ہارے ہوئے ہیں
تیرے در سے بھی دھتکارے ہوئے ہیں غم و آلام کے مارے ہوئے ہیں ہمیں تجھ سے نہ دنیا سے گِلہ ہے ہم اپنے آپ…
تیرے در سے بھی دھتکارے ہوئے ہیں غم و آلام کے مارے ہوئے ہیں ہمیں تجھ سے نہ دنیا سے گِلہ ہے ہم اپنے آپ…
تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ہندوستان کے رہنے والے محو حیرت اور مبہوت ہو کر حیران کن منظر دیکھ رہے تھے، جس نے بھی یہ…
انسان کا لفظ زمین پر پائی جانے والی اس حیات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو جنس انس سے تعلق رکھتی ہے اور دنیا…
دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جائے…
بیتے دنوں کی یاد بھلائے نہیں بنے یہ آخری چراغ بجھائے نہیں بنے دُنیا نے جب مرا نہیں بننے دیا اُنہیں پتھر تو بن گئے…
یہ زندگی تو موت سے ابتر لگے مجھے تیرے بغیر کانٹوں کا بستر لگے مجھے دیوار و در کے ساتھ دیچے بھی ہیں مگر ہر…
تم نہ جانے اسکو بھی کیوں بے اثر لکھتےرہے ہم کہانی پیار کی جو عمر بھر لکھتے رہے اپنے کاندھے پہ رکھے اغیار کی فکر…
لکڑی کی “نصف ہٹ” میں بسیرا ہے آج کل فدوی بشیر نہیں ہے “بیٹرا” ہے آج کل دو”کمریاں ” کہ عرض ہے جن میں نہ…
ٹین کے چھجوں سے دو کمرے ” بنگلائے” ہوئے جیسے انڈوں پر ہوں پر مرغی نے پھیلائے ہوئے اک کھلا در ہے جو کھلتا ہے…
زمیں مدار سے اپنے اگر نکل جائے نجانے کونسا منظر کدھر نکل جائے اب آفتاب سوا نیزے پر اترنا ہے گرفت شب سے ذرا یہ…
پھر حریفِ بہار ہو بیٹھے جانے کس کس کو آج رو بیٹھے تھی، مگر اتنی رائیگاں بھی نہ تھی آج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے…
Start typing to search...
