
امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ شام میں محدود پیمانے پر فوجی کارروائی کے ذریعے بشارالاسد کو سخت پیغام دینا چاہتے ہیں، شام میں عراق جیسی انٹیلی جنس غلطی نہیں دہرائی جائیگی۔ ادھر شامی وزیر دفاع کہتے ہیں کہ تیسری جنگ عظیم بھی شروع ہوجائے تو شام ہمت نہیں ہارے گا۔
شام کی صورتحال ہر بدلتے دن کے ساتھ کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ فرانسیسی وزیر اعظم نے کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے روک تھام کیلئے اقدامات نہ کیے گئے تو ایران کے ایٹمی پروگرام کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ سے منظوری کے بغیر شام کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی جارحیت ہوگی۔ روس نے فوجی کارروائی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت سے انکار نہیں کیا، لیکن اس کا انحصار کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ٹھوس شواہد پر ہوگا۔
امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا تھا کہ شام میں محدود فوجی کارروائی کے ذریعے بشارالاسدکو سخت پیغام دینا چاہتے ہیں، امید ہے کانگریس سیشام میں فوجی کارروائی کی منظوری مل جائیگی۔ امریکی صدر نے کہا کہ شام میں عراق جنگ جیسی انٹیلی جنس غلطی دہرانی کا کوئی ارادہ نہیں۔ شامی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر تیسری جنگ عظیم بھی شروع ہو جائے تو شام ہمت نہیں ہارے گا۔ ادھر روسی صدر نے کہا کہ امریکی کانگریس کو شام پر حملے کو قانونی جواز دینے کا کوئی حق نہیں۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے شام کے تنازع کے پر امن حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
