Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سیدة خدیجہ الکبری حصہ دوئم

August 25, 2015 0 1 min read
Hazrat e Khadiah
Hazrat e Khadiah
Hazrat e Khadiah

تحریر : ڈاکٹر سید علی عباس شاہ
آمنہ کے لعل نے سن ِدنیا کے پچیسویںبرس میں قدم رکھا۔شفیق تایا سیدنا ابو طالب کی دلی تمنا تھی کہ میرے عزیز بھتیجے کا گھر آباد ہو جائے۔جہاں دیدہ سردار ِبطحا کی ایمانی نگاہیں ،سیدہ ،طاہرہ، مَلِیْکَةُالْعَرَبْ کے علاوہ کسی کو پسند نہ فرماتیں۔ سیدہ طاہرہ حیات فانی کے اٹھائیسویںبرس میںتھیں۔ شام کے سفر تجارت سے واپسی پر دوسرے دن سیدالمرسلین ۖ، قصر خدیجہ تشریف لے گئے۔باتوں باتوں میںمخدومہء عرب نے فرمایا؛” میرے سردار!اگر آپ کی مرضی ہو تو میںنے آپ کے لیے ایک اچھی سی عورت پسند اور منتخب کی ہے ۔وہ مکہ ہی کی ہے،آپ کی قوم سے ہے،بڑی مالدار ہے، صاحب ِحسن و جمال ہے اور کمالات کی بلندیوں پر فائز ہے۔بڑی عفیفہ اور بے حد سخی ہے۔حیا دار اور طاہرہ ہے۔نسب میں وہ آپ سے بہت زیادہ قریب ہے۔اس کی وجہ سے سارے سلاطین اور رئوسائے عرب آپ سے حسد کرنے لگیں گے”۔ سید المرسلین ۖنے وضاحت طلب فرمائی تو بے انتہا خلوص و محبت سے فرمایا،” ھِیَ مَمْلُوْکَتِکَ خُدَیْجَةْ ””آپ کی وہ کنیز یہ خدیجہ ہے۔بخدا آپ میرے حبیب ہیں۔میں آپ کے احکام کی کبھی مخالفت نہیں کروں گی”۔اس کے بعد آپ نے شان رسالت میں نعت گوئی کی ؛ فَاحْکُمْ بمَاشِئْتَ وَمَاتَرْضیٰ فَالْقَلْبُ مٰایُرْضِیْہِ اِلَّارضٰاکَ پس حکم دیجئے آپ جو چاہتے ہیں ۔میرا دل سوائے آپ کی رضا کے کہیں اور راضی نہیں ہو گا

یہ سننے کے بعد پیغمبر اعظم ۖنے سر جھکا لیا دریائے سکوت میں غوطہ زن ہوگئے ۔آپ کی منور پیشانی پرشرم وحیا کے نورانی قطرے ظاہر ہوئے ۔آپ نے گہرے سکوت کے بعد فرمایا،”میرے چچاکی بیٹی!تم مالدار اور صاحب ثروت و جائیداد عورت ہواورمیرے پاس تو جو تم نے دیا ہے اس کے علاوہ مال دنیا سے کچھ بھی نہیںہے۔مجھے تو میری ہی طرح کی عورت چاہئے جس کا حال میرے ہی جیسا اور جس کے پاس مال بھی میرے ہی جتنا ہواور آپ تو ایک شہزادی ہیں۔بہتر ہے کہ آپ کا شوہر کوئی بادشاہ اور صاحب ِتخت و تاج ہو نہ کہ مجھ جیسا تنگدست”۔مخدومہ پاک نے فرمایا،”اگر آپ کے پاس مال کم ہے تو میرے پاس بہت زیادہ ہے اور جب میں آپ کی ہو چکی تو میرا سب کچھ آپ کا ہے ۔میں،میرا مال، میرے نوکر چاکراور جو کچھ میرے پاس آپ دیکھ رہے ہیں، یہ سب کچھ آپ کا ہے”۔
آپ فرماتی ہیں ؛
دَنیٰ فَرَمیٰ مِنْ قَوْس حٰاجبہِ سَھْماً
فَصٰادِفَنِیْ حَتّٰی قُتِلْتُ بہِ ظُلْماً
وَ اَسْفَرَ عَنْ وَجْہٍ وَ اَسْبَلَ شَعْرُہُ
فَبٰاتَ یُبَاھِی الْبَدْرُفِیْ لَیْلَةٍٍظُلْماً

