ ٹھہرے گا اور کیونکر وہ علم کی بنا پرصحیح فیصلہ کر سکے گا۔یہی وجہ رہی کہ جن لوگوں نے بھی “علم”کے بغیر مسائل کو حل کیا وہ نفسانی خواہشات کے علمبردار بن گئے۔پھرانھوں نے نفسانی خواہشات کی تشنگی کو دور کرنے کے لیے خواہشاتِ نفس کی اس قدر بندگی کی کہ وہ انسانوںکے زمرہ سے نکل کر حیوان ،اور بعض مواقع پر حیوانوں کو بھی شرمسار کر نے والے ٹھہرے۔ فی الوقت ہم اپنی بات کے پس منظر میں ہم جنس پرستی کے اُس اہم موضوع کو اٹھانا چاہتے ہیں جس کی زد میں آج بڑے پیمانہ پر نوجوان نسل گمراہی کا شکار ہو رہی ہے۔

ہم جنس پرستی پر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے: ہندوستانی تعزیرات کی دفعہ 377 کے تحت ایک ہی جنس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان جسمانی تعلقات کو جرم قرار دیا گیا ہے اور اس فعل کے لیے انہیں دس سال کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔دراصل دفعہ 377 تقریباً ڈیڑھ سو برس پرانا ایک قانون ہے جس کے تحت صرف مرد اور عورت کے درمیان روایتی اور مروجہ جنسی تعلق کو ہی جائز جنسی فعل مانا گیا ہے۔ جبکہ دوسر ے تمام طریقوں کو نہ صرف غیر فطری قرار دیا گیا ہے بلکہ انہیں غیرقانونی اور قابل سزا عمل کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔گزشتہ ہائی کورٹ فیصلہ جس میں ہم جنس پرستی اختیار کرنے والوں کو آزادی فراہم کی گئی تھی اور جس کے خلاف ہندو، عیسائی اور مسلم مذہبی تنظیموں نے چیلینج کیا تھا،سپریم کورٹ آف انڈیا نے اپنا رخ واضح کردیا ہے۔2009 میں ناز فائونڈیشن اور دیگر کی مفاد عامہ کی عرضی پر فیصلہ سنانے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ہم جنس پرستی کو تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے تحت جرم کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔

Indian Supreme Court
Indian Supreme Court

ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف مسٹر کوشل، مسٹر تراچی والا اور کئی دیگر غیر سرکاری اور مذہبی تنظیموں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔چار سالہ طویل مدت کے بعد سپریم کورٹ آف انڈیا نے ہائی کوٹ کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا جس میں اس نے باہمی رضا مندی سے ہم جنس پرستی کو جرم کے دائرہ سے باہر کردیا تھا۔سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ میں جسٹس سنگھوی نے فیصلہ کی تلخیص پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ ہم جنس پرستی کے تعلقات کو جرم کے دائرہ سے باہر رکھنے کے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو منسوخ کیا جاتا ہے۔ تاہم عدالت نے کہا کہ پارلیمنٹ متعلقہ دفعہ کو ہٹانے کے سلسلے میں کوئی قانونی فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہے۔عدالت نے کہا کہ پارلیمنٹ کو دفعہ 377 کو منسوخ کرنے کا اختیار ہے لیکن جب تک سزا سے متعلق یہ دفعہ موجود ہے، تب تک عدالت اس طرح کے جنسی تعلقات کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کرسکتی۔عدالت عظمی کے اس فیصلہ کے بعد اب ہم جنس پرستی ایک بار پھر جرم کے دائرہ میں آگئی ہے۔حالاں کہ ہم جنس پرستی کی حمایت کرنے والی تنظیموں نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی عرضداشت دائر کریں گے۔اس پورے واقعہ کے پس منظر میں غور فرمائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اور اِن جیسے تمام مطالبات حقیقت میں اس وقت ہی اٹھائے جاتے ہیں جب کہ” علم” کو پس پشت ڈالتے ہوئے غیر فطری خواہشات کو فوقیت دی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مطالبات ان لوگوں کی جانب سے اٹھائے جاتے ہیں جو عام طور پر پڑھے لکھے،دقیانوسی خیالات سے بالا تر اور روشن دماغ و روشن خیال تصور کیے جاتے ہیں۔اورجن کا دعویٰ ہے کہ” علم” کی تشکیل وحی کے بغیر ممکن ہے۔

