سمٹے ہوئے ہیں آنکھ میں حسرت کے سلسلے
سمٹے ہوئے ہیں آنکھ میں حسرت کے سلسلے صدمات ِماہ سال کی شِدّت کے سلسلے انسانیت کا روگ ہیں غربت کے سلسلے بکھری ہوئی ہیں…
سمٹے ہوئے ہیں آنکھ میں حسرت کے سلسلے صدمات ِماہ سال کی شِدّت کے سلسلے انسانیت کا روگ ہیں غربت کے سلسلے بکھری ہوئی ہیں…
تحریر: ڈاکٹر عبدالرفیع، نئی دہلی رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ…
یہ ستم زری ہے تیری، کہ کوئی ستم نہیں ہے تیری خاک زندگی ہے، نہ خوشی نہ کوئی غم ہے میں خدا نہیں ہوں لیکن،…
تحریر: ابنِ نیاز سردیاں ہوں اور بازاروں میں رش نہ ہو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ ہوتا ہے نا رش۔ کوئی رضائی، کمبل کی…
اس دشمنِ جاناں کو نہ پھر یاد کروں گا ہر گز نہ غمِ دل کو کبھی شاد کروں گا جب میرے دلِ زار کی سنتا…
راستوں میں قافلے کا نقشِ پا رہ جائے گا سب مسافر چل پڑیں گے راستہ رہ جائے گا زندگی محسوب کرتی ہی رہی رمزِ نہاں…
تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی معراج النبی ۖ کو ہمارے ہاں مذہبی نوعیت کا واقعہ تہوار سمجھا جاتا ہے اور اِسی تناظر میں دیکھا جاتا…
تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی معراج کی رات انبیاء نے حضور ۖ کی اقتدار میں نماز ادا کی تو پھر آسمانی سفر کا آغاز ہوا…
تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں خالق ارض و سما کوئی ایک ایسا لمحہ، چند گھڑیاں،…
میں کیا بتائوں آپ کو، میری زندگی تو جہاد ہے کبھی حسرتوں کی ہے بے کلی، کبھی وحشتوں کا فساد ہے کبھی تو ملا، کبھی…
تحریر: رقیہ غزل آج دل درد و کرب کے اس دشت میں بھٹک رہا ہے جس میں یاس سے آس کا سفر کئی صدیوں پر…
گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام دھل کےنکلےگی ابھی چشمئہ مہتاب سےرات اور مشتاق نگاہوں کی سُنی جائے گی ان ہاتھوں سے مس…
گزر رہے ہیں شب و روز تم نہیں آتیں ریاضِ زیست ہے آزرسدئہ بہار ابھی مرے خیال کی دنیا ہے سوگوار ابھی جو حسرتیں ترے…
گرمی حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں بچ نکلتے ہیں اگر آتحِ صیاد سے ہم شعلئہ…
Start typing to search...