قریب ہوئے اور اپنی نگاہوں کی کمان سے ایک تیر پھینکاجس کے نشانے کی شدت نے مجھے گھائل کردیا چہرئہ انوربے نقاب ہوا !! زلفیں شانوں پہ بکھیریں توشب ِظلمت میں بدرِکامل اترانے لگامشاورت اعمام سید المرسلین ۖوہاں سے اٹھے اور شفیق چچا سیدنا ابو طالب کے پاس آئے اور پوری سرگزشت بیان کی ۔ابو لہب نے شدید مخالفت کی اور سیدنا ابو طالب کو رائے دی کہ آپ ایسی غلطی ہر گز نہ کیجئے گا ،محمد کسی طرح خدیجہ کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ابو لہب کی اس رائے پر جناب عباسکو بے حد غصہ آیااور ابو لہب کو ذلیل و رزیل کہااور رائے دی کہ خدیجہ کا عندیہ معلوم کیا جائے۔سیدنا ابو طالب نے اپنی ہمشیر ہ معظمہ سیدہ صفیہ کو روانہ فرمایا۔سیدہ خدیجہ نے حضرت صفیہ کی بڑی آئو بھگت اور عزت کی ۔انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے دروازے پر تشریف لائیں ۔اسی دوران آپ کا پائوں لباس کے ساتھ اٹکا اور وہ لرز اٹھیں ۔قریب تھا کہ گر جاتیں لیکن سنبھل گئیں ۔بے ساختہ فرمایا؛” لاَاَفْلَحَ مَنْ عَادَاکَ یَامُحَمَّدْ” ،”یا محمد ۖ!جس کسی نے آپ سے عداوت رکھی وہ کبھی کامیاب نہ ہوسکے گا”۔سیدہ صفیہ نے یہ بات سنی تو اسے نیک فال تصور کرتے وصل ِخیر کی خوشخبری قرار دیا۔سیدہ خدیجہ آپ کو انتہائی ادب واحترام سے قصر عالیہ میں لے کر آئیں خاطر مدارت کے بعد گلے لگا کر فرمایا؛”یَاصَفِیَّة!باللّٰہِ عَلَیْکِ اِلّااَعِنْتِیْنِیْ عَلیٰ وصَالِ مُحَمَّدْ” ،”اے صفیہ !خدا کے لیے !آپ پر لازم ہے کہ وصال ِمحمدۖ میں میری مدد فرمائیں ”۔سیدہ صفیہ نے جواب دیا،”میں یہ کام ضرور کروں گی ”۔

Hazrat e Khadijah
Hazrat e Khadijah

جناب صفیہ جس مقصد کے لیے گئی تھیں کامیاب رہیں۔سیدہ خدیجہ نے اقرار فرمایا کہ میں نے آپ کے بھتیجے کو اپنے لیے منتخب کر لیا ہے۔جب حضرت صفیہ رخصت ہو کر چلیں تو ان کو شہزادیِ عرب نے ایک خلعت فاخرہ پیش کیا۔جناب صفیہ خوش خوش آئیںاور سب کو خوشخبری سنائی ۔اس کے بعد سیدنا ابو طالب ،ہاشمی دانشمندوں اور نوجوانوں کے ہمراہ سیدہ خدیجہ کے مکان پر آئے اور رشتہ طے ہو گیا۔ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَان بے پناہ خوشیاں اور لازوال مسرتیں لیے دس ربیع الاول کی صبح نورطلوع ہوئی ۔خاتم الانبیا کو جان سے بڑھ کر چاہنے والے چچا ابو طالب نے اپنے دست مبارک سے دولہا بنایا۔نوشہ اسلام کوخلیل خدا کا پیرہن پہنایا گیا۔دوش اطہرپر حضرت الیاس کی ردا ڈالی گئی ۔سر اقدس پر سیاہ ہاشمی عمامہ سجایا گیا۔سیدناعبدالمطلب کی نعلین پائے اقدس کی زینت بنیں۔ عصائے شعیب دست مبارک میں لیا۔سبز عقیق کی انگشتری ، انگشت نبوی میں سجائی گئی۔ سرداران ِقریش،بزرگان ِمکہ،دانشمندان ِبطحا،سادات اور نوجوانان ِبنی ہاشم برہنہ شمشیریں علم کیے باوقار انداز میں سرتاج انبیا کو اپنے حلقہ میں لیے ،شہزادی عرب کے محل کی جانب روانہ ہوئے۔ بارات ِنبوت پر رحمت ِالٰہی سایہ فگن تھی۔کہکشائیں نثار ہو رہی تھیں۔بہاریں پھول برسا رہی تھیں۔ارواح انبیا مسرور و شادماں تھیں۔ملائک فرط مسرت سے جھوم رہے تھے۔ ہزارہا مسرتوں اور دعائوں کے سائے میں سیدالمرسلین ۖکے باراتی آہستہ آہستہ،سکون و اطمینان اور وقار و عظمت کے ساتھ منزل سے قریب تر ہو رہے تھے۔

ادھر شہزادی عرب نے بے حد و حساب مومی شمعوںاور فانوسوں،زرو جواہراور مختلف رنگ کے پردوں اور فرشوں سے اپنے محل کو جنت ِارضی میں تبدیل کر دیا تھا۔کئی قسم کاچراغاں کیا۔ غلاموں اور کنیزوں کو مختلف اللون حریر و دیبا کے کپڑوں سے آراستہ کیا۔ہر ایک کو قیمتی پوشاکوں اور خلعتوں کے پہننے کا حکم دیا۔کنیزوں کے سر کے بالوں کو لوء لوء و مرجان سے آراستہ کیا ۔سونے کے ہار جن میں نگینے اور جواہر لگے تھے ان کو پہنائے گئے ۔ام المومنین کا الٰہی و قرآنی خطاب حاصل کرنے والی دلہن بہترین منقش لباس میں ملبوس تھیں۔سر اقدس پرسونے کا تاج تھا جس میں مختلف النوع موتی اور جواہر جڑے تھے اور آپ بے پناہ زیورات سے آراستہ و پیراستہ تھیں۔پائے اقدس میںانتہائی قیمتی سونے کے خلخال تھے جس میں جا بجا بے حد و بے انتہا فیروزے اور یاقوت جڑے ہوئے تھے۔آپ نے طائف کے معروف ہنر مندوں کو دعوت دی کہ وہ آکر جشن کی رونقیں دوبالا کریں۔