علم کی تکمیل وحی کے بغیر ممکن ہے، ایک کھوکلا دعویٰ! 17 ویں اور 18 ویں صدی کے مفکرین نے مغرب میں برپا ہونے والے مذہب ]عیسائیت[ اور جدیدیت کی کشمکش کے دوران اس بات کا دعویٰ کیا کہ علم کی تشکیل وحی کے بغیر خالصتاً عقل کی بنیادوں پر کی جا سکتی ہے۔ اس دعوے کا اصل محرک وہ بے اطمینانی تھی جو ان مفکرین کومذہب عیسائیت کے ایمانیات سے تھی ۔یعنی انھیں مذہب سے یہ شکایت تھی کہ اس میں ایمان پہلے لایا جاتا ہے اور عقل کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ لہذا انھیں اس بات پر اصرار تھا کہ عقل کو بنیاد بنا کر ایک ایسے علم کی تعمیر کی جاسکتی ہے جو نہ صرف آفاقی ہوگا بلکہ ہر قسم کے ایمانیات، نظریات و مفروضات سے پاک بھی ہوگا۔اور اگر ایسا کرنا ممکن ہے تو پھر وحی کو علم کی بنیاد بنانے کی کوئی ضرورت نہیںہے۔لہذا انسان کو ہر قسم کی مذہبی جکڑبندیوں سے آزاد کرکے ایک ایسے برتر اور اعلیٰ مقصد کے حصول کی طرف گامزن کیا جانا چاہیے جو سب کی فلاح کا باعث ہو۔ اس کے لیے انھوں نے استقرائی نظریہ سائنس کی مدد لی۔استقرائی منطق کے نظریے کے مطابق سائنس کا آغاز مشاہدے سے ہوتا ہے، یعنی سائنس حصولِ علم کا ایسا طریقہ ہے جس میں مشاہدات کی بنیاد پر نظریات قائم کیے جاتے ہیں۔ ان مشاہدات کی بنیاد انسان کے حواس خمسہ پر ہے یعنی سماعت، بصارت، لمس، سونگھنا اور چکھنا۔

دعوی یہ ہے کہ ان حواس خمسہ سے حاصل ہونے والے مشاہدات کوبنیاد بنا کر آفاقی نوعیت کے نظریات قائم کرنا ممکن ہے۔لیکن جب ان بنیادوں پرمعاشرتی نظریات قائم کیے گئے تو وہ کھوکھلے ثابت ہوئے ۔یہی وجہ ہے کہ آج مغرب اور مغربی فکر کے علمبردار دنیا کے ہر حصے میں معاشرے کو صحیح رخ دینے میں ناکام رہے ہیںاور معاشرتی برائیاں بڑے پیمانہ پر پروان چڑھی ہیں۔ معاشرتی خرابیوں کا نتیجہ ہے کہ خاندان منتشرہوئے اور فرد اور معاشرہ اخلاقی زوال میں مبتلا ہو گیا۔نفس اور نفسانی خواہشات کو فوقیت دینے کا نتیجہ تھا کہ انسان کا ہر عمل اس کے مفاد کے گرد ہی ٹھہر کر رک گیا۔ محبت و ہمدردی اور احساس ذمہ داری کے رجحانات تبدیل ہو ئے اور دوسروں کے حقوق بڑے پیمانے پر پامال کیے گئے۔ پھر وہی چیز صحیح ٹھہری جس میں ایمانیات، عقائد، اور غیب پر ایمان کی نفی کی گئی تھی اور ان ہی چیزوں کو فروغ دیاگیا جس میں ذاتی غرض اور ذاتی مفاد کو اولیت دی گئی ہواور جس میں خواہشات ِ نفس کو تسکین مل جائے۔پھر جن لوگوں نے ذاتی مفاد کی خاطر مذہب سے دوری ایک مخصوص وقت اور حالات میں حاصل کی تھی اب ان کے درمیان ہی ہر فرد اپنی ذاتی غرض کو اولیت دینے لگا۔

