Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شامی مہاجرین

April 10, 2016 0 1 min read
Syrian Refugees
Bashar al-Assad
Bashar al-Assad

تحریر: حنظلہ عمادجدوجہد
یاس بھری نظروں سے ساحلوں کو تکتے ہیں
زندگی کی رمق کو جانچتے پرکھتے ہیں
جانے کب کیسے کیسے غرق آب ہونا ہے

شام میں ایک عرصہ دراز سے خانہ جنگی جاری ہے۔ یوں تو بشارالاسد کے باپ حافظ الاسد کے خلاف بھی جدوجہد جاری تھی لیکن 2011ء سے باقاعدہ یہاں جنگ کی کیفیت ہے۔ بہت سے متحارب گروہ جانے کس کس کے اشاروں پر اپنے تئیں اسلام نافذ کرنے کی سعی میں مصروف ہیں۔ بشارالاسد بلاشبہ ایک ظالم حکمران ہے۔ جوملک کے اقلیتی طبقے سے تعلق رکھتاہے اور ملک کی اکثریت پرنہ صرف جابرانہ حکومت کررہاہے بلکہ اپنے خلاف اٹھنے والی ہرآواز کو دبانے میں کسی حدود کی پرواہ نہیں کررہاہے۔ چنانچہ بہت سی جائز آوازیں بھی اسی باعث نہ صرف تشدد کی راہ اختیار کرچکی ہیں بلکہ پراکسی وارز کاایک طویل سلسلہ اس ضمن میں شروع ہوچکاہے۔

اس بات سے قطع نظر کہ اس جنگ میں فتح کس کی ہو گی لیکن ایک بات یقینی ہے کہ شام کے عوام اس جنگ میں بری طرح ہارچکے ہیں۔وہ نہ صرف گھربار سے محروم ہیں بلکہ بنیادی انسانی ضروریات جیسے خوراک وغیرہ کے لیے بھی ترس رہے ہیں۔یوں اس جنگ میں حریف نہ ہونے کے باوجود اس جنگ کی سب سے بڑی قیمت شام کے مظلوم عوام ادا کررہے ہیں۔ کچھ شامی مہاجرین کی داستان بطورِ مثال ذیل میں درج ہے کہ اس سے ان کی کیفیت سمجھنے میں مدد ملے گی۔

Refugee Sonwfall
Refugee Sonwfall

برفباری اور شدید بارشوں کاموسم ہے۔ کپڑے کے بوسیدہ خیمے کے باہربیٹھی ان تین بچیوں میں سب سے بڑی عالیہ کی عمر6سال ہے۔اس کاکہناہے کہ میں اپنی دونوں بہنوں کا خیال رکھتی ہوں کیونکہ میرے باپ نے مجھے ایساکہاتھا۔باپ شاید جنگ میں کہیں مارا گیا یاکہاں ہے معلوم نہیں ہے۔ ماں البتہ ان کے ساتھ ہے۔ نحیف و فزار خاتون کہ کمزوری کے باعث جوچلنے پھرنے سے بھی عاجز ہے۔ ان بچیوں کے پاس کھیلنے کو کھلونے تودور کی بات ، پہننے کو پورے کپڑے ،رات کو سونے کے لیے لحاف تک نہیں ہیں۔ اس لیے رات کی بجائے دن میں دھوپ میں ہی آرام ہوتاہے۔لیکن اگر دھوپ بھی نہ نکلے تو پھرمحض دعائیں کرنے اور سردی سے ٹھٹھرتے ،کانپتے وقت گزرتا ہے۔عالیہ جیسے ہزاروں بچے اس کیمپ میں ہیں اور اسی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

لبنان کے کیمپ میں مقیم محمداحمد اگرچہ گھربار سے محروم ہے لیکن اس کے باوجود وہ دوستوں کے ہمراہ خواب بھی دیکھتاہے اور سہانے دنوں کی امید سجائے بیٹھاہے۔ اس کابڑا بھائی گلیوں میں ٹشو پیپر ربیچتا ہے اور لڑکے اکثر اس سے ٹشو چھین لیتے ہیں ۔بلکہ بعض اوقات پیسے بھی چھین لیتے ہیں۔احمد کا کہنا ہے کہ محنت مزدوری توہم کر لیں گے لیکن لوگ ہمیں دیکھ کر جملے کستے ہیں اور بعض اوقات تشدد بھی کرتے ہیں۔

احمد نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک خط پوری دنیاکے نام لکھاہے کہ جس میں اس نے اپیل کی ہے کہ ان پرمظالم بندکیے جائیں اوروہ چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں برا سمجھناچھوڑدیں۔ مضایانامی بستی کے لوگ چالیس سے زائد دن سے کھانے پینے کی اشیاء سے محروم ہیں۔ان کے حالات دیکھ کرافریقہ کی بھوک بھی افسانہ معلوم ہوتی ہے۔ اپنے ہی بچوں کو بھون کرکھانے کی کچھ کربناک مثالیں بھی وجود میں آچکی ہیں۔مضایا نامی یہ بستی شام کے علاقے میں ہے لیکن ان کی اس حالت کی وجہ بھی جنگ ہے کہ جس کے باعث کسی قسم کاراشن ان تک پہنچ نہیں پارہاہے۔