عنبر وعطر کے چھڑکائو کے ساتھ راستوں کو پھولوں سے سجایاگیا۔ بارات جب جناب خدیجہ کے دروازے پرپہنچی تو آپ کا آستانہ بقعہء نور بن کر آنے والے مہمانوں کا پرتپاک خیر مقدم کر رہا تھا۔معززمہمانوں کی ضیافت کے لیے مختلف قسم کے کھانوں ،میوہ جات اور مشروبات کا انتظام کیا گیا تھا۔بے شمار زرنگار کرسیاںبچھائی گئی تھیں۔معزز اور باوقار سرداروں کے لیے چند کرسیاں قدرے بلندی پر رکھی گئی تھیںاور ایک بہت ہی قیمتی کرسی سب سے بلندی پر رکھی گئی تھی۔جب کاروان ِسادات ِبنی ہاشم اور معززین ِشہر شہزادی ِعرب کے جگمگاتے محل کے سامنے پہنچا تو اس وقت جناب عباس و جناب حمزہ شمشیریں علم کیے پیغمبر اعظم ۖکے دائیںبائیںچل رہے تھے۔ بارات پہنچی تو ابوجہل سب سے بلند کرسی کی طرف بڑھا اور وہاں بیٹھنا چاہا۔سیدہ خدیجہ کے غلام میسرہ نے روکا اور وہاں نہ بیٹھنے دیا۔زراہِ تکبر وہ بدبخت ،سرور ِکونین ۖ کی بھی تعظیم و تکریم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ بات بڑھ گئی اور سیدنا حمزہ نے اٹھا کر کرسی سے زمین پر پٹخنا چاہا۔دیگر حضرات کے آنے پر معاملہ رک گیامگر تھوڑی سی ہاتھا پائی کے دوران ہی میں ابوجہل زخمی ہو چکا تھا۔

Hazrate Khadijah
Hazrate Khadijah

مہمانوں کا شاندار استقبال کیا گیا۔پرتکلف میو ہ جات اور مشروبات سے ان کی تواضح کی گئی ۔تھوڑی ہی دیر بعد پرسکون مجمع میں ایک آواز بلند ہوئی؛ ”اللہ کی قسم !آسمان نے سایہ نہیںکیا اور زمین نے بوجھ نہیںاٹھایاکسی کا جو محمد سے افضل ہو ۔اس لیے میںنے اپنی بچی کا شوہر قرار دینے اور ہمسر بنانے کے لیے ان ہی کو پسند کیا ہے،پس تم لوگ اس پر گواہ رہو”۔یہ آواز سیدہ خدیجہ کے چچا عمروْبن اسد کی تھی۔ا س کے بعد سردارِ مکہ سیدنا ابوطالب خطبہء عقد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا؛اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلْنَا مِنْ ذُرِّےَّةِ اِبْرَاہِیْمَ وَذَرْعِ اِسْمَاعِیْلَ وَضِئضِئی مَعْدَوَ عُنْصُرِ مَضَرِِوَجَعَلْنَاحَضَنَةَبَیْتِہِ وَسَوَّاسَ حَرْمِہِ وَجَعَل لَنَا بَیْتََا مَحْجُئوجا َوَحَرَمََا اٰمِنَا وَجَعَلَنَا الْحُکَّامَ عَلَی النّاسِ۔ ثُمَّ اِنَّ اِبْنَ اَخِیْ ھٰذَامُحَمَّدُ اِبْنُ عَبْدِ اللّٰہ ۖلَا ےُئوْ زَنُ بِرَجُلِِ اِلَّارَجَحَ بَہِ وَاِنْ کَانَ فِیْ الْمَالِ قَلَّا وَاِنَّ الْمَالَ ظِلّ ُُُ زَائِلُُ وَاَمْرَ حَائِلُ وَمُحَمَّدُُ مَنْ قَدْ عَرَفْتُمْ قَرَابَتُہُ وَ قَدْ خَطَبَ خَدِیْجَةَ بِنْتَ خُوَیْلَدِِ۔وَ قَدْ بَذَلَ لَھَا مِنْ الصِّدَاقِ مَاٰاَجَلَہُ مِنْ مَالِیْ اِِثْنَا عَشَرَةَ اَوْقِےَةَذَھَبَا۔ وَنَشَاء َوَ ھُوَوَاللّٰہِ بَعْدَ ھٰذَالَہُ نَبَائُُ عَظِیْمُ وَخَطَرُُجَلِیْلُُ جَسِیْمْ۔ ”سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں حضرت ابراہیم کی اولاد سے، حضرت اسماعیل کی کھیتی سے ،معد کی نسل سے اور مضر کی اصل سے پیدا فرمایا۔نیز ہمیں اپنے گھر کا پاسبان اور اپنے حرم کا منتظم مقرر فرمایا،ہمیں ایسا گھر دیاجس کا حج کیا جاتا ہے اور ایسا حرم بخشا جہاں امن میسر آتا ہے۔نیز ہمیں لوگوں کا حکمران مقررفرمایا۔حمد کے بعد ،میرے برادرزادے جن کا اسم گرامی محمدۖ ابن عبداللہ ہے،ان کا دنیا کے بڑے سے بڑے آدمی کے ساتھ موازنہ کیا جائے گا تو ان کا پلڑا پھر بھی بھاری ہو گا۔