India
India

رائے عامہ اور فرد کی ذاتی آزادی کو بنیاد بنا کر ۔۔۔۔۔۔جہاں بھی چند لوگ کسی خاص مطالبے کو لے کر اکھٹے ہو گئے انھوں نے قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے۔۔۔اپنے مخصوص مفاد کے لیے قوانین تبدیل کر والیے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج تک مغربی معاشرے میں جتنے انقلابات آئے وہ سارے معاشی انقلابات تھے جن کے پیچھے محرومیاں اور طبقاتی انتقام کارفرما تھے۔ ان معاشروں میں مادی آسائشیں اور سہولیات ضرور موجود ہیں مگر انسان کی تعلیم و تربیت میںروحانی تسکین اور تعمیر چونکہ عنقا ہے اسلئے وہ نت نئے جسمانی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوتے چلے جارہے ہیں۔ کارل مارکس، لینن اور فریڈرک اینجلز وغیرہ جیسے کمیونسٹ انقلابی مفکرین نے جب سرمایہ داریت کے چنگل سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈنا شروع کیا تو انہوں نے ایک نیا معاشی نظریہ دیا جس میں انفرادی ملکیت کے تصور کی نفی کی گئی ۔ معاشی مساوات پر مبنی یہ نظریہ چونکہ محروم المعیشت لوگوں کے دلوں کی آواز تھی اس لئے اسے بظاہر پذیرائی ملی اور اس کے نتیجے میں وہاں سوشلسٹ انقلاب بھی برپا ہو گیا لیکن منزل چونکہ معاشی ضرورت کی تکمیل تک محدود تھی اس لئے وہاں مذہب سے بغاوت نے لوگوں کو اللہ کے وجود کا منکر بھی بنادیا۔ صاف ظاہرہے جس معاشرے میں اللہ ہی نہ رہے وہاں الوہی اخلاقیات و قیودات کیسے بچ سکتی تھیں۔ چنانچہ خاندانی نظام یوں بکھرا کہ “عورت” ماں، بہن اور بیٹی کے تقدس سے بھی محروم ہوگئی۔ اور آج جو کچھ ہندوستان میں ہو رہا ہے اور جس میں ہر طبقہ کے افراد خواہشات نفس کے پیچھے سرکرداں ہیں وہ یہی ثابت کرتا ہے کہ الہامی ہدایات سے بے زار معاشرہ حد درجہ ذلت و پستی میں مبتلا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج چاہے وہ مذبہی گروہوں، سیاستداں ہوں، قانونی چارہ جوئی میں اور بظاہر عدل و انصاف کے قیام میں مصروف قانون و مقننہ کے افراد ہوں یا دیگر مختلف طبقہ حیات سے وابستہ ذمہ دار افراد، آج ان کی مثال اس بد ذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اْکھاڑ پھینکا جاتا ہے اور جس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے۔