Syrian Refugees
Syrian Refugees

شامی مہاجرین کی اگرکل تعداد کو دیکھاجائے تو وہ اس وقت تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ اس میں80لاکھ لوگ وہ ہیں کہ جو شام ہی میں ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں۔یہ فسادات کے باعث اپنے علاقوں کو چھوڑ کر نسبتاً محفوظ علاقوں کارخ کررہے ہیں۔ لیکن بیرونی قوتوں جیسے روس اورامریکہ کی جنگ میں براہ راست شمولیت نے ان کے لیے مشکلات کو بڑھادیاہے کیونکہ اس سے قبل خانہ جنگی کے علاقے محدود تھے اور متحارب گروہ صرف زمینی لڑائی لڑتے تھے۔ چنانچہ محفوظ علاقے موجود تھے لیکن روس وغیرہ کی بمباری کے نتیجے میں سارا شام ہی غیر محفوظ ہوگیاہے۔ فضا سے برسنے والے گولے اس تمیز کے بغیر گرتے ہیں کہ اس میں صرف جنگجو مریں گے یا عام انسان بھی ہلاک ہوں گے۔ چنانچہ ان بیرونی طاقتوں کی براہ راست شمولیت کے نتیجے میں جنگ مزید ہلاکت خیز ہوگئی ہے۔ اپنے تئیں یہ بیرونی قوتیں اس مسئلے کو سلجھانا چاہتی ہیں اور دنیا کو بھی یہی باور کروارہی ہیں لیکن درحقیقت ان قوتوں کی مشق ستم کا نشانہ مظلوم شامی عوام بن رہے ہیں اور ان کی مشکلات اور ہلاکتوں میں روز بروز اضافہ ہورہاہے ۔چنانچہ تادم تحریر 4لاکھ سے زائدلوگ مارے جاچکے ہیں جبکہ 15
لاکھ شدید زخمی یامستقل معذور ہوچکے ہیں۔

شام میں ہی اپنی جگہ بدلنے والے بھی مستقل ہجرت پرمجبور ہیں کہ وہ خانہ بدوشوں سے بھی بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔ایک علاقے کومحفوظ گمان کرتے ہوئے وہاں ٹھہرنے والوں کو کچھ ہی عرصے کے بعد اس علاقے کو چھوڑ کرنئے علاقے کی طرف ہجرت کرناپڑتی ہے جبکہ اس دوران زیادہ ترسفرپیدل ہی طے ہوتاہے۔ بمباری ، شدید سردموسم اور دیگرمصائب کاسامناکرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قافلے میں شامل بچے اور بوڑھے ہیں کہ یہ افراد نہ صرف جلدی تھک جاتے ہیں بلکہ انہیں طرح طرح کی بیماریاں بھی آن گھیرتی ہیں جبکہ قافلے میں شامل نوجوان بھی ان لگاتار مصائب کا سامنا کرتے ہوئے بالآخر ذمے جاتے ہیں۔

شامی مہاجرین میں وہ لوگ جوکچھ زادِ راہ اور دیگر وسائل رکھتے ہیں ۔وہ شام سے باہر نہیں جاتے۔ پناہ تلاش کرتے ہیں۔چنانچہ نتیجتاً 60لاکھ کے قریب شامی مہاجرین دنیاکے مختلف ممالک میں مہاجروں کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان مہاجرین میں سے سعودیہ،کویت اور متحدہ عرب امارات میں آنے والے مہاجروں کی حالت نسبتاً سب سے بہترہے کہ ان ممالک میں ان مہاجرین کومستقل شہری کی حیثیت دی گئی ہے اور انہیں مہاجرکیمپوں میں نہیں بسایا گیا بلکہ زیادہ تریہ آبادیوں میں ہی رچ بس گئے ہیں۔ چنانچہ اس کے باعث بہت سے میڈیا پرسنز اور ایک ”خاص” فکر رکھنے والے احباب کو ان ممالک میں شامی مہاجرین نظر ہی نہیں آتے تھے۔چنانچہ وہ اس بات کا دھڑلے سے پرچار کرتے تھے کہ عرب ممالک شامی مہاجرین کی مدد نہیں کر رہے جبکہ حقیقت یوں ہے کہ محض 5لاکھ سے زائد مہاجر مقیم ہیں لیکن وہ مہاجر کیمپوں میں نہیں بلکہ باقاعدہ گھروں میں رہ رہے ہیں۔اسی طرح اس مسئلے میں دیگر ہمسایہ ممالک میں شامی مہاجرین آبادہیں۔جن میں ترکی،لبنان، عمان،کویت،عراق اور یورپ کے ممالک میں جرمنی قابل ذکر ہیں۔

