
دمشق (جیوڈیسک) شام میں باغیوں نے سرکاری فوج سے جھڑپوں کے بعد شمالی علاقے کے اہم شہروں پر قبضہ کر لیا، لڑائی میں 50 فوجی مارے گئے۔ دوسری جانب ایک امریکی عہدے دار کے مطابق شام پر کل سے میزائل حملے کیے جاسکتے ہیں۔شام پر بڑھتے ہوئے عالمی دباو کے بعد سرکاری افواج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ حلب کے قریب واقع قصبے خناصر پر باغیوں نے قبضہ کرلیا ہے جس کے بعد سرکاری فوج کا حلب تک سپلائی کا راستہ بند ہوگیا ہے۔
لڑائی کے دوران شامی فوج کی حامی تنظیم کے 50 اہلکار مارے گئے۔ حمص اور حماہ اور دمشق کے قریبی قصبوں میں بھی جھڑپیں ہوئیں۔ دوسری جانب امریکا نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کو حتمی شکل دینی شروع کردی ہے۔ امریکا کا چوتھا بحری بیڑا خطے میں پہنچ چکا ہے۔ ایک امریکی عہدے دار کے مطابق شام پر کل سے میزائل حملے کیے جا سکتے ہیں جو 3 دن تک جاری رہ سکتے ہیں۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان جے کارنی نے صحافیوں کو بتایا کہ شام کے خلاف کارروائی کا مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ یہ عالمی اصولوں کی خلاف ورزی کا جواب ہوگا۔
جے کارنی کے مطابق شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ جلد عوام کے سامنے پیش کردی جائے گی۔ شامی حکومت کا کہنا ہے کوئی بیرونی جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی اور کسی بھی حملے کا حیران کن انداز میں جواب دیا جائے گا۔ ادھر برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ شام کے خلاف فوجی کارروائی ایک خاص حد تک ہونی چاہیے اسے وسیع جنگ میں بدلنے سے روکنا ہوگا۔