اسلام نے مرد و عورت کو بڑے پیمانے پر حقوق فراہم کیے اور ساتھ ہی راہنمائی کی کہ نامحرم مرد و خواتین جائز حدود سے تجاوز نہ کریں۔پھر پاک بازاسلامی معاشرے کے قیام و استحکام کے لیے کہا کہ مرد اپنی نظروں کو نیچی رکھیں اور عورتیں حجاب اختیار کریں ساتھ ہی وہ مرد و خواتین جو بلو غت کو پہنچ چکے ہوں وہ شادی کر لیں۔ اس کے برخلاف مغربی مفکرین نے نا محرم عورت و مرد کے درمیان اسلامی تعلیمات کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے غیر اخلاقی بنیادوں پر ایک دوسرے کے درمیان نزدیکیاں پیدا کیں اور ساتھ ہی کھلے مواقع بھی اور اس کو انھوں نے “حقوقِ نسواں”کا نام دیا۔ایک طرف انھوں نے شادی کے معتبر رشتے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا تو دوسری طرف عورت کی عفت و عصمت پامال کرتے ہوئے اسے بے حجاب بنایا۔ اِس کے لیے انھوں نے “حقوقِ نسواں”کے اِس نام نہاد نعرے کی آڑ میں عورت کے ساتھ بے انتہا ظلم کیاہے۔کہیں اُسے مرد بنا کر نسائیت یا عورت پن سے محروم کر دیا۔ کہیں اُس پر معاش کا بوجھ ڈال دیاتو کہیں اُسے ایک شے یا product بنادیا۔ اللہ رب رحیم نے مرد و عورت کے پر جو ذمہ داریاں عائد کی تھیں وہ متاثر ہوئیں۔حاصل یہ کہ عورتیں اپنی ذمہ داریاں اور وہ اخلاقی معیار برقرار نہ رکھ سیکیں جو مطلوب تھا۔آج مغربی دنیا میں خاندانی نظام مکمل طور پر منتشر ہوچکا ہے اور اس کے راست اثرات معاشرتی زندگی پر نمودار ہوچکے ہیں۔

موجودہ مغربی معاشرے میں کروڑوں بچے ایسے ہیں جنہیں ماں باپ کی محبت کا کوئی تجربہ ہی نہیں۔ مغرب میں کروڑوں والدین ایسے ہیں جن کے لیے وہ خدمت ایک خواب ہے جو اولاد سے مخصوص ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مغربی معاشرے نفسیاتی اور جذباتی تسکین کے لیے ترس گئے ہیں اور طرح طرح کے نفسیاتی’ ذہنی اور جذباتی عوارض نے انہیں گھیر لیا ہے۔ یہی وہ نفسیاتی، جذباتی اور ذہنی دبائو ہے جس کی وجہ سے آج ان کے زیادہ تر فیصلے غلط رخ ہی اختیار کرتے ہیں۔ وہ جو فیصلہ بھی کرتے ہیں وہ ان کی اِس متذبذب زندگی کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ ایسے معاشرے اور ایسے اقتدار پذیر لوگوں سے مرعوب ہو کراگر کوئی اپنے گھر، خاندان اور بیوی بچوں کواُس رخ پر چلانے کا خواہاں ہو!تو وہ کیا کہلائے گا؟ کیا اُس شخص کا دماغی توازن برقرار کہلائے گا جس کے سامنے شواہد موجود ہوں اور پھر بھی نہ وہ اس کے منفی اثرات کودیکھ سکتا ہو اور ناہی محسوس کر سکتا ہو۔کیاایسے خبط الحواس لوگوں کی ہر معاملہ میں پیروی کی جانی چاہیے؟ اِن کے مطالبے ہم جنس پرستی کی بھی؟ نہیں، ہر گز نہیں اس کے برخلاف حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی ہم ستائش کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ عدلیہ مستقبل میں بھی صحیح فیصلوں پر قائم رہے گی۔

Mohammad Asif Iqbal
Mohammad Asif Iqbal

تحریر : محمد آصف اقبال، نئی دہلی
maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com

Share this:
Tags:
decision India Indian Supreme Court knowledge life Mohammad Asif Iqbal supreme court welcomed خیر مقدم زندگی علم فیصلہ ہائی کورٹ
Muhammad Furqan
Previous Post مہنگائی میں بے جا اضافہ
Next Post تعلیمی اداروں کا بحران
Mohammad Siddiq Madani

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close