
بھٹکا ہوا قسمت کا ستارا تھا ہمارا
ورنہ تو کبھی شہر یہ سارا تھا ہمارا
تھے فائدے جو کار ِ محبت میں تھے ان کے
اور عشق میں جتنا تھا خسارا تھا ہمارا
اب کیسے کہیں اس کو برا اپنی زباں سے
اِک عمر وہی ایک تو پیارا تھا ہمارا
تھا بیچ میں پھیلا ہوا گردان ِ بلا خیز
اور اس سے پرے دور کنارا تھا ہمارا
گندم بھی تھی نمکین تو کڑوے تھے ثمر بھی
گاؤں میں ادھر گاؤں میں کھارا تھا ہمارا
جو چھوڑ گیا دیدۂ پر نم میں اندھیرے
وہ شخص کبھی آنکھ کا تارا تھا ہمارا
جس خون کی سرخی سے گلابی ہے شفَق بھی
وہ خُوں تو سر ِ دار ہمارا تھا ہمارا
پھر یاد کرو تم نے بتایا تھا کہ راجا
تھا خواب کوئی جس میں اِشارَا تھا ہمارا
احمد رضا راجا
