
تحریر : شاہ بانو میر
سورة الکھف کا آغاز ہوچکاہے فیس بک پر روزانہ ایک رکوع انشاءاللہ لگے گا ـ اس سورة مبارک کی فضیلت اس کی اہمیت کیلیۓ یہی بات کافی ہے کہ جمعة المبارک کو اس کے پڑھنے کا حکم دیا گیا ـ اور اس کی ابتدائی آیات کو زبانی یاد کرنے والوں کیلیۓ بے شمار اجر و ثواب ہےـاس سورت میں ایک آیت مبارکہ ہے کہ ہر بات میں انشاءاللہ کہنا چاہیے کیونکہ یہود نے آپ سے اصحابِ کھف کی بابت پوچھا تو آپ نے انشاءاللہ کہے بغیر بتانے کا اقرار کیا ـ اللہ پاک کو یہ بات پسند نہ آئی اور آپﷺ پر وحی نازل نہ ہوئی کئی دن گزر گئے یہود آپ ﷺکو طنز کرتے باتیں کرتے ـ تب اس میں بتایا گیا کہ کوئی مستقبل کی بات کہنے کے ساتھ انشاءاللہ ( اللہ کی رضا) کہنا نہ بھولیں ـاس سورة مبارکہ کی جو بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے وہ ہے اس میں بے شمار واقعات ہیں ـ دل اور ذہن اگر خالی کر کے اللہ پاک کے ذکر سے منور کر کے آپ اس سورة مبارکہ کو پڑہیں ترجمے کے ساتھ تو سبحان اللہ کیا لطف آتا ہے
ابتداء میں بتایا گیا کہ یہ سورة اللہ پاک نے اپنے پیارے بندے اور نبیﷺ پر نازل کی جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں رکھی پھر اس میں بیان کیا گیا کہ جو لوگ اللہ اک کسی کو بیٹا بناتے ہیں وہ اور ان کے باپ دادا جھوٹ گھڑتے ہیں ـ اصل میں تو ہم نے یہ زمین آراستہ کی ہے تا کہ لوگوں کو ان کے اعمال کے ساتھ آزما سکیں اور آخر میں اس زمین کو پھر سادہ میدان بنا دیں گے ـ جیسا کہ اس سے پہلے تھی ـآپﷺ کو اسی سورة مبارکہ میں کہا گیا کہ آپ ان کی فکر میں کیا بیمار ہو جائیں گےـباقیات الصٰلحٰت نیک اولاد کا چھوڑ جانا ایسی عمارت جہاں پیسہ لگا ہو یا ایسی تحریر یا ذکر جو مرنے کے بعد جاری رہے ـ بہترین یہی نیکیاں ہیںـ
ایسے افراد کا ذکر جنہیں اللہ پاک نے جنت کی بجائے جہنم میں پھینکنا ہے جن کے کانوں پر پردہ ڈال دیا گیا انہیں جہنم کا وہ کھولتا ہوا تلچھٹ جیسا گاڑھے تیل سے جلا ہوا پانی دیا جائے گا استغفراللہ اس کے ساتھ ہی اُن لوگوں کا ذکر بڑی محبت سے کیا گیا جو روزِ آخرت پر یقین کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو اسلام کے عین مطابق گزار کر جنت کے حسیں باغوں اور تختوں پر جلوہ افروز ہوں گےـ سبق آموز سورة مبارکہ ہے آیت نمبر 17 میں بیان کر دیا گیا ہدایت اسی کو ملتی ہے جسے اللہ چاہے ـ اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کیلیۓ کوئی ولی اور مرشد نہیں پاؤ گے ـ اس میں سب سے پہلے اصحاب کھف کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو آج تک انسانی عقل سے ماوراء ہے کہ کیسے کتنی صدیاں چند نوجوان جو اپنے ملک کے لوگوں اور ان کے عقائد سے اور ظالم و جابر بادشاہ سے زچ تھے کیسے ذہنی بیچینی کو سکون دینے اور اللہ کی کھوج میں دور پہاڑوں پر جا چھپے