اگر قلت ِمال ہے تو کیا ہوا،مال تو ایک ڈھلتی چھائوں ہے ا ور بدل جانے والی چیز ہے اور محمد ۖ(جن کی قرابت کو تم جانتے ہو) نے خدیجہ بنت خویلد کا رشتہ طلب کیا ہے اور بارہ اوقیہ سونا مہر مقرر کیا ہے۔اور اللہ کی قسم !!مستقبل میں ان کی شان بہت بلند ہو گی،ان کی قدر ومنزلت بہت جلیل ہو گی”۔پھرفرمایا؛” اِنَّ اِبْنَ اَخِیْنَا خَاطِبکَریْمَتَکُمْ الْمَوْصُوْفَةُ بالْسَّخَائِ وَالْعِفَّةِوَھِیَ فَتَاتُکُمُ الْمَعْرُوْفَةُالْمَذْکُوْرَةُ فَضْلُھَاالْشَّامِخُ خَطْبِھَا ” اے دختر نیک،سخی وباعفت !!ہمارے برادرزادے آپ کے خواستگارہیں۔ان کے خواستگار ہیں جو بلند مقام خاتون ہیں جو تمہارے درمیان مشہور ومعروف ہیں ، جن کی سخاوت اور فضل لوگو ں کی زبان پر ہے اور جن کی شان نمایاں اور عظیم ہے ۔ جمال الدین محدث شیرازی،شاہ ِسمرقندی اور دیگر مورخین نے لکھا ہے کہ سیدنا ابو طالب نے مہرمئوجل میں بیس اونٹ،پانچ سو درہم،چار سو دیناراور چار سو مثقال سونا پیش کیا۔اس کے بعد عالم کتب سماوی ورقہ بن نوفل نے سیدہ خدیجہ الکبریٰ کی طرف سے خطبہ عقد پڑھااور فضائل و کمالات ِبنی ہاشم کا اعتراف فرما یا اور عقد مبارک کی تقریب انجام پذیر ہوئی۔اس مبارک موقع پر جنتیںسجائی گئیں، حور و غلماں آراستہ ہوئے ،بہشتی دروازے کھول دیے گئے ،شجرہء طوبیٰ سے زروجواہر لٹائے گئے۔ملائک سجدہ ریز تھے۔زمین سے لے کر آسمان تک کی چیزوں کو زینت دی گئی اورخصوصی حکم الٰہی سے جبرائیل امین نے خانہ کعبہ پر لوائے حمد لہرایا۔پھر فضا میں آواز گونجی؛ ” اِنَّ اللّٰہَ قَدْزَوْج اَلْطَّاہِرُبالْطَّاہِرَةْ وَالْصَّادِقُ بالْصَّادِقَةْ ”، اللہ نے طاہر کو طاہرہ اور صادق کو صادقہ سے بیاہ دیا۔اس بزم رنگ و نور کے لیے منجانب اللہ فرحت بخش انتظام یہ کیا گیا تھا کہ پروردگار ِعالم نے جبرئیل امیں کو حکم دیا کہ تمام حاضرین ِمحفل پر خوشبوئوں کی بارش کی جائے ۔جبرئیل نے حکم بجالاتے مشک وعنبر کو پہاڑوں اور مکہ کے گھروں اور راستوں پربرسادیاجس سے مکہ کی پوری فضا مہک گئی اور ہر زباں سے نکلا، ” ھٰذَا مِنْ طَیّبِ خُدَیْجَةُوَمُحَمَّدٍ”،”یہ خدیجہ ومحمد کے عقد کی خوشبو ہے ‘۔

محفل عقد کے اختتام پر تمام دوسرے لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے اور مرسل اعظم ۖاپنے چاہنے والے چچائوں کے ہمراہ خانہء ابوطالب میں تشریف لائے۔اس پرمسرت موقع پر سب مسرور تھے مگر سیدنا ابو طالب سب سے بڑھ کر مسرور و شادمان تھے۔آپ کے لب اقدس سے بار بار شکر الٰہی ادا ہو رہا تھا ۔آپ نے کئی مرتبہ آسمان کی طرف رخ کر کے فرمایا، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنَّاالْکُرُوْبَ وَدَفَعَ عَنَّا الْھُمُوْم۔آپ بے پناہ مسرور وشاداں تھے۔آپ کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے اور آپ بار بار شکر خدا ادا فرماتے تھے۔آپ کی خوشی کے ساتھ سیدنا حمزہ بھی خوش تھے اور انہوں نے حضور ۖپربے حساب درہم و دینار نچھاور کیے۔

Hazrat e Khadijah
Hazrat e Khadijah

ولیمہء خیر الوریٰ
شادی کی پرمسرت تقریب سے فارغ ہونے کے بعد سیدنا ابو طالب نے دعوت ولیمہ کا انتظام فرمایااور اس میں مکہ کے عظیم سردار نے اپنی سروری کے شایان شان انتظامات فرمائے اور پورے مکہ کو مدعو کیا۔خود سرتاجِ خدیجہ بنفس نفیس مہمانوں کا خیر مقدم کر رہے تھے۔دعوت ولیمہ کے جملہ انتظامات صغیرہ و کبیرہ کی نگرانی فرماتے رہے۔آپ کے ساتھ تمام چچا اور ہاشمی و مطلبی نوجوان دعوت ِولیمہ کے انتظامات میں سرگرم رہے۔یہ مبارک دعوت تین دن تک روز و شب جاری رہی اور اس مقدس رسم کا آغاز ہواجو آج تک اہل اسلام میں رائج ہے۔سیدنا محمد مصطفٰی ۖاور سیدہ خدیجہ الکبریٰ کے مبارک عقد کے موقع پر سیدنا ابو طالب نے دعوت ِولیمہ کا آغاز کیا اور دستر خوان بچھایا۔سیدہ خدیجہ الکبریٰ نے دعوتوں کا سلسلہ شروع کیا اور سرداران عرب اور بادشاہان وقت کو دیدار مصطفٰیۖ کے لیے مدعو کیا ۔آپ کی دعوتوں کے منتظم اعلیٰ ،آپ کے چچا جناب عمروْبن اسد تھے۔آپ کے حکم پر لنگر خانے جاری کیے گئے جس میں نہ صرف مکہ بلکہ بیرون مکہ کے تمام غربا،فقرا،مساکین،محتاج و گداگروں کو مالی ،معاشی اور ہر ممکن امداد کے علاوہ،لباس و خوراک کے تحائف وسیع پیمانے پر عنایت کیے گئے یہاں تک کہ مکہ اور اطراف و جوانب میں کوئی حاجت مند ایسا نہ تھا جو مطمئن نہ ہو گیا ہو۔شہزادیِ اسلام نے دل کھول کر بیوائوں،یتیموںاور غریبوں کے گھروں کو ضروریات زندگی کی اشیا سے بھر دیا۔یہ سلسلہ تحائف اور اس پرمسرت موقع کی تقریبات چھ ماہ جاری رہیں۔

