جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے
چھوڑ کر چل دیا بے سہارا مجھے دے گیا زندگی کا خسارہ مجھے شانوں پہ اس کے جب ہم نے سر رکھ دیا جھک کے…
چھوڑ کر چل دیا بے سہارا مجھے دے گیا زندگی کا خسارہ مجھے شانوں پہ اس کے جب ہم نے سر رکھ دیا جھک کے…
میں سرِ دار بھی ہوں کتنی بلندی پہ یہ دیکھ جب بھی دیکھا ہے وہی گھور اندھیرا نکلا جانے کس سمت محبت کا ستارا نکلا…
تیرگی کا حصار ٹوٹا ہے اِک ستارا زمیں پہ اترا ہے شب گزیدوں کی گود میں ساحل ہم نے صبحوں کا نور دیکھا ہے ساحل…
بھٹکا ہوا قسمت کا ستارا تھا ہمارا ورنہ تو کبھی شہر یہ سارا تھا ہمارا تھے فائدے جو کار ِ محبت میں تھے ان کے…
اب یہی آخری سہارا ہے میں ترا، تو میرا کنارا ہے لوٹنا اب نہیں رہا ممکن تو نے کس موڑ پر پکارا ہے کیا تمہیں…
سفر منزلِ شب یاد نہیں لوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیں اولیں قرب کی سرشاری میں کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں دل میں…
ہر نفس رنج کا اشارہ ہے۔۔۔۔۔۔۔! آدمی دُکھ کا استعارہ ہے ۔۔۔۔۔۔! مجھ کو اپنی حدوں میں رہنے دے میں سمندر ہوں تو کنارا ہے…
گُم صُم ہوا، آواز کا دریا تھا جو اک شخص پتھر بھی نہیں اب وہ، ستارا تھا جو اک شخص شاید وہ کوئی حرفِ دعا…
Start typing to search...