اللہ پاک نے اپنے معجزے میں ایک معجزہ اور دکھانے کیلئے انہیں کروٹیں بدلوا کر سورج کو ان پر براہ راست آنے سے منع فرما دیا غار کے باہر ان کا کتا سویا ہوا تھا اور اندر یہ نجانے کتنے سو سال بعد یہ جاگے تو نہیں جا نتے تھے کہ کئی دور بدل چکے لباس زبان ماحول ایک کو چاندی کے سکے دے کر بازار بھیجا جاتا ہے کہ جاؤ اور جا کر اچھا سا کھانا لاؤ وہ بازار جاتا ہے تو گویا کوئی عجوبہ ہو لباس اور زبان اس کو ان کے درمیان عجیب دکھا رہی تھیـ لوگوں کو جب سمجھ آئی کہ یہ تو انہی ساتھیوں میں ایک نوجوان ہے جو کئی صدیاں پہلے کہیں کھو گئے تھے تو جوق در جوق لوگ ان کے گرد اکٹھے ہونے لگے یہ گھبرا کر واپس پلٹے اور ساتھیوں کو حقیقتِ حال بتائی ـان لوگوں کے سامنے حقیقت آشکار ہوتے ہی اللہ کے اذِن سے ان کی روحیں قفسِ عنصری کی جانب پرواز کر گئیں
یوں ایسا ثبوت سب نے دیکھا جو اللہ کے سوا کسی کیلیۓ ممکن نہیں ـاس کے بعد اللہ پاک گناہ گاروں کیلیۓ جہنم کے عذاب سے ڈراتے ہیں اور جنت کے حقداروں کے انعامات کا ذکر کرتے ہیںـاس کے بعد دنیا میں عطا کی جانے والی دولت پر اکڑنے والے اور اولاد میں بیٹوں پر مان کرنے والے جب یہ سمجھ لیتے کہ یہ سب ان کیلیۓ ہمیشہ کیلیۓ ہے ایسے شخص کا قصہ ہے جو اپنے جیسے ایک انسان کو خود سے کمتر جانتا ہے اور عذاب الہیٰ نازل ہوتا ہے کہ اس کا مال و اسباب تباہ و برباد ہو جاتا ہے ـاس کے بعد اس میں حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے غلام جو ان کے ساتھی بھی تھے
ان کا واقعہ منقول ہے کہ وہ سفر پے اللہ کی قدرت کھوجنے نکلے تو راستے میں ان کے کھانے والی مچھلی کیسے توشہ دان سے نکل کر دریا میں چلی گئیـ غلام سے کھانے کے وقت جب کھانا مانگا تو اس نے بیان کیا کہ وہ تو شیطان نے میرا دھیان ہٹا دیا تو وہ دریا میں چلی گئی ـیہی وہ مقام تھا جو موسیٰ کو چاہیے تھا واپس اسی جگہہ پہنچے جہاں مچھلی دریا میں گئی اور وہاں انہیں اللہ کے خاص مقرب بندے حضرت خضر ؑ ملے ـ آپ جان گئے کہ باوجود نبی ہونے کے انہیں اللہ کے ہاں سے علم زیادہ ودیعت کیا گیا ہےـ
آپ نے ان سے درخواست کی وہ آپکو ہمراہ رکھیں وہ انکار کرتے رہے کہ آپ صبر نہیں کر پائیں گے ـ کیونکہ میرے پاس غیب کے علوم ہیں ـ لیکن موسیٰ مُضر رہے اور آخر کار وہ اس شرط پر مانے کہ آپ سوال نہیں کریں گے ـیہ لوگ چلتے چلتے ایک کشتی میں سوار ہو کر دریا کی دوسری جانب جانے لگے یہ کشتی دو یتیم نوجوان بچوں کی تھی ـاچانک ان صاحب نے اُس کشتی کو بدنما بنا دیا اور اس میں ایک جانب سوراخ کر دیا
حضرت موسیٰ کو شدید تعجب ہوا اور بولے آپ نے یہ بہت بری حرکت کی ـ انہوں نے کہا میں نے کہا تھا ناں کہ تم صبر نہیں کر سکو گے لیکن حضرت موسیؑ نے معذرت طلب کی اور ساتھ رہنے پر اصرار کیا ـ اس کے بعد یہ لوگ ایک بستی میں داخل ہوئے وہاں ایک لڑکا دیکھا اور انہوں نے اُسے مار دیا ـ موسیٰ ؑ پھر صبر نہ کر سکے اور بولے کہ آپ بہت غلط کیا ـ پھر آگے بڑھے اور ایک بستی آئی جس کے لوگوں نے ان کی ضیافت سے انکار کیا
وہاں سے گزرتے ہوئے انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرنا چاہتی تھی انہوں نے اس دیوار کو درست کیا اور مرمت کر دی موسیٰ ؑ کہنے لگے یہ آپ نے عجیب کام کیا حضرت خضر بولے کیا بولے اس کیلئے اگلی بار کا انتظار کیجئے
تحریر : شاہ بانو میر