قصر خدیجہ خانہء نبوت
محافل عروس کے بعد سیدنا محمد ۖنے خانہء ابوطالب میں قیام کا ارادہ ظاہر فرمایا تو ام المومنین نے کمال موَدَّت وعقیدت سے عرض کی ؛” اِلیٰ بَیْتِکَ فَبَیْتِیْ بَیْتُکَ وَاَنَا جٰاریَتُکَ”، ”میرے سردار!اپنے گھر تشریف لے چلیںکہ میرا گھر آپ کا گھرہے اور میں تو بس آپ کی کنیز ہوں ”۔
تیرے در کی گداگر ہوں یہ سارا مال و زر تیرا
میں خود تیری یہ گھر تیرا ، یہ در تیرا یہ سر تیرا
تمہارے پائے اقدس پر میری سو جان قرباں ہے
میرے ایمان کے وارث! میرا ایمان قرباں ہے
شادی کے تیسرے دن سیدالمرسلین ۖسیدناابوطالب اور دوسرے اعمام اور نوجوانان بنی ہاشم کے حلقہ میںشہزادیِ عرب اور ام المومنین خدیجہ الکبریٰ کے قصر نور کی جانب روانہ ہوئے۔وہاں پہنچے تو آپ کے پیارے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب نے یہ قصیدہ پیش کیا؛

اِبْشِرُوْابالْمَوَاھِبْ
یَاآلَ فَھْر ٍوَغَالِبْ
اے قریش و آل غالب ، تمہیں عنایات کی بشارت ہو۔
اِفْخُرُوْایَاآلَ قَوْمِنَا
بِالْثَّنَائِ وَالْرَّغَائِبْ
اے میری قوم و قبیلہ والو! ثنائے جمیل اور بے حساب عنایات پر فخر کرو۔
شَاع فِیْ الْنَّاس فَضْلُکُمْ
وَعُلیً فِیْ الْمَرَاتِبْ
لوگو! تمہارا فضل و شرف اور بلندیِ مراتب زمانے میں معروف ہیں۔
قَدْ فَخَرْتُمْ بِاَحْمَدٍۖ
زَیْنَ کُلّ الْطَّایبْ
تم سب افتخار بن گئے احمد ۖکے دم سے ، جو زینت ہیںہر طیب و طاہر کے لیے۔
فَھُوَ کَالْبَدْرُ نُوْرَہُ
مَشْرقُ غَیْرَغَائِبْ
ان کا نور چودہویں رات کے چاند کی مانند ہے جو ہمیشہ روشنی پھیلاتا رہتا ہے۔
قَدْ ظَفَرَتْ خُدَیْجَةْ
بجَلِیْل ِالْمَوَاہبْ
اے خدیجہ! آپ کامیاب ہوئیں، بڑی جلیل و عظیم عطائوں کے ساتھ۔
بفَتٰی ھَاشِمَ الَّذِیْ
مَا لَہُ مِنْ مَنَاصِبْ
اس ہاشمی جوانمرد کے ذریعہ جو بڑے بڑے مراتب پر فائز ہے۔
جَمْعَ اللّٰہُ شَمْلَکُمْ
فَھُوَ رَبُّ الْمَطَالِبْ
خدا نے ان کے ذریعہ تمہاری جماعت کو اجتماع کی توفیق عطا کی ،پس وہی تمام مطالب کاپروردگار ہے۔
اَحْمَد سَیّدُ الْوَریٰ
خَیْرَ مَاشَ وَرَاکِبْ
احمدۖ سردارِ خلائق ہیں جو ہر پیادہ و سوار سے بہتر و افضل ہیں۔
فَعَلَیْہِ الْصَّلوٰةُ مَا
سَا رَعِیْسُ برَاکِبْ

