چیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیں
پیرس: جدید تحقیق سے حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے کہ چیونٹیاں بھی سرطان کی بو سونگھنے میں مہارت رکھتی ہیں جو سونگھنے والے کتوں کی…
پیرس: جدید تحقیق سے حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے کہ چیونٹیاں بھی سرطان کی بو سونگھنے میں مہارت رکھتی ہیں جو سونگھنے والے کتوں کی…
تحریر : انعم خاں، ملتان پھولوں جیسی تھی، وہ نرم و نازک سی، ہر سو خوشبو بکھیرتی ہوئی بے ضرر مخلص سی لڑکی۔پر میں اس…
میرے احساس کی صورت گری ہے محبت روح کی بالیدگی ہے تیرے ملبوس کی خوشبو مسلسل بدن کی شاخ سے لِپٹی ہوئی ہے تیری قربت…
تحریر : رشید احمد نعیم حضرت آدم کا خلق ، حضرت شیث کی معرفت، حضرت نوح کا جوش ،حضرت ابراھیم کا ولولہ توحید، حضرت اسماعیل…
بیکنگ سوڈا کے استعمال اور باسی چیزوں کو فریج سے نکال پھینکنے سے بدبو پر قابو پانا آسان ہے اس کا تجربہ آپ نے ایک…
تحریر : فہمیدہ غوری .کراچی کبھی تم ادھر سے گزر کے تو دیکھو عالمگیر کا یہ گیت آپ نے ضرور سنا ہوگا نہ جانے آج…
بہت سے لوگ جیسے ہی سانس باہر نکالتے ہیں تو گندی بدبو سامنے والے کے دل میں اس شخص نے نفرت پیدا کردیتی ہے اور…
ممبئ (جیوڈیسک) اگر آپ کی سانسوں میں سے کسی قسم کی بو آ رہی ہے تو ضروری نہیں کہ اس کی وجہ دانتوں اور مسوڑھوں…
یہ کہنہ محل، جس کے رنگیں دریچوں سے لپٹی ہوئی عشق پیچاں کی بیلیں منڈیروں، ستونوں پہ پھیلی ہوئی سبز کائی سرِ شام چلتے ہوئے…
ہوا کو خوشبو کو ساتھ رکھنا جو آ گیا ہے اب اس کی مرضی کہیں بھی ٹھہرے کسی بھی در سے بغیر دستک ، بغیر…
ہمیں کس ہاتھ کی محبوب ریکھائوں میں رہنا تھا کس دل میں اترنا تھا چمکنا تھا کن آنکھوں میں کہاں پر پھول بننا تھا تو…
تری خوشبو نہیں ملتی، ترا لہجہ نہیں ملتا ہمیں تو شہر میں کوئی ترے جیسا نہیں ملتا یہ کیسی دھند میں ہم تم سفر آغاز…
پرانی کتاب میں رکھی تصویر سے باتیں آج برسوں کے بعد دیکھا ہے اب بھی آنکھوں کا رنگ گہرا ہے اور ماتھے کی سانولی سی…
نجانےکن غم کے جگنوئوں کو چھپائے پھرتی ہے مٹھیوںمیں کئی دنوں سے اداس رہتی ہے ایک لڑکی سہیلیوں میں کبھی تویوں ہومحبتوں کی مٹھاس لہجوں…
وفا جب مصلحت کی شال اوڑھے سرد رت کا روپ دھارے دل کے آنگن میں اترتی ہے تو پلکوں پر ستاروں کی دھنک مسکانے لگتی…
دل میں پھر درد ہوا دیر تلک نہ ملی اس کو دوا دیر تلک میں نے خوشبو کی حقیقت پوچھی پھول خاموش رہا دیر تلک…
لب پہ نہ لائے دل کی کوئی بات اُسے سمجھا دینا میں تو مرد ہوں اور وہ عورت ذات اُسے سمجھا دینا سکھیاں باتوں باتوں…
اک بار مجھے آواز تو دے ترے لمس کی خوشبو پہنوں گا ترے درد کو ہار بنائوں گا اک بار مجھے آواز تو دے میں…
ہے ساتھ سدا رہتی تنہائی گلیوں میں اپنے دُکھ کی ایک ہی ساتھی گلیوں میں اُس سے شائد کوئی یہیں پر بچھڑا تھا وہ پگلی…
ابھی کچھ دن لگیں لگے راستوں کو بھول جانے میں دلِ ناکام سے ساری وفائیں خود مٹانے میں ابھی تو رات کی سیاہ کاری ہے…
وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت کسی کے سر پہ کبھی ٹوٹ کر گرا…
یہ زمیں ہم کو ملی بہتے ہوئے پانی کے ساتھ اک سمندر پار کرنا ہے اسی کشتی کے ساتھ عمر یونہی تو نہیں کٹتی بگولوں…
وحشت کا اثر خواب کی تعبیر میں ہوتا اک جاگنے والا میری تقدیر میں ہوتا اک عالمِ خوبی ہے میسر مگر اے کاش اس گلی…
سمندر پار ہوتی جا رہی ہے دُعا، پتوار ہوتی جا رہی ہے دریچے اب کُھلے ملنے لگے ہیں فضا ہموار ہوتی جا رہی ہے کئی…
Start typing to search...
