
دمشق (جیوڈیسک) شام میں داعش کے جنگجوؤں نے حمص میں ایک آئل فیلڈ پر حملہ کر کے 30 فوجیوں کو ہلاک کر دیا جبکہ داعش کیخلاف برسر پیکار کرد جنگجوؤں کی مدد کیلیے 200 شامی باغی کوبانی پہنچ گئے ہیں۔
سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائیٹس کے مطابق داعش جنگجوؤں نے حمص میں واقعہ آئل فیلڈ الشعیر پر حملہ منگل کی رات کیا اور رات بھر جاری رہنے والی لڑائی میں صدر بشارالاسد کی حامی فوجی کے 30 اہلکار ہلاک ہوگئے۔
مانیٹرنگ گروپ کے مطابق جنگجوؤں نے علاقے میں گیس کے 3 کنووں پر بھی قبضہ کرلیا۔ سیرین آبزرویٹری کے ڈائریکٹررا می عبدالرحمن نے کہا ہے کہ لڑائی میں متعدد جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔
دوسری طرف شام میں القاعدہ سے وابستہ عسکریت پسند گروپ النصرہ فرنٹ نے ادلب میں 3 دنوں سے جاری لڑائی کے بعد متعدد دیہات پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس خونریز لڑائی میں صرف ایک دن میں ہی 25 باغی مارے گئے۔ انھوں نے کہا کہ اس لڑائی میں النصرہ فرنٹ کے عسکریت پسندوں کو جند الاقصی نامی ایک اور انتہا پسند گروہ کی مدد بھی حاصل رہی۔
دوسری طرف کوبانی کے تحفظ کیلیے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے برسرپیکار کرد جنگجوؤں کی مدد کیلیے 200 کے قریب شامی باغی اس اہم سرحدی شہر پہنچ گئے ہیں، شامی باغیوں کے کمانڈرنے بی بی سی کو بتایا۔
کہ یہ تمام جنگجو مغرب کی حمایت یافتہ فری سیریئن آرمی کے پرچم تلے شام میں جنگ میں مصروف تھے، یہ باغی ایک ایسے وقت کوبانی پہنچے ہیں جب 150 عراقی کردپیش مرگہ جنگجوؤں کا دستہ ترکی پہنچا ہے جہاں سے وہ کوبانی آئیگا۔