Hazrat e Khadijah
Hazrat e Khadijah

ان پر لگاتار درود و سلام ہوتا رہے ، جب تک سواریوں پر سوار چلتے رہتے ہیں۔ْ اس قصیدہ مبارکہ کے دوران مکہ کے درو دیوار سے تحسین و آفرین کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔سیدہ خدیجہ الکبریٰ نے سن کر فرمایا؛ اِعْلَمُوْا اَنَّ شَانَ مُحَمَّد ۖعَظِیْم وَفَضْلُہُ عَمِیْم وَجُوْدُہُ جَسِیْم،جان لوکہ محمد ۖ کی شان بہت بلند و برتر ہے اور ان کا فضل ہر کسی کے لیے عام ہے،ان کی سخاوت بڑی عظیم ہے ۔اس کے بعد آپ نے حاضر مستورات پر مال وخوشبو نچھاور کرنے کا حکم دیا۔ آپ کے چہرئہ اقدس سے ایسا نور ساطع ہو رہا تھا کہ جس سے چراغوں اور شمعوں کی روشنی ماند پڑگئی ۔آپ کے منور چہرہ سے نکلنے والی نوری کرنیں دیکھ کر ہاشمی و مطلبی مستورات کو بے حد تعجب ہوااور انہوں نے کہا کہ یہ رسول اللہ کا فضل و شرف اور عطیہ الٰہی ہے۔ سیدہ خدیجہ نے اس موقع پر بے انتہا قیمتی لباس فاخرہ زیب فرمایا۔سر انورسے پائے اطہر تک سونے کے زیورات پہنے تھیںجن میں مختلف انواع و اقسام کے رنگ برنگے قیمتی موتی ، یاقوت، فیروزہ و پکھراج وغیرہ جڑے تھے۔سر مبارک پر نہایت قیمتی تاج تھا۔

آپ نے ایک تاج خصوصی طور پر سرور کائنات ۖکے لیے بھی تیار کرایا تھا جو آپ ۖ کی خدمت عالیہ میں پیش کیا گیا جسے آپ نے بخوشی شرف قبولیت عطا فرمایااور سراقدس کی زینت بنایا۔خداوند عالم نے اس مبارک موقع پر جبرئیل امین کو حکم دیا کہ مشک و عنبر اور کافور مکہ کے پہاڑوں پر پھیلا دو جس کے باعث مکہ کے دردیوار،گلی کوچے،جنگلات ، آبادیاںاور گلیاں مہک اٹھیں۔فضا مشک بیزوعنبر ریز ہو گئی۔لوگ ایک دوسرے سے متعجب ہو کر پوچھتے کہ یہ خوشبو کیسی ہے تو بتایا جاتا کہ یہ محمد ۖوخدیجہ کی بدولت ہے۔تاریخ انسانیت کی یہ منفرد ،پہلی اور آخری شادی ہے جس سے پہلے کسی نے ایسی شادی دیکھی نہ اس کے بعد ، جس میں لوازمات دنیا کے ساتھ ساتھ الٰہی توجہات نے چار چاند لگا دیے تھے ۔نہ دنیاوی مال و حشمت اور تمکنت کی کمی تھی نہ الٰہی برکات و عنایات کی۔

تہنیت
اس مبارک موقع پر عبداللہ بن غنم قریشی نے تہنیت نامہ پیش کرتے کہا؛
ھَنِیئاًمَریْئاًیَاخُدَیْجَةَقَدْجَرَتْ
لَکِ الْطَّیْرفِیْمَاکَانَ مِنْکَ باَسْمَدْ
مبارک سلامت اے خدیجہ !!کہ آپ کے ہُمائے سعادت نشاں نے سوئے عرش ِعزت وشرف پرواز فرمائی
تَزَوَّجْتِ مَنْ خَیْرالْبَریَّةَکُلَّھَا
وَمَنْ ذَالَّذِیْ فِیْ الْنَّاس مِثْلَ مُحَمَّدْ
آپ اولین وآخرین میں بہترین شخص سے بیاہی گئیں اور دنیا میں محمد ۖسے کہاں ؟
بہِ بَشَرُالْبرَانِ عِیْسیٰ بْنَ مَرْیَمْ
وَمُوْسیٰ بِنْ عِمْرَان نَیَا قُرْبَ مُوْعَدْ
عیسیٰ وموسیٰ نے جن کی نبوت کی خبر دی اور بہت جلد ان کی بشارت کا اثر ظاہر ہوکے رہے گا
اِقْرَتْ بہِ الْکِتَابَ قَدْماًباَنَّہُ
رَسُوْلمِّنَ الْبَطْحَاھَادٍ وَّمُھْتَدْ
کتب ِسماوی کے قارئین کہہ چکے ہیں کہ وہ رسول ِبطحا ہدایت فرمانے والے ،ہدایت یافتہ ہیں

Hazrat e Khadijah
Hazrat e Khadijah

جہیز
دنیا کی کوئی عورت اتنا جہیز لے کر اپنے شوہر کے گھر نہ آئی جتنا سیدہ خدیجہ لے کر خانہ نبوت میں آئیں۔شہزادیِ عرب کے جہیز کا یہ سارا سامان نہ آپ کے مرحوم والد کی چھوڑی ہوئی دولت تھی نہ بھائیوں کی محبت کا نتیجہ ،بلکہ میمونہ ء کاملہ،فاضلہ و عاقلہ شہزادی نے تجارت کر کے اور اس تجارت کو بین الاقوامی فروغ دے کر خود اپنی عقل ِخداداد، بہترین صلاحیت واستعداداور حسن انتظام سے اتنا عظیم سرمایہ ا کٹھا کیا کہ عرب دنیا میں کوئی رئیس و امیر بھی اس دولت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔مَلِیْکَةُالْعَرَبْ کوجب قدرت نے ملکہء اسلام اور کائنا ت کی پہلی ام المومنین بننے کا شرف ِعظیم عطا فرمایاتو آپ نے توقعات کے مطابق اس خطاب و شرف کے ساتھ انصاف فرمایا۔اس کے بھرم اور آبرو میں اپنی نیک سیرتی ، اعلیٰ ظرفی اور بلند اخلاقی کی معراج سے چار چاند لگا دیے۔انہیں اب نہ دولت سے سروکار رہا نہ تجارت کی فکر رہی کیونکہ کائنات کی سب سے عظیم دولت نبی آخرالزمان اور سیدالمرسلین کی صورت میں مل گئی۔آپ ۖرحمت للعالمین ۖ کوپا کرملکہ ء عرب سے ملکہ اسلام اور مادر ِاہل ِایمان ہو گئیں۔

