
لندن (جیوڈیسک) شام میں دہشتگردی کی تربیت لے کر لوٹنے کے الزام میں برطانوی پولیس نے برمنگھم کے 21 سال کے شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ جبکہ صدر بشار الاسد کے خلاف لڑ کے واپس آنے والے پاکستانی نژاد برطانوی شخص سمیت 2 افراد پر عدالت نے فرد جرم عائد کر دی ہے۔
برمنگھم کے علاقے ہینڈ زورتھ سے تعلق رکھنے والے محمد یوسف کا آبائی تعلق فیصل آباد سے ہے اور اس کی فیملی یہاں 25 برس سے مقیم ہے۔ یوسف سرور کے شام جا کر القاعدہ کے ساتھ لڑنے کی اطلاعات پر اہل محلہ حیرت زدہ ہیں کہ کس طرح انتہا پسندی کا ناسور برطانیہ تک پھیل گیا ہے۔
یوسف کو اردو پڑھانے والے استاد اور دیگر افراد کہتے ہیں کہ حکومت کو صورت حال کا نوٹس لینا چاہیے۔ یوسف اور بنگلہ دیشی نژاد اس کے ساتھی کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے اور تفتیش کی جا رہی ہے کہ وہ کس طرح انتہا پسندی کا شکار ہوا اور اس گروپ کے دیگر افراد کن علاقوں میں موجود ہیں۔
