شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالب
شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا تا محیطِ بادہ صورت خانہ خمیازہ تھا یک قدم وحشت سے درسِ دفتر امکاں کھلا جادہ، اجزائے دو…
شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا تا محیطِ بادہ صورت خانہ خمیازہ تھا یک قدم وحشت سے درسِ دفتر امکاں کھلا جادہ، اجزائے دو…
ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزو توڑا جو تو…
شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا شعلہ جوالہ ہر اک حلقہ گرداب تھا واں کرم کو عذرِ بارش تھا عناں گیرِ…
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینہ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے…
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا رنگ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہے یہ…
نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا حبابِ موجہ رفتار ہے نقشِ قدم میرا محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بیدماغی ہے…
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا؟ کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا کا کاوِ سخت جانیہائے تنہائی، نہ پوچھ صبح کرنا شام…
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی در و دیوار…
Start typing to search...