ازدواجی زندگی
سیدہ خدیجہ طاہرہ کے کامیاب ادوار ِحیات میں ایک نئے تابناک اور کامرانیوں سے بھرپور دور کا آغاز ہوا۔آپ جانتی تھیں کہ آپ کے شوہر صرف عظیم انسان ہی نہیں بلکہ خاتم الانبیا اور مرسل ِ اعظم ہیں۔ورقہ بن نوفل کی مشاورت اور پیشینگوئیوں کی تصدیق کے بعد آپ نے انہیں شام سے خریدا گیا قیمتی اور بیش بہا خلعت عنایت فرمایاجسے لینے سے ورقہ نے انکار کر دیا اور درخواست کی کہ میری دلی خواہش ہے کہ آپ ۖکے سرتاج محمد مصطفٰیۖ میری شفاعت کا وعدہ کر لیں۔سیدہ نے وعدہ فرمایا کہ ایسا ہی ہوگا۔پچیس برس پہ محیط رفاقت ِحیات میںاپنی بہترین سیرت و اخلاق اور عادات کے باعث خانہ نبوت کو نبی ِاکرم کے آرام و سکون کا گہوارہ بنا دیااور نہ صرف متولی ِکعبہ کی بہو ہونے کا حق ادا کیا بلکہ وہ مثالی کردار پیش کیا کہ جس پر ام المومنین کے ا لٰہی لقب کی فضیلتیںہمیشہ ناز کریں گی۔ام المومنین کا ہر روز،روز ِعید اور ہر شب ،شب ِبرات و لَیْلَةُالْقَدْر تھی۔ ہرلمحہ دیدارِ مصطفٰیۖ سے بڑھ کر اور کیا مسرت ہو سکتی تھی۔آپ فرماتی ہیں ؛
فَلَوْ اِنَّنِیْ اَمْسَیْتُ فِیْ کُلِّ نِعْمَةٍ
وَدَامَتْ لِیَ الْدُّنْیَا وَمُلْکُ الْاَکَاسِرْ
فَمَاسَویَتْ عِنْدِیْ جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ
اِذَا لَمْ تَکُنْ عَیْنِیْ بِعَیْنِکَ نَاضِرَةٍ

اگر میں ایام کو تمام نعمتوں کی موجودگی میں گزاروں یہاں تک کہ رات ہو جائے اور میرے لیے ہمیشہ حیات ِدنیااورکسرائوں کی سلطنت ہو پھر بھی میرے لیے یہ سب کچھ ایک مچھر کے پر سے بھی کم حیثیت ہے اگر میری نگاہوں نے آپ کی مقدس آنکھوں کی زیارت نہ کی ہو رسول اللہ مسرور تھے کہ خداوند ِعالم نے انہیں ایسی زوجہ مرحمت فرمائی جو امور ِخانہ داری سے لے کر تبلیغ اسلام کی جملہ مشکلات میں معاون و مددگار رہی۔سیدنا ابو طالب مطمئن ہو گئے کہ بانی ِ اسلام کو ان کے شایان شان رفیقہ حیات ملی۔عباس محمود العقاد لکھتے ہیں؛” سرور ِکائنات نے یتیمی کی حالت میں پرورش پائی ۔والد کی وفات آپ کی پیدائش سے پہلے ہو چکی تھی،والدہ کا سایہ بھی زیادہ دیر تک سر پہ نہ رہااور وہ بچپن ہی میں داغ مفارقت دے گئیں۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص منشا اور تصرف کے ماتحت ،خدیجہ جیسی پاکباز اور غمگسار خاتون کو آپ کے لیے چنا۔شادی کے بعد حضرت خدیجہ نے جس دلسوزی سے آپ کی دلجوئی کی اس نے تمام مصائب اور صدمات کا مداوا کر دیاجو یتیمی کی حالت میں آپ کو اٹھانے پڑے تھے۔اعلان ِنبوت کے ساتھ ہی مصائب کا پہاڑ رسول مقبول پر ٹوٹ پڑا۔کسی قسم کی ایذا نہ تھی جو بد نہاد مشرکین نے حضور کو نہ پہنچائی ہو اور مخالفت کا کوئی دقیقہ نہ تھا جو قریش نے فروگزاشت کیا ہو۔اس حالت میں جب کہ مکہ کا چپہ چپہ حضور کا دشمن ہو رہا تھا اور آپ پر بدترین قسم کے مظالم ڈھائے جارہے تھے ا گر کسی نے حضور ۖ کی کامل رفاقت کا ثبوت دیاتو وہ حضرت خدیجہ تھیں۔

