
نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
حبابِ موجہ رفتار ہے نقشِ قدم میرا
محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بیدماغی ہے
کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
* * * * * *
سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
بقدرِ ظرف ہے ساقی! خمارِ تشنہ کامی بھی
جو تو دریائے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
* * * * * *