Migrants in Europe
Migrants in Europe

چندممالک کے علاوہ زیادہ ترممالک میں یہ مہاجرین بنیادی سہولیات سے محروم ہیں بلکہ حقارت آمیز رویے بھی سہنے پر مجبورہیں ۔ترکی اس وقت سب سے بڑی تعداد میں مہاجرین کو پناہ دیے ہوئے ہے۔یہاں پناہ لینے والے شامی مہاجرین کی تعداد 26 لاکھ کے قریب ہے۔ عمان میں 14 لاکھ، لبنان میں 15 لاکھ، کویت میں 2لاکھ اور اسی طرح دیگر ممالک میں یہ شامی مہاجرین بدترین زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔
یورپ جوکہ اس وقت ترقی یافتہ اور انسانیت کے لیے بہترین حل کادعویٰ رکھتاہے۔اس نے بھی انسانیت کے درد کو محسوس کرنے کادعویٰ کیاہے۔ چنانچہ ہمارے بہت سے میڈیا پرسنز اورافراد اسی تکرار میں مصروف ہیں۔ شامی مہاجرین سارے کے سارے یورپ پہنچ رہے ہیں جبکہ حقیقت یوں ہے کہ محض 10فیصد مہاجرین نے یورپ کا رخ کیاہے۔ ان میں بھی سب سے زیادہ جرمنی میں ہیں کہ یہاں دولاکھ کے قریب مہاجرین ہیں لیکن یورپ میں پہنچنے والے ان مہاجرین کو شدید ترین نفرت اور حقارت کاسامنا کرناپڑرہاہے۔

میڈیاپریورپ میں مہاجرین کاشور وغوغااس قدر ہے کہ یوں محسوس ہوتاہے کہ تمام مہاجرین کو صرف یورپ ہی پناہ دے رہاہے جبکہ صورتحال برعکس ہے کہ یورپ کے تمام رہنما اس وقت اس قلیل تعداد کے مہاجرین سے بھی پیچھا چھڑوانے کی ترکیبیں بنارہے ہیں۔ صورتحال کچھ یوں ہے کہ مشرقی جرمنی میں ایک علاقے میں مہاجرین کے لیے ایک عمارت بنائی جارہی تھی کہ اس کو آگ لگ گئی۔مقامی حکومت کے مطابق یہ عمارت پہلے ہسپتال تھی لیکن اب اس کو مہاجرین کے لیے تیار کیاجارہاتھا۔انہیں اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ اس عمارت کو آگ لگائی گئی تھی۔ کیونکہ آگ بجھانے میں مقامی افراد نہ صرف رکاوٹ بن رہے تھے بلکہ آگ کو دیکھ کر خوش بھی ہورہے تھے اور شامی مہاجرین پر نفرت آمیز جملے بھی کسے جارہے تھے۔ شامی مہاجرین پر حملے،ان کے ساتھ نفرت آمیز سلوک اور ہتک آمیز رویہ اس وقت یورپی ممالک میں مقیم افراد کا وطیرہ بن چکاہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہاجرین کی ایک بڑی تعداد جرمنی سے اس وقت واپس جا چکی ہے۔ بہت سے یورپی ممالک نے تواپنی سرحدیں بھی بند کر دی ہیں جبکہ مہاجرین پرسرحدوں پرہونے والے حملے اور ان کے ساتھ ہونے والا بہیمانہ سلوک اس وقت سوشل میڈیا پربھی دیکھاجاسکتاہے۔

الغرض گھربارسے محروم شامی مہاجرین اس وقت بدترین حالات کاشکارہیں ۔گویاماں سے محروم بچے،ان کے حالات سنوارنے کے لیے بیرونی طاقتوں کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جو کچھ وہ کررہی ہیں،اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ شام کامسئلہ اس کے اندر ہی حل ہوسکتاہے۔ بس بیرونی طاقتیں اس کو ہی پراکسی وار کا حصہ نہ بنائیں۔عالمی طاقتوں سے یہی شامی مہاجرین کی التجاہے کہ اپنے مفادات کی جنگ ہماری سرزمین پر نہ لڑیں کہ ہماری اندرونی لڑائی تو شایدہم سلجھالیں لیکن اس بیرونی مداخلت نے ہمارے اپنے غم کی سیاہ رات کوطویل سے طویل ترکردیاہے اورمصائب و آلام کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو اس وقت ہمیں گھیرے ہوئے ہے۔ چنانچہ اس وقت شامی مہاجرین کابہترین طریقہ انہیں انہی کے ملک میں واپس بساناہے اوریہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب شام میں امن ہوگااور عالمی طاقتیں وہاں جنگ کو ہوا نہ دیں گی۔

Hanzalah Imad
Hanzalah Imad

تحریر: حنظلہ عماد

Share this:
Tags:
eyes having life Syrian refugees victory تعلق زندگی شامی مہاجرین فتح نظروں
Fata News
Previous Post فاٹا ریفامز کمیٹی قبائلوں کا وقت ضائع کر رہا ہے، نثار مومند
Next Post بھارتی مسلمانوں پر اب بھارت ماتا کا عتاب
Baba Ramdev

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close