ہو جائے اک سفر مدینے تک
میں جاگوں رات بھر مدینے تک
خوشی میں برستی ہیں مری آنکھیں
سرِراہ لہراتے شجر مدینے تک
اُسی شہر میں ہے سکونِ دل
بچھی ہے مری نظر مدینے تک
اے دل جینا ہے تو جی
مرنا ہے تو مر مدینے تک
ذکرِ نبی سے ہے برکت ممتاز
کہنے میں ہے اثر مدینے تک
تحریر : ممتاز امیر رانجھا

