کچھ رتجگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی
کچھ رتجگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی ان سے پھر اپنی کوئی رفاقت نہیں رہی شاید اسے ہماری بھی حاجت نہیں رہی کچھ خواب…
کچھ رتجگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی ان سے پھر اپنی کوئی رفاقت نہیں رہی شاید اسے ہماری بھی حاجت نہیں رہی کچھ خواب…
میرے ہم نفس ذرا یاد کر کبھی ہم بھی تجھ کو عزیز تھے تیری زندگی کی نوید تھے یہی رہ گزر یہی راستہ یے ہی…
تحریر: فرح دیبا ہاشمی کائنات کا نظام ہے کہ حیوانات اور نباتات حیاتیاتی عوامل کے ذریعے اپنی نسل بڑھاتے ہیں ۔ جیسے کہ قرآن پاک…
تحریر : سید نثار احمد (احمد نثار) پیڑوں کی درجہ بندی میں جنس آدان سونیا ایک ایسا جنس ہے جس میں ‘٩’ انواع ہیں۔ ان…
ہو جائے اک سفر مدینے تک میں جاگوں رات بھر مدینے تک خوشی میں برستی ہیں مری آنکھیں سرِراہ لہراتے شجر مدینے تک اُسی شہر…
تحریر: نوشین الیاس میرا نام نوشین الیاس ہے ٬میرا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے۔ میرا تعلق آراہیں فیملی سے ہے٬ میرے تمام اباواجدا…
بجلی کی کڑک کب تیرے جانے سے رکی تھی طوفانِ بلا کب تیرے آنے سے تھما ہے ہر وقت کی سختی اِنہیں باغی نہ بنا…
بجٹ کے بعد اور ہڑتالوں کے اعلان پر سرکاری ملازمین کو 10 فیصد کی بھیک دے دی گئی ہے۔ چونکہ بجٹ اعداد و شمار کا…
ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی اڑنے چگنے میں دن گزارا پہنچوں کس…
جہاں تلک یہ صحرا دکھائی دیتا ہے مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے نہ اتنی تیز چلے، سرپھری ہوا سے کہو شجر پہ ایک…
شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگی یہ بستیوں کی فضا کیوں دھواں اُگلنے لگی اسی لیے تو ہوا رو پڑی درختوں میں ابھی…
ذرا سی دیر کو تری گلی کے موڑ پہ اسی شجر کے سائے میں کہ جس کی ایک شاخ پہ کھلا تھا گل بہار کا…
وقتِ رخصت تیری چشمِ تر یاد ہے کیسے میرا کٹا پھر سفر یاد ہے خشک ہونٹوں پہ زخمی تبسم لیے بھیگی بھیگی سی تیری نظر…
زمیں مدار سے اپنے اگر نکل جائے نجانے کونسا منظر کدھر نکل جائے اب آفتاب سوا نیزے پر اترنا ہے گرفت شب سے ذرا یہ…
جب بھی کسی شجر سے ثمر ٹوٹ کر گرا لوگوں کا اک ہجوم ادھر ٹوٹ کر گرا ایسی شدید جنگ ہوئی اپنے آپ سے قدموں…
میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا یہ تیرگی مرے گھر کا…
بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے یہ ختمِ وصل کا لمحہ ہے، رائیگاں…
آندھی چلی تو دھوپ کی سانسیں الٹ گئیں عریاں شجر کے جسم سے شاخیں لپٹ گئیں دیکھا جو چاندنی میں گریبانِ شب کا رنگ کرنیں…
Start typing to search...