Hazrat e Khadijah
Hazrat e Khadijah

انہوں نے اپنا تن من دھن، سب کچھ رسول اللہ ۖاور اسلام کے لیے قربان کر دیااور اس دلسوزی اور جانفشانی سے آپ کی خدمت کی کہ اس کے سامنے حضور کو کفار مکہ کے مظالم کا احساس تک جاتا رہااور آپ ۖبہ اطمینان ِکامل تبلیغ واشاعت اسلام میں مصروف رہے”۔ سید المرسلین ۖاور آپ کی رفیقہ حیات خدیجہ طاہرہ نے اپنی پچیس سالہ خوشگواروقابل ِصدافتخار ازدواجی زندگی میں انسانیت کے لیے بالعموم اور زن وشوہر کے لیے بالخصوص ضابطہ حیات اور اصول و قوائد مرتب فرمادیے ۔ شادی کے پندرہ سال بعدبصورت ِقرآن آنے والے احکام انہی اصولوں کی تکمیل کرتے نظر آئے ۔ آنحضرت ۖکی خدمت کا وہ حق ادا فرمایا کہ حضور آخری دم تک آپ کی وفاشعاری اور خدمت گزاری کو یاد فرماتے رہے،یہاں تک کہ آپ نے فرمایا ؛”میں خدیجہ کو دوست رکھنے والوں سے محبت کرتا ہوں”۔ رسول اللہ گھر سے باہر نکلتے وقت ہمیشہ سیدہ خدیجہ کی مدح وثنا فرماتے اور انہیں یاد کرتے تھے۔ صاحب ِ وَمَایَنْطِقْ، مدح ِخدیجہ میں ہمیشہ رطب اللساں رہے ۔آپ فرماتے تھے ؛خُدَیْجَةْ وَمَنْ مِثْلُ خُدَیْجَةْ !! آمَنَتْ بِیْ اِذْکَفَرَالْنَّاسْ وَصَدَقْتَنِیْ اِذْکَذَّبْنَی الْنَّاسْ وَوَسْتَعْنِیْ بمَالِھَا اِذْحَرّمْنَی الْنَّاس، رَزَّقَنِیْ مِنْھَااللّٰہُ الْوَلَدَ دُوْنَ غَیْرَھَامِنَ الْنِّسَائ،خدیجہ کی مثل کہاں، مجھ پر ایمان لائیں جب لوگ منکر تھے اور انہوں نے اس وقت میری تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلاتے تھے اور اپنے مال سے اس وقت میری مدد کی جب تمام لوگوں نے مجھے مال سے محروم رکھاتھا،خدا نے مجھے ان سے اولاد دی جبکہ دیگر عورتوں سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔

آپ سیدہ خدیجہ کو مخاطب کر کے فرمایا کرتے ؛ اَنْتَ مَلِکَة، اِمْرَاةَ ذَاتِ الْمَال، آپ شہزادی ہیںثروتمند ہیں۔آپ کی میزبانی ومہمان نوازی کو یاد کرتے فرماتے ،” مَارَاَیْتُ مِنْ صَاحِبَةٍلاَِجِیْرٍخَیْراًمِّنْ خُدَیْجَةْ، مَاکُنّانَرْجِعُ اَنَاوَصَاحِبیْ اِلَّاوَجَدْنَاعِنْدَھَاتُحْفَةًمِّنْ طَعَامٍ تَحْبَاہُ لَنَا”میں نے خدیجہ سے بہتر صاحب ِخانہ نہیں دیکھا ۔جب بھی میں یا میرے رفقا ان کے ہاں جاتے تو ہمیشہ محبت کے ساتھ تیار کی گئی بہترین غذاپاتے ۔ تمام مورخین متفق ہیںکہ سابقون الاولون میں سب سے پہلے اسلام کے قبول کرنے کا اعلان سیدہ خدیجہ الکبریٰ نے فرمایااور آپ کا اسم گرامی سید المرسلین ۖپر ایمان لانے والوں میں سرفہرست ہے۔آپ نے ایمان لانے میں ہی سبقت نہیں کی بلکہ تادم آخر اپنے کامل یقین پر باقی رہیںاور آخری سانس تک نصرت و حمایت اور حفاظت و رفاقت کا حق ادا فرماتی رہیں۔

آپ ابتدائے اسلام کے تین نمازیوںپیغمبر اسلام،مولائے کائنات اور ام المومنین میں سے ہیں اور سیدنا جعفر طیار سیدنا ابو طالب کے حکم پرچوتھے نمازی ہیں۔سیدنا ابو طالب کی نگرانی اور محافظت میں اسلامی تحریک آگے بڑھتی رہی اور اہل ِاسلام سکون و اطمینان سے اللہ کی عبادت کرتے رہے۔آپ اس عظیم تحریک کی سرگرم رکن تھیں اور نبوت کی مونس و غمخوار ،رسالت کی پشت پناہ اور اسلام کی معین و مددگار تھیں۔آپ نبی کریم کی وزیر باتدبیر اور بے بدل مشیرتھیں۔ روزانہ سونا،چاندی اور جواہرات کے اونچے ڈھیر لگاتیں اور حضور کی بارگاہ میں التجا فرماتیں کہ اپنے دست ِمبارک سے تقسیم فرما دیں۔آج صبح اٹھ کر میں نے جو آپ کے چہرئہ اقدس کی زیارت کی ہے یہ اس کا صدقہ ہے۔

Dr Syed Ali Abbas Shah
Dr Syed Ali Abbas Shah

تحریر : ڈاکٹر سید علی عباس شاہ

Share this:
Tags:
Faith hope rich women World ایمان تمنا دنیا عورت وضاحت
New Zealand Volcano
Previous Post نیوزی لینڈ کے آتش فشاں پہاڑ سے سونے اور قیمتی دھاتوں کے وسیع ذخیرہ دریافت
Next Post پاکستان کرکٹ بورڈ کا بی سی سی آئی کو خط لکھنے کا فیصلہ
Pakistan Cricket Board

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close